اردو کی آن لائن صحافت میں ایک قابل اعتبار نام آ رہا ہے


 

لکھاری

اصغر ندیم سید، عدنان خان کاکڑ،  وصی بابا، سید مجاہد علی، مجاہد مرزا، وقار احمد ملک، ذیشان ہاشم، عثمان قاضی، ظفر اللہ خان کاکڑ، جمیل عباسی، محمد حسن معراج، ڈاکٹر عبدالمجید ، تنویر افضال، عامر حسینی، مبشر اکرم، احمد علی کاظمی،عاصم بخشی، عمر فاروق، فرنود عالم، مبشر بخاری، حسنین جمال، سجاد پرویز، تموجن مرزا، روشن لعل، امام بخش ، رائے محمد حسین کھرل، آزاد قلمدار، جمیل خان، عابد میر، عثمان غازی، رضی الدین رضی، اختر علی سید، ڈاکٹر اختر شمار، حسنین جمیل، شوذب عسکری،ڈاکٹر انوار احمد، سلیم جاوید، راضیہ سید، ارشد وحید، شاہد اعوان، یاسر چٹھہ، شکیلہ شیر علی، اصغر علی، عامر محمود، انجم رضا، نوید اقبال، علی ارقم، ملک عمید، سلیم پاشا، محمد شہزاد ،قرب عباس، سرفراز احمد، جمشید اقبال، ارمان یوسف، ثمینہ کوثر انصاری، کریم اللہ گوندل، صدیف گیلانی، اصغر زیدی، احتشام قریشی، سردار فواد، حفیظ خان، نسیم کوثر،خالد گاندھی، منور علی شاہد، عمیر واحدی، مجی پاشا، مظہر صدیقی، فرحان فانی، یوسف بینجمن، ضمیر آفاقی، جمیل عباسی، اسد گجر، وسیم علی، عقیل عباس جعفری، نوید علی خان، مومن خان مومن، انعام راجہ، فدا حسین، حسن جاوید، خادم حسین، سعید افضل، خضر حیات خان، تنویر جہاں ، وقار مصطفی، ڈاکٹر محمد ایوب، حارث اظہر، محمد حسین، شکور رافع، علی سخنور، ڈاکٹر نجمہ شاہین،ڈاکٹر صائمہ ارم، ڈاکٹر رمیش فاطمہ، مہر زیدی، انور سن رائے، پروفیسر ساجد علی، ملک سلیم، ماجد صدیقی، پروفیسر امیرہ جویریہ، شاہان راجہ، عامر راہداری، عامر ہاشم خاکوانی،  …. اور جو آئے، آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں


Comments

FB Login Required - comments

15 thoughts on “اردو کی آن لائن صحافت میں ایک قابل اعتبار نام آ رہا ہے

  • 07-01-2016 at 10:25 am
    Permalink

    جناب وجاھات مسعود صاحب آپکا ہم سب ہم سب کے لئے بڑی خوشی کی بات ہے ورنہ چار جنوری کی خبر کہ آپ دنیا آن لائن سے علیحدہ ہو رہے ہیں میں پریشان تھا۔

  • 07-01-2016 at 12:03 pm
    Permalink

    چشم ما روشن دل ما شاد

  • 07-01-2016 at 12:57 pm
    Permalink

    فونٹ پہ سپیشل توجہ دی جئے گا

    • 07-01-2016 at 1:02 pm
      Permalink

      ویب سائٹ اپنی مطلوبہ شکل میں آتے آتے چند دن لے گی۔ فونٹس کا خاص خیال رکھا جائے گا۔

  • 07-01-2016 at 1:46 pm
    Permalink

    بہت اچھا سلسلہ ہے کہ ہم ایسے لوگوں سے علمی رشتہ برقرار رہے گا میں بھی اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش ضرور کروں گی

