یہاں کفش بر بھی امام ہیں، یہاں نعت خواں بھی کلیم ہیں


farnoodمحترم سراج الحق صاحب جاری حالات میں جس طرح پردہ فرمائے ہوئے ہیں، اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ اپنے عہد کی بدترین غلطی جماعت اسلامی کے احباب سے سرزد ہوئی کہ جی جان سے ممتاز قادری کی طرفداری کی۔ یہ متاز قادری کی طرفداری نہیں تھی یہ فرد کو اس بات کا اختیار دینے کی تحریک تھی کہ وہ جب جسے جہاں جیسے چاہے گستاخ سمجھ کر فیصلہ سنا دے۔ کیا جماعت اسلامی کی قیادت اور باقی صالحین کو انیس سو چھیانوے کا وہ واقعہ یاد ہے کہ جب عشاق کے قافلے صبح تڑکے نکلے اور جماعت اسلامی کے ایک کارکن کو تشدد کر کے قتل کردیا۔ جرم کیا تھا؟ جرم یہ تھا اس نے میلادلنبی کا ایک اشتہار پھاڑ دیا تھا جو ایک مسلک کے مطابق توہینِ رسالت ٹھہری۔ منصورہ لاھور سے لے کر ادارہ نور حق کراچی تک پھیلی ہوئی جماعتی قیادت کبھی اس کارکن کی مرقد پہ مراقبہ کریں اور پھر قوم کو بتائیں کہ وہ کارکن کیا کہتا ہے؟ تعجب ہوگا اگر اس شہید نے یہ نہ کہا کہ لالہ! ملک بھر میں ممتاز قادری کیلیے جلوس نکال کر آپ نے میرے قتل کی تائید فرمائی ہے۔ ممتاز قادری کے ساتھ نہیں آپ میرے قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایسا کیوں کیا؟ جواب میں جماعت اسلامی کی قیادت اتنا ہی کہہ پائے گی کہ بیٹا تمہارے اور سلمان تاثیر کے معاملے میں بہت فرق ہے۔ سلمان تاثیر کے گستاخ ہونے پہ تو تمام مسلکوں کا اتفاق تھا۔ خالص فقہی اصطلاح میں بات کریں تو ممتاز کے ٹھیک ہونے پہ جمہور علمائے امت کا اجماع تھا۔ یہ سن کر شہید کارکن ضرور مسکرائے گا۔ مسکراکر کہے گا کہ قبلہ۔! آپ کو علم ہے یہ اجماع یا اتفاق کس بنیاد پر قائم ہوتا ہے؟ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی وہ تقاریر یاد ہیں جن میں اس نے صحابہ کو لگی لپٹی رکھے بغیر رگیدا تھا؟ پھر جنید جمشید کا وہ جملہ یاد ہوگا جس میں حضرت عائشہؓ کیلئے نادانستہ طور پہ کچھ ایسا نامناسب کہہ گئے تھے جو خود آپ کی کتابوں میں موجود ہے؟ یاد ہے؟ اب تماشہ دیکھیئے کہ جنید جمشید بریلوی مکتب فکر کی نگاہ میں تو مرتد ہوچکے مگر دیوبندی مکتب فکر کیلیے وہ بالکل پاک پوتر ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر عامر لیاقت حسین دیوبندی مکتب فکر کی جماعتوں کیلیے واضح گستاخ ہیں مگر بریلوی مکتب فکر کے ایمان پر ان گستاخیوں سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اب چونکہ جنید جمشید دیوبند حلقے میں اپنا مقام رکھتے ہیں اور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے بریلوی مکتب فکر سے گہرے مراسم ہیں تو یہ علمائے امت جلتے توے پہ بیٹھ جائیں یا الٹے لٹک جائیں ان کے معاملے میں اتفاق اور اجماع قائم نہیں کر سکتے۔ یہ اتفاق صرف اور صرف کسی سلمان تاثیر پہ قائم ہوسکتا ہے کہ اس کا کسی بھی مسلک اور فرقے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ جماعت کے شہید کارکن کی طرف سے آنے والے اس استدلال کے بعد جماعت میں کوئی دراڑ پیدا نہ ہو۔ ضرور پیدا ہوگی جسے محترم سراج الحق صاحب اپنی سہولت کارانہ مسکراہٹ میں اڑاکر آگے کو بڑھ جائیں گے۔ مگر کب تک؟ آج تو آپ مسکرا کر نکل جائیں، مگر کل آپ کے آنسو پونچھنے کو ہم ہی چلے آئیں گے جب صیاد خود اپنے ہی دام میں پھڑ پھڑائے گا۔

اب کچھ بھی ہو آپ اس فرد کی حوصلہ افزائی کرچکے جو اپنے پیمانے کے مطابق میری گردن ناپنا چاہتا ہے۔ مذہبی جماعتوں میں آپ نسبتا زیادہ پڑھے لکھے ہیں تو آپ استدلال رکھتے ہیں۔ آپ کا ایک استدلال پہ بات ہوجائے۔ آپ نے کہا تھا کہ ’’جب عدالت سزائیں نہیں دیں گیں تو پھر ظاہر ہے لوگ قانون ہاتھ میں لیں گے‘‘۔ بہت خوب۔ اس جملے سے مراد کیا ہے؟ کیا یہی مراد ہے کہ عدالت کا فیصلہ معتبر ہے چاہے وہ کچھ بھی فیصلہ سنا دے؟ واقعی یہی مراد ہے؟ اچھا، اگر یہی مراد ہے تو پھر کسی مبینہ گستاخ کو اگر عدالت بری کردے تو کیا کوئی ممتاز قادری اس گستاخ کے سینے میں برسٹ نہیں اتارے گا؟ ممتاز تو یہی کہے گا نا کہ عدالت نے انصاف نہیں کیا؟ یعنی عدالت نے تو وہ فیصلہ سنایا ہی نہیں جو میں سننا چاہتا تھا، سو اب عدالت نے سولی نہیں چڑھایا تو میرے ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں کیا؟ دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اس طرح کی صورت حال میں عدالت کا کردار کیا ہوا؟ آپ کا استدلال مکرر عرض کرتا ہوں۔ آپ نے کہا ’’جب عدالت سزائیں نہیں دیں گیں تو پھر ظاہر ہے لوگ قانون ہاتھ میں لیں گے‘‘۔ اہل مذھب کے اس استدلال کی مراد کیا ہے، وہ اب ہم بتلا دیتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جب عدالت کسی ملزم کو وہ سزا نہیں دے گی جو ہم چاہتے ہیں، تو پھر ظاہر ہے کہ ہم قانون تو ہاتھ میں لیں گے۔

کیا کہا، مثال عرض کروں؟ مثال کیوں، ہم مثالیں عرض کریں گے۔ مثلا آپ سلمان تاثیر کو بغیر کسی استثنی کے عدالت میں پیش کردیں۔ شریعت، قانون، فقہہ ،اخلاق، ثبوت وشواہد اور اخبار آثار کی روشنی میں عدالت نے انہیں بری کردیا۔ کیا مفتی حنیف قریشی کا جذبہ عشق مطمئن ہوجائے گا؟ جنید جمشید کو پیش کردیں۔ عدالت نے بری کر دیا۔ مظفر قادری اور ثرت اعجاز قادری کی غیرت کو قرار آجائے گا؟ عامر لیاقت حسین کو پیش کردیں۔ بری ہو گئے۔ کیا علامہ اورنگزیب فاروقی کا ضمیر مطمئن ہوجائے گا؟ آسیہ کو پیش کردیں۔ بری ہوگئیں۔ کیا چار مسلک مل کر بھی عدالت پہ اطمینان کا اظہار کر لیں گے؟ نہیں سمجھے؟ دیکھیں بات سنیں، گستاخی کی تاشریح کون کرے گا اور کیسے کرے گا؟ کیا علما اور عشاق کسی جملے کی تشریح کا حق عدالت کو دینے پہ رضامند ہو سکتے ہیں؟ کبھی نہیں۔ کبھی بھی نہیں۔ اب مشکل یہ ہے کہ علامہ عرفان مشہدی کہتے ہیں کہ حلوے کو ناپسند کہنے والا یا حلوے کا مذاق اڑانے والا گستاخ رسول ہے۔ دلیل کے طور پہ انہوں نے حنفی عالم امام ابو یوسف کا ایک عدالتی فیصلہ سامنے رکھ دیا جس میں ایک شخص کو کدو شریف کی توہین پہ ستر کوڑے لگائے گئے۔ علامہ عرفان مشہدی صاحب کو جانتے ہیں؟ وہی صاحب ہیں جو اس وقت ڈی چوک پہ رستہ گھیر کے بیٹھے ہیں اور کل اسٹیج پہ الطاف حسین سے کہیں بہتر دھمال ڈال کر رگڑے پہ رگڑا لگائے جارہے تھے۔ مجھے حلوہ نہیں پسند۔ میرے لئے علامہ صاحب کا حکم یہ ہے کہ آپ حلوہ مت کھائیں، مگر یہ مت کہیں کہ مجھے حلوہ پسند نہیں ہے۔ اسی لئے میں نے کدو کے ساتھ احتیاطا ’’شریف‘‘ لگا لیا کہ کہیں یہ کراچی والا کدو نہ بن جائے۔ علامہ کوکب نورانی فرماتے ہیں کہ ممتاز قادری کے جنازے میں وہ لوگ (دیوبندی) بھی آئے جو خود گستاخیاں کرتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ اب ان گستاخوں کو بھی کان ہوجانے چاہیئں کہ سنی جاگ رہا ہے۔ اب علامہ سے پوچھ لیجیئے کہ ان کے ہاں گستاخی کا مفہوم کیا ہے؟ علامہ سے نہ پوچھ سکیں تو اسلام آباد ائیر پورٹ والی ویڈیو پہ ہی قناعت کر لیجیئے۔ اہل حدیث مکتب فکر کے عالم علامہ توصیف الرحمن نے فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سلمان تاثیر واجب القتل تھا، مگر یاد رکھیں کہ مشرک بریلوی ہونے کی وجہ سے خود ممتاز قادری بھی واجب القتل تھا۔ لہذا سلمان تاثیر کو قتل کردینے سے ممتاز قادری کا شرک کا گناہ معاف نہیں ہو سکتا۔ سلمان تاثیر نبی کا گستاخ تھا اور ممتاز اللہ کا گستاخ تھا۔ بہت بڑے دیوبندی عالم دین مفتی زر ولی خان صاحب فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نائک اور عبدالستار ایدھی زندیق اور مرتد ہیں۔ اب مرتد و زندیق کی تشریح کیا ہے یہ آپ مفتی صاحب سے پوچھ لیجیئے۔ اب آپ یہ کہیں گے کہ علامہ ثروت اعجاز قادری، کوکپ نوارانی، عرفان مشہدی اور کل ڈی چوک پہ ایک صحافی کی والدہ محترمہ کو یاد کرنے والے بزرگ عالم یا علامہ توصیف الرحمن اپنے مسلک کے نمائندہ علما نہیں ہیں۔ ٹھیک ہوگیا۔ تو پھر ایک کریں گے؟ مفتی منیب الرحمن صاحب چاند والے تو معتبر ہیں نا؟ ان سے کہہ دیجیئے کہ تین منٹ کا ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے کہہ دیں کہ جنید جمشید گستاخ نہیں ہیں۔ مفتی تقی عثمانی صاحب سے کہہ دیں کہ چلیں پہلے تو آپ کو علم نہیں تھا سلمان تاثیرنے کہا کیا تھا؟ اب ذرا تحقیق کر کے ہمیں بتا دیں کہ اس کا قتل ٹھیک ہوا کہ غلط؟ اسی طرح علامہ ساجد میر صاحب یا عبدالرحمن سلفی صاحب ایک پیغام میں کہہ دیں کہ علامہ توصیف الرحمن صاحب ممتاز قادری کے معاملے میں جس نتیجے پہ پہنچے ہیں اس سے اہلِ حدیث عقیدے کا کوئی اتفاق نہیں ہے۔ فرمائیں گے؟ فرما سکتے ہیں؟ بھئی میرے۔! یہ سورج مشرق کے بجائے مغرب سے تو طلوع ہوسکتا ہے، مگر سنجیدہ وغیر سنجیدہ آسمانی نمائندے گستاخی کی کسی تشریح پہ متفقہ کلیہ بیان نہیں کر سکتے۔ عقل والوں کیلئے اس میں نشانیاں ہیں، مگر افسوس کہ تم غور نہیں کرتے۔

اب کیا کریں۔؟ بس کچھ وقت نکالیں، فرصت میں بیٹھ کر سوچیئے کہ فقیہہِ شہر سے کہاں غلطی ہوئی ہے۔ فقیہہ شہر کتاب سے ہٹ چکا ہے۔ مسند اختر منشیوں کے ہاتھ لگ چکا ہے۔ وہ عشق کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ سینہ پھلا کر کہتے ہیں کہ اب ہمارے اور تمہارے بیچ حق وباطل کا فیصلہ ہمارے جنازے کریں گے۔ یہ جو پارلیمنٹ کا احاطہ آج ہرغمال ہے، یہ جنازے کا فیصلہ ہی تو ہے۔ وہ جو کہتے تھے کہ ممتاز قادری نے پوری امت کو ایک صف میں لاکھڑا کردیا، وہ ڈی چوک کیوں نہیں پہنچ رہے؟ یہ گریز پائیاں کیسی؟ یہ خاموشی کیونکر؟ کیا ڈی چوک پہ بیٹھے علما نے کوئی خلافِ شرع مطالبہ کردیا ہے؟ کیا انہوں نے کوئی نامناسب بات کہی ہے؟ مطالبات میں وہ کون سا مطالبہ ہے جس پہ کسی بھی مسلک کو کوئی اعتراض ہو سکتا ہے؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کی آپ شہروں شہروں تائید فرما رہے تھے؟ ان کے خیالات سے آپ اتفاق فرما رہے تھے؟ اتحاد خطرے میں ہے، آپ بولتے کیوں نہیں؟ کفر خندہ زن ہے، آپ آتے کیوں نہیں؟ کچھ تو بولیئے۔ کہیں تو چلیئے۔ بس آپ صرف جبر کی میثاق پہ اتفاق کرتے ہیں؟

ذاکروں خطیبوں نعت خواوں قوالوں اور مجاوروں کا مسئلہ تو سمجھ آتا ہے، مگر اے نوجوانو۔! مگر اے نواجوانو۔!


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “یہاں کفش بر بھی امام ہیں، یہاں نعت خواں بھی کلیم ہیں

  • 29-03-2016 at 12:28 pm
    Permalink

    Excellent writing and very thought provoking for JI membership

  • 29-03-2016 at 2:59 pm
    Permalink

    باز آ جاؤ اے نوجوانوں….!
    یہ اہل دستار کتاب اللہ سے ہٹ چکے ہیں سیاسی مفادات پر اسلام کا غلاف ڈال کر ان کی منزل صرف اپنے لیے اقتدار کا حصول ہے

  • 29-03-2016 at 5:58 pm
    Permalink

    Excellent

  • 29-03-2016 at 11:38 pm
    Permalink

    محترم اتنا عمدہ مضمون لکھنے پر مبارک باد قبول کیجیے مگر اس میں یہ جملہ ’’مذہبی جماعتوں میں آپ زیادہ پڑھے لکھے ہیں‘‘ پڑھ کر میں یاس انگیز تعجب کا شکار ہو گیا ہوں کہ جماعت کی قیادت میں وہ کون سے پڑھے لکھے ہیں جن کی زیارت سے ہم محروم چلے آتے ہیں۔ جن لوگوں کو ہم جانتے ہیں انہوں نے تو کتاب کو کبھی ہاتھ تک نہیں لگایا حتی کہ سید مودودی کی کتب سے بھی پرہیز فرماتے ہیں کہ ان کی تحریریں ان کی ذاتی آرا پر مبنی ہیں جن کا جماعت کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔ خیر یہ ایک جملہ معترضہ ہے۔ مذہبی فرقوں میں منافرت اور جدل کچھ مسلمانوں سے خاص نہیں سبھی مذاہب میں یہی صورت حال ہے۔ ان کا علاج بھی وہی ہے جو ترقی یافتہ معاشروں میں کیا گیا ہےکہ انہیں ان کے منبرو محراب تک محدود رکھا جائے۔

Comments are closed.