ویران جزیرے پر ایک پرانی حیرت اور جدید تنہائی میں ملاقات


 aasimکچھ دنوں سے  تحقیقی و تدریسی مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا اور ادبی مشاغل کا ناغہ چل رہا  تھا  ۔ کچھ ایسا چُپ کا روزہ بھی نہیں تھالیکن عادت ایسی ہے کہ جب تک اپنے ہی   ذہن میں موجود منطقی مغالطے خود پر عیاں نہ ہوں، روزنِ خیال سے پردہ اٹھانے پر دل مائل نہیں ہوتا۔ یہ اور بات ہے کہ مغالطوں کو اس طرح  چھپا لیا جائے کہ وہ قاری  کی پہنچ سے دور رہیں۔   وقت  نہیں تھا کہ کچھ  باضابطہ خاکہ بندی کی جاتی لیکن جناب اختر علی سید  صاحب کے مدلل  نکات اور سلسلہ ہائے  مضامین اتنے دلچسپ تھے کہ اشاراتی طور ہی پر سہی کچھ  موہوم سے بنتے بگڑتے خیالا ت قارئین تک پہنچانے  کی رغبت نے زور پکڑا۔ اُن کے مضامین ابھی جاری ہیں اور چونکہ اب تک  انہوں نے مسئلے کی تعریف  کی  حد تک  ردعمل کی نفسیات سے جڑی ذہنی پیچیدگیوں کی کچھ ناگزیر جہتوں کا احاطہ کر دیا ہے، اس لئے راقم بھی  ایک طالبعلم کی حیثیت سے ان کے بنائے گئے خاکے میں کچھ رنگ بھرنے کا  متمنی ہے۔

میں اپنا سوال کچھ یوں وضع کرنے کی کوشش کرتا ہوں  کہ عدم تحفظ، ردعمل،  تعصب و نفرت، غیر  سے متقابل تعریف پاتی شناخت اور ایک حقیقی منہج علم کے مقابلے میں ایک تصوراتی منہج پر اصرار وغیرہ پر مشتمل یہ  واقعی ایک شش جہاتی مسئلہ ہے لیکن  اگر اسے کسی ایک جہت میں محدود کرنے کی کوشش کی جائے تو  کیا ہم یہ سمجھنے  میں حق بجانب ہیں کہ یہ معانی کی تلاش کا مسئلہ ہے؟  ایک ایسا مسئلہ  جو شعوری  نہیں بلکہ غیر شعوری  ہے اور  وجود کے زمان سے تعامل کے نتیجے  میں پیدا ہونے والے تمام مظاہر  میں ایک غیرمحسوس طریقے سے اس طرح رونما ہوتا ہے کہ     کبھی تو کوئی ایک منفی جہت سامنے رہ جاتی ہے او رکبھی کوئی دوسری۔ یوں محسوس ہوتا  ہے کہ سامنے آنے والی  اس  جہت کو شعور  نیم  تعقلی بنیادیں فراہم کر کے ایک خاص قسم کی تسکین کے عمل سے گزارتا  رہتا ہے اور باالآخر مطمئن ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں  اس مسئلے سے دوچار ذہن شعوری طور پر تو  یہ اصرار کرتا نظر آتا ہے کہ وہ کوئی اٹل معنی دریافت کر چکا ہے لیکن تحت الشعور میں  چونکہ یہ شک برابر موجود ہوتا ہے کہ یہ محض ایک ڈھکوسلا ہے لہٰذا ہر  صریحاً متقابل   کھڑا زاویۂ نگاہ باعث ِ نفرت  ٹھہرتا ہے۔ شدید نفرت کی صورت میں ایک عمومی تشدد پر اکساتا ہے اور اپنی حتمی شکل میں قتلِ نفس پر  بھی بخوشی آمادہ ہو جاتا ہے۔

Robinsonاختر علی سید صاحب نے  اپنے مضمون کے دوسرے حصے میں فرانز فینوں کی ’افتادگانِ خاک‘ کا ذکر کیا  لہٰذا اگر اپنے  اگلے تجزیاتی پڑاؤ کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے فینوں ہی سے مدد چاہیں تو  تلاشِ معنی کا یہ مسئلہ  شاید نوآبادیاتی سیاق میں   کم و بیش وہی ہے جسے  فینوں   غلام بنائے گئے فرد  کی ’تشدد   کے استعمال اور تصورِ حریت ‘ کے ذریعے ’حقیقت  کی دریافت‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ نوآبادیاتی  تناظر یقیناً اس مسئلے کی ایک اہم  مظہری جہت ہے اور اس زاوئیے سے یقیناً ایک پوری تنقیدی روایت وجود میں آ چکی ہے( جس میں ہومی بھابھا وغیرہ کے نام سرِ فہرست ہیں) لیکن  فی زمانہ  یہ عدم تحفظ کا نفسیاتی  مسئلہ شاید  تہذیبی پس منظر میں کسی حد تک  مزید نئے زاویوں  سے تجزیوں کا  بھی متقاضی ہے۔ان زاویوں میں سے ایک اہم  زاویہ   وجودی فلسفے کا زاویہ ہے۔ بادیٔ النظر میں تو یہ سارتر، ہائیڈیگر  اور کامیو وغیرہ کے وجودی فلسفوں ہی کی ایک شاخ محسوس ہوتا ہے لیکن اگر ’شعور‘ اور  ’زمان ‘ وغیرہ جیسے  تصورات پر مبہم فلسفیانہ گفتگو سے پرہیز کیا جائے  اور  محترم اختر علی سید اور وقار ملک صاحبان جیسی سہل اور مدلل زبان میں گفتگو کی کوشش کی جائے تو یہ مسئلہ شاید اس طرح بیان کرنا  بہتر ہو گا کہ انسان کو اگر اپنے ہی ساتھ  اکیلا چھوڑ دیا جائے تو وہ اپنی داخلی کائنات  کی خلا میں کس قسم کے معنی دریافت کرنے پر قادر ہے؟

چونکہ  اختصار لازم ہے لہٰذا  ہمیں  اس وقت نوآبادیاتی تاریخ میں موجود  وجودی  کشمکش سے برسرِ پیکار انسان  سے صرفِ نظر کرتے ہوئے،تہذیبی پس منظر میں انسانی نفسیات کی دو مختلف اور نوآبادیاتی استعمار، صنعتی انقلاب اور گلوبلائزیشن وغیرہ  سے قبل دو متقابل شکلوں کی جانب  اپنے قاری کی راہنمائی مقصود ہے۔ اگر ادب سے مدد لی جائے اور  آنے والے اشارے کے  لئے الجیریا کے دورِ انقلاب کے ایک اہم مفکر مالک بن نبی کا  احسان مند ہوتے ہوئے بات بڑھائی جائے تو  ڈینئیل ڈِفو کا     رابنسن کروسو اور ابن طفیل کا  حیی ابن یقظان  دو ایسے کردار ہیں جن کا موازنہ  ہمیں  انسان کے اپنی داخلی اور خارجی کائنات سے تعلق کے بارے میں خوب  متعارف کرواتا ہے۔

Robinson Crusoeرابنسن کروسو تو یقیناً کسی تعریف کا محتاج نہیں لیکن آگے بڑھنے سے پہلےبارہویں صدی کے اندلسی فلسفی   ابن طفیل کے  کردار حیی ابن یقظان  کا مختصر تعارف  ضروری ہے۔ یہ ایک ایسے بچے کا کردار ہے جس کی پیدائش کے بارے میں کئی دیومالائی  قصے مشہور ہیں۔ ایک روایت کے مطابق یہ مادے  سے ایک فوری ارتقاء کے نتیجے میں وجود میں آنے والا انسان ہے اور دوسری روایت کے مطابق شاہی خاندان کا ایک ایسا بچہ جو کسی غیرمعمولی واقعے کے نتیجے میں سماج اور ثقافت سے دور  ایک ویران جنگل میں پہنچ جاتا ہے۔ انسانی ذہانت کے تمام مظاہر سے دُور وہ بالترتیب شعور کی منزلیں سر کرتا ہے اور شرم و حیا،  حسد، آرزو اور جوش و ولولے وغیرہ کے احساسات  کو دریافت کرنے کے قابل ہوتا ہے اور اس سارے سفر میں ایک مخصوص عملی استدلال  کی خواہش  کے ہاتھوں مغلوب رہتا ہے۔ ایک ہرنی جو ماں کی طرح  اس کی پرورش کرتی ہے اسے پہلے پہل جذبۂ محبت  اور پھر  اپنی موت کے ذریعے افسردگی کے شدید احساس سے متعارف کرواتی ہے۔تیس پینتیس سال تنہائی میں گزارنے کے بعد وہ حادثاتی طور پر  ابصال نامی ایک مسافر درویش سے متعارف ہوتا ہے جو ایک  ایسے علاقے سے ہجرت کر کے نکلا ہے  جہاں موجود قوم  خدا پر ایک روایتی ایمان رکھتی ہے یعنی کسی مذہبی روایت سے منسلک ہے۔  چونکہ ابن یقظان اپنی جبلت میں ایک ناگزیر تجسس رکھتا ہے لہٰذا  جاننے کی یہ مستقل لگن  اب تک  اسے ایک یکتا قسم کی اطمینان  بخش  طبیعات اور مابعدالطبیعات  پر  قائم کر چکی ہوتی ہے۔ وہ کائنات  کی وسعت اور اپنی داخلی کیفیات کو ایک ناملفوظ قسم کی اکائی میں  پرو چکا ہوتا ہے اور اس کے فہم کو الفاظ میں بیان کرنے سے اس لئے قاصر ہوتا ہے کیوں کہ آج تک اسے زبان و بیان کی ضرورت ہی  محسوس نہیں ہوئی ہوتی۔ ایسے میں ابصال کا پہلا ردعمل تو اپنے ایمان  کے لئے  ایک شدید عدم تحفظ  کا احساس ہوتا ہے  کیوں کہ  وہ ابن یقظان کی شکل میں ایک ایسے  حیاتیاتی شعور سے  متعارف  ہوتا ہے جسے حقیقتِ مطلق  کو لفظوں میں بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ لیکن آہستہ آہستہ وہ   مذہبی تبلیغ کی خاطر   ابن یقظان کو زبان  کی تعلیم دیتا ہے ۔ اب یہ حقیقت اس پر کھل کر عیاں ہوتی ہے کہ ابن یقظان تو  اس کی نسبت ان ارفع حقائق سے کہیں بہتر طور پر   آشنا ہوتا ہے جن کے لئے ابصال کے پاس محض کچھ لسانی علامتیں ہی ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ لسانی علامتیں ابن یقظان کے لئے ’کھوکھلی‘ ہوتی ہیں۔ خیر قصہ مختصر ابن یقظان ابصال کی نیک نیتی  اور دوستی سے متاثر ہو کر اس کا مذہب قبول  تو کر لیتا ہے لیکن اس کے سماج میں  پہنچ کر    روایتی انسانوں کی فطرت  سے متعلق کئی لاینحل  تفہیمی مسائل کو شکار ہو جاتا ہے۔

کہانی طویل ہے اور اپنے اندر کئی ایسے دلچسپ اشارے  لئے ہے جنہوں نے بعد میں جدید مغربی فکر میں  اہم ترین مباحث کو جنم دیا۔ جیسا کہ ہم نے کہانی کے خلاصے سے قبل ذکر کیایہاں ہمارا مقصد صرف  رابنسن کروسو اور ابن یقظان کی تنہائی کا  ایک مخصوص زمانی تناظر میں موازنہ ہے جہاں ایک مخصوص تصورِ زمان  تنہا وجود کو مختلف  قسم کے تجربات  پر اکساتا ہے۔ آئیے پہلے  رابنسن کروسو  کی چار نومبر کی  روداد پر نظر ڈالتے ہیں:

’’۴ نومبر:آج  صبح میں  نے اپنے اوقاتِ کار  کی ضابطہ بندی کی، کب اپنی بندوق لے کر باہر نکلنا ہے،دوسرے مشاغل کے اوقات کیا ہوں۔  بارش نہ ہونے کی صورت میں ہر  صبح میں دو سے تین گھنٹے بندوق تھامے باہر چہل قدمی  کے لئے  نکل جاتا ہوں، پھر گیارہ بجے تک  کچھ  جسمانی محنت میں مشغول رہتا ہوں، پھر ضرورت کے مطابق خوراک تناول کرتا ہوں، نصف النہار سے دو بجے تک  سونے کے لئے لیٹ جاتا ہوں کیوں کہ موسم سخت گرم ہوتا ہے اور پھر  شام کو دوبارہ کام میں لگ جاتا ہوں۔ اِس دن اور اگلے دن  کے کام کے مکمل اوقات میز بنانے میں صرف ہو گئے لیکن اس کے بعد میں بالکل کسی فطری معمار  کی طرح ہاتھ چلانے کے قابل ہو چکا تھا۔ ‘‘

معلوم ہوتا ہے کہ   خارجی کائنات کے کم و بیش  ایک ہی جیسے حالات میں  ابن یقظان  کی تنہائی کی روداد کافی مختلف ہے:

132150-004-F3F20687’’ جب ہرنی  بوڑھی اور لاغر ہو گئی  تو وہ اسے چرنے کی کسی اچھی سی جگہ پر لے جاتا  اور  سب سے میٹھے پھل توڑ کر کھلاتا۔ لیکن اس کے باوجود وہ کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جا رہی تھی، اس کی حالت ابتر ہوتے ہوتے وہ باالآخر مر گئی اور اس کی تمام حرکات و سکنات میں سکوت آ گیا۔یہ دیکھتے ہی لڑکا غم سے نڈھال ہو گیا۔ وہ اسی آواز سے اسے بلانے کی کوشش کرتا جس سے وہ کلام کرتی تھی اور اسے جواب دیا کرتی تھی، لیکن اب  بار بار آواز دینے  کے باوجود  اس کے جسم میں کوئی رتی برابر حرکت بھی نہیں تھی۔ پھر اس نے ہرنی کے کانوں اور آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی  لیکن کوئی  واضح نقص نظر نہ آ سکا، تمام جسمانی اعضاء پر نظر دوڑائی لیکن کچھ بھی کم نہ تھا، ہر چیز بالکل پہلے جیسی ہی تھی۔ اس کے اندر ناقص عضو کو جان لینے کی شدید خواہش پیدا ہو رہی تھی تاکہ وہ اس نقص کو دور کر کے  یا ناقص عضو کو علیحدہ کرنے کے بعد ہرنی کو واپس پہلے ہی جیسی حالت میں لے آئے۔ لیکن وہ اس کوخواہش کو عملی جامہ پہنانے  کے معاملے میں اپنے آپ کو  بالکل کورا محسوس کر رہا تھا۔‘‘

دونوں اقتباسات پر سرسری سا  غور بھی ہمیں آخر میں کچھ اہم اشاروں کی نشاندہی کے لئے کافی ہے۔ ڈینئیل ڈِ فو اور ابن طفیل میں کم وبیش   چھ صدیوں کا  فاصلہ نہ صرف تصورِ انسان بلکہ تلاشِ معنی  کی پیچیدگیوں میں اضافے کے سفر  کی بھی ایک داستان ہے۔ جہاں رابنسن کروز کی شکل میں صنعتی دور کی سرحد پر کھڑے اس انسان کی بازگشت سنائی دیتی ہے جو ایک مخصوص ’ حقیقت پسندی‘ سے اپنے سلسلۂ زمان  کی  بندربانٹ سونے جاگنے، خوراک کے حصول اور محنت مزدوری  کے نفیس خانوں میں کر رہا ہے وہیں اس سے چھ سو سال قبل  کاابن یقظان ہمیں ایک قدیم انسان سے روشناس کراتا ہے جو  ایک مخصوص   قسم کے ’تحیر‘ سے نبرد آزما ہے اور اپنے پاس وہ آلات نہیں رکھتا جو  تجربے کے زور پر اس کی رسائی کسی حتمی معنی تک کر دیں۔ شاید  یہ کہنا  زیادہ  بہتر ہو گا کہ رابنسن کروسو   ان سوالات میں دلچسپی ہی نہیں رکھتا جو اس  کی اپنی طبعی انانیت سے اوپر اٹھ کر کسی  آفاقی حقیقت سے متعلق ہوں۔ ایسے میں جہاں جدید افادیت پسند انسان  ہر لمحہ  اپنی استعاراتی’ میز‘ بنانے میں مصروف ہے وہیں کوئی ایسی نادیدہ ساعت جو اس کے اندر کسی’ ناقص عضو‘ کی تلاش کا بے انتہا تجسس پیدا کر دے  ایک شدید لامعنویت کا سا احساس پیدا کرتی ہے  جو اپنی ہر شکل میں  کسی نہ کسی صورت عدم تحفظ کے مظاہر کو وجود میں لاتا ہے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ یہ مظاہر کس حد تک متنوع ہیں لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ اپنی اصل میں یہ معاملہ کہیں نہ کہیں تلاشِ معنی کے مسئلے سے جڑا ہے۔ ہماری رائے میں اس تجزیاتی پڑاؤ پر  اگر ہم صرف اس موازنے کی اہمیت پر سمجھوتہ  کر سکیں تو شاید  یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی جس سے اگلا تجزیاتی پڑاؤ ان دونوں دنیاؤں میں ایک  ایسے  توازن  کی دریافت کا ہے جو  فی نفسہٖ ایک علم وفنون اور ٹیکنالوجی  کی بنیادوں پر تصور کی گئی ثقافت کو  اخلاقی اور مابعدالطبیعاتی تصورات سے ہم  آہنگ کر دے۔  علم ِ نفسیات  کی حد  تک مجھے طالبعلمی کا دعوی بھی نہیں لیکن  ماہرینِ نفسیات متفق ہوں تو شاید اس کے  لئے بڑے پیمانے پر ایک لوگوتھراپی   (logotherapy)کی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 46 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

2 thoughts on “ویران جزیرے پر ایک پرانی حیرت اور جدید تنہائی میں ملاقات

  • 29-03-2016 at 1:19 pm
    Permalink

    ابن طفیل کا کردار نہایت دلچسپ ہے۔ فرد کا شعور، فرد کا کائنات سے رشتہ اور اس تمام جدو جہد میں زبان کا کردار میرے جیسے عام ، غیر فلسفی آدمی کے لیے دلچسپی کا باعث ہے

  • 29-03-2016 at 4:38 pm
    Permalink

    بہت دلچسپ۔ اگرچہ آپ نے کسی اور تناظر میں “ابن یقظان” کا ذکر کیا ہے لیکن اگر آپ الگ سے ایک تحریر میں اس کردارکے ساتھ ساتھ ابن نفیس کے کردار “فاضل ابن ناطق” کا تجزیہ و تقابل اس بنیادی سوال کے تعلق سے کر سکیں جو ان دونوں کے تخلیق کاروں کے پیشِ نظر تھا (جو آج شاید ان کے دور سے بھی زیادہ متعلق ہے )تو ہمارے جیسے ان پڑھوں کا بہت بھلا ہوجائے۔

Comments are closed.