غدار ڈھونڈنا مشکل نہیں


\"mujahid

گلشن اقبال پارک میں جھولوں کے پاس تفریح کی غرض سے آئے والدین، رشتے داروں اور بچوں کے ہجوم میں لاہور کے زندہ دل نوجوانوں کی طرح مٹر گشتی کرتے ہوئے ایک ’دیندار‘ نوجوان نے اپنے جسم پر بندھے بیس کلوگرام لوہے کے ٹکڑوں، کیلوں، چھروں کو ان سے منسلک دھماکہ خیز مواد کو انگیخت دے کر آزاد کر دیا۔ اس دھماکے سے اس کا سر اور ٹانگیں دھڑ سے علیحدہ ہو گئے۔ لوہے کے ٹکڑے، کیلیں، چھرے، گولی سے زیادہ رفتار سے لوگوں کے جسموں سے پار ہو گئے۔ دھماکے کی شدت اور آہنی مواد کی رفتار کے باعث لوگوں کے جسموں کے اعضاء کے چیتھڑے اڑ گئے۔

گلشن اقبال جہاں ایک زمانے میں ابرار احمد جیسا خوبصورت شاعر رہا کرتا تھا، جس کی وجہ سے مجھے اس علاقے میں جانا ہوتا تھا۔ اس بستی کے باغ میں ایک نوجوان کا سرلڑھک رہا تھا۔ اس نوجوان کا تعلق مظفر گڑھ سے بیس بائیس کلو میٹر دور ایک جانب غازی گھاٹ کے راستے ڈیرہ غازیخان، دوسری طرف کوٹ ادو کے راستے تونسہ شریف و جھنگ اور تیسری طرف جتوئی و پرمٹ کے راسے علی پور جانے والی سڑکوں کے سنگم پر واقع ایک چھوٹے سے قصبے کرم داد قریشی سے تھا جہاں تین سڑکوں کے سنگم کو قریشی موڑ کہا جاتا ہے۔ غلام فرید سبزی فروش کا یوسف نام کا یہ بیٹا اطلاع کے مطابق آٹھ برس سے لاہور شہر کے کسی مدرسے مین معلم کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔

جائے وقوعہ سے جو جلا ہوا شناختی کارڈ ملا، اس پر تصویر اور ملنے والے سر میں شباہت پائی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اس بارے میں اعلان کرنا تھا اور جلے ہوئے شناختی کارڈ کی تصویر میڈیا پر آنی تھی کہ سوشل میڈیا میں طوفان برپا ہو گیا۔ ایسے ایسے سوال کیے گئے جنہیں سن کر حیرت بھی ہوتی ہے تاسف بھی جیسے ’دہشت گرد کیا شناختی کارڈ ساتھ لے کر پہنچا تھا؟‘ کوئی پوچھے کہ کیا دہشت گرد کے لیے شناختی کارڈ رکھنا منع ہے؟ کیا اس کو کہیں اپنی شناخت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی؟ کیا اس نے اپنے گھر میں خود کو دھماکے سے اڑایا تھا کہ شناختی کارڈ گھر کی میز پر رکھ دیا ہوتا۔ یا پھر یہ سوال نما اعتراض کہ ’دہشت گرد کے پرخچے اڑ گئے اور شناختی کارڈ محفوظ رہا‘۔ اس اعتراض سے مبراء ہونے کے لیے دھماکہ خیز مادے اور دھماکے کے عمل سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ دھماکے سے عموماً شعلہ اٹھتا ہے اور خلاء پیدا ہونے سے چیزیں اعضاء سے لے کر شناختی کارڈ تک باہر کی جانب اڑتے ہیں۔ بھاری چیزوں کو لگی آگ جلتی رہتی ہے چھوٹی اشیاء جیسے کے شناختی کارڈ کو لگی آگ خلاء پیدا ہونے سے باہر سے خلاء کے اندر داخل ہونے والے ہوا کے جھکڑ سے بجھ سکتی ہے اس کے برعکس بھاری چیز کو لگی آگ بھڑک سکتی ہے۔

بات کسی کو یہ سمجھانا نہیں کہ دھماکے کا عمل کیا ہوتا ہے اور اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں، ظاہر ہے تباہی ہوتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ کیا ایسے سوالات کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں، میڈیا اور معلومات پر اعتراض کرنا مقصود ہوتا ہے یا یہ ثابت کرنا کہ یوسف جو مدرسے کا معلم تھا ممکن ہے محض سیر کے لیے گیا ہو اور مر گیا ہو یا بچ کر بھاگ نکلا ہو اور اس کا شناختی کارڈ رہ گیا ہو۔ یا یہ کہنا مقصود ہوتا ہے کہ پولیس والے کارکردگی دکھانے کی خاطر کوئی جلا ہوا شناختی کارڈ سامنے لے آئے۔

دوسرا قابل افسوس پہلو دھشت گردی اور دہشت گرد کو فوری طور پر ہمسایہ ملک کی ایجنسی سے جوڑ دینا ہے۔ یہ کہنا کہ یہ ہندوستانی جاسوس پکڑے جانے کا ردعمل تھا کچھ عجیب لگتا ہے۔ اصولی طور پر تو چاہیے کہ کلبھوشن یادیو کو سہولت فراہم کرنے کی خاطر، چاہے وہ لاکھ کہتا رہے کہ دہشت گردی کا اہتمام کرتا رہا تھا، دہشت گردی کے واقعات روک دینے چاہییں۔ پھر طالبان سے جدا ہونے والے گروہ کا ہندوستان سے تعلق ثابت ہو تو ایسی بات کی جائے لیکن لوگ تو ایسے باتیں کرتے ہیں جیسے وہ سیدھے ہمسایہ ملک کی ایجنسی کے ہیڈ آفس سے آ رہے ہیں اور انہیں شری یادیو سے زیادہ معلوم ہے۔

اکثر لوگ سمجھتے ہوں گے کہ جاسوس صرف دشمن ملکوں سے آتے ہیں یا صرف دشمن ملکوں میں ہی جاسوس بھیجے جاتے ہیں۔ جاسوسی کرنا ایک عمومی عمل ہے اور جاسوسی کے بیسیوں میدان ہیں، تخریب کاری (دہشت گردی) کرنا ان میں سے ایک میدان ہے۔ عمومی تخریب کاری جیسے پل اڑانا وغیرہ خود جاسوس یا جاسوسوں کی خصوصی ٹیم کرتی ہے لیکن دہشت گردی کے لیے کسی بھی ملک میں موجود حکومت یا ریاست مخالف گروہوں کے زعماء سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ ڈیل ہو جانے کے بعد اعلٰی قیادت کے کچھ ارکان کے علاوہ ان گروہوں کے باقی افراد کو بالکل بھی پتہ نہیں ہوتا کہ انہیں امداد کہاں سے ملتی ہے یا اگر پتہ ہوتا ہے تو امداد ملنے کے اصل ذرائع معلوم نہیں ہوتے بلکہ ایسے ذرائع معلوم ہوتے ہیں جو ذرائع ہوتے ہی نہیں۔ مثال کے طور پر گلشن اقبال پارک میں دھماکہ کرنے والے کو صرف اتنا علم ہوگا کہ وہ ایک ’نیک مقصد‘ کے لیے یہ کام کر رہا ہے جس کا صلہ اسے اگلے جہان میں ملے گا۔ اس کے ہینڈلر کو شک ہو سکتا ہے لیکن وہ بھی دہشت گرد کی ہی طرح سمجھتا ہوگا۔ ہینڈلر کے شناسا لوگ بھی دہشت گردی کے ڈانڈے ملک میں بدعنوانی، شرک کے فروغ اور شریعت سے اغماض وغیرہ وغیرہ سے منسوب بتاتے ہوں گے۔ میڈیا میں سے بھی کچھ تھوڑا عرصہ پہلے تک دہشت گردی کو ڈرون حملوں میں مارے جانے والوں کے رشتہ داروں کی انتقامی کارروائی پر محمول کرتے رہے ہیں۔

دہشت گردی کا اہتمام کرانے والے اگر ان کا تعلق دشمن ملکوں کے ساتھ ہو تو غدار ہیں اور ان کی یا ان کے عمل کی کسی بھی طرح حمایت کرنے والے بھی کسی نہ کسی حد تک ملک اور ملک کے عوام کے غدار ہپں اس لیے انہیں ڈھونڈنا بالکل بھی مشکل نہیں ہاں البتہ اگر مصلحتاً‘ یا ضرورتاً‘ انہیں اب بھی اثاثہ خیال کیا جاتا ہو تو اس کا کوئی علاج نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “غدار ڈھونڈنا مشکل نہیں

  • 29-03-2016 at 4:58 am
    Permalink

    ڈاکٹر صاحب!!
    آپ کے کالم نے بہت سوں کا بھلا کر دیا ـ

  • 29-03-2016 at 6:13 pm
    Permalink

    How Do you know Bomber Is (Deen Dar) I think something went wrong and artificial Denying about ID Card Holder is real person

  • 29-03-2016 at 8:04 pm
    Permalink

    ID may have gone wrong but crux remains the same, These fighters/terrorists think rather claim to be the most “Deendaar”.

Comments are closed.