شمع اور شہزاد کی یاد میں


zunaira-saqib-3

آج سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے ایک مسیحی جوڑے کو توہین قرآن کے الزام میں اینٹوں کی بھٹی میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس ملک میں انصاف اس قدر ہے کے ہر آدمی ہاتھ میں ڈنڈا لے کر نہ صرف لوگوں کے مذہبی عقیدے اور حب الوطنی کے کم زیادہ، حرام حلال، جائز نہ جائز ہونے کے فیصلہ کر سکتا ہے بلکہ اسی وقت ڈنڈا مار کر فوری انصاف بھی پہنچا سکتا ہے۔ آج اس واقعے کی یاد اس لئے آ گئی کے فیس بک پر ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں اس جوڑے کے بچوں کا ذکر تھا۔

96% مسلمانوں سے بھرے اس ملک میں کوئی ایک مسلمان اور کوئی ایک ایسی اسلامی تنظیم نہ تھی جو ان بچوں کا سہارا بن سکتی۔ یہ کام بھی ایک مسیحی تنظیم سیسل اینڈ ایرس چودھری فاؤنڈیشن نے کیا۔ 10 سال سے چھوٹی عمر کے یہ تین بچے اب اس تنظیم کی ذمہ داری ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف ان بچوں کی تعلیم کا خرچہ اٹھا رہیں ہیں بلکے ان کے روزمرہ کے خرچے کی بھی ذمہ داری انھوں نے لی ہوئی ہے۔ سلیمان اور اور کی بہن اس وقت لاہور کے کانونٹ اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ کچھ دن پہلے ان بچوں کے سالانہ امتحان ہوے جس میں ان دونوں بچوں نے 85 % سے اوپر نمبر لئے۔

شاید کہیں دور سے ان کے ماں باپ ان کو دیکھتے ہوں گے، ان کی گود میں وہ نا مکمل بچہ بھی ہو گا جو اس وقت شمع کی کوکھ میں پلتا تھا، اور شاید وہ مسکراتے ہوں۔ شاید وہ سوچتے ہوں کے چلو ہماری بلی چڑھنے کے بہانے کم از کم ان بچوں کو وہ مواقع ملے جو ہماری زندگی میں کبھی نہ مل پاتے۔ یا شاید وہ سوچتے ہوں کے کیا فائدہ پڑھ لکھ کر بھی، ان کی قسمت میں تو وہی لکھا ہے جو پاکستانیوں نے اپنی اقلیتوں کے لئے فیصلہ کر رکھا ہے۔ یا تو ان کا کام ہے صفائی ستھرائی کرنا یا پھر توہین مذہب کے کیسز میں مرنا۔ اور کچھ نہیں ایسٹر پر بم دھماکے میں اس دنیا کے جھمیلوں سے آزاد ہو جائیں گے۔

پتہ نہیں وہ کیا سوچتے ہوں گے۔ پتہ نہیں یہ بچے کیا سوچتے ہوں گے۔ پتہ نہیں۔۔ کچھ پتہ نہیں۔

کچھ سال پہلے جب یہ قتل ہوا تو میں نے ایک ٹوٹی پھوٹی نظم لکھی تھی۔ اب تو روز ایک حادثہ ہے اور روز بھی ایک نوحہ لکھو تو کم ہے۔ یہ نوحہ شمع اور شہزاد کی یاد میں؛

وہ جب باہر شور مچاتے تھے اور نعرے لگاتے تھے

تب وہ میرا ہاتھ پکڑتا تھا اور تسلی سی ایک دیتا تھا
لیکن اس کی آنکھ میں بھی خوف کی پرچھائی تھی
موت کی آہٹ دکھتی تھی
وہ میرے کوکھ میں جو ایک جان پلتی تھی
میں اس کا بھی سوچتی تھی

وہ زور سے دروازہ پیٹتے تھے
اور ہم ڈر کر اور دبکتے تھے
پھر ایک ایمان والے نے چھت سے چھلانگ لگائی
اور جھٹ دروازہ کھولا

بہت سارے کچھ لوگ تھے
ان کے چہرے ایمان سےسرخ پڑتے تھے
ان کے ہاتھ میں ڈنڈے تھے
جس سے وہ ہم کافروں کو مارتے تھے
پھر جب میرا جسم ٹوٹ گیا۔۔ درد کا احساس روٹھ گیا۔
۔۔۔۔مرے نیم مردہ جسم کو
۔۔۔میرے ساتھی کے زخموں سے چور شریر کو
وہ آگ کی بھٹی میں ڈالتے تھے

جب کسی کے جنّت کے چکر میں ہم آگ میں جلتے جاتے تھے
اور میری کوکھ سلگتی تھی
۔۔ وہ بہت سارے ناراض لوگ زور زور سے نعرے لگاتے تھے
۔ وہ خوش تھے کے کچھ کافر اب جہنم کی آگ میں جلتے ہیں
جب وہ جوش و جذبے سے نعرے مارتے۔ اور جنّت کی آس میں مر مر جاتے تھے
تب میرے کوکھ میں جلتی ہوئی جان مجھ سے پوچھتی تھی

اماں ! بس یہی وہ آگ ہے جس کا چرچ میں سنڈے کو بتاتے تھے ؟
اور میں۔۔۔۔ میں سوچتی ہوں اس والی آگ میں جلنے سے پہلے صفائی پیش کرنے کی اجازت تو ہوتی تھی


Comments

FB Login Required - comments