فرض کرو، یہ کسی پیرنی و مرید کے نکاح کی کہانی ہو!


فرض کرو، کسی مرد نے تیسرا یا چوتھا نکاح کرلیا ہو!
فرض کرو اپنی پیرنی سے نکاح کیا ہو!
فرض کرو پیرنی جیسی نیک، پارسا اور انتہائی پرہیزگار عورت نے کسی اور سے نکاح کرنے کے لیے اپنے پہلے شوہر سے خلع لے لی ہو!

فرض کرو کہ وہ جوان بچوں کی ماں بھی ہو!
یہ بھی فرض کرو کہ شوہر اس عورت کی پارسائی کا گواہ بنا ہوا ہو!
فرض کرو کہ بیوی کو بھی اس سے کوئی شکوہ نہ ہو!
یہ بھی فرض کرو کہ یہ گمنام لوگوں کی کہانی ہے!
مگر اس پوری فرضی یا حقیقی کہانی میں برا کیا ہے؟ ہمیں کس بات پر اعتراض ہے؟

ہم دراصل پاکستان کے گھٹن زدہ سماج کے کنویں میں پڑے ہوئے مینڈک ہیں۔ ہماری آواز مینڈک کی ٹرٹراہٹ بن چکی ہے۔

اوپر سے ستم در ستم یہ کہ یہ کنواں مذہب کے نام پر تخلیق کیا گیا ہے اور اس میں مسلسل وہ پتھر بھرے جاتے رہے ہیں جو سنگسار کے کام آسکتے ہوں۔

اس گھٹن زدہ کنویں کے تمام معاملات میں سے ایک شوہر اور بیوی کے رشتے کا معاملہ ہے جسے خاص طور بدبودار کردیا گیا ہے۔

مرد کے نکاح میں جانے کے بعد نہ صرف عورت کا قریبی خاندان بلکہ پورے کا پورا سماج جو اس کے نکاح کے چاول کھاتے ہوئے گویا یہ اجتماعی فیصلہ سنا رہا ہوتا ہے کہ اب سسرال کے گھر سے تیری لاش آنی چاہیے۔ اب ہم تیرے سوئم کے چاول کھائیں گے۔

نتیجتاً سسرالی گھروں سے جلی، کٹی، لہولہان لاشیں آئے دن ہمارے سامنے موجود ہوتی ہیں۔ مگر زندہ لاشوں کی تعداد کا تو اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا!

مگر جب زندہ لاشوں کا حساب لگایا جائے گا تو اس میں بہت سی جگہوں پر مرد بھی چکی کے دو پاٹ میں پستا ہوا نظر آئے گا۔
سماج شوہر اور بیوی کے رشتے کو مجبوری کا رشتہ بنا چکا ہے۔ عورت خلع لینے کا عموماً تصوّر بھی نہیں کرسکتی۔ بلکہ عورتوں کی ایک بڑی تعداد کو معلوم ہی نہیں کہ یہ کس چیز کا نام ہے! جبکہ سورۃ بقرہ کی آیت 229 میں یہ مرد کے طلاق کے حق کے ساتھ ساتھ موجود ہے۔

پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ عورت معاوضہ دے کر پیچھا چھڑا لے (سورۃ بقرہ۔ آیت 229)

مگر ستم یہ کہ ہر ـ ہر دور میں مذہب کے ٹھیکیداروں نے بیوی کے رشتے کو جسمانی اور سماجی طور پر کُچلنے کے لیے عجیب و غریب تشریح گھڑی ہے۔

کم علم مذہبی ٹھیکیدار بیوی کو دو ٹکے کی مخلوق کے طور پر پیش کرتا رہتا ہے اور باعلم علماء اکثر چپ رہتے ہیں۔ بیوی کو دیے گئے تمام حقوق، خلع کے حق سمیت اس وعظ کے شور تلے دبا دیا گیا ہے کہ اس پر کس طرح ہاتھ اٹھانا چاہیے! ہلکا یا زیادہ! یا پھر تمام تر واعظ بیوی کے محلِ توالد سے متعلق پھنسا ہوا ہے!

