چلو پارک چلیں


aniq naji

 ”بابا کل چھٹی ہے۔ ہمیں گھمانے باہر لے چلیں نا۔ دیکھیں میرا دوست چھٹیاں منانے شہر سے باہر جاتا ہے۔ آپ کبھی ہمیں نہیں لے کر گئے۔“ سیکورٹی گارڈ کیا جواب دے؟ 12ہزار تنخواہ میں کہاں لے جا سکتا ہوں؟ مہنگی تفریح گاہوں سے تو اب مڈل کلاس طبقہ بھی کانوں کو ہاتھ لگا کے بھاگ رہا ہے۔ ایک حل پبلک پارکس کی صورت میں محفوظ تھا۔ موٹرسائیکل کا پٹرول یا رکشے کا کرایہ۔ وہ بھی نہ ہو تو ویگن۔ خاندان بڑا ہو تو کمیٹی کے بچے ہوئے پیسوں سے ویگن کرائے پہ لی جا سکتی ہے۔ اپنی گاڑی ہو تو کیا کہنے۔ پبلک پارکس آج کے بدترین طبقاتی نظام کے باوجود ایک صحت مند اور سستی تفریح کی شکل میں کسی نعمت سے کم نہیں۔

تہوار کوئی ہو بچوں کے بغیرادھورا ہے۔ معصوم خواہشیں‘ خواب‘ ڈھیروں خوشیاں‘ جو صرف جھولا جھولنے سے حاصل ہو جاتی ہیں۔ رات بھر نیند ٹوٹنے کی وجہ یہ ہو کہ کل سب پارک چلیں گے۔ چاٹ کھائیںگے اور بوتل بھی پئیں گے۔ امی کچھ بنا دے گی گھر سے ہی لے جائیں گے۔ چادر بچھا کے مل کر کھائیں گے۔ دوڑیں لگائیں گے۔ قلابازیاں کھائیں گے۔ بھول بھلیوں میں رستہ ڈھونڈیں گے۔ چھوٹی پہاڑی کے اوپر چڑھیں گے۔ خوب تصویریں کھینچیں گے۔ سب کو دکھائیں گے۔ وہ نئی عینک بھی پہن کر دکھانی ہے۔ میرے جوتے ذرا پرانے ہیں۔ بھائی کی منت کر کے اس کے نئے والے پہن لوں گا۔ کرکٹ بھی کھیلیں گے۔ پھول کھلے ہوں گے۔ ان سے باتیں کریں گے۔ کشتی والے تالاب میں مچھلیاں بھی رہتی ہیں۔ کلاس میں کوئی بتا رہا تھا کہ یہ مچھلیاں بڑی عبادت گزار ہیں۔ ابا سے ضد کریں گے بوٹ کی سیر ضرور کروائیں اور ہاں! پارک کے کونے میں نہیںجانا۔ وہاں صدیوں سے کوئی جن رہتا ہے۔ ابا نے سمجھایا تھا میری نظروں سے دور مت جانا۔ برے لوگ اٹھا لے جاتے ہیں۔ ہم تو نہیں جائیں گے جن والے حصے کی طرف اور چھوٹی بہن کو بھی بتانا ہے کہ ساتھ رہے۔

مگر وہ کب کسی کی سنتی ہے؟ ابھی 6سال کی تو ہے۔ میں بڑا ہوں۔ پورے 9سال کا۔ وہ کہہ رہی تھی میں اپنی گڑیا کو بھی ساتھ لے جاﺅں گی۔ ورنہ گھر میں وہ روئے گی نا۔ اب گڑیا میں جان تھوڑی ہوتی ہے۔ ابا کہتے ہیں ان کی گڑیا تو وہ خود ہے۔ لیکن وہ بچی ہے۔ اور بتاﺅں‘ باہر جانے کے لئے امی نے اس کا ایک جوڑا علیحدہ رکھا ہوا ہے۔ امی کا فون چھین کر خالہ کو بتا رہی تھی کہ ہم نے نا ‘کل پارک جانا ہے۔چھٹی ہے آپ بھی آ جانا۔ سب مل کر کھیلیں گے۔ ابا میرے لئے چاکلیٹ لائے تھے۔ مہنگی والی۔ میں نے سنبھال کے رکھی تھی سپیشل دن کے لئے۔ کل پارک میں جا کے کھاﺅں گی۔ آپ کو بھی کھلاﺅں گی۔ ہم گانے گائیںگے۔ میں نے چوڑیاں بھی لیں ہیں۔ کل پہنوں گی۔امی کہہ رہی تھیں وہ میرا ڈھیر سارا میک اپ کریں گی۔ نیل پالش بھی اور لپ اسٹک بھی۔ مجھ سے چھوٹی ابھی تین سال کی ہے۔ اس نے بھی نئے جوتے پہنے ہوں گے۔ امی نے بتایا تھا کہ گھاس‘ پھول اور پودے بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ آپ بتائیں کیا درخت ہماری باتیں سنتے ہیں؟

ماموں کا فون آیا تھا۔ کہہ رہے تھے کہیں سے گاڑی کا انتظام ہوا ہے پورے دن کے لئے۔ گلشن اقبال چلیں گے۔ ہماری گلی میں گاڑی آنا مشکل ہے۔ لیکن ہم گلی سے باہر چلے جائیں گے نا۔گانے سنیں گے۔ کل سے سکول کھل جائیں گے۔ آج آخری چھٹی ہے۔ ہم سب خوشی خوشی تیار ہو رہے ہیں۔ امی نے میرے بال بنا دیئے ہیں۔ ٹکی والے برگر بھی کھانے ہیں۔ میں نے پیسے بچائے ہوئے ہیں۔ پورے تین سو روپے ہیں۔ مزہ آئے گا۔ مامی کہہ رہی تھی وہ گھر سے پکوڑے بنا کے لائے گی اور امی نے انڈے ابالے ہیں۔ ہم تو سیر کریں گے سیر۔

میں اپنے امی ابو کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ میری سات بہنیں ہیں۔ سب مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ امی کہتی ہیں میں بڑا ہو کر سب کا سہارا بنوں گا۔ ابا بھی مجھ سے بہت پیارکرتے ہیں۔ تبھی تو سمجھاتے ہیں کہ بیٹا! میری آنکھوں سے دور مت ہوا کرو۔ ہم نے چھٹی کے دن پارک جانا ہے۔ وہاں برے لوگ بھی آتے ہیں۔ کہیں گم نہ ہو جانا۔ میں بھی سب سے بہت پیار کرتا ہوں۔ ہمارے ایک امیر رشتے دار ہیں۔وہ نا‘ چھٹیوںمیں شہر سے باہر جاتے ہیں۔ یہاں بھی بڑی بڑی جگہوں پر جاتے ہیں۔ دیکھیں ابا کہہ رہے تھے وہ ساری جگہیں تو فضول ہیں۔ اصل جگہ تو پارک ہوتی ہے پارک۔ امی نے کہانی سنائی تھی کہ میرے پیدا ہونے پر ابا نے داتا صاحب پر دیگ بانٹی تھی۔ میری بہنیں مجھے رات کو کہانیاں سناتی ہیں۔ ٹی وی پرڈرامے دیکھ کر پتہ نہیں کیوں رونے لگتی ہیں؟ مجھے تو ایکشن کارٹون پسند ہیں۔

ان گنت خوشیوں سے بھرے خوابوں میں چند ایسے ہوں گے۔ مگر زیادہ تر اتنے حسین کہ احاطہ خیال میں آ نہیں سکتے۔ اچھلتے‘کودتے‘مچلتے بچوںکے خواب۔ ننھی خوشیاںجو معصوم پلکوں پر ہی اترتی ہیں اور انہی کو حاصل ہیں۔ یہ تھے وہ بچے جو والدین کی نظر سے ہمیشہ کے لئے اوجھل ہو گئے۔ خوشیوں سے دھڑکتے چھوٹے سینوں کو پھاڑ دیا گیا۔ یہ بچے ‘مائیں‘ باپ گم ہوگئے۔بچھڑ گئے۔ انہیں جن کھا گیا۔ بھوت نگل گیا۔ عبادت گزارمچھلیاں کچھ نہ کر سکیں۔ گڑیا‘کھلونے‘ عینک چوڑیاں‘نئے جوتے اورکپڑے سب کوجن کھا گیا۔ تصویریں تو بہت ہوئیں۔ ویڈیو بھی بنی۔ سب نے دیکھا۔ لیکن تصویریں یوں بنیں گی پتہ نہیں تھا۔ دوڑے بھی‘بھاگے بھی‘قلابازیاں بھی لگیں مگر اس طرح کہ جسم ہی ٹوٹ کے بکھر گیا۔ درخت پہ چڑھے تو نہیں لیکن سر اور بازو جدا ہو کر درختوں کو چھوتے رہے۔ گیت گاتے بچے ہمیشہ کے لئے سو گئے۔ کھوگئے۔ گم ہو گئے۔ مائیں سروں سے اٹھ گئیں۔ باپ خون میں لت پت ہو گیا۔ بھائی گئے۔ بہنیں بچ گئیں اور اب تمام عمرکا رونا ہے کہ بھائی کی جگہ ہم کیوں نہ ہلاک ہوئے؟ کسی کا سہاگ چلا گیا اور کوئی ہمیشہ کے لئے معذور ہو گیا۔ ان کا جرم کیا تھا؟

وہ طبقہ جو ہماری حفاظت کی ذمہ داری اٹھانے کا دعویدار ہے‘ اس کا ردعمل کیا ہو گا؟

دہشت گردی کو انجام تک پہنچائیں گے۔

خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا۔

دہشت گردوںسے آہنی طاقت سے نپٹا جائے گا۔

قوم کے حوصلے بلند ہیں۔

یہ بزدلانہ کارروائی ہے۔

اور ہاں! مر جانے والوں کی قیمت‘ زخمی ہو جانے والوں کی قیمت۔

خاطر جمع رکھیں۔ کچھ نہیں ہونے والا۔ عوامی پارکس میں حکمران طبقات جانا پسند نہیں کرتے۔ نہ ہی ان کے بچے گلشن اقبال ٹائپ جگہوں پر جاتے ہیں۔ عوامی مقامات پر دہشت گردی حکمرانوں کا مسئلہ نہیں۔ 60ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکیں۔ میرے منہ میں خاک۔ یہ ہلاکتیں 6لاکھ سے بھی بڑھ جائیں‘ یہ حکمران ریڈی میڈ بیانات جاری کرتے رہیں گے اور سایوں کا تعاقب کرتے رہیں گے۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے دعوے اپنی جگہ۔ خون سے لتھڑی معصوم لاشوں کو فیصلہ کن کارروائی سے کچھ غرض نہیں۔ حکمران طبقہ حفاظت کی بنیادی ذمہ داری اٹھانے میں درجنوں بار ناکام ہو چکا۔ لاشوںکی قیمت لگاتا ہے اورمسلسل ہارتا ہے۔ کوئی غلطی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور یہ کبھی کرے گا بھی نہیں۔ رہے عوام‘ تو ان کو شام اور عراق کی بھیانک تصویریں دکھا کر اور ڈرائیں تاکہ وہ شکر کریں کہ ان کے حالات کم ازکم شام اور عراق سے بہتر ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments