مَیں پارک نہیں جاؤں گا


naseer ahmed nasir

ایسا پہلی بار ہوا ہے ۔۔۔

میری زندگی میں ایسا پہلی بار ہوا ہے ۔۔۔

لیکن یوں لگتا ہے جیسے انسانی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے ۔۔۔

میرے گھر کے قریب ایک چھوٹا سا پارک ہے جس میں جھولے ہیں۔ فائبر کے بنے ہوئے ہرنوں کے مجسمے ہیں جنھیں مختلف انداز میں استادہ کیا گیا ہے۔ گھاس چرتے ہوئے، کلانچیں بھرتے ہوئے، دیکھنے والے کی طرف دیکھتے ہوئے، یہ ہرن دور سے اصلی دکھائی دیتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی مصنوعی جھیل ہے جو اب ڈینگی مچھر کی افزائش کے ڈر سے خشک رہتی ہے۔ جھیل کے اوپر لکڑی کے جنگلوں والا ایک قوسی پُل بنا ہوا ہے۔ اس طرح کا پُل بچپن ہی سے میرے تصور میں بسا ہوا ہے۔ میں جب بھی رنگین پنسلوں سے چارٹ پیپر پر کوئی سینری یا لینڈ اسکیپ بناتا تھا تو پہاڑوں، درختوں، پرندوں، بادلوں سے آراستہ منظر میں ایک ندی اور اس پر جنگلے والا قوسی پُل ضرور بناتا تھا۔ موسمی پھول، کئی رنگوں کے گلاب اور جھاڑی نما تراشے ہوئے پودے ہر پارک میں ہوتے ہیں سو اس میں بھی ہیں۔ خوبانی کا ایک اور چیڑ کے دو تین درخت بھی ہیں۔ لیکن اس پارک میں زیادہ درخت کھجور کے ہیں جو چیل اور خوبانی کی موجودگی میں عجیب اجنبی سے لگتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے ملک و معاشرت کے ساتھ ساتھ نئی ہاؤسنگ اسکیموں، شاہراہوں، پارکوں، منظروں اور آب و ہوا کو بھی اسلامی کرنے کے لیے جگہ جگہ کھجور کے پودے لگائے جانے لگے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ یہ درخت  موسم اور آب و ہوا سے مطابقت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔ یہ جانے بغیر کہ درختوں، پھولوں، پودوں، چرندوں، پرندوں اور لباس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ان کا تعلق کسی خطہ کے موسم، آب و ہوا، ثقافت اور کئی دیگر علاقائی عوامل سے ہوتا ہے۔ ثوب اور غطرہ پہن کر کوئی زیادہ مسلمان نہیں ہو جاتا اور پتلون پہن کر کوئی کافر نہیں ہوتا۔ کھجور کا درخت لگا کر کوئی مومن نہیں بن جاتا اور برگد کی چھاؤں میں بیٹھ کر کوئی بدھ مت کا پیرو کار نہیں بنتا۔ یہی وجہ ہے کہ کثیر رقم خرچ کرنے کے باوجود یہاں وفاقی جڑواں شہروں میں کھجورکے زیادہ تر درخت ضائع ہو جاتے ہیں یا کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ نہ سایہ نہ پھول نہ پھل۔ کھجور کے بارے میں ویسے بھی مشہور ہے کہ:
جھوٹے یار دی یاری جیویں رُکھ کھجور
دُھپ لگے تے چھاں نہ دیوے پھل لگے تے دور
ہمارے ساتھ یہی ہوا ہے۔ زندگی میں، ملکی و عالمی سیاست میں اور خارجہ پالیسی میں بھی ہمیں کھجور کی یاری اور آبیاری سے کچھ حاصل نہیں ہوا اور جو حاصل ہوا ہے وہ آج پارکوں اسکولوں میں بچوں کے خوں رنگ چیتھڑوں کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ سب کچھ مسلط کیا جا سکتا ہے لیکن ثقافت، سوچ اور آب و ہوا مسلط نہیں کی جا سکتی۔ یہ صدیوں کے بہاؤ اور ارتقا کا نتیجہ ہوتی ہے۔

پہلے جب موسم بہار آتا تھا تو پارک میں خوبانی کا پیڑ سفید پھولوں سے بھر جاتا تھا۔ لیکن اب کچھ سالوں سے اس کا مزاج بھی بدل گیا ہے۔ پتا نہیں یہ اکلاپے کا روگ ہے یا کھجور کی سنگت کا اثر کہ اس پر پھول آنا بند ہو گئے ہیں۔ اس کے نیچے پڑا پارک کا واحد بینچ میری فکری آماجگاہ ہے۔ لیکن اکلوتا ہونے کے باعث یہ بینچ عام طور پر خالی نہیں ملتا۔ کبھی اس پر ڈیٹ مارنے والے کسی نوجوان لڑکے اور لڑکی کا قبضہ ہوتا ہے کبھی کسی نوبیاہتا جوڑے کا۔ کبھی پارک میں بچوں کو لے کر آنے والی خواتین براجمان ہوتی ہیں اور کبھی میرے جیسا کوئی  بوڑھا بچہ۔ ایسی صورت میں اس کے خالی ہونے کے انتطار میں  پارک کے چکر لگاتے لگاتے میری اچھی خاصی ورزش ہو جاتی ہے۔ میں اس بینچ پر بیٹھے ہوئے اکثر سوچتا ہوں کہ اگر ان کجھوروں کی جگہ خوبانی، بادام، املتاس، کچنار، سمبل وغیرہ کے درخت ہوتے تو پھولوں سے لدے ہوتے اور شاید بینچ بھی زیادہ ہوتے اور مجھے بیٹھنے کے لیے اپنی باری کا منتظر نہ رہنا پڑتا۔  اس خطہ کے اپنے کتنے درخت ہیں جنھیں دیس نکالا دے دیا گیا ہے، جو اپنی سرزمین پر اجنبی ہو گئے ہیں۔ جو پرندے ان پر گھونسلے بناتے اور چہچہاتے تھے وہ کھجوروں کو کیسے اپنا مسکن بنائیں۔ خطہ ء پوٹھوہار کے اپنے درختوں کی کیا کمی ہے جو ثقافت کی طرح درخت بھی درآمد کیے جانے لگے ہیں۔ اس خطے کی تو کانٹے دار پھلاہی بھی جب پھولتی ہے تو اس کی خوشبو کا مقابلہ فرانس کا مہنگے سے مہنگا پرفیوم نہیں کر سکتا۔ ایک دوست ملک سے جنگلی توت (پیپر ملبری) لا کر دارالحکومت میں لگایا گیا۔ یہ ایسا ظالم درخت ہے کہ ایک لگاؤ تو دیکھتے ہی دیکھتے جنگل بن جاتا ہے۔ پولن اس کا ایسا تیز، نوکیلا کہ سانس کی نالیوں کو چھلنی کر دیتا ہے۔ بہار کی آمد کے ساتھ ہی اسلام آباد اور قرب و جوار کا علاقہ پولن الرجی کا شکار ہو کر بہار کے رنگوں اور پھولوں سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا۔ لوگ گھروں کے اندر بھی ماسک پہنے اور کھڑکیاں دروازے بند رکھتے ہیں۔ اب اس کو تلف کرنے کے لیے ہر سال مہم چلائی جاتی ہے اور کثیر رقم خرچ کی جاتی ہے لیکن اس تحفہ ء دوست نے اپنی جڑیں اس پاک سرزمین میں ایسی پھیلائی ہیں کہ ایک کاٹو تو دس نئے اگ آتے ہیں۔

رقبے میں خفیف سا یہ پارک اس ہاؤسنگ اسکیم کا، جہاں میں رہتا ہوں، اولین یعنی عمر میں سب سے بڑا پارک ہے۔ میں جب سے یہاں منتقل ہوا ہوں باقاعدہ یہاں آتا ہوں کیونکہ گھر کے بالکل قریب ہے۔ پہلے اکیلا آتا تھا لیکن اب اپنے خرد سال نواسے فوزان کے ساتھ آنے لگا ہوں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کی انگلی پکڑے روزانہ یہاں آتے ہیں۔ ان ساعتوں میں ہم دونوں ہم عمر بچے ہوتے ہیں۔ بلکہ کبھی کبھی لگتا ہے جیسے فوزان مجھ سے بڑا ہے اور میں کم سن ہوں۔ خاص طور پر جب وہ مجھ سے کوئی ایسا سوال پوچھ لیتا ہے جس کا جواب میں جان بوجھ کر نہیں دیتا اور وہ میری کم علمی پر ہنستے ہوئے خود ہی جواب بنا لیتا ہے۔ وہ بھی میری طرح پھولوں، پودوں، پرندوں، بچوں اور مظاہر فطرت کا دیوانہ ہے۔ پارک میں آ کر اور دوسرے بچوں کو دیکھ کر ایک دم کھل اٹھتا ہے، بے اختیار بھاگنے لگتا ہے۔ میں خوبانی کے نیچے لکڑی کے بینچ پر بیٹھ کر کسی شاعر اور فلسفی کی طرح حیات و کائنات کی گتھی سلجھانے میں مگن رہتا ہوں اور وہ حسبِ معمول سب سے پہلے پورے پارک کا ایک چکر لگاتا ہے، ایک اک پھول پودے سے ہیلو ہائے کرتا ہے، پھر ہرنوں کو پیار کرتا ہے، خالی جھیل کا طواف کرتا ہے۔ پُل کے اوپر سے دو تین بار گزرتا ہے اور کچھ دیر لکڑی کا جنگلہ پکڑے پل پر کھڑے ہو کرخشک جھیل کی تہہ میں کنکر پھینکتا ہے۔ کھجور کے درختوں کو دیکھ کر یہ ضرور پوچھتا ہے کہ یہ تو نخلستان میں ہوتے ہیں یہاں پارک میں کیسے اُگ آئے ہیں؟ کبھی اپنے طور پر کبھی دیگر بچوں کے ساتھ  مل کرمختلف طرح کے کھیل کھیلتا ہے، لٹکتا پھلانگتا ہے اور سب سے آخر میں جھولے لیتا ہے اور مجھے زور زور سے جھلانے کا کہتا ہے۔ جب جھولوں سے بور ہو جاتا ہے تو پارک کی ہر چیز کو بائے بائے کہتے ہوئے مجھے تقریباً گھسیٹتا ہوا مارکیٹ کی طرف لے جاتا ہے۔ مجھے اس کے معمول، خواہشات اور مطالبات کا علم ہوتا ہے لیکن جان بوجھ کر انجان بنا رہتا ہوں تا کہ اس کا جوش، ولولہ، خوشی، حیرت اور تجسس برقرار رہے۔ مارکیٹ سے آئس کریم کھاتا ہے، چپس اور جوس لیتا ہے۔ یوں میری واک اور اس کی تفریح ہو جاتی ہے۔
لیکن یہ کیا ۔۔۔۔۔ آج ایسا کیا ہو گیا ہے
میں جاگرز پہن کر تیار ہوتا ہوں تو دیکھتا ہوں فوزان رنگین پنسلوں سے چارٹ پیپر پر تصویر بنا رہا ہے ۔۔۔۔ پارک کی تصویر ۔۔۔۔۔ پودوں اور پھولوں کے ساتھ شعلوں، دھماکوں اور اڑتے ہوئے انسانی اعضا کی تصویر ۔۔۔۔۔ میں پارک چلنے کے لیے کہتا ہوں تو سر اوپر اٹھائے بغیر جواب دیتا ہے
نانا ابو! میں پارک نہیں جاؤں گا
پارک میں جھولے نہیں دھماکے ہوتے ہیں
بچے مرتے ہیں
میں پریشان ہو جاتا ہوں۔ کیا یہ پارکوں اور تفریح گاہوں کی نئی بوطیقا ہے؟ ہمارے پاس بچوں کو لے جانے کے لیے اور کون سی جگہیں ہیں؟ ایسا تو اس نے اسکول کے سینکڑوں بچوں کے لہو لہان ہونے پر بھی نہیں کہا تھا۔ تب شاید وہ بہت چھوٹا تھا۔ کل اگر اس نے یہ کہہ دیا کہ میں اسکول نہیں جاؤں گا اور پرسوں یہ کہہ دیا کہ میں اس ملک میں نہیں رہوں گا تو میں کیا کروں گا، میں کہاں جاؤں گا؟


Comments

FB Login Required - comments

8 thoughts on “مَیں پارک نہیں جاؤں گا

  • 29-03-2016 at 1:37 am
    Permalink

    انتہائی خوبصورت اور دل کے تار چھو لینے والی تحریر۔۔۔ آخری فقروں میں جو کرب ہے وہ سینہ چھلنی کیے دیتا ہے۔۔۔

    • 29-03-2016 at 8:53 pm
      Permalink

      شکریہ سلمان

  • 29-03-2016 at 1:57 am
    Permalink

    ھمیشہ کی طرح فکر انگیز ۔۔۔
    جس زمین پر زیتون کے درخت ھوں وہاں قدرتی آفات خاص طور پر زلزلے بہت کم آتے ہیں ۔ ھمارے خطہ کی مٹّی اتنی زرخیز ہے کہ یہاں ہر نسل کا درخت بہترین نگہداشت کے ساتھ اپنی جڑیں مضبوط کرلیتا ہے ۔ کہیں پڑھا تھا کہ گرم سرد موسموں کی ھواؤں کا سلسلہ کوہ ھمالیہ سے شروع ھوتا ہے اور آہستہ آہستہ ساری دنیا میں پھیل جاتا ہے ۔ ھمارے خطے میں ہرنسل کے درخت اور جنگلات ہیں مگر ھمارے پاس ھوائیں مصنوعی اور اجنبی ھوتی ہیں جو جنگلات کے ساتھ شہری علاقوں کے آب و ھوا کو بھی آلودہ کر دیتی ہیں ۔ امریکہ اور یونان کے جنگلوں میں اکثر آگ مخصوص نسل کے درختوں کی ہی وجہ بڑھک اٹھتی ہے ۔ ھمارے ہاں بھی کچھ ایسے مغربی نسل کے درخت پاۓ جاتے ہیں جو آگ لگانے اور بڑھکانے میں زراہ دیر نہیں کرتے۔ خاص طور ھم ایک ایسا پیشہ ور اور تجربہ کار ادارہ بھی رکھتے ہیں جو وقت پڑنے پر چھانگا مانگا کے جنگلات بھی لگا دیتا ہے ۔ انہیں بس ایک بات کا علم ہے کہ اس زمین پر ہر ایک پودہ چھانگا مانگا کے لیے پیدا ھوتا ہے اور اس کی آخرت ان کے آتش کدے میں ہے ۔

    • 29-03-2016 at 8:54 pm
      Permalink

      آپ کا تجزیہ ہمیشہ منفرد ہوتا ہے، تنویر صاحب

  • 29-03-2016 at 6:46 am
    Permalink

    آپکا یہ جملہ “کل کو اگر اس نے کہہ دیا کہ مین سکول نہیں جاوں گا اس ملک نہیں جاوں گا” آپکا خدشہ نہیں بے شمار بچوں کے دلوں میں برپا سرگوشیوں کی باز گشت ہے.

    اگر ہم نے ان سرگوشیوں پر کان نہ دھڑے اور اب بھی کچھ نہ کیا تو یقیننآ یہ چمن بہت جلد پرندوں اور بچوں کی چہکاروں سے خالی اور ویران ہوجائے گا.

  • 29-03-2016 at 8:56 pm
    Permalink

    یہ لمحہ ء فکر ہے ارشد محمود صاحب

  • 30-03-2016 at 2:53 pm
    Permalink

    ہمارے سسٹم نے دوست ممالک سے ایسے ہی جنگل بن جانے والے اور سانس کی نالیوں کو ریزہ ریزہ کردینے والے درخت منگواکر جنگل کے جنگل اگادیے ہیں‘ اور اب انھیں کاٹنے کا بھی ڈراما کرتے جارہے ہیں۔ کتنی خوبصورت اور درد سے بھری دورویہ نثر لکھی ہے۔ میری طرح اور بھی ہوں گے یقیناً جو آپ کی نثر پڑھنا شروع کرتے ہیں اور پھر اس سے جان نہیں چھڑا پاتے۔ آپ نے درختوں کے بیان میں ملکی سیاست کے ست کو اس طرح پیش کردیا ہے‘ کہ درخت بھی سیاسی استعارہ بنا دکھائی دے رہا ہے۔

  • 30-03-2016 at 7:51 pm
    Permalink

    شکریہ رفیع اللہ میاں صاحب

Comments are closed.