دوستی کا بھاشن اور کل بھوشن


khawaja kaleem پچیس مارچ جمعتہ المبارک کی سہ پہر کو عین اس وقت جب ایران کے صدر حسن روحانی پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے تو پاکستان کا سارا میڈیا دنیا کو یہ بریکنگ نیوز دے رہا تھا کہ بلوچستان سے پکڑا جانے والا بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو ایرانی ویزے پر پاکستان آیا لیکن کل بھوشن کی گرفتاری سے اب تک مرچ مسالے والی کراری چاٹ بیچنے والے بھارتی میڈیا کوجیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ کوئی بتائے کہ یہ رویہ پیشہ ورانہ صحافت کے اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔

انتہائی غیر معمولی بات یہ ہے کہ کل بھوشن گزشتہ کافی عرصے سے ایران کے شہر چاہ بہار میں جیولری شاپ کی آڑ میں پاکستان میں قتل و غارت اور دہشت گردی کی وارداتیں منظم کرتا رہا اور پاکستان میں علیحدگی پسندوں کو مالی مدد کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی تربیت بھی دیتا رہا۔ چھبیس مارچ کو اسلام آباد میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں صدر حسن روحانی کی طرف سے دی جانے والی صفائی کافی نہیں کہ جب بھی پاکستان اور ایران قریب آنے لگتے ہیں تو افواہیں پھیلنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ صاحب!یہ افواہ نہیں ۔پکڑا جانے والا جاسوس کوئی معمولی فیلڈ ورکر نہیں بلکہ اس سے ملنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک بڑے نیٹ ورک کا سربراہ نہیں تو ایک اہم اور غیر معمولی مہرہ ضرور ہے۔ آرمی چیف اور صدر روحانی کی ملاقات بارے آئی ایس پی آر کا اعلامیہ پاکستان کے تحفظات کی حدت کا عکاس ہے۔اس تناظر میں ایران کو نہ صرف اس کوتاہی کا جواب دینا ہوگا بلکہ پاکستان کو آئندہ کے لئے اس طرح کے واقعات کے سدباب کے لئے اقدامات کی یقین دہانی بھی کرانی ہوگی۔ورنہ دونوں ملکوں کے تعلقات کا متاثر ہونا یقینی ہے کیونکہ ملکوں کے تعلقات میں مذہبی یا برادرانہ تعلقات جیسے الفاظ درحقیقت کہانی میں رنگ بھرنے کے لئے ہوتے ہیں۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان سے کل بھوشن کی گرفتاری اس کے اعتماد کوظاہر کرتی ہے کہ وہ مقامی سطح پر اپنا نیٹ ورک اس قدر مضبوط کر چکا تھا کہ اسے شاید اپنی گرفتاری کا کوئی خدشہ ہی نہ تھا۔

کل بھوشن یادیو کوئی پہلا بھارتی جاسوس نہیں جو پاکستان سے پکڑ ا گیا ہے۔اس سے پہلے لاہور میں پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے سرجیت سنگھ کو انسانی بنیادوں پر رہاکرد یا گیاتھا ۔ جو واہگہ بارڈر تک بڑھاپے اور کمزوری کا ڈرامہ کرتے ہوئے اپنی بےگناہی کی دہائی دیتا رہا لیکن بھارت کی حدود میں داخل ہوتے ہی جوان ہو گیا اور اپنے کرتوتوں کا بڑے فخر سے اعتراف بھی کیا۔سربجیت سنگھ کو رہا کرنے کے لئے بھی گزشتہ حکومت بہت بے چین تھی لیکن عوامی دباو¿ کے سبب یہ بیل منڈھے نہ چڑ ھ سکی ۔ پہلے سے گرفتا ربھارتی جاسوسوں اور دہشت گردوں کو پھانسی کے پھندے تک پہنچایا جاتا تو بدنام زمانہ ”را“ کو کل بھوشن جیسے انسانیت دشمنوں کو دوبارہ منظم کرنے کی ہمت نہ ہوتی ۔سب سے زیادہ حیرت اور افسوس مجھے ان دانشوروں پر ہے جو انسانی حقوق کے مامے بنے پھرتے ہیں اور پاک بھارت دوستی کے بڑے علمبردار ہیں ۔ بھارتی میڈیا کی طرح ان کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے اور کسی ٹی وی چینل یا اخبار کے لئے وہ دستیاب ہی نہیں ہیں۔

میں ہر گز بھی پاک بھارت دوستی کا مخالف نہیں ،دوستی ضرور ہونی چاہئے لیکن تالی ایک ہاتھ سے بجے کیا یہ ممکن ہے؟ ہر گز نہیں حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔کشمیر ،حید رآباد دکن،مناوادراور جوناگڑھ کے بعد مشرقی پاکستان میں بھارت کی مداخلت اور اس کا کھلا اعتراف ،سمجھوتہ ایکسپریس اور اس جیسے کتنے ہی واقعات ایسے ہیں جو بہتر تعلقات قائم کرنے کے لئے بھارت کی بدنیتی کو آشکار کرتے ہیں۔بین الاقوامی تعلقات کا طالب علم ہونے کے ناطے میں ایک بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے پندرہ بیس برس میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کوئی بہتری کم از کم مجھے تو نظر نہیں آتی ۔اس لئے نہیں کہ سرحد کے دونوں اطراف اس کی خواہش موجو د نہیں بلکہ اس لئے بھارت کا رویہ ایک ریاست کے طور پر سیدھے سادھے لفظوں میں کتے کی دم جیسا ہے جو کبھی سیدھا نہیں ہوا۔ خود پاکستان کی بھی کچھ کمزوریاں یا کوتاہیاں رہی ہوں گی لیکن بارہا پاکستان نے سنجیدہ کوششیں کیں کہ دونوں ملکوں کے مسائل حل ہوں،خاص طور پر وزیراعظم محمد نواز شریف کواس تناظر میں غیر معمولی دلچسپی دکھانے پر اندرون ملک تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔دونوں ملکوں میں اگر بی جے پی ،آر ایس ایس،جماعت اسلامی اور سمیع الحق (معاف کیجئے گا موصوف کو مولانا نہیں لکھ سکتا) جیس سوچ موجود ہے تو دونوں ملکوں کے عوام میں دوستانہ جذبات بھی پائے جاتے ہیں ۔ ادبی ،صحافتی اور ثقافتی حلقوں میں باہمی دوستیاں بھی ہیں لیکن دو ریاستوں میں تعلقات کی بہتری کے لئے ان چیزوں کی اہمیت ثانوی ہے۔صرف دوستی کا بھاشن کافی نہیں ،ریاست کی نمائندہ حکومت اور اس کے تمام متعلقہ ادارے جب تک عملی طور پر اس حوالے سے سنجیدگی نہ دکھائیں بہتر تعلقات ممکن نہیں ہیں۔ گزشتہ برس سات اگست کوشائع ہونے والے اپنے کالم کا اختتام میں نے ان الفاظ سے کیا تھا کہ ”آرمی چیف جنرل راحیل شریف گزشتہ پچیس برس پراناPARADIGMتبدیل کرنا چاہتے ہیں اور نئے تبدیل شدہ PARADIGMمیں صرف طالبا ن ہی نہیں بلکہ کسی بھی غیر ریاستی مسلح گروہ کی کوئی گنجائش نہیں“۔یہ کالم الطاف حسین کی ایک تقریر سے متعلق تھا جس میں انہوں نے گریٹر بلوچستان کے قیام کی بات بھی کی تھی ۔اب اگر مصطفٰے کمال کے اعترافات اور کل بھوشن یادیو کی گرفتاری کو ملا کر دیکھا جائے تو منظر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بھارت کی بدنام خفیہ ایجنسی ”را“ کے وہی عناصر جو بلوچستان میں سرگرم ہیں کراچی میں بدامنی کے پیچھے بھی انہیں کے ہاتھ ہیں۔ پاکستانی ریاست کی طرف سے گزشتہ ڈیڑھ دو سال میں جومو¿ثر اقدامات دہشتگردی کے خلاف کئے گئے ہیں ان کے نتائج خوش آئند ہیں لیکن ظاہر ہے جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ اس جنگ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی حدود میں را کے نیٹ ورک کے خلاف زیرو ٹالرنس پر مبنی انتہائی جارحانہ رویہ اپنائے اور اس نیٹ ورک کے مہروں پر جاسوسی اور دہشت گردی کے مقدمات قائم کر کے انہیں تیزی سے نہ صرف انجام تک پہنچایا جائے بلکہ پاکستان کے ان دشمنوں کے خلاف مقدمات کے عدالتی فیصلوں پر فوری عمل درآمد بھی کیاجائے۔انسانیت کے دشمنوں کو انسانی ہمدردی کی نہیں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی ضرورت ہے۔میرا خیال ہے کہ بھارت سے اس طرح کی سرگرمیوں کا خاتمہ کئے بغیر ہم بھارت سے بہتر تعلقات قائم کر ہی نہیں سکتے ۔ دنیا میں کمزور کا کوئی دوست نہیں ہوتا جیسے ناکامی کا کوئی باپ نہیں ہوتا۔ہم نے اپنے ملک میں امن قائم کرلیا اور معاشی طور پر طاقت ور ہوگئے تو شائد تاریخ کبھی پلٹا کھائے،بھارت میں مودی کی جگہ کوئی انسان دوست حکمران آئے جسے پاکستان سے دوستی کی ضرورت محسو س ہو۔اور اس ضرورت کی بہت سی اہم وجوہات موجود ہیں جن میں سے ایک پاکستان کا منفرد جغرافیہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments