دہشت گردی کا عفریت : محرکات اور حل


قاسم علی

qasim

کل پھر دہشت گردوں نے لاہور کے ایک مرکزی پارک میں دھماکہ کر کے تقریباََ 70 سے زائد معصوم جانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اس سفّاکانہ کارروائی کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد بھی زخمی ہوئے۔ آن کی آن میں درجنوں ہنسے بستے گھرانوں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ کئی معصوم بچے جو اپنے گھروں سے آنکھوں میں زندگی کی چمک لیے، رنگ برنگ تتلیوں کے تعاقب میں نکلے تھے، وہ نشاطِ زیست کی تتلی کو گرفت میں لانے کی دُھن میں اتنے دور نکل آئے کہ جو پلٹ کر دیکھا تو وہ موت کی اندھی وادی میں تنہا کھڑے تھے۔ ان معصوم بچوں کی مو ت پر خود موت بھی برہنہ سر بال کھولے نوحہ کُناں نظر آتی ہے۔ وہی آہ و بکا، وہی لہو لہو زمیں، وہی کٹے پھٹےجسم، کچھ بھی تو نہیں بدلا اب تلک۔

یہاں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ اگر دہشت گرد “ٹوٹی ہوئی کمر” کے ساتھ بھی یوں آزادانہ کاروائیاں کرنے کے استعداد رکھتے ہیں، تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے عسکری اور سیاسی ادارے کہاں کھڑے ہیں۔ یہاں نہایت بنیادی نوعیت کا ایک اور سوال بھی جواب طلب ہے کہ کیا محض دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مسمار کر کے، اُن کو ہلاک کر کے اور اُن کی مالی امداد کی راہیں مسدود کر کے، دہشت گردی کے عفریت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کی جاسکتی ہے؟ اس سوال کا جواب یقیناََ نفی میں ہے۔ ہمارے ہاں جب بھی دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے تو ہر طرف سے دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو سر عام چوراہوں میں لٹکانے جیسے جذباتی نوعیت کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔ کوئی یہود و ہنود کو کوس کر دل کی بھڑاس نکال لیتا ہے۔ دوسری جانب “عوامی تمناؤں کے عین مطابق” عسکری اور سیاسی قائدین سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کے عزم کا از سرِ نو اعادہ کرتے ہیں۔ ٹی وی پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی خبریں چلتی ہیں، جن کو سن کر عوام ذرا سی دیر کو خوش ہوتے ہیں اور پھر بے فکری کی اُسی پرانی روش پر چل پڑتے ہیں۔ آج تک کبھی کسی نے دہشت گردی کے حقیقی اسباب کو ختم کرنے کی بات نہیں کی۔ دہشت گردی کی بنیادی اسباب کی بیخ کنی تو کجا یہاں کوئی یہ سوال اُٹھانے کی جرات بھی نہیں کر سکتا کہ کیوں صاحب اتنا عرصہ ہو گیا یہ سنتے سنتے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کامیابی سے جاری ہے، غنیم دھڑا دھڑ مارے بھی جا رہے ہیں تو اس قوم کے حصے میں امن کو کوئی گھڑی کیوں نہیں آتی؟

وجہ صاف ظاہر ہے۔ دہشت گردی کا بیج “مردِ مومن” نے خود اپنے دستِ مبارک سے اس پاک سر زمین میں بویا تھا۔ اشتراکیت کے خلاف جہاد میں ہم امریکہ کی بانہوں میں بانہیں ڈالے شریک ہوئے تھے۔ ہزاروں غریب پختون جوانوں کو الفتِ مذہب کا ٹیکا لگا کر سویت یونین کے ٹینکوں سے لڑنے مرنے کے لیے افغان سر زمین پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ کون نہیں جانتا کہ ان جہادیوں کی نرسریاں کس سیاسی و مذہبی رہنما کے مدرسے بنے تھے؟ اسی طرح کئی افغان جہادیوں کو پاک سر زمین پر امریکی سی آئی اے نے ٹرینگ دے کر افغان جنگ میں شریک کروایا۔ ایک پورے خطے کو جنگ کی بھٹی میں جھونک کر، ہم نے پچھتانا تو خیر کیا تھا، ذرہ برابر شرمندگی کو بھی پاس نہ پھٹکنے دیا بلکہ بڑے فخر سے سویت یونین کو پارہ پارہ کرنے کا سہرا اپنے سر پر سجاتے رہے۔ کون اس راز سے واقف نہیں کہ افغان طالبان کو برسرِ اقتدار لانے اور کابل پر قبضہ کروانے میں بینظر بھٹو کی حکومت نے قلیدی کردار ادا کیا تھا۔ (اگر کسی کو شک ہو تو وہ مشہور صحافی جناب رشید احمد کی کتاب “طالبان- اسلام تیل اور وسط ایشیاء میں سازشوں کا نیا کھیل” کا مطالعہ کر سکتا ہے)۔ اس گھناونے فعل کے پس ِ پردہ نام نہاد سیاسی اور اقتصادی مُفادات تھے۔ مگر کیا اپنے اقتصادی مفاد کے تحفظ کی خاطر ایک پورے ملک بلکہ ایک پورے خطے کو نہ ختم ہونے والے جنگ کی آگ میں جھونک دینا کسی طور بھی جائز ہے؟ گو کہ اس سارے ڈرامے کا پروڈیوسر اور ہدایتکار انکل سام تھا مگر سرِ دست ہمیں اس سارے مکروہ کھیل میں پاکستان کے کردار سے سروکار ہے تا کہ یہ سمجھنے کی سعی کی جا سکے کہ ارض ِ پاک میں دہشت گردی کے بنیادی محرکات ہیں کیا۔

آگے چلیے! ہم نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ پڑوسی ممالک میں تخریب کاری کے واسطے پراکسیاں بنائیں۔ (کیا ان جماعتوں کے نام گنوانے کی ضرورت ہے؟) ہمارے پررودہ تخریب کار اغیار کے معصوم لوگوں کا لہو بہاتے رہے۔ دوسروں کے گھر جلاتے رہے مگر ہم یہ سوچ کر یہ آگ تاپتے رہے کہ اس آگ کے شعلے ہمارے نشیمن تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ ہمارے مقتدر حلقے ان دہشت پسند تنظیموں کو اپنے “سڑٹیجک ایسٹ” مان کر ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے ہمیشہ گُریزاں رہے۔ ہمارے ایک ریٹائیرڈ فوجی افسر پچھلے دنوں ایک ٹی وی انڑویو میں فرما رہے تھے کہ جہادی تنظمیں ہماری پانچویں یا چھٹی ڈیفنس لائن ہیں۔ یہ توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے کہ ہم اغیار کے بچوں کا لہو بہانے والوں کو تو پناہ دیں گے مگر ہمارے اپنے بچے معمون و محفوظ رہیں گے۔ کبھی کبھی انسان اپنے کھودے ہوئے گڑے میں خود بھی گر جایا کرتا ہے اور ایسا گرتا ہے کہ پھر باہر نکلنے کا کوئی رستہ سجھائی نہیں دیتا۔ یہی ہمارے ملک کے ساتھ ہوا ہے۔ وہ بھیڑیے کے بچے جو ہم نے دوسروں کی ماس بوٹی نوچنے کے لیے پالے تھے، اب اغیار کا لہو پی پی کر جوان ہو چکے ہیں۔ اب یہ بھیڑیے آنکھوں میں بے اعتنائی بھر کر ہماری ہی جان کے درپے ہوگئے ہیں۔۔۔ مگر حیف صد حیف ! ہم اب تک ان کو اپنا سمجھ کر ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی کرنے سے پس و پیش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اشارہ طالبان کی جانب نہیں بلکہ اُن کالعدم جماعتوں کی جانب ہے جن کو ریاست نے من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔

تو اب سوال یہ ہے کہ ان دہشت گردوں سے نجات کیسے حاصل کی جائے۔ سب سے پہلے ریاست کو، طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ، اپنا بیانیہ بدلنا ہوگا۔ واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کرنا ہو گا کہ ہر طرح کے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔”اچھے دہشت گرد” اور “برے دہشت گرد” کی تفریق ختم کرنی ہو گی۔ شاید اس قسم کے کچھ اعلانات گاہ گاہ ہوتے بھی رہتے ہیں مگر عملی طور پر ہمارے ادارے اس پالیسی سے کوسوں دور ہیں۔ جنوبی پنجاب میں اب تک نام نہاد کالعدم تنظیمیں اپنی تمام تر سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کو “سٹریجک اثاثے ” سجھنے کی پالیسی ترک کر کے ان کا قلع قمع کیا جانا چاہیے۔ جب ہم پرائی سرزمین پر دہشت پھیلانے والوں کو اپنے درمیان جگہ نہیں دیں گے، تو ہم اپنے پڑوسی ممالک سے بھی اس کی توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ بھی ہماری سرزمین کو لہو لہو کرنے والوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم نہیں کریں گے۔ سب سے بڑھ کر اُس سوچ کو دفن کرنا ہوگا جس کے تحت یہ تنظمیں وجود میں آئیں۔ ایسی سوچ کے حامل افراد ہمارے اور آپ کے درمیان رہتے ہیں۔ اُن کو پہچانیں۔ اُن کی سوچ کو پھلنے پھولنے سے روکیں مگر یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم اس بات کا ادراک کر لیں گے کہ یہ مسئلہ ہمارے رویوں اور سوچ سے جنم لیتا ہے۔ حل کی جانب پہلا قدم مسئلے کی درست نشاندہی ہے ورنہ ہوا میں تیر چلانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ وقت دور نہیں جب امن کا درخشاں سورج اس دھرتی پر طلوع ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments