مولانا، تحفظ نسواں، 72 مقتول، 300 زخمی


adnan-khan-kakar-mukalima-3

پنجاب کے تحفظ نسواں بل پر جو آگ اسلامی نظریاتی کونسل کے ایوان سے اٹھی وہ منصورہ کے پنڈال تک جا پہنچی۔ اسے بجھانے کے لیے درجن بھر مذہبی سیاسی جماعتوں نے جلتی پر خوب تیل چھڑکا۔ انہیں بنیادی اعتراض اس بات پر تھا کہ تشدد کرنے والے مردوں کو جی پی ایس ٹیگ کیوں پہنایا جا رہا ہے۔ حضرت کیا یہ ٹیگ پہلے بھی تشدد کرنے والے فورتھ شیڈول کے مشتبہ افراد کو نہیں پہنایا جا رہا ہے، جن میں سے بیشتر کسی نہ کسی مذہبی سیاسی گروہ سے ہی منسلک ہیں؟ دوسرا اعتراض ہے کہ حکومت کا مقرر کردہ قاضی اگر چاہے تو تشدد کرنے والے مرد کو عورت سے دور رہنے کا حکم کیوں دے رہا ہے۔ ان کی نظر میں یہ غیر اسلامی فعل ہے۔

حضرت کیا حاکم وقت اپنے زمانے کے حساب سے کچھ تعزیری اختیار رکھتا ہے؟ کیا حضرت عمرؓ نے زمانے کے چلن کو دیکھ کر ایک ہی وقت میں دی جانے والی تین طلاقوں کو حتمی طلاق قرار نہیں دیا تھا؟ حالانکہ تین طلاقوں میں رجوع کی مدت برقرار رکھنے کے لیے مہلت کا حکم تھا، جو کہ بعض مسالک میں ابھی بھی رائج ہے اور وہ بیک وقت دی جانے والی تین طلاقوں کو ابھی تک ایک ہی مانتے ہیں۔ کیا یہ حاکم وقت کے اختیار کا ثبوت نہیں ہے؟ کیا عائلی قوانین کے خاتمے کے خلاف پچھلے پچاس سال میں آپ نے کوئی سنجیدہ آواز اسمبلی میں اٹھائی ہے؟ کیا اسلامی نظریاتی کونسل نے عائلی قوانین کی بنیاد پر کسی بھِی اسمبلی کو غدار قرار دیا ہے؟

حضرت، آپ جو بھی کہیں، معاملہ یہی نظر آتا ہے کہ آپ یہ شور محض اپنے سیاسی فائدے کے لیے مچا رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر حکومت کو بلیک میل کر کے کچھ فائدے لینا چاہتے ہیں۔ ایک دو وزارتیں یا کمیٹیوں کی سربراہی ملنے پر کیا اسلام اس مبینہ خطرے سے نہیں نکل آئے گا جو آپ قوم کو دکھا رہے ہیں؟

حضور، کیا جس پھرتی سے آپ نے تحفظ نسواں بل پر ایک متفقہ کانفرنس منعقد کر لی ہے اور اس قانون کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جس طرح آپ نے مشترکہ لائحہ عمل کے اعلانات کیے ہیں، کیا آپ نے کبھی دہشت گردی کے معاملے پر ایسا کیا ہے؟ کیا آپ نے دہشت گردی کے خلاف کبھی ایسی کوئی ملک گیر تحریک چلائی ہے جیسی آپ تحفظ نسواں بل کے خلاف چلانا چاہتے ہیں؟ کیا کبھی آپ نے دہشت گردی کرنے کے خلاف دہشت گردوں کو الٹی میٹم دیے ہیں جبکہ آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ وہ اپنی دہشت گردی کی بنیاد مذہب پر رکھے ہوئے ہیں جس کے والی و وارث اس ملک میں اپنے تئیں صرف آپ ہی ہیں؟