برصغیر کے مسلم سماج میں تو خاص طور پر شوق و شدت کے ساتھ بیوی کی شوہر کے ساتھ مباشرت کے معاملات کو فوکس کیا گیا ہے۔ چیخ چیخ کر بتایا جاتا رہا ہے کہ شوہر کے ساتھ ہم بستری سے انکار کرے گی تو جہنم رسید ہوگی۔

قرآن میں عورت کے خلع کے حق کے ساتھ ساتھ دورِ نبوتﷺ  میں ثابت بن قیس کی بیوی کے خلع کا معاملہ نمایاں طور پر اسلامی قانون میں موجود ہے۔

ثابت بن قیس شکل کا انتہائی سادہ شخص تھا۔ بیوی سے نہ صرف محبت کرتا تھا بلکہ اس کے تمام حقوق بھی ادا کرتا تھا۔ اس کی بیوی رسول اللہﷺ کے پاس آئی کہ مجھے شوہر سے کوئی شکایت نہیں مگر مجھے وہ پسند نہیں ہے۔ ثابت بن قیس بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہ رہا تھا اور اس کے لیے رو رہا تھا اور بیوی اس کے اعلیٰ کردار کا بھی اقرار کررہی تھی۔ رسول اللہﷺ نے جب صلح کے لیے ثابت کی سفارش کی تو اس کی بیوی نے پوچھا کہ کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟

آپ نے فرمایا کہ نہیں مشورہ دے رہا ہوں ( اگر حکم کا لفظ استعمال ہوتا تو یہ اسلام کا قانون بن جاتا ہمیشہ کے لیے)

ثابت کی بیوی کو آپﷺ نے ثابت کا مال لوٹانے کو کہا اور اسے خلع دلوایا۔
یہ خلع صرف اس بنیاد پر تھا کہ بیوی کا شوہر کے ساتھ دل نہیں لگتا تھا۔

بعض جگہوں پر لکھا ہے کہ کیونکہ اس کا شوہر سادہ چہرہ تھا اس لیے اسے شوہر کی شکل پسند نہیں تھی۔
خلع کے لیے شوہر کا مال لوٹانے کی تشریح یہ بھی کی جاتی ہے کہ یہ بیوی کے فیصلے کی آخری پرکھ ہے، کیونکہ عورت اپنے گھر، زیور، جمع کی ہوئی چیزوں سے اور زندگی کی آسائشوں سے عمومًا دستبردار ہونا پسند نہیں کرتی سو شاید اپنا معاشی اور مالی نقصان سن کر فیصلہ بدل دے!

مگر برصغیر کے مسلم سماج میں عورت کو کوٹ کوٹ کر یہ بات زہن نشین کرائی گئی ہے کہ نکاح کے بعد وہ جسمانی طور پر مرد کے مکمل اختیار میں ہے۔ جب وہ چاہے گا اور طلاق دے گا تب اس کی آزادی ممکن ہے، ورنہ عمر بھر کے لیے وہ اس پنجرے میں پھنس چکی ہے اور اس کا کام فقط شوہر کے ساتھ مباشرت کرنا ہے۔
مرد عموماً بیوی کو طلاق دینا پسند نہیں کرتا، کیونکہ وہ اسے اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ جتنا بیوی اس رشتے سے آزادی چاہتی ہے، اتنا ہی وہ اس کی رسی اپنی جانب کھینچتا ہے اور اس کی قیدِ بامشقت کی لذت لیتا  ہے۔ اس کی ملکیت کے ساتھ کوئی اور مباشرت کرے! یہ اسے قطعی گوارہ نہیں۔

یوں برصغیر کے پسماندہ مسلم سماج میں بیوی صرف شوہر کے ساتھ مباشرت کا جسم بن چکی ہے۔
اب جب وہ پاکستان کے کنویں جیسے سماج میں خلع کا فیصلہ کرتی ہے تو سماج ہم آواز ہوکر اس سے وجہ مانگتا ہے۔

طلاق ملنے پر تو وہ مشکوک کردار کی ثابت ہوتی ہی ہے مگر خلع لینا تو گویا بدکرداری کے ثبوت کے ساتھ جرم ٹھہرا۔

پھر اگر وہ اس بنیاد پر خلع لے کہ میرا اس شوہر کے ساتھ دل نہیں لگتا یا میں اس کے ساتھ مزید مباشرت نہیں کرسکتی یا ثابت بن قیس کی بیوی کی طرح مجھے اس کا چہرہ پسند نہیں ہے، تو سماج بےاختیار سنگسار کے لیے پتھر چننا شروع کردیتا ہے۔ گو کہ خلع مانگتی ہوئی عورت مذہبی اور قانونی طور پر قطعی پابند نہیں ہے کہ وہ یہ بھی بتائے کہ اندرخانے میں کسی اور کو پسند کرنے لگی ہوں اور اب اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہوں۔ مگر سماج اس مرد کو تلاش کرنے میں جُت جاتا ہے۔

پھر اگر تیس بتیس سال جیسا کوئی طویل عرصہ بیوی پارسائی کے ساتھ شوہر کی زندگی میں بھی رہی ہو اور پوری ذمہ داری سے اس نے بچوں کو پال پوس کر جوان بھی کیا ہو اور آدھی عمر گزار چکی ہو تو سماج اجتماعی شور مچانا اپنا حق سمجھتا ہے اور دباؤ ڈالتا ہے کہ اگر تم پارسا عورت ہو تو باقی کی عمر اسی شوہر کے ساتھ گزارو۔

اسی طرح ام المومنین حضرت زینب بن جحش کا حضرت زید سے طلاق لینا ہے۔ حضرت زینب رسول اللہﷺ کی پوپھی کی بیٹی تھیں اور نسلاً قریش تھیں۔ زید رسول اللہﷺ کے آزاد کروائے گئے غلام اور منہ بولے بیٹے تھے۔ آپ نے حضرت زینب کا رشتہ زید سے کروایا۔ سماجی اونچ نیچ کی وجہ سے حضرت زینب اس بندھن کو کبھی بھی قبول نہ کرسکیں۔ حضرت زید رسول اللہﷺ کے پاس حضرت زینب کی سردمہری کی شکایت کرتے ہوئے طلاق کی بات کرتے تو رسول اللہﷺ انہیں صبر کرنے کو کہتے۔ بلآخر حضرت زینب نے بھی تعلقات کو مزید چلانے سے معذرت کا اظہار کردیا۔

اس واقعے میں نہ صرف باہمی اتفاق سے طلاق ہوئی بلکہ حضرت زینب جو سماجی برابری کے لحاظ سے بھی رسول اللہﷺ کو پسند کرتی تھیں اور رسول اللہﷺ حضرت زید کو منہ بولا بیٹا کہنے کی وجہ سے اس رشتے کے لیے جھجک محسوس کرتے تھے، اس پر سورۃ احزاب کی آیت کا نزول ہوا۔ جس میں رسول اللہﷺ کی ذات کی معرفت اور عین انسانی فطرت کے مطابق منہ بولے رشتوں کو بھی رد کیا گیا ہے اور مرد اور عورت کے بیچ نکاح اور پہلے والے رشتے سے آزادی کو نہ صرف آسان سے آسان تر کیا گیا ہے بلکہ حکم دے کر اس طرح کے معاملے کو احترام بھی دیا گیا ہے۔

ساتھ ساتھ یہاں اس اعتراض کے سامنے دیوار بھی کھڑی کردی گئی ہے کہ نئے نکاح کے لیے یا پرانے نکاح کو ختم کرنے کے لیے آپ یہ اعتراض اٹھانے کے بھی مجاز نہیں ہیں کہ کون کس کا دوست تھا یا کزن تھا یا کسی قریبی یا منہ بولے رشتے میں کچھ تھا۔

بلکہ نکاح اور طلاق یا خلع ۔۔۔۔ سماج نے پورے احترام کے ساتھ قبول کرنا ہے۔ کیونکہ یہ فرد کا زاتی معاملہ ہے اور اللہ بھی اسے اس کا حق دیتا ہے۔

اوپر دیے گئے معاملات ظالم شوہر اور مظلوم بیوی کے قطعی نہیں ہیں۔ یہ معاملات اپنی پوری حقیقت کے ساتھ عورت کی طرف سے پہلے شوہر کے ساتھ دل نہ لگنے کے ہیں۔

برصغیر کے مسلم سماج کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں آئیڈیل عورت “سیتا” ہے جو راوَن کے ہاتھوں اغوا ہونے بعد رام کے لیے اپنی عصمت کی حفاظت تو کرتی ہے مگر پھر بھی رام اسے حکم دیتا ہے کہ اپنی پاکیزگی ثابت کرنے کے لیے آگ کے الاؤ سے گزر کر دکھا۔ اور وہ آگ کے الاؤ سے گزر کر اپنی پاکیزگی ثابت کرتی ہے۔ عقیدے کے مطابق چونکہ باعصمت عورت کا آگ کچھ نہیں بگاڑ سکتی، اس لیے سیتا بھی آگ کے الاؤ میں ہنسی خوشی کودی اور بغیر آنچ آئے گزر گئی۔

اسی طرح برصغیر کا مسلم سماج آج بھی اس عورت کو باوفا و باکردار سمجھتا ہے جو شوہر کے مرنے کے بعد آگ میں جل کر ستی نہ بھی ہو مگر ستی بن کر زندگی ضرور گزارے۔ مسلم سماج میں بھی عورت کا جیتے جی ستی ہونا اس کے کردار کا سرٹیفکیٹ بنا ہوا ہے صدیوں سے۔

برصغیر کا مسلم سماج مرد کے لیے اپنی مرضی کی اسلامی تشریح پیش کرتا ہے اور عورت کے لیے ہندومت کا تصوّر اپناتا ہے اور کہنے کو مسلمان کہلواتا ہے۔

لیکن دلچسپ صورتحال یہ بھی ہے کہ ایک طرف ہم جدید مغربی تہذیب کی تعریف اس وجہ سے کرتے ہیں اور مغربی اقدار کو اس وجہ سے اپناتے ہیں کہ اس میں فرد کو اپنی زاتی زندگی پر مکمل اختیار ہے اور کوئی کسی کی ذاتیات میں نہ تو دخل اندازی کرسکتا ہے اور نہ ہی تبصرہ۔

اور بنیادی انسانی حقوق میں ہم جس اظہارِ رائے کی آزادی اور انسان کے جینے کے حق کی بات کرتے ہیں، اس میں یہ حق بھی شمار ہوتا ہے کہ  مرد اور عورت ایک لگی بندھی سماجی زندگی سے ہٹ کر اپنی زات کے لیے فیصلہ کرنے کا اختیار رکھیں، چاہے وہ سماج کی اجتماعی پسند اور ناپسند سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔

ہمارا پسندیدہ مغربی معاشرہ تو عورت اور مرد کے آزادانہ فیصلوں سے بھرا ہی پڑا ہے مگر عرب سماج میں بھی ہمیں ایسی عورتیں نظر آئیں گی جو ایسے آزادانہ فیصلے کرتی ہیں اور معاشرے میں اسی عزت کے ساتھ زندگی جیتی ہیں۔

لیکن دوسری طرف یہاں جب ہمارے سامنے کوئی ایسا معاملہ آتا ہے تو ہم جدید سوچ کے دلدادہ لوگ بھی وہی ہوجاتے ہیں جو ہمیشہ سے تھے!

ہمارا بیانیہ وہی پرانا گھسا پٹا ہوجاتا ہے کہ ایک مرد ایک گھر میں گھسا۔ اس گھر کی عورت کو وہ پسند آگیا۔ کچھ جال اس نے ڈالا، کچھ عورت ہنسی اور پھنسی۔ برسوں سے باوفا ثابت ہوئی عورت نے شوہر سے خلع مانگ لیا کہ مجھے کوئی اور پسند آگیا ہے اور میں اس سے نکاح کرنا چاہتی ہوں۔
بیچارہ شوہر!
( اس کی بیچارگی بھی ہماری خواہش ہوتی ہے)

پھر جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ شوہر نے خوش اسلوبی سے طلاق دے دی تو ہمیں وہ بھی بے غیرت دکھتا ہے۔
اس طرح کی کہانی سادہ اور قابلِ قبول صرف تب ہوسکتی ہے جب پہلے شوہر پر بیوی بدکردار ثابت ہوجائے اور وہ اسے کھڑے کھڑے طلاق دے دے اور دو بدکردار بے حیائی کے ساتھ نکاح کرلیں اور پیچھے عورت کے بچے اور شوہر رو رو کر دہائی دے رہے ہوں!
اب کوئی اس سماجی حملے سے کیسے جان چھڑائے!

پاکستانی سماج میں رائج ہوچکی مذہبی دکانداری اب ایک ایسا ہتھیار بن چکی ہے جسے گمنام اور نامور لوگ اپنے سیاسی، سماجی اور مالی مفادات کے لیے بھی اور اپنے زاتی مفادات کے بچاؤ کے لیے بھی استعمال کررہے ہیں اور کھل کر کررہے ہیں۔

کمزور عقیدہ لوگ لفظ “بشارت” اور لفظ “روحانیت” سن کر ڈھے پڑتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہی الفاظ دین کی تشریح ہیں۔ جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔

جہاں معاشرے کی زباں بندی کا یہ ایک ہی طریقہ رائج ہو وہاں اپنی زاتی زندگی کے فیصلوں کے لیے “بشارت” اور “روحانیت” جیسی ڈھال ہی استعمال کی جائے گی۔ معاملہ یہیں بس نہیں ہوگا۔ اب لوگ اپنے اپنے ذاتی معاملات میں یہی ڈھال مزید شدت کے ساتھ استعمال کرنا شروع کریں گے۔ کیونکہ یہی رائج الوقت عقیدہ ہے۔

مگر کیوں نا سماج میں عورت اور مرد کے حقوق کو احکامِ الٰہی اور انسانی حقوق کی بنیاد پر تسلیم کرلیا جائے کہ ایک عورت یا مرد کو اپنی پسند کی زندگی گزارنے کے لیے روحانیت اور بشارت کا کھیل نہ کھیلنا پڑے!

شوہر اور بیوی کا رشتہ دل کا رشتہ بنایا جائے۔ کھونٹے سے بندھا جانور نہیں۔
زندگی تو بس ایک ہی بار کے لیے ملی ہے۔ دوبارہ تو نہیں ملے گی۔

اور سب سے اہم یہ کہ انسانی حق ایسی چیز ہے جو دوسروں کو پسند آئے یا نہ آئے مگر اپنے پورے حق کے ساتھ موجود رہے گا۔ پھر اگر اس حق کی تصدیق کلامِ الٰہی میں موجود ہو تو انکار ممکن ہی نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 72 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah