کوہ مردار اور کوہِ چلتن کے بیچ۔ تیسرا حصہ


کتابیں ختم ہوگئیں۔ موسیقی حد سے گزر گئی۔اضافی ذمہ داریوں نے بھی تھکا دیا۔اب تنہائی تھی جو کاٹ کھانے کو آرہی تھی۔ بہانے وہ سوجھ رہے تھے جو اسکول یا مدرسے کے ایام میں سوجھتے ہیں ۔کبھی بیمار ہونے کا من کرے اور کبھی واپسی کی راہ تلاش کی جائے۔ مگر کسی نے سچ کہا تھا کہ ہر اندھیرے کے بعد سویرا ہے۔سویرا کیسے آیا، یہ میں ضرور بتاوں گا۔
ژولیاں کولمبیو فرانس سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب ہیں۔عمر چڑھتے ہی انہوں نے مادری زبان پرووانسال میں شاعری شروع کی۔عمر پختہ ہوئی توقومی زبان فرانسیسی میں شاعری کی۔ دس برس میں ہی قافیہ وردیف کھول کر نثر کی طرف نکل گئے۔ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں بہتے ہوئے ہندوستان کے شہر دلی نکل گئے۔ موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہندی سے مراسم بڑھالیے۔ہندی کے توسط سے اردو سے ملاقات ہوگئی۔اردو کی رومان انگیز بانہیں انہیں بھاگئیں۔ہندی دیکھتی رہ گئی، وہ اردو کو پیارے ہوگئے۔اردو میں بولنے لگے، اردو میں لکھنے لگے اور پھراردو میں ہی سوچنے لگے۔ یہ سچ ہے،لوگ مادری زبان میں خود کلامی کرتے ہیں۔ ژولیاں اردو میں خود کلامی کرتے ہیں۔ دلی سے چلے اور پاکستان کے شہر لاہور میں جابسے۔یہاں پنجابی سے آنکھیں چار ہوگئیں۔ رفتہ رفتہ پنجابی ان کی ہستی کا سامان ہوگئی۔پنجابی کی انہوں نے خوشبو کی طرح پذیرائی کی ۔اس قدر کہ ان کی اردو سے بھی گاہے پنجابی کی مہک آتی تھی۔اردو سے تعلق دوستوں والا تھا۔ پنجابی سے تعلق مریدوں والا تھا۔ پنجابی میں بولتے ضرور تھے، لکھتے نہیں تھے۔ کہتے تھے، اس مقدس زبان سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے ابھی خوف آتا ہے۔ اردو میں زبان کی طرح قلم بھی رواں ہوگیا تھا، مگرقلم سے کچھ سرزد نہیں ہوا تھا۔ دوہزار پانچ کے زلزلے میں ہونے والے مشاہدات نے ان پر اثر ڈالا۔ زلزلہ نام کا پہلا اردو ناول صادر ہوگیا۔ جون ایلیا سے تب بہت متاثر تھے۔ سوچا اگلا ناول حضرتِ جون پہ ہوجائے۔ نہیں، مصطفی زیدی پہ ٹھیک رہے گا۔ نہیں، مجید امجد پہ زیادہ بہتر رہے گا۔ تینوں پہ نہیں ہوسکا۔ ساغر صدیقی کی زندگی کی پراسراریت نے انہیں کھینچ لیا۔ ناول بھی پھر انہی پر ہوا۔ ناول کے حصے جب اجمل کمال کے “آج” میں چھپ رہے تھے، تب ہی نظروں میں آگئے تھے۔ اس لیے بھی کہ اردو جنسیت کے بیان پرشرماجاتی تھی، مگر ژولیاں کے ساتھ رہ کر بہت بے باک ہوتی جارہی تھی۔ اردونثر پر فرانسیسی ادب کی اس پرچھائی کو انتظار حسین مرحوم نے بھی خوب سراہا۔مستنصر حسین تارڑ کو بھی یہ ترنگ پسند آیا، مگر زیادہ نہیں۔ اگلا ناول میرا جی پہ لکھا۔ اس سے اگلا ناول “منیرجعفری شہید ” لکھا جو کہ مکمل ایک خیالی کردار ہے۔ اس ناول میں پنجابی اور سرائیکی مکالمے نظر آتے ہیں۔ تویعنی کہ پنجابی سے خاصی بے تکلفی ہوگئی ہے ۔اتنی کہ اب پنجابی ادب کی تاریخ پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔
ژولیاں سے میرا تعارف ایک بین الاقوامی ادارے سے وابستگی کے بعد ہوا۔ ہم رفقائے کار ہوگئے جسے پیشہ ورانہ زبان میں کولیگ کہتے ہیں۔اب یہاں سے آگے ژولیاں کے لیے آپ جناب کہنے سے میں گریز کروں گا۔ کیونکہ یہاں ہماری دوستی گہری ہوچکی ہے۔ وہ لاہور میں تعینات تھے، میں کراچی میں۔ لیکن ہفتے میں ایک بار کراچی آنا ہو ہی جاتا۔ کراچی میں ان کے نام کے دانے ختم ہوگئے۔اب کیا ہو؟۔ میرے لیے اسلام آباد منتقلی کاپروانہ آگیا۔ اب لاہور کے دروازے مجھ پر کھل گئے۔ کئی دفتری امور کی انجام دہی میں ہم وہاں ساتھ رہے۔مگر کب تک؟یہاں بھی دفتر کو تالے پڑگئے۔ دل دھڑکا کہ ژولیاں تو اب سیدھا سات پانیوں کے اس پار جنیواجائے گا ۔اب ایسی بھی اندھیر نہیں کہ مجھے بھی جنیوا کوچ کا حکم آجائے۔مگر یہ توکمال ہوگیا۔ لاہور کا سارا دفتر سمیٹ دیا گیا۔مگرژولیاں واحد ملازم تھا جسے اسلام آباد بھیج دیا گیا۔یعنی بیا بیا اے یارِ من بیا ۔
گویاگھومتے پھرتے ہم ایک چھت کے نیچے آگئے ۔یہاں بیٹھ کرہم نے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا۔بھئی اس یکجائی کا مجھے تو بڑا فائدہ ہوا۔ ہفتہ وار بنیادوں پر وہ ایک کتاب مجھے تحفہ کرتا۔جو کتابیں وہ اپنے لیے لایا ہوتا وہ میں صفائی سے ہتھیالیتا نانی تیری مورنی کو مور لے گئے۔ باقی جو بچاتھاکالے چور لے گئے۔دنیا کے ساتھ یہ وارداتِ سلبی اب میں نے چھوڑدی ہے۔ یہ واردات اب دنیا میرے ساتھ اور میں عثمان قاضی کے ساتھ کرتا ہوں۔اس تحفا تحفی میں ژولیاں نے شکیب جلالی اور مجید امجد کوتو مجھ پر سوار ہی کردیا تھا۔منیر نیازی پر ژولیاں کو وہی اعتراض تھاجو منیرنیازی کو احمد ندیم قاسمی پر تھا۔جون ایلیا کا وہ ایسا ہی مداح تھا جیسے جون خود جون کا مداح تھا۔اب ایسا نہیں ہے۔ اب منیر نیازی دل کے قریب ہیں اور جون سے دل بیزارہے۔ ژولیاں طبعیتا مست مولائی آدمی ہے۔جی اکتاجاتا تو کسی مزار کی طرف نکل جاتا۔کہتا کہ اپنی ذات کے عرفان کے لیے خانقاہوں کی پرہجوم خاموشی مجھے کھینچتی ہے۔کھانا بس زندہ رہنے کے لیے کھاتا۔انسان اپنی ذات کے لیے کسی جاندار کو کیسے ذبح کرسکتا ہے، یہ بات ژولیاں کی سمجھ سے باہر ہے۔اسی لیے دال دلیے پہ رہتاتھا۔جھولے لعل ہونے کے لیے بنوں کوہاٹ کی جڑی بوٹیوں کا دم طبعیت سے لیتا تھا۔ اس کے دفتر میں جنوبی پنجاب کے ثقافتی رنگ ہرطرف پھیلے ہوتے تھے۔ صبح دفتر پہنچتا تو پہلے اگر بتیاں جلاتا، پھر کام کا آغاز کرتا۔سگرٹ کے دھویں اور اگربتی کی دھونی سے بہت ہی ملنگی سماں بندھ جاتاتھا۔ کام میں مگن ہوتا اور لیپ ٹاپ پر دھیمی آواز میں منصور ملنگی کے سرائیکی گیت سن رہا ہوتا۔ اچانک اس کے دفتر کا دروازہ کھولو تو محسوس ہوتا کہ آپ روحانی بے راہ روی میں مبتلا کسی پیر کےآستانے پر آگئے ہیں۔ اس کے ناول “میراجی” کی تخلیق یہیں ہوئی۔ میرے لیے بلوچستان روانگی کا حکم آیا تو ژولیاں کو دکھ ہوا۔ میں نے بھی دکھ کا اظہار کیا۔ اس دکھ کی وجہ یہ تھی کہ یہ دن پاکستان میں ژولیاں کے آخری دن تھے۔کچھ نہیں پتہ کب صدرمقام سے رخت سفر باندھنے کا حکم آجائے۔جانے تب ملاقات بھی ہوپائے کہ نہیں۔کراچی یا لاہور ٹرانسفر تو چلو کوئی بات بھی ہے۔ ان شہروں میں جانے کے لیے آنا اور آنے کے لیے جانا لگا رہتا ہے۔بلوچستان دفتر میں بیٹھناتو حضرتِ داغ کے بیٹھنے جیسا تھا۔ بیٹھ گئے سو بیٹھ گئے۔ مگرجی کا جانا توٹھہرگیا تھا، سو شہر سےکوچ کرگئے ۔
جب قفس کی اداسی بہت بڑھ گئی تھی، اور میں کوئٹہ کے اس گوشہ تنہائی سے خلاصی کی تدبیریں کررہاتھا،تو ژولیاں کا پیغام موصول ہوا “مبارک ہو”۔ میں نے فورا پوچھا کیا ہوا؟ جواب آیا “مجھے عارضی طور پر کوئٹہ آفس کے سربراہ کے طور پر کوئٹہ منتقل ہونے کا حکم ہوا ہے”۔ہائے ہائے۔ کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں۔ بخدا رقص کرنے کو جی چاہتا تھا۔ پڑھی ہوئی کتابیں سنی ہوئی موسیقی دیکھی ہوئی فلمیں سب پھر سے بہت اچھی لگنے لگیں۔ چلے بھی آو کہ گلشن کا کاروبارچلے !خوش قسمتی سے اسے اسی آسیب زدہ عمارت میں دھکیلا گیا جہاں میں تھا۔ عیاشی کے دن شروع ہوگئے۔ اس دنیا میں ہم ہاسٹل کے کھلنڈروں کی طرح رہے۔کھانے بناتے،ڈبو کھیلتے، الماریوں اور فرجوں میں جھانکتے،موسیقی سنتے، بھالو ڈانس کرتے، سگرٹیں پھونکتے، غیبتیں کرتے، اپنے سوا سارے جہاں کو غلط کہتے،دوچار کے سوا سارے ادیبوں کے کام کو مسترد کرتے،اپنی کوتاہیوں کا الزام بھی رفقائے کار کو دیتے،جوبن پہ ہوتے تو چھت پر جاکر پانی کی ٹنکی پر بیٹھ جاتے۔اللہ اللہ! ایک دن ناشتہ کرنے کے بعدبال بکھیرے بنیان پہنے دونوں بھائی ٹنکی پر بیٹھے تو ایک طرح کی خاموشی تھی۔ ہم بالکل چپ چاپ شہر میں چلتی پھرتی زندگی میں محو۔ مجھے یقین ہوگیا کہ ژولیاں کو اب بہت دور کی سوجھنے والی ہے۔ اچانک ژولیاں نے کہا، یہاں ایک تصویر تو ہونی چاہیئے باس۔ ہنس کر میں نے کہا، ہونی تو چاہیئے مگر لیں گے کس چیز سے۔ کیمرا ہے اور نہ کیمرے والا موبائل۔ ژولیاں نے کہا، غم کاہے کو کرتے ہو میاں۔ یہ کہہ کر وہ اپنی پھسلتی ہوئی شلوار، جو خدا جانے کہاں سے لایا تھا،سنبھالتا ہوا ننگے پیر نیچے چلاگیا۔مجھے لگا اس کے پاس کیمرا ہوگا،وہی لینے گیا ہے۔ دومنٹ میں واپس ہنستا ہوا ایسا آرہا کہ ایک ہاتھ سے شلوار سنبھالی ہوئی ہے دوسرے ہاتھ میں لیپ ٹاپ اٹھا رکھا ہے۔ یار یہ لیپ ٹاپ کس لیے لے آئے؟ سانسیں بحال کرتے ہوئے بولا ،پہلے اس سے تصویریں لیں گے، پھر اس پر یہیں بیٹھ کر استاد بڑے غلام خاں کی غزلیں سنیں گے۔ توبہ خدایا! تصور کریں کہ بنیان میں دولمڈے ٹنکی پہ چڑھے بیٹھے ہیں اور اتنا بڑا لیپ ٹاپ اٹھاکر اس کے فرنٹ کیمرے سے پہلو بدل بدل کر دھندلی تصویریں لے رہے ہیں۔ اور یہ وہ وقت ہے جب سیلفیوں کا تصوربھی ابھی رائج نہیں ہوا ہے۔
کچھ وقت کے لیے ہم دو مختلف کمروں میں گم ہوجاتے۔ وہ اپنے نئے ناول پہ کام کرتا میں خفیہ صحافت کرتا۔خفیہ اس لیے کہ دفتر کی طرف سے صحافت پر پابندی تھی اور مجھے صحافت بہرطورکرنی تھی۔دفتر میں ایک ژولیاں اس سے واقف تھا۔جبران دانش کے نام سے وہ میری سٹوریاں پڑھتا۔ دفتر آکر کہتا، میاں جبران نے آج بڑی ہی بے کار سٹوری لکھی ہے۔ تھک کر ہم اپنے کمروں سے باہر نکلتے تو وہ اپنا مسودہ ایک نظر ڈالنے کے لیے مجھے پکڑاتااور خودہتھیلی پر کوہاٹ کی جڑی بوٹیاں پیسنے لگتا۔ پکڑائے گئے مسودے میں کچھ تبدیلیاں لازمی طور پر میں اس لیے کرتا کہ اسے یقین ہوسکے کہ اتنا بھی میں کورا نہیں ہوں۔ژولیاں کے دو ناولٹ کے آئیڈیےاسی عمارت میں پیدا ہوئے۔ پہلا یہ تھا کہ موت کی دہلیز پر کھڑے احساسات کو بیان کیا جائے دوسرا یہ تھا کہ شاعر محسن نقوی پر ناول لکھا جائے۔ اموات نامی خیالی ناول کو تو شاید اسی عمارت میں موت ہوگئی، البتہ اس کا ناولٹ “منیر جعفری شہید” ،جس میں مرکزی کردار ایک ذاکر ہے جو زندگی کے تناو میں جل رہا ہے، میری رائے میں یہ محسن نقوی کے گرد گھومتا ہے۔
ژولیاں کے لیے غیرملکی ہونے کے سبب زندان کے روزن سے جھانکنا بھی ممکن نہیں تھا، تاہم اپنے اختیارات کے تحت “انہوں” نے اس قید خانے کا پھاٹک میرے لیے اٹھانے کا حکم دے دیا تھا۔ اس کے بعد کوئٹہ کی دنیا تو بازیچہ اطفال ہوگئی میرے آگے۔ کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی در بدر کبھی ان کے گھر !
نوٹ! زیرنظر “کوہ مردار اور کوہ چلتن کے بیچ” کا یہ سلسلہ یہیں روک رہا ہوں۔ اس ایک عمارت اور اس کے اکناف میں گزرے شب وروز پر داستانیں ہوسکتی ہیں، مگر ابھی نہیں۔ اب نئے عنوان کے تحت کوئٹہ کے تازہ دورے کی طرف نکلیں گے۔ تاکہ بات جلد ختم ہو اورچیزیں غیرمتعلق نہ رہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں