متحرک فوج، بے اختیار جمہوریت


mujahid ali  لاہور میں دہشت گردی اور اسلام آباد میں بدامنی اور انتشار کی صورتحال میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے امریکہ کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ آج شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بدامنی اور انتشار پیدا کرنے والے عناصر حکومت کی نرمی کو اس کی کمزوری نہ سمجھیں۔ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری پوری کرے گی۔ وزیراعظم کا قوم سے خطاب اور یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کور کمانڈرز کانفرنس میں، لاہور میں دہشت گردی کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبے میں رینجرز کو کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے صوبے کے پانچ مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ ان کارروائیوں میں متعدد دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھاری مقدار میں اسلحہ بھی ضبط کیا گیا ہے۔ دوسری طرف پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ صوبے میں فوج کو کارروائی کا اختیار دیا گیا ہے۔

فوج کے اعلان کے مطابق رینجرز کو پنجاب میں دہشت گردوں کا صفایا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم کی طرف سے بھی یہ اعلان ہوا تھا کہ جنوبی پنجاب کے دو اضلاع میں انتہا پسند عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تاہم اس کے ساتھ جنرل راحیل شریف کے براہ راست اقدام کے احکامات کی خبریں سامنے آنے لگیں اور وزیراعظم کا اعلان ان خبروں میں گم ہو کر رہ گیا۔ سوموار کا نصف دن عام لوگوں کے لئے الجھن اور پریشانی کا سبب بنا رہا۔  لاہور میں خودکش دھماکہ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ کی خبریں آ رہی تھیں۔ اس سانحہ کی تفصیلات اور ویڈیو امیجز کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی اور بے چینی کے علاوہ غصہ اور رنج کی کیفیت بھی بڑھ رہی تھی۔ تاہم فوج کی طرف سے فوری اور موثر کارروائیوں کی خبریں کافی حد تک اطمینان بخش تھیں۔ اس موقع پر اگرچہ یہ اطمینان موجود تھا کہ جنرل راحیل شریف نے فوری کارروائی کا حکم دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی منظر نامے سے صوبائی اور وفاقی حکومت کی عدم موجودگی سنجیدہ سیاسی مبصرین کے لئے تشویش اور پریشانی کا سبب بھی تھی۔

خاص طور سے کل راولپنڈی میں ممتاز قادری کے چہلم کی تقریب کے بعد جمع ہونے والے لوگوں نے جس طرح اسلام آباد پر دھاوا بولا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے بعد شہر کے ریڈ زون میں دھرنا دیا …. اس سے حکومت کی بے بسی عیاں ہو رہی تھی۔ جائے وقوعہ سے رپورٹ کرنے والے اکثر رپورٹر یہ بتاتے رہے تھے کہ راولپنڈی پولیس نے لیاقت باغ سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہونے والے ہجوم کو روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی تھی۔ اسی طرح جب یہ لوگ اسلام آباد میں داخل ہوئے تو وفاقی دارالحکومت کی پولیس انہیں حساس ترین علاقوں میں داخل ہونے ، دنگا فساد کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے سے روکنے میں ناکام رہی تھی۔ رات گئے آئی ایس پی آر ISPR کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ فوج کو وفاقی دارالحکومت میں حساس مقامات کی حفاظت کے لئے متعین کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہجوم نے ٹائر اور کنٹینر جلانے اور ہنگامہ آرائی کرنے کا سلسلہ بھی بند کر دیا۔ تاہم چند ہزار افراد کا یہ ہجوم اسلام آباد کے ڈی چوک پر آخری خبریں آنے تک موجود تھا اور حکومت سے ممتاز قادری کو شہید قرار دینے کا اعلان کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔

اس پس منظر میں وزیراعظم کا ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب بے حد اہمیت کا حامل تھا۔ یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ بعض ٹھوس اقدامات کرنے اور صورتحال کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن پندرہ منٹ کی یہ تقریر پرجوش نعروں سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ وہ یہ بتانے میں ناکام رہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے اعلانات کے باوجود آخر یہ عناصر لاہور میں ایسا خوفناک حملہ کرنے میں کیوں کر کامیاب ہو سکے۔ اگرچہ انہوں نے یہ پرعزم اعلان کیا کہ ملک کی سرزمین انسانیت کے دشمنوں کے لئے تنگ کر دی گئی ہے اور حکومت دہشت گردوں کو پاکستانیوں کی جانوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بھی حکومت کے اس عزم کی فصیل میں شگاف نہیں ڈال سکتا۔ یہ تقریر مرصع اور طاقتور الفاظ کا مرقع تھی لیکن نواز شریف یہ واضح کرنے میں ناکام رہے کہ وہ اس موقع پر اپنی بے بسی کا اظہار کرنے کے لئے ٹیلی ویژن اسکرین پر نمودار ہوئے ہیں یا قوم کو ڈھارس بندھانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

کسی بھی حکومت کا سربراہ اپنے عزم کا اظہار خوبصورت الفاظ کی بجائے طاقتور اقدامات کے ذریعے کرتا ہے۔ عوام ان اقدامات سے ہی حکومت کی اتھارٹی اور ارادے کا اندازہ کرتے ہیں۔ لیکن پاکستانی وزیراعظم اگرچہ یہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے انتشار پھیلانے والوں کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ کیا ہے اور اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔ تاہم واقعاتی رپورٹیں یہی ثابت کرتی رہی ہیں کہ حکومت اور اس کے ادارے مکمل طور سے ناکام ہو چکے تھے اور وہ کسی بھی علاقے اور عمارت کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ کل راولپنڈی اور اسلام آباد کی امن و امان کی صورتحال کسی نرم پالیسی کا شاخسانہ نہیں، حکومت کی بے حوصلگی اور ناقص حکمت عملی کا نمونہ تھی۔ وزیراعظم کے کہنے سے کوئی اس بات پر کیوں کر یقین کر لے گا کہ یہ حکومت کی مرضی تھی۔ کیونکہ صرف نرمی دکھانے کے لئے اربوں کی سرکاری املاک کو تباہ نہیں کروایا جا سکتا۔ حکومت اور اسلام آباد پولیس اگست 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے مارچ اور دھرنے کی صورت میں یہ تجربہ کر چکی تھی کہ ایسے حالات کا کیوں کر سامنا کرنا چاہئے۔ پھر بھی یہ بات واضح ہے کہ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کی قیادت میں اسلام آباد کے ایوانوں کا گھیراﺅ کرنے والے ہجوم نے توڑ پھوڑ نہیں کی تھی اور راستہ حاصل کرنے کے علاوہ کسی زور زبردستی کا مظاہرہ بھی نہیں کیا تھا۔ اس تجربہ کی روشنی میں تو اسلام آباد پولیس ، اس کے ذمہ داروں اور وفاقی وزیر داخلہ کو صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار رہنے کی ضرورت تھی۔ خاص طور سے اس صورت میں کہ ممتاز قادری کی پھانسی کے خلاف احتجاج کرنے والے گروہوں کی جانب سے اس موقع پر جلوس نکالنے کے اعلانات بھی سامنے آتے رہے تھے۔

وزیراعظم جس وقت قوم کو حکومت کی طاقت اور عزم کا سبق پڑھانے کی کوشش کر رہے تھے، اس وقت بھی وزیراعظم ہاﺅس اور پارلیمنٹ سے چند سو گز کے فاصلہ پر چند ہزار لوگوں نے غیر قانونی طور پر دھرنا دیا ہوا تھا۔ کسی جمہوریت پسند کو کسی بھی گروہ کے کسی بھی معاملہ پر احتجاج کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ لیکن جب کوئی گروہ اشتعال پھیلانے ، املاک کو تباہ کرنے اور عام شہریوں کے معمولات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور غیر قانونی احتجاج کے ذریعے دھمکیوں کی زبان استعمال کرتا ہے تو حکومت سے ضرور یہ توقع کی جاتیی ہے کہ وہ ایسے مظاہرین کو مناسب طریقے سے منتشر کرنے اور امن بحال کرنے کے لئے میدان عمل میں موجود ہو گی اور صرف ٹیلی ویژن تقریر کے ذریعے لوگوں کو اطمینان دلانے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم کے قوم سے خطاب کو حکومت کی بے عملی اور فوج کے متحرک اور مستعد رو ل کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستانی عوام آج سارا دن فوج کی کارروائیوں کی خبریں سنتے رہے ہیں۔ اس کے برعکس حکومت کا سربراہ صرف اعلان کرنے اور دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو دھمکانے کی زبانی کوشش کرتا نظر آیا۔ کیا اس طرح نواز شریف یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ فوج کے متحرک اور مستعد ہونے کے باوجود سول حکومت اب بھی موجود ہے اور معاملات کی پیش رفت پر اس کی گرفت ہے۔ ایسا ثابت کرنے کے لئے وزیراعظم کو بعض ایسے اقدامات کا اعلان کرنا چاہئے تھا جس سے یہ معلوم ہو سکتا کہ فوج حکومت کے دئیے ہوئے کن احکامات پر عمل کر رہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ فوج قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلہ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ناکامی کے بعد اب اس شعبہ میں بھی خود ہی اقدام کرنے پر مجبور ہے۔ اور وہ اس حوالے سے حکومت کے فیصلہ کا انتظار کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتی۔

پنجاب میں فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد عملی طور پر پورا پاکستان اب فوج اور رینجرز کے زیر اختیار ہے۔ رینجرز اس سے قبل بلوچستان اور سندھ میں دہشت گردوں اور سماج دشمن عناصر کے خلاف متحرک ہیں۔ قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب جاری ہے اور خیبر پختونخوا میں بھی فوج کے ادارے ناپسندیدہ عناصر کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ عام لوگوں کے لئے یہ صورتحال اس حد تک تو خوشگوار ہے کہ فوج پوری دلجمعی سے دہشت گردوں کے خلاف متحرک نظر آتی ہے۔ لیکن سندھ حکومت کی طرح پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت بھی انتظامی معاملات میں رینجرز کی مداخلت کے خلاف ہے۔ رانا ثناءاللہ کا بیان اسی رائے کا اظہار ہے۔ لیکن سول حکومتوں کی کمزوریوں کے سبب فوج کو معاملات براہ راست اپنے ہاتھ میں لینے پڑے ہیں۔ یوں عملی طور سے فوج کے ادارے اپنی صوابدید سے صورتحال کنٹرول کرنے کے لئے اقدام کر رہے ہیں۔ بظاہر ملک میں سول حکومتیں اور اسمبلیاں کام کر رہی ہیں۔ تاہم یہ حکومتیں اور اسمبلیاں ایسے اداروں کی حیثیت رکھتی ہیں جو نہ تو اپنے اختیارات استعمال کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور نہ ہی درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ صوبوں اور وفاق میں مسلط حکومتیں اپنی اسمبلیوں کو اعتماد میں لینے اور اہم معاملات پر ایوانوں میں گفتگو اور فیصلے کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

ایسے میں یہ اندیشہ بہرصورت موجود رہے گا کہ سول معاملات میں فوج کی یہ مداخلت کب تک ملک کے جمہوری نظام کو قبول کرے گی اور کب تک یہ کمزور حکومتیں فوج کے موثر اور عملی اقدامات سے متاثر ہوئے بغیر بااختیار رہیں گی۔ اہل پاکستان کے پاس جمہوری اداروں کے تحفظ اور تسلسل کا خواب دیکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ 70 برس کی مختصر عمر میں یہ ملک متعدد تجربات سے گزرنے اور کئی فوجی حکومتوں کا مزہ چکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت ہی مشکلات سے نکلنے ، بحرانوں پر قابو پانے اور ملک و قوم کے وقار کا سبب بن سکتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جو لوگ اس جمہوری عمل کے نتیجے میں قائم ہونے والے اداروں کے کسٹوڈین بنتے ہیں، وہ احساس ذمہ داری سے محروم ہیں۔ یہی اس ملک کی جمہوریت کو سب سے بڑا خطرہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “متحرک فوج، بے اختیار جمہوریت

  • 29-03-2016 at 2:12 am
    Permalink

    فاضل مضمون نگار جمہوری حکومتوں کو و رگیدنے کے لیے کافی بے تاب دکھائی دیتے ہیں۔ کیا یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے تمام معاملات سے نپٹنے میں فوج اگر اتنی ہی مستعد اور کارگر ہے تو چارسدہ کی باچا خان یونی ورسٹی نشانہ کیوں بن گئ؟ خیبر پختون خوا کی حکومت تو فوجی کارروائیوں میں مداخلت نہیں کرتی۔ جب آپ اسلام آباد میں موجود چند شرپسندوں کی موجودگی کو جواز بنا کر جمہوری اداروں کے خلاف فیصلہ صادر کر دیتے ہیں تو جی ایچ کیو یا مہران بیس پر حملے کے بعد فوجی قیادت کو نااہل کیوں قرار نہیں دیتے؟ 1979 کی افغان جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف موجودہ امریکی جنگ میں ”گڈ اور بیڈ” کی دوغلی پالیسی، ہر دو تباہ کن پالیسیاں اسی ”متحرک” ادارے کی وضع کردہ ہیں۔ فوجی آمریت کو ہم یہ کہہ کر بری کر دیتے ہیں کہ یہ طالع آزماؤں کا انفرادی کھیل تھا، حقیقت میں یہ ایک پورے ادارے کی ریاست کے مروجہ آئین سے بغاوت ہے۔

Comments are closed.