کیا آپ نے کبھی آرمی سکول پشاور پر حملے میں 132 بچوں اور کل 141 افراد کے شہید کیے جانے کے بعد ویسا ردعمل دیا ہے جیسا آپ نے تحفظ نسواں بل پر دیا ہے؟ کیا آپ نے اس جنوری میں باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملے کے خلاف کوئی تحریک چلائی ہے یا اس کے بائیس شہدا آپ کے نزدیک ملک دشمن تھے؟ کیا آپ نے محض چند دن قبل ہی پشاور میں بس پر حملے میں پندرہ افراد کے شہید ہونے اور تیس کے زخمی ہونے پر کچھ غم محسوس کیا ہے اور اس کے خلاف کچھ متفقہ لائحہ عمل بنایا ہے؟ کیا آپ نے لاہور کے گلشن اقبال میں حملے کے نتیجے میں 72 بچوں، عورتوں اور مردوں کے شہید ہونے اور تین سو کے زخمی ہونے پر ملک گیر احتجاج کیا ہے؟

نہیں حضرت! آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔ آپ سے ایسا کچھ کرنے کی ہمیں امید بھی نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دو فریق ہیں۔ ایک طرف عوام، حکومت اور پاک فوج موجود ہیں، اور دوسری طرف دہشت گرد ہیں۔ آپ عوام، حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑے ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ آپ دہشت گردوں کی صف میں کھڑے ہیں، مگر جب آپ کو دہشت گرد شہید نظر آتے ہوں، اور آپ ان کے خلاف کوئی متفقہ ملک گیر تحریک ویسے نہ چلاتے ہوں جیسے آپ تحفظ نسواں بل کے خلاف خوب جوش و جذبے سے چلاتے نظر آ رہے ہیں، تو پھر آپ ہی بتائیں کہ ہمارے لیے کیا حکم ہے اور ہم آپ کو ان دونوں میں سے کس صف میں کھڑا کریں؟ اس جنگ میں جانبدار رہنے کی گنجائش باقی نہیں بچی ہے حضرت۔ بس یہی دو صفیں بچی ہیں اور آپ عوام، حکومت اور فوج کی صف میں موجود نہیں ہیں۔

آپ حیران ہوتے ہیں کہ قوم آپ کو ووٹ کیوں نہیں دیتی ہے۔ حضرت آپ اگر قوم کی خوشی کے دشمن بنیں گے اور غم میں شریک نہیں ہوں گے تو قوم آپ کو خود میں سے نہیں سمجھے گی۔ ممکن ہے کہ وہ آپ کو بہت مقدس اور متبرک قرار دے، لیکن ایسا کر کے بھی آپ کو وہ اپنی صفوں سے الگ ایک اونچے مقام پر بٹھا دے گی اور آپ کو اپنے امور زندگی سے لاتعلق رکھے گی۔ یہاں ہماری قوم کی روایت تو یہ ہے کہ بدترین دشمن کے گھر بھی غم کا موقع ہو تو دشمنی بھلا کر اس وقت اس کے ساتھ مل بیٹھ کر غم بانٹتے ہیں۔ آپ تو اس قوم کو وہ درجہ بھی نہیں دے رہے ہیں جو ہمارے ہاں دشمنوں تک کو بھی دیا جاتا ہے۔

مارچ کے مہینے میں ملک میں دہشت گردی کے دو بڑے واقعات پشاور اور لاہور میں پیش آئے ہیں، اور آپ میں سے جو گروہ اس وقت اسلام آباد پر حملہ آور ہے، اس کے مطالبات کیا ہیں؟ ان کی نظر میں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ 295-سی میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے، توہین رسالت کے تمام ملزمان کو قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر ہی پھانسی دے دی جائے، ممتاز قادری کو سرکاری طور پر’غازی ممتاز حسین قادری شہید‘ لکھا جایا کرے، نصاب کو مزید اسلامی کیا جائے، ’سنیوں‘ پر سے دہشت گردی کے مقدمات ختم کر دیے جائیں، قادیانیوں اور لادین عناصر کو کلیدی عہدوں سے ہٹا کر ‘خوش عقیدہ’ مسلمانوں کو آگے لایا جائے، اور میڈیا کو فحاشی سے پاک کر دیا جائے وغیرہ۔ حضرت کیا دہشت گردی بھی اس ملک کا کوئی مسئلہ ہے؟ چاہے برائے نام ہی سہی، اس کو یاد کر لیتے تو بہت نوازش ہوتی۔

دم درود اور بم بارود والے دونوں مولانا حضرات ہی ساٹھ ہزار سے زاید پاکستانیوں کے خون ناحق کے بہنے کو اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ ان ساٹھ ہزار خاندانوں کا غم ان کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک اہم ہے تو صوبہ پنجاب کا تحفظ نسواں بل جو بقول ان کے چند خاندانوں کو توڑ دے گا۔ کتنے خاندانوں کو توڑے گا؟ پانچ سو، ہزار، دو ہزار؟ پانچ ہزار؟ دوسری طرف ساٹھ ہزار خاندان جس امر سے ٹوٹ چکے ہیں، ان کا دکھ کیا آپ کے سینے میں کبھی جاگے گا؟

حضرت آپ کچھ نہیں کریں گے تو پھر دوسرے کریں گے۔ کل رات جب ایک طرف دم درود والے حضرات اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس تک پہنچ گئے تھے، اور راہ میں آنے والے پولیس والوں کے بعد رینجرز فورس کے کئی اراکین کو بھی ایک کرنل صاحب سمیت زخمی کر کے ہسپتال میں داخل کروا چکے تھے، تو دوسری طرف بم بارود والوں نے لاہور میں 72 جانیں لے لی تھیں اور 300 کو ہسپتال پہنچا دیا تھا۔

ایسے میں آرمی چیف نے رات گئے ہنگامی میٹنگ کرنے کے بعد پنجاب میں بھی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اب سب ہی بھگتیں گے خواہ وہ دم درود ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 332 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

6 thoughts on “مولانا، تحفظ نسواں، 72 مقتول، 300 زخمی

  • 28-03-2016 at 9:33 pm
    Permalink

    کمال کا تجزیہ لکھا ہے جناب نے سارھے سات موم بتیوں کی سلامی کو قبول فرمائین۔۔۔
    رات کو سب سے پہلے ہسپتال پہنچنے والے سراجالحق اور سب سے پہلے مزمتی بیان ریکارڈ کرنے والے لیاقت بلوچ آپکو تو نظر آنے سے رہے
    کیا الخدمت و جماعت الدعوہ کی ایمبولینسز اور بلڈ کیمپس بھی آپکی نظر کرم کے قابل نہین ٹھہرے؟؟؟
    کمال ہے جناب آپکے لبرلز ہمیشہ لاہور کے دھماکے کو حقوق نسواں بل کے ساتھ اور ثروت قادری کی سستی شہرت کی تحریک کو اسلام کے ساتھ ہی نتھی کرتے رہین گے۔۔۔۔
    کرتے رہئیے مگر اس سے پہلے یہ بتائیے کہ آپکی کڑوڑون دالرز کی فنڈز ہڑپ کرنے والی این جی اوز رات کو کہاں تھیں؟؟؟؟یہ تو تھے بھی مسیحی۔۔۔
    اوہ یاد آیا یہ تو گندے چوڑے چمار تھے
    آپ جیسون کو تو ستھرے اور گورے مسیحیوں سے پیار ہوتا ہے انجیلینا جولی و ٹرمپ ٹائپ۔۔

  • 28-03-2016 at 9:51 pm
    Permalink

    جناب کیا یہ ایک تعزیت اور ایمبولنس، کیا اسی درجے کی تحریک ہے جو کہ تحفظ نسواں بل کے خلاف چلائی جا رہی ہے؟یہ اشک شوئی ہے۔ نمائشی۔

    آپ مضمون کو دو چار مرتبہ پڑھنے کی زحمت کریں تاکہ آپ کو علم ہو کہ کیا لکھا گیا ہے اور کیا اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

