غلامی زدہ آزادی


امتیاز احمد بلوچ

010ہم اس بات پر مجبور ہیں کہ آزادی کے معنی و مفہوم ان افراد سے لیں جنہوں نے اپنے آپ کو نسلی، سماجی، معاشرتی اور سامراجی غلامی سے آزاد کرلیا۔ یہ حقیقت ہے ایک عملی طور پر غلام ریاست یا معاشرے میں کوئی آزاد نہیں رہ سکتا۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ایک شخص آزاد تب ہوتا ہے جب وہ کسی اور کے احکام کی بجاۓ اپنے زندگی کے معاملات خود طے کرتا ہے، بلکہ دوسروں کی ذاتی معاملات میں اپنے احکام، خیالات اور اپنی دلچسپی کے قوانین داخل کرتا ہے اور نہ ان کو اپنے احکام و معاملات کا پاسدار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ بقول نیلسن منڈیلا، “محض کسی کے زنجیر اکھاڑ پھیںکنا آزادی نہیں بلکہ دوسروں کے آزادی کا احترام و تائید کرتے ہوئے زندگی گزارنا آزادی ہے”۔

ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ہم آزادانہ راۓ تک نہیں دے سکتے۔ ہم محبت اور نفرت اپنے والدین و عمائدین کی اشاروں پر کرتے ہیں بصورت دیگر بے حیا، بے غیرت اور نافرمان و بے ادب کہلاتے ہیں۔ بنا وجہ آپ کسی مذہب، مسلک یا فرقے کی رو سے مرتد، کافر، ناستک وغیرہ وغیرہ کہلاۓ جائیں گے۔ ریاست کے معاملات پر بات کرنا غداری کے زمرے میں آتی ہے۔ ہر حال میں آپ کو اوپر دیے گے معاملات میں پنچائتی، مذہبی اور ریاستی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی خواہ وہ غیر انسانی، غیراخلاقی اور آپکی بقا کے مخالف کیوں نہ ہوں۔ میلکلم ایکس کے مطابق “آپ امن کو آزادی سے جدا نہیں کرسکتے ایک شخص اپنی آزادی کے بغیر امن محسوس نہیں کرسکتا”۔

چھ  دہائیوں سے آزاد کہلاۓ جانے والی ریاست میں ایک شخص اوپر دی گئی تشریحات کی رو سے آزاد ہے اور نہ اسے آزادی لینے سےسروکار ہے۔ برطانوی راج کے چلے جانے کےبعد کا خون آلود معاشرہ جاگیرداروں، ملاؤں، پنڈتوں اور بیرونی سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں آج تک یرغمال ہونے کے باوجود آزاد کہلاتا ہے۔ فاقوں سے نڈھال بے گھر، مذہب، غیرت، جاگیرداری اور ریاستی فرسودہ قوانین کےہاتھوں زندہ لاشیں معاشرے کے آزاد باشندے کہلاۓ جاتے ہیں۔ ان سب کے مخالف نظریات رکھنے والے غدار، یہودی ایجنٹ، مرتد، ڈارون کے بندر وغیرہ وغیرہ کہلاتےہیں۔


Comments

FB Login Required - comments