مذہبی تعصب اصل خطرہ ہے


mujahid aliبرطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز نے خبر دی ہے کہ دولت اسلامیہ یا داعش ترکی میں یہودی آبادی کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ اس دہشت گروہ نے شام اور عراق میں اپنے زیر تسلط علاقوں میں بھی اقلیتوں کو خاص طور سے نشانہ بنایا تھا۔ ان میں عیسائی اور یزیدی شامل تھے ۔ یزیدی عورتوں کی منڈیاں لگا کر انہیں باندیاں بنانے کے لئے جائز ہدف بھی قرار دیا گیا تھا۔ اس گروہ نے اغوا شدہ غیر مسلم عورتوں کی قیمتیں مقرر کیں اور اس طرح انسانیت کی تذلیل اور اسلام کی بدنامی کا پیغام عام کیا۔ اتوار کو لاہور کے گلشن اقبال پارک میں ہونے والا حملہ بھی دراصل ایسٹر سنڈے کو کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس حملہ میں مسلمان اور عیسائی یکساں طور سے جان سے گئے تھے لیکن جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ہدف عیسائی آبادی تھی۔

دہشت گرد گروہ دینی یا سیاسی اہداف حاصل کرنے کے لئے غیر قانونی اور غیر انسانی اقدام ہی نہیں کرتے بلکہ وہ دوسرے عقائد کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جائز ٹارگٹ قرار دیتے ہیں۔ 2007 میں پاکستان کے علاقے سوات پر قبضہ کے دوران طالبان نے دوسرے فرقوں کے لوگوں اور ان کے قبرستانوں تک کو نشانہ بنایا تھا۔ بعض بزرگوں کی لاشوں کو قبروں سے نکال کر درختوں پر لٹکا دیا گیا تھا تاکہ دوسرے عقائد کے لوگوں کو ان کے اصل عزائم کا اندازہ ہو سکے۔ اسی طرح داعش کے نظریہ سے متاثر دہشت گردوں نے 2012 میں فرانس کے علاقے طولوس Toulouse میں ایک یہودی اسکول کو نشانہ بنا کر سات افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ ترکی کے شہر استنبول میں 19 مارچ کو ہونے والے دہشت گرد حملہ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے ، ان میں سے تین کا تعلق اسرائیل سے تھا۔ اس سانحہ کے بعد اسرئیلی حکومت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ترکی چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ اسکائی نیوز کی اطلاع کے مطابق ترک حکام نے دہشت گردوں سے تعلق رکھنے والے بعض لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان سے حاصل ہونے والی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ داعش مستقبل میں ترکی میں یہودی باشندوں ، ان کی آبادیوں اور یہودی اسکولوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ترکی میں 20 ہزار کے لگ بھگ یہودی آباد ہیں۔ اس چھوٹی اقلیت کو نشانہ بنا کر داعش دراصل ملک میں مختلف گروہوں کے درمیان افتراق اور شکوک پیدا کرنا چاہتی ہے۔ برسلز اور پیرس میں کئے گئے حملوں سے بھی یہی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان حملوں