  • 07-01-2016 at 1:59 pm
    Permalink

    بہت خوب ۔ انتظار ہے

  • 07-01-2016 at 3:20 pm
    Permalink

    اخبار کا سر عنوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ہم سب” ،،،بھئی بہت خوبصورت ہے

  • 07-01-2016 at 6:09 pm
    Permalink

    مبارک باد وجاہت بھائی دنیا پاکستان سے آپ کی علیحدگی کی خبر سن کر دکھ ہوا تھا لیکن اس نئی خبر سے دل باغ باغ ہو گیا ہے۔میں بھی آپ ہی کے لیے لکھوں گا مہربانی فرما کر میرا نام بھی لکھاریوں کی فہرست میں شامل کر لیں۔۔خیر اندیش۔۔۔خرم بٹ

  • 07-01-2016 at 9:18 pm
    Permalink

    آج کل کے یک طرفہ، متعصب اور کوتاہ نظر ذرائع ابلاغ کے درمیان “ہم سب” اپنی روشن خیالی اور برداشت کو مشعل راہ ثابت کریں گے۔

  • 07-01-2016 at 9:36 pm
    Permalink

    دنیا پاکستان نے کم ہی عرصہ میں قارئین کے دل میں اپنا مقام بنا لیا تھا۔ دنیا پاکستان کے موضوعات جدید اور تازہ تھے،لکھنے والوں کو آزادی سے سب کچھ لکھنے کی آزادی تھی مگر کچھ بنیادی قوانین کے ساتھ اور سیاسی،ادبی،علمی،مذہبی اور ثقافتی حوالوں سے ہر طبقہ فکر کو اظہار خیال کا پورا موقع فراہم کیا جاتا تھا۔ اس تمام کامیابی اور پذیرایی کا سہرا دنیا پاکستان کی پوری ٹیم کے سرجاتا ہے،مگر وجاہت مسعود صاحب کی متوازن مزاج سوچ،لمبے صحافتی تجربے اور منصفانہ ادارتی پالیسی نے بھی اس کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔
    اب یہ خبر کہ ہم سب کے نام سے ایک آن لاین اخبار جانب وجاہت مسعود صاحب کی سرکردگی میں جلد آرہا ہے، نے پوری دنیا میں بسنے والے اردو لکھنے،پڑھنے والے قارئین میں بالعموم اور ادب و صحافت میں دلچسپی لینے والے افراد میں بالخصوص ایک مسرت کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس خوشی کا اظہار سوشل میڈیا خصوصا فیس بک پر دیکھا جاسکتا ہے۔ مدیر محترم نے اپنی ایک ابتدائی تحریر کے ذریعہ تمام لکھنے والوں کی رہنمائی بھی فرما دی ہے،جس میں مفصل بیان کے ذریعے تمام پہلووں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اس اخبار کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں کہ قارئین کی بڑی تعداد جو قومی اخبارات میں ایک ہی طرح کے کالم پڑھ کر تنگ آچکی ہے انکو کچھ تازہ پرھنے کو ملے۔ اس اخبار کا ہمیں بھی بے چینی سے انتظار ہے!
    خاکسار عطا راشد۔ نیاگرا فال کینیڈا

  • 09-01-2016 at 7:53 am
    Permalink

    تم بھی پھرو درویش صفت…

  • 10-01-2016 at 12:21 pm
    Permalink

    وجاہت سائیں کچھ عرصہ پہلے میں نے اردو میں ایک مضمون لکھ کر آپکو بھیجا تھا اور اس کے بعد دل میں یہی سوچ کروٹ لے رہا تھا کہ اس لکھنے کو پابندی بنائوں مگر اچانک دنیا پاکستان سے علیحدگی نے صدمہ پہنچایا ہی تھا کہ ہم سب کی اشاعت نے دل میں ہلچل مچا دی ہے۔ ہم سب ساتھ ہیں اور رہینگے۔

  • 10-01-2016 at 2:33 pm
    Permalink

    hum sab aik hain.

Comments are closed.