  • 28-03-2016 at 9:51 pm
    Permalink

    ایمبولنس سروس کا سوال تو شاید اس مضمون میں نہیں اٹھایا گیا تھا، جس کا دفاع محترم عبدالواجد صاحب طنزیہ پیراے میں کر رہے ہیں، نہ ہی این جی اوز کی کوئی خدمات گنوائی گئیں تھیں جن پر تنقید کو جناب نے اپنے تبصرے کا حصہ بنانا مناسب سمجھا . دو ٹوک سوال یہ پوچھا گیا تھا کہ سب فرقہ ورانہ اختلافات کو بھلا کر تحفظ نسواں بل پر متحد ہونے والے، یا ڈی چوک پر دھرنا دینے والے، کب مذہب کے نام پر جاری دہشت گردی کے خلاف ایک ابہام سے پاک، متفقہ موقف اختیار فرمائیں گے. اس “گندم” سوال کا جواب محترم عبدالواجد نے جماعت الدعوہ اور الخدمت کی ایمبولینسوں اور پاکستانی مسیحیوں کو “چوہڑے چمار” چنانچہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اینجلینا جولی سے کہتر قرار دینے کے “چنوں” کے ذریعے دیا. غالبا اس سوال کا جواب اس مضمون کے مخاطبین کے پاس نہیں ہے، لہذا غیر متعلقه طنز و تشنیع کی راہ فرار اختیار کی جا رہی ہے.

  • 28-03-2016 at 9:52 pm
    Permalink

    قاضی صاحب، ان کے نزدیک قوم کا مسئلہ نکاح طلاق کروانے اور خانگی تشدد کو جائز رکھنے تک ہی محدود ہے۔ ان کو ابھی تک یہ علم نہیں ہوا ہے کہ ساٹھ ستر ہزار پاکستانی دہشت گردی کی وجہ سے مارے جا چکے ہیں۔

  • 29-03-2016 at 3:02 am
    Permalink

    مزے کی بات یہ ھے کہ اس بات کا فیصلہ آپ نے کیا کہ دہشتگردی مذھب کے نام پہ ھو رہی ھے۔۔۔حالانکہ ایسا کچھ نھیں۔۔۔90فیصد دھشتگردی کا تعلق مذھب سے بالکل نھیں۔۔
    آپکو شاید وہ مذاکراتی کمیشن بھول گیا جو چند ملانوں کی سرکردگی میں بنایا گیا تھا۔۔۔جس کو آرمی نے خود ھی بائی پاس کر دیا دھشت گردوں سے مذاکرات کے لیئے اس کا تذکرہ نئیں کیا آپ نے
    ۔۔۔۔۔
    اور تحفظ نسواں بل کی مثال بھی خوب جوڑی آپ نے۔۔۔حیرت ھے کہ آپ جیسے ھوش مند فرد کو یہ معلوم نہیں کہ اداروں اور مافیا سے بات کرنے کا طریقہ بالکل ایک سا نہیں ھو سکتا۔۔معلوم کے خلاف احتجاج کیا جا سکتا ھے اس سے مکالمے بھی کیئے جا سکتے ھیں نامعلوم سے نھیں۔۔۔
    فرض کریں کہ سارے ڈاڑیوں والے ڈی چوک میں اکٹھے ھو جائیں۔۔۔چلیں آپ کی طرح موم بتی بھی جلا لیں۔۔کہ ھماری موم بتی ختم بونے تک دھشت گردی ختم کر دو ورنہ۔۔۔۔۔ھاھاھا ورنہ کیا؟فوج نے کیا اکھاڑ لیا دھشت گردوں کا۔۔
    عجیب بات ھے آپ لوگ نجانے اتنے غیر حقیقی تعلقات کیسے جوڑ لیتے ھیں گفتگو میں

    جس کا نہ سر نہ پیر

    • 29-03-2016 at 3:18 pm
      Permalink

      جناب آپ جیسے باخبر شخص کو یہ بھی علم ہو گا کہ ٹی ٹی پی والے مذہب کے نام پر جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ خودکش بمباروں کو جنت میں جانے کی بشارت دے کر ان سے دھماکے کروا رہے ہیں۔

      کیا یہ نظریاتی جنگ ہے یا سیاسی؟ اور نظریاتی ہے تو طالبان کس نظریے کے داعی ہیں؟

      طالبان سے مکالمے کی بات ہی نہیں ہو رہی ہے۔ ویسے جس وقت مکالمہ ہوا تھا، تو طالبان نے کس کو نامزد کیا تھا، یاد ہے؟

      بات یہ ہو رہی ہے کہ قوم کو نظریاتی طور پر آگاہ کیا جائے کہ اسلام دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

      اور یہ بات علما ہی بتائیں گے، نواز شریف یا راحیل شریف صاحبان یہ نہیں بتائیں گے۔

Comments are closed.