نفاذ شریعت کی ایک نئی تحریک


سرگودھا کے پیر حمیدالدین سیالوی نے ایک بار پھر ملک میں شریعت کے نفاذ کے لئے حکومت وقت کو نوٹس دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایک ہفتہ کے اندر ملک میں شریعت نافذ نہ کی گئی تو ’عاشقان رسولﷺ‘ ملک کے کونے کونے میں احتجاج کریں گے۔ ملک کے دینی رہنماؤں کو جب اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی ضرورت محسوس ہو تی ہے اور جب وہ حکومت کو اپنی قوت سے خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ اسلام کے نفاذ، قوانین کو شریعت کے مطابق ڈھالنے اور حرمت رسول کی حفاظت جیسے جذباتی نعرے بلند کرکے اپنا سیاسی قد اونچا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح درحقیقت اس قسم کے سب عناصرمذہب سے اپنی وابستگی اور اسلامی قوانین کے حوالے سے سنجیدگی کو مشکوک بنانے کا سبب بنتے ہیں۔ اور ملک میں شائستہ ڈائیلاگ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے اصول سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران ہی شریعت کے نفاذ کے لئے ہونے والے احتجاج اور مظاہرے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ سے زیادہ کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکے۔ تاہم ایسے مظاہروں اور مطالبات سے ملک میں بد امنی کی فضا میں تواتر موجود رہا ہے اور لوگوں میں مذہب کے حوالے سے شدت پسندی کے رجحان کو بھی تقویت ملی ہے۔ پیر حمیدالدین سیالوی کسی طرح بھی ملک کے سب لوگوں کے نمائیندے نہیں ہیں۔ وہ سرگودھا میں اپنی پشتینی گدی کی وجہ سے قومی و صوبائی اسمبلی کی چند نشستوں پر اثر و رسوخ ضرور رکھتے ہیں لیکن اس سے بڑھ کر ان کی کوئی سیاسی یا مذہبی حیثیت نہیں ہے۔ اگر ملک کا ہر گروہ اپنی مرضی کا اسلام نافذ کرنے کا مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں کاروبار مملکت بند کرنے کی دھمکیاں دینے لگے تو یہ ملک مزید انارکی کا شکار ہوگا۔

ملک میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ یوں بھی ناجائز اور ناقابل فہم ہے کہ 1973 کے آئین میں یہ بات طے کرلی گئی ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا ۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی ہویا سینیٹ اس میں اکثر ارکان کا تعلق مسلمان عقیدہ سے ہی ہے۔ وہ ہر قسم کی قانون سازی کرنے میں آزاد ہیں۔ اگر ختم نبوت کے نام پر جلسے کرکے مغلظات اور دھمکیاں دینے والے مولوی اپنے علاقوں میں لوگوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ کس معاملہ پر کس قسم کی قانون سازی کی ضرورت ہے تو حلقے کے لوگ اپنے نمائیندے پر اس قانون کے حوالے سے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ اس طرح اگر قانون سازی میں کوئی سقم موجود بھی ہو تو وہ باآسانی دور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مذہب کے نام پر لوگوں کو بھڑکانے والے مولوی، مذہبی رہنما ، پیر اور گدی نشین دراصل قومی سطح پر اپنی اہمیت تسلیم کروانے کے لئے مذہب کا نام اور لوگوں کے جذبات کو استعمال کرتے ہیں۔ گو کہ اب عوام کی بڑی اکثریت ان ہتھکنڈوں سے آگاہ ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں تعلیم کی کمی اور دینی مسائل اور قرآنی احکامات کے بارے میں لاعلمی یا کم علمی کی وجہ سے یہ ملا عوام کے ایک طبقہ کو گمراہ کرنے اور توڑ پھوڑ پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

ملک کی سیاسی حکومتیں عام طور سے اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے ہر قسم کے عناصر کو خوش کرنے کی خواہاں ہوتی ہیں۔ اس لئے ایسے گروہوں کو ان کی حیثیت، نمائیندگی اور مقبولیت سے کہیں بڑھ کر اہمیت دی جاتی ہے اور ان کے مطالبات پر غور کرنے، تسلیم کرنے یا عمل کرنے جیسے وعدے کرکے یہ باور کروایا جاتا ہے گویا احتجاج کرنے والے بالکل درست اور اصولی بات کررہے تھے اور نظام کی کسی کمزوری اور حکومت کی کاہلی کی وجہ سے ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ اسی طرح جو سیاسی جماعتیں اقتدار میں نہیں ہوتیں وہ ایسے عناصر یا مواقع کو برسر اقتدار جماعت سے حساب برابر کرنے کے لئے استعمال کرنا ضروری خیال کرتی ہیں۔ ایسے میں یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ یہ عناصر اپنے سیاسی ایجنڈے پر کاربند ہیں جس کے تحت ان کے مسلک یا گروہ کو اختیار اور مخالف مسالک و عقائد کو مسترد کروانا اہم ہو تا ہے۔ یہ لوگ کسی آفاقی اسلامی فکر کی نمائیندگی نہیں کرتے اور نہ ہی اسلامی فلسفہ، پیغام اور حکمت پر انہیں دسترس حاصل ہے لیکن وہ اندھی عقیدت اور موقع پرستی کے عوامل سے سامنے آنے والی صورت حال میں خود کو تسلیم کروانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ وگرنہ اگر آج پیر حمیدالدین کی ’شریعت‘ نافذ کرنے کا اہتمام کرلیا جائے تو کل کوئی دوسرا گروہ اپنے مسلک کے مطابق شریعت کے نفاذ کا مطالبہ لے کر سامنے آجائے گا۔ یہ لوگ جس شریعت کی بات کرتے ہیں اور جو معاشرہ تعمیر کرنے کے نعرے بلند کرتے ہیں، وہ نہ تو ان کے کردار سے ثابت ہوتا ہے اور نہ وہ اسے اپنے ماحول، علاقے یا حلقہ اثر میں متعارف کروانے کے قابل ہیں۔ ان کی یہ ناکامی ہی ان کی جعل سازی اور سیاسی مفاد پرستی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

اس کا مظاہرہ دو ماہ پہلے فیض آباد دھرنے کی صورت میں کیا جاچکا ہے۔ اس دھرنے کا اہتمام بھی ختم نبوت پر کامل ایمان اور اس حوالے سے قانون میں شامل حلف نامہ میں تبدیلی کے خلاف احتجاج کے لئے کیا گیا تھا۔ حالانکہ حلف نامہ میں ‘حلف اٹھاتا ہوں ‘ کو ’اقرار کرتا ہوں‘ سے بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ لفظوں کی تبدیلی سے معانی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی اور خاص طور سے اس کی عملی حیثیت پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا تھا ۔ لیکن ملک کا ایک نوزائیدہ مذہبی گروہ چونکہ ملکی سیاست میں جھنڈے گاڑنے کا ارادہ رکھتا ہے ، اس لئے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ایک غیر ضروری فساد کی صورت پیدا کی گئی۔ حکومت نے اس نشاندہی پر اصل حروف بھی بحال کردیئے اور حلف نامہ کو ختم نبوت کے حوالے سے مزید واضح بھی کردیا گیا لیکن یہ احتجاج اور دھرنا وزیر قانون کا استعفیٰ لئے بغیر ختم نہیں ہو سکا۔ کیوں کہ یہ عناصر جانتے تھے کہ ملک کے عسکری ادارے ان کی پشت پر ہیں ۔ اس لئے سب نے یہ دیکھا کہ کس طرح فوج نے دو ٹوک لفظوں میں دھرنا کی حمایت کی اور سیاسی منتخب حکومت کو جھکنے پر مجبور کیا۔ اسے بلا شبہ حکومت کی کمزوری کہا جائے گا کہ اس نے ایک ناجائز گروہ کے ناجائز مطالبے کو ماننے کے لئے وزیر قانون سے استعفیٰ لینا ضروری سمجھا لیکن سیاسی مسائل میں گھری حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔

جب ایک حکومت کے زیر انتظام ادارے حکم تسلیم کرنے کی بجائے مطالبوں کی فہرست تھمانے لگیں تو انتشار اور بد نظمی اور معاشرتی لحاظ سے بد اعتمادی کی ایسی فضا پیدا ہونا لازم ہے۔ اس موقع پر فوج یا حکومت نے یہ غور کرنا ضروری نہیں سمجھا کہ جو لبیک تحریک یہ احتجاج منظم کررہی تھی ، وہ خود ملک کے مسلمہ قانون اور اس کے تحت قائم اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کے حکم کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے۔ ممتاز قادری کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں سپریم کورٹ کے حکم سے پھانسی دی گئی تھی۔ لبیک تحریک اس پھانسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے قائم ہوئی اور لوگوں کو مسلسل یہ گمراہ کن پروپیگنڈا ذہن نشین کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ممتاز قادری دراصل ’عاشق رسولﷺ‘ تھا ، اس لئے اس کا ہر فعل قابل معافی ہی نہیں بلکہ قابل تقلید ہے۔ اسلام کی اس تفہیم کو تسلیم کرلیا جائے تو ملک کے ہر شہری کے ہاتھ میں تلوار ہوگی اور وہ ہر اس شخص کی گردن اتارنے کے درپے ہوگا جو اس سے اختلاف کرتا ہے۔ پھر گلی گلی قبرستا ن بنیں گے اور انسان وحشی درندوں کی صورت اختیار کرلیں گے۔ مذہب کے نام پر یہ حالات پیدا کرنے کا خواب دیکھنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام وحشت، دہشت اور نفرت کی بجائے محبت، سلوک اور امن کا پیغام دیتا ہے۔ لیکن ان مولویوں کی باتوں اور تقریروں میں اس محبت اور انسانوں سے حسن سلوک کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔

پیر حمید الدین سیالوی نے فیض آباد دھرنا کے بعد یہ جانا کہ سرگودھا میں وسیع اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود وہ تو مذہبی سیاست سے غیر متعلق ہوجائیں گے اس لئے انہوں نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اور اب وہ اس استعفیٰ کے مطالبہ کو نفاذ شریعت کی تحریک میں بدلنے کا گمراہ کن پیغام دے رہے ہیں۔ اس سے ان پیر صاحب کی اصلیت اور مذہب و طریقت سے ان کی شیفتگی کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ رانا ثنااللہ کے حوالے سے ان کا مؤقف ہے کہ چونکہ انہوں نے احمدیوں کے شہری کے طور پر مساوی حقوق کی بات کی تھی اس لئے اب وہ اس وقت تک دائرہ اسلام سے خارج ہیں جب تک وہ علی لااعلان کملہ طیبہ پڑھ کر ایمان تازہ نہ کرلیں۔ رانا ثنااللہ کی سیاست سے اتفاق یا اختلاف سے قطع نظر کوئی مہذب معاشرہ یا قانونی حکومت کسی بھی شخص کو یہ اختیار کیسے دے سکتی ہے کہ وہ لوگوں کے ایمان کے بارے میں فتوے صادر کرے اور دھونس اور دھمکی سے اپنے مطالبے منوانے کا اعلان کرے۔

پاکستان کو اس وقت مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کی صورت میں ایک سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔ ان حالات میں ملک کی اقلیتوں کا جینا دو بھر ہو چکا ہے اور انسانی حقوق کی سرعام خلاف ورزی معمول بن چکا ہے۔ بڑے بڑے بھاشن دینے والے مولوی سیاسی جماعتوں کی باہمی چپقلش کی صورت حال میں مسلسل انتہا پسندی اور خوف میں اضافہ کررہے ہیں۔ ملک کی سلامتی اور بقا کے لئے یہ صورت حال ختم ہونا ضروری ہے۔ ملک میں ایک آئینی حکومت قائم ہے۔ جو شخص اسے تسلیم کرنے اور مقررہ طریقہ کے مطابق کسی تبدیلی کی کوشش کرنے سے انکار کرتا ہے، وہ اس قوم اور ملک کا مجرم ہے اور اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہونا چاہئے۔ ورنہ یہ ملک اپنے قیام کا جواز کھوتا چلا جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 899 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali