اوخ کی کہانی، اوخ کی زبانی


 zafar kakarماں کے آنسو میرے گالوں پر گرتے رہے اور میرے آنسو ماں کے قدموں پر۔ یاس، حسرت، ندامت اور متاع لٹنے کے احساس نے مجھے زندہ درگور کر دیا۔ جانے میں کرب و عذاب کے کس زینے پر اپنی ہی لاش اٹھائے کھڑا تھا۔ اپنی ساری جوانی خاک بسر کر کے آج میں جہاں کھڑا تھا وہاں صرف ایک ندامت تھی۔ متاع لٹ چکی تھی۔ پہلے متاع لٹنے کی بپتا سن لیجیے کہ اس کے بغیر شاید بات کھل نہ سکے۔

ابھی ہم روٹی کو لوٹی پکارتے تھے کہ ماں نے ہمیں ڈرانے کے لیے ایک ’اوخ‘ ایجاد کر لیا۔ شاید پشتو زبان میں اوخ کسی آدم خور قسم کی چیز کو کہتے ہوں گے کہ ملاقات تو خیر کسی کی بھی نہیں ہوئی تھی لیکن کمالات سن کر یہی لگتا تھا کہ یہ ویمپائر قسم کی چیز ہو گی۔ بہت عرصے تک اس اوخ نے ہماری زندگی اجیرن کیے رکھی۔ چپل نہ پہنیں تو اوخ، بھاگیں تو اوخ، دھوپ میں نکلیں تو اوخ، ہاتھ نہ دھوئیں تو اوخ، مسجد نہ جائیں تو اوخ، سپارہ نہ پڑھیں تو اوخ۔ اوخ نہیں تھا ایک پوری مصیبت تھی جو ہمارے پیچھے لگی ہوئی تھی۔ کچھ بڑے ہوئے تو ماں سے اوخ کا پتہ پوچھنے لگے۔ ماں کبھی ایک بہانہ کرتیں اور کبھی دوسرا لیکن اب وہ خوف نہیں تھا۔ ماں نے بھی محسوس کیا کہ اب اس اوخ سے کام نہیں چلنے کا۔ سو انہوں نے دوسرا اوخ ایجاد کر لیا۔ اب ان کے اوخ ابا جی تھے۔ ابا جی میںاوخ کے تمام اوصاف موجود تھے۔ چمڑی ادھیڑ دوں گا۔ کان کاٹ دوں گا۔ زبان کھینچ لوں گا۔ ارے !یہ اوخ پچھلے سے زیادہ خطرناک تھا کہ موجود بھی تھا اور ہر وقت تیار بھی۔

ابھی اس اوخ سے جان چھوٹی نہیں تھی کہ مسجد کے قاری صاحب اوخ بن گئے۔ روز کا معمول تھا۔ وہ کہتے قاف۔ میں کہتاکاف۔ وہ غراتے! حلق سے آواز نکال خبیث حلق سے۔ قاف۔ کاف۔ دھت تیرے کی۔ چل مرغا بن۔ سکول کے ماسٹر جی تو نہ صرف خود اوخ تھے بلکہ ہاتھ میں بھی ایک اوخ لئے گھومتے تھے۔ ساری زندگی اوخ کی نذر ہو گئی۔ اوخ بدلتے رہے ہم ڈرتے رہے۔کبھی داخلے کا اوخ۔ کبھی نمبر کا اوخ۔ کبھی پیچھے رہ جانے کا اوخ۔ کبھی نوکری کا اوخ۔ وقت جس اوخ کی قلعی کھولتا، دوسرا اوخ استقبال کو تیار کھڑا ملتا۔ ذہن جب شعور کی حد کو پہنچا تو پتہ چلا کہ اوخ تو سارے ہمارے اندر رہتے تھے باہر کسی اوخ کا وجود نہیں تھا۔ لیکن ہم غلط تھے۔ ماں نے چار سال کی عمر میں ہمارے لئے جو اوخ ایجاد کیا تھا وہ موجود تھا۔ صرف گرگٹ کی طرح رنگ بدل بدل کے ہمیں مل رہا تھا۔ مولوی صاحب کے بقول اصل اوخ تو قبر میں ہمار ا منتظر تھا۔ ذرا تفصیل میں گئے تو پتہ چلا کہ یہ بڑا ہی اوکھا اوخ تھا اور اس سے بچنے کے ذرائع بھی بڑے مشکل، کٹھن اور مستقل ریاضت کے متقاضی تھے۔ لگ گئے ہم اس سے بچنے کے چکر میں۔ نمازیں، روزے، سہ روزے، ذکر، داڑھی، عبادت۔ لیکن ہمارے پیشوا روز اس کے تقاضے بڑھاتے رہے۔ اور ہم آگے بڑھتے رہے۔ اب پتہ چلا کے ہمسائے میں ایک بڑا اوخ گھس آیا ہے اور اس کے خلاف جہاد فرض ہے۔

ہم سر پر کفن باندھ کے نکلے۔ گولیاں، بارود، خون، چیخیں، سسکیاں، آنسو۔ ان سب کے بیچ اس بیدردی سے لڑے کہ اوخ کے ٹکڑے کر دئیے۔ ابھی بیٹھے بھی نہ تھے کہ پتہ چلا جس اوخ نے پچھلا اوخ پچھاڑنے میں ہماری مد د کی تھی وہ خود بھی ایک اوخ ہے۔ اپنے پیشواﺅں سے سوال ہم مگر پوچھ نہ سکے کہ کیسے؟ بس پھر لگ گئے۔ لڑتے رہے۔ کٹتے رہے۔ کاٹتے رہے۔ اوخ اتنا پھیل گیا کہ ہماری گلی کوچوں تک پہنچ گیا۔ اب اپنے پرائے کی کوئی تمیز نہ رہی۔ کون کیوں ما رہا ہے؟ کون کس کو مار رہا ہے؟ کوئی پتہ نہیں تھا۔ نہ قاتل کو قتل کی وجہ معلوم نہ مقتول کو اپنا جرم معلوم۔ قاتل بھی شہید۔ مقتول بھی شہید۔ آپ اپنا قاتل ہوں اور آپ ہی مقتول بھی۔

بارہا اپنے پیشواﺅں سے پوچھنے کی کوشش کی کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ کون دوست ہے اورکون دشمن؟لیکن ہمیں کہا گیا کہ آپ اخلاص اور اللہ کی رضا کے لئے لڑتے رہو۔ چین ہی چین ہو گا سکون ہی سکون ہو گا۔ گھر چھوڑے ہوئے زمانے بیت چکے تھے۔ ایک آدھ بار جو گئے بھی تھے تو یا محلے کی الجھنوں میں رہے یا مسجد کی۔ ماں کس حال میں ہے؟ باپ کیا کرتا ہے؟ کچھ پتہ نہیں تھا۔ تھک کر ایک دن گھر کی راہ لی۔ گھر پہنچے تو ماں نے حیرت و حسرت سے اسقبال کیا۔ باپ نے تو کوئی توجہ نہیں دی کہ ہمارے اس راستے پر چلنے سے ہی انہوں نے مجھ کو اجنبی سمجھ لیا تھا۔ بہنیں لمبی لمبی چادریں اوڑھے ہمیں ایک ایک آنکھ سے دیکھ رہی تھیں۔ مسجد گئے تو سارا محلہ اجنبی لگا۔ گلی میں آس پڑوس کے کافی مکانوں پر تالے لگے پائے۔

رات کو کھانے کے بعد ماں کی گود میں سر رکھا۔ ماں نے بالوں میں انگلیاں پھیرنی شروع کر دیں۔

ماں میں بہت تھک چکا ہوں۔

کیوں میرے لعل؟

ماں مجھے نیند نہیں آتی۔

نہ میری جان!

ماں مجھے خوابوں میں خون نظر آتا، انسانی گوشت کے جلنے کی بو محسوس ہوتی ہے

نہ میرا بیٹا!!تو تو میرا غازی بیٹا ہے.!میرا جنتی بیٹا ہے!

تیری تو ہر مراد بھر آئی ہے۔

ماں کیا کہہ رہی ہو؟

سچ کہہ رہی ہوں بیٹا۔

تجھے یاد ہے نکڑ کے گھر والے علی حسین صاحب جو بچپن میں تجھے کاندھے پر بٹھا کر دسویں محرم کا جلوس دکھانے لے جایا کرتے تھے۔ اس نے میرے لعل کے خوف سے یہ شہر ہی چھوڑ دیا۔ تجھے برے لگتے تھے نا! میرے اندر کوئی چیز کاٹ کے چلی گئی۔ ماں یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟

صبر کر میری جان!میں بہت عرصے منتظرتھی تمہیں یہ باتیں سنانے کو۔ ہر وہ خواہش جو تیرے من میں تھی وہ پوری ہوئی ہے۔ محمود صاحب نے بھی یہ محلہ چھوڑ دیا جو ہر رمضان کی ستائیسویں کو تجھے محفل شبینہ لے جایا کرتے تھے۔ ایکسین صاحب کی بچیاں اب کالج نہیں جاتیں۔ پردہ کرتی ہیں۔ مائی لالی کی بیٹاں اب برقعے پہن کے لوگوں کے گھر برتن مانجھنے جاتی ہیں۔ مائی لالی روز تیری بلائیں لیتی ہے کہ اب ان کی بچیاں تیری وجہ سے محفوظ ہیں۔ پچھلی مرتبہ تیرے جانے کے بعد اکبر صاحب نے اپنے بیٹے سے جھگڑا کر کے کیبل ٹی وی کا کاروبار بند کروا دیا تھا۔ وہ اب سبزی منڈی میں پھل بیچتا ہے۔ اور مولوی صاحب نے تو تیرا نام لے کر اپنے بینک منیجر صاحب سے وہ پتھر بنوا لیا تھا جس پہ ان کے اور تمہارے اپنے فرقے کا نام درج ہے۔ اب ہماری مسجد میں کوئی بھی دوسرا نہیں آتا۔ وہ کیا نام تھے ان لوگوں کے جو تمہیں مسجد میں اچھے نہیں لگتے تھے؟ ہاں! وہ مشرک، وہ بدعتی، وہ منکر، وہ گستاخ وغیرہ اب کوئی نہیں آتے اپنی مسجد میں۔ محلے کی کسی گھر میں ٹی وی نہیں ہے۔ شادی بیاہ پہ کوئی ڈھولک نہیں بجتا۔ مسجد میں کوئی نعتیں نہیں پڑھتا۔ نکڑ والے ہوٹل میں کیرم نہیں کھیلا جاتا۔ پولیو والے اب یہاں نہیں آتے۔ ڈاکٹر غفار صاحب نے کلینک میں عورتوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا ہے۔

اور ہاں میری جان.!

تیری بہنیں اب گھر میں بھی چادر اوڑھتی ہیں۔ سکول نہیں جاتی بلکہ مولوی صاحب کی بیٹیاں سارے محلے کی بچیوں قرآن پاک پڑھاتی ہیں۔

تو تو میرا غازی بیٹا ہے۔ بس ایک تیرا باپ ہے جو ہر وقت کڑھتا رہتا ہے۔ بے وجہ اس کو محلے والوں کی آنکھوں میں نفرت نظر آتی ہے۔ بے وجہ بے سکون ہے۔ تو فکر نہ کر۔ تجھے یاد ہے میں بچپن میں تجھے اوخ سے ڈراتی تھی۔ تیرا باپ کہتا ہے کہ میرا لال اب خود اوخ بن چکا ہے۔ میں نہیں مانتی۔ میرا لعل تو شیر ہے۔ لوہے کا کلیجہ رکھتا ہے۔

ماں کے آنسو میرے گالوں پہ گرتے رہے اور میرے آنسو ماں کے قدموں پہ۔ یاس، حسرت، ندامت اور متاع لٹنے کے احساس نے مجھے زندہ درگور کر دیا۔ یا اللہ میں کہاں جاﺅں؟ میرے کاندھوں پر جانے کتنی لاشوں کا بوجھ ہے۔ خون کے سمندر کے عذاب سے گزر کر میں تو اپنی ہی لاش اٹھائے کھڑا ہوں۔ شاید بابا ٹھیک کہتے ہیں۔ اوخ میں ہی تو ہوں جو نہ مرنے کی وجہ جانتا تھا اور نہ مارنے کی۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 81 posts and counting.See all posts by zafarullah

2 thoughts on “اوخ کی کہانی، اوخ کی زبانی

  • 29-03-2016 at 10:23 am
    Permalink

    Heart wrenching

  • 30-03-2016 at 4:30 pm
    Permalink

    heartrendring

Comments are closed.