فطرت کے اعداد و شمار جمع کرنے والے


zahid hassanکچھ ایسے ملازمین کی ضرورت ہے جو مظاہر فطرت اور عناصر فطر
ت میں روزمرہ ہونے والی تبدیلیوں پر نگاہ رکھتے ہوں۔ کیا برا ہے۔ اگر یہ ملازمین باقاعدہ تنخواہ دار ہوں اور ان کے کام کرنے کے باقاعدہ اوقات کار مقرر ہوں۔ ان کے فرائض میں شامل ہو کہ وجود فطرت میں پیدا ہونے والے بحرانوں اور تبدیلیوں کے حوالے سے ہفتہ وار اعداد و شمار سامنے لائیں تاکہ ہم جو فیکٹریوں، کارخانوں یہاں تک کہ گھر کے باورچی خانوں سے کیمیائی فضلہ جات، دھواں ، آلودگی اور دیگر زہریلے مادے بہاتے رہنے کے کام پر فائز ہیں ، ہمیں احساس ہو سکے کہ ہم اپنی دنیا، اپنی فطرت ، اپنی تقدیر کے ساتھ کیسا گھناﺅنا کھیل، کھیل رہے ہیں۔
کارخانہ فطرت پر متعین ان سادہ لوح ملازمین میں سے کچھ کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ دیکھیں کہ مادی اشیاءکے حصول کے لیے فطرت کے ساتھ ہمارے ناپسندیدہ کاموں کے سبب کس قدر گھاﺅ پڑ چکے ہیں۔ کتنے زخم ہیں جو سیئے جانے باقی ہیں۔ جن کو نہ سینے سے ہمارے جینے کی راہ میں رکاوٹیں آسکتی ہیں۔ ان میں سے کچھ متوسط مزاج ملازمین کے فرائض میں یہ بھی ہونا چاہیے کہ وہ پیداوار اور ضروریات جیسے وسائل اور مسائل پر نظر رکھیں اور آئے روز بڑھ رہی آبادی کو قابو کرنے کے لیے مشورے دے سکیں۔ ان میں سے بعض معتدل مزاج ملازمین کا کام یہ بھی ہونا چاہیے کہ تاریخ انسانی بتاتی ہیں کہ جنگیں کبھی مسئلوں کا حل پیش نہیں کرتیں لہٰذا جنگی آلات پر وقت صرف کرنے کی بجائے زمین کی کوکھ پر ہریالی اگانے کی ضرورت زیادہ ہے۔
اور پھر مظاہر فطرت اور عناصر فطرت پر متعین ان عظیم ملازمین میں سے کچھ کا کام یہ بھی ہونا چاہیے کہ لاﺅڈ سپیکرز، ٹی وی چینلز، ایف ایم ریڈیو پر چیخنے چلانے، شور و غل کرنے سے بھی ماحولیاتی آلودگی پھیلتی ہے۔ بات تمیز سے اور دلیل سے کی جائے تبھی ڈائیلاگ کی روایت جڑ پکڑ سکے گی اور جب ڈائیلاگ کی روایت نے جڑ پکڑ لی تو مظاہر فطرت اور عناصر فطرت ہمیں اپنے دامن میں پناہ دینے پر راضی ہو سکیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments