انسان کی تلاش


 Professor Abdullah Bhattiمیں بوجھل رنجیدہ دل لیے اپنے مرحوم دوست کے گھر سے نکل آیا واپسی پر اس غم نے ہمیشہ کی طرح مجھے ہلکان کیا ہوا تھا کہ مادیت پرستی کی عالمگیر تحریک نے کس طرح وطن عزیز کے انسانوں کو بھی خوفناک عفریت کی طرح ہڑپ کر لیا ہے ۔مرحوم دوست کی پراپرٹی اور گاڑیوں کی بندر بانٹ دیکھ کر شدت سے احساس ہوا کہ انسان پتہ نہیں کہاں کھو گیاہے یا انسان مردار خور جانور میں تبدیل ہو گیا۔محبت پیار رواداری قربانی اور ایثار جو کبھی ہما رے معاشرے کا حقیقی حسن تھا وہ کب کا زمین میں دفن ہو چکا مادیت اور شہرت کی دوڑ میں دوڑتے دوڑتے انسان اب انسان نہیں رہا بلکہ گدھ میں تبدیل ہو چکا ہے اچھے انسان کی تلاش ہر دور میں رہی ہے ماضی میں مولانا روم بیان کر تے ہیں دن دیہاڑے کو ئی شخص ہا تھ میں چراغ لیے کچھ ڈھونڈ رہا تھا اور وہ بھی بھرے بازار میں لو گوں نے حیرت سے دیکھا کہ سورج پو ری آب و تاب سے چمک رہا ہے پھر بھی یہ شخص چراغ جلا ئے کس کو ڈھونڈ رہا ہے اور جب کسی نے اُس سے پو چھا کہ آپ کس کی تلاش میں ہیں تو وہ بو لے ”انسان “ اُس کی با ت سن کر لوگ مسکرا دئیے اور بو لے یہ ہجوم جو انسانوں کا نظر آرہا ہے یہ کا فی نہیں تو وہ اہل ِ نظر بو لا جس کو میں دیکھنا چاہتا ہوں وہ نظر نہیں آتا اور جنہیں میں دیکھنا نہیں چاہتا وہ سامنے مو جود ہیں ۔ یہ مسئلہ کسی نہ کسی طرح ہر دور میں رہا شاعر مشرق علا مہ اقبال کو بھی قافلہ حجاز میں ۔۔۔حسین ؓ ۔۔۔کی تلاش رہی اور مرزا غالب بھی اِس کا اظہار اِس طرح کر تا نظر آیا ۔
بسکہ دشوار ہے ہر کا م کا آساں ہو نا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہو نا

میرا تعلق دیہی پس منظر سے ہے جب شعور نے آنکھ کھولی تو وطن عزیز کے مشہور لوگوں کا میں بھی فین تھا اور جب قدرت نے اِن عظیم مشہور لوگوں سے ملنے کے مواقع دئیے تو شدید حیرت ہو ئی کہ یہ بڑے لوگ کردار کے کتنے چھوٹے نکلے ، کئی عالم دین اِیسے ملے جن کے پاس حقیقی کردار اور علم کے علاوہ سب کچھ تھا ایسے ایسے نامور شاعروں سے ملاقات جو سالوں سے دل میں مچلتی تھی اور اُن کی شاعری ایسی کہ ایک ایک شعر پر وجد انی کیفیت اور جب ملا قات ہو ئی تو نہ کردار نہ اخلاق جن کے منہ سے ریشمی لچھوں کی طرح الفاظ نکلتے تھے وہ پتھر سے بھی سخت دل نکلے اور پھر بہت سارے ایسے خطیب جن کی خطابت اور لفاظی شہرت کا ڈنکا چار دانگ میں پھیلا ہوا تھا ۔ جب قریب ہو ئے تو اُن کی بے کرداری دیکھ کر شدید کراہت کا احساس ہوا اور پھر وطن عزیز میں تصوف کے اُن بڑے صوفیوں سے جب ملاقات ہو ئی جن کے چہرے نور و روشنی سے چمکتے ہیں قریب ہو ئے تو کُچلے سے بھی کڑوے نکلے اور پھر دانشور کالم نگار اور بڑے ادیب الفاظ اور فقرے دیکھو تو سبحان اللہ اور کردار دیکھو تو معاذ اللہ

مجھے اُس وقت شدید حیرت ہو ئی جب ایک بو ڑھے خطیب میرے پاس کو ئی سفارش لے کر آئے کہ میں بہت بڑے مسئلے سے دو چار ہو ں میں نے بہت احترام اور ادب سے پو چھا جنا ب بتائیں یہ مشتِ غبار آپ کی کیا مدد کر سکتا ہے تو اُس وقت میرے پا ﺅں تلے سے زمین نکل گئی جب انہوں نے کہا کہ اُنہیں اپنی نو جوان طالبہ جو اُن سے 50سال چھوٹی تھی عشق ہو گیا ہے آپ کو ئی ایسا وظیفہ یا عمل بتائیں کہ وہ بھی ہماری محبت میں گرفتار ہو جائے مجھے اُن کی شخصیت اور بڑی توند سے بہت گھن آئی اور پھر ستر سالہ شاعر اور ادیب جن کی شاعری اور کتابوں کا ایک زمانہ معترف ہے میرے پاس آیا میں خود بھی عرصہ دراز سے اُن کی تصنیفات اور شاعری کا دیوانہ تھا انہوں نے جب ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو میں عقیدت و احترام کے چراغ اپنے چہرے پر جلائے خو د اُن کی چوکھٹ پر احتراماً حا ضر ہوا تو اُنہوں نے بھی اِس عمر میں دو نوجوان لڑکیوں کی بے وفائی کا رونا رویا وہ دن رات اُن کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے مجھ سے کو ئی جا دوئی عمل کا تقاضہ کر رہے تھے کہ کس طرح وہ دونوں واپس اِن کے پاس آجا ئیں میں اُن کا دیوانہ تھا بچوں کی طرح میرے سامنے ہا تھ جو ڑے بیٹھے رہے کہ میں اُن کے بغیر زند ہ نہیں رہ سکتا۔کسی بھی قیمت پر اُن کو واپس بلانے میں مدد کر یں اور پھر مجھے شدید جھٹکا اُس وقت لگا جب ایک بہت بڑے دانشور اور ادیب جن کا میں بچپن سے شیدائی تھا مُجھ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا جس دن اُنہوں نے مُجھ سے ملنے میرے گھر آنا تھا مجھے ساری را ت خوشی سے نیند نہ آئی اُن کے آنے سے پہلے ہی میں احتراماً دروازے پر کھڑا تھا وہ جیسے ہی آئے تو اُن کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی بھی تھی ۔مجھے ملوانے کے بعد اُس لڑکی کو باہر بیٹھا کر مجھے کہنے لگے یہ میرے ساتھ مخلص ہے کہ نہیں۔

بہت سارے شاعروں ادیبوں کالم نگاروں نے اپنے اپنے گروپ بنا رکھے ہیں یہ ایک دوسرے کے خلاف نان سٹاپ گا لی گلوچ کر تے نظر آتے ہیں خود کو تو یہ افلاطون اور سقراط سمجھتے ہیں جبکہ دوسروں کو حقارت سے دیکھتے ہیں یقین نہیں آتا یہ وطن عزیز کے مشہور و معروف کالم نگار یا دانش ور ہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے یہ انسانیت کی آخری حدوں سے بھی گزر جا تے ہیں اِن کے قول و فعل کے تضاد کو دیکھ کر شدید حیرت ہو ئی کہ اللہ تعالی نے اِن کو شہرت کے ہمالیہ پر بٹھا رکھا ہے لیکن یہ عاجز اور شا کر ہو نے کی بجائے خو د پرستی اور غرور کے اُس مرض میں مبتلا ہیںکہ جس کا انجام ہر دور میں خوفناک اور عبرت ناک ہی دیکھا گیا ۔ میرے پاس روزانہ بہت سارے دوست ایسے آتے ہیں جو یہ تقاضہ کر تے ہیں کہ کسی زندہ ولی سے ملاقات کر نی ہے کو ئی بڑا آدمی جس سے مل کر دلی اور روحانی سکون نصیب ہو ۔ تو میں ایسے دوستوں کی خدمت میں عرض کروں گا کہ ضروری نہیں کہ بڑے لو گ یا انسان اونچے ایوانوں میں ملتے ہو ںیہ کچے جھونپڑوں میں بھی مل جاتے ہیں ہم صوفیوں کو درباروں مزاروں مسندوں حجروں اور خانقاہوں میں ڈھونڈتے ہیں جبکہ یہ اہل حق تو ہمیں گلی کو چوں میں بھی مل جا تے ہیں کو ئی مو چی کو ئی ریڑھے والا ،کو ئی دکاندار جا ئز و نا جا ئز میں امتیاز کر نے والا ،ہم علما ءکو مکتب و مدرس میں ڈھونڈتے ہیں جبکہ وہ تو ہما رے آس پاس بھی مل جا تے ہیں ایسے معصوم اور نیک لو گ جن کے قول و فعل میں کو ئی تضاد نہیں ہو تا ان کی زبان اور کردار کے درمیان ایک انچ کا بھی فاصلہ نہیں ہو تا ۔ ہما رے معیار کے مطابق جو زیادہ متقی پرہیز گار نوا فل کی کثرت وظائف و اذکار اور جبہ دستار میں غرق ہو وہی صوفی ہے جبکہ یہ عام گلی محلوں میں بھی مل جا تے ہیں جن کے دم سے آبادیاں خدا کے غضب سے محفوظ ہیں یہ عام لو گ کہیں بھی دستیاب ہیں ہم نے ہمیشہ بزرگوں کو مریدوں کو نرغے میں گزیوں خانقاہوں مسندوں دریا کے کناروں پہاڑوں اور پہاڑوں کی غاروں میں تلاش کر نا چاہا جبکہ یہ بزرگ تو ہمیں دفتروں ، گلیوں، دکانوں، کا رخانوں اور منڈیوں میں حق کے ساتھ کردار دکھا تے نظر آتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کی زبان کبھی حرام سے تر نہیں ہو ئی جو کاروبار کر تے ہو ئے خوف خدا کا دامن نہیں چھوڑتے یہ وہ مزدور ہو تے ہیں جن کی کمر تو سامان کے بوجھ سے جھک جا تے ہے لیکن اِن کی گردن سوائے خدا کے کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکتی ۔یہ وہ عظیم لو گ جن کی آنکھوں میں ہو س نہیں بے غیرتی نہیں اِن کی نیت بھوکی نہیں اِن کے دماغ دنیاوی خداﺅں کی عبادت سے خالی ہو کر صرف خدائے بزرگ و برتر کے سامنے جھکتے ہیں اِن کی پیشانیاں صرف رب کائنات کے سامنے جھکتی ہیں ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو بڑی گدی کا وارث ہو جس کے ہاتھ میں زمرد اور سُچے مو تیوں کی تسبیح ہو وہ مرشد کا مل ہے جبکہ مرشد کا مل وہ ہے جس کی زبان سے مخلوق کو راحت پہنچے ہم آسمانوں میں اُڑنے والوں سمندروں پر تیرنے والوں کو بزرگ ما نتے ہیں جو ہما ری نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں جبکہ انسان تو وہ ہے جو انسانوں میں رہتا ہے انسان وہ ہے جس کے پاس سے اُٹھنے کو دل نہ کر ے جس کے پاس بار بار جا نے کو دل کر ے جس کے پاس بیٹھ کر خدا کی یا د آئے خدا کی معرفت حاصل ہو۔


Comments

FB Login Required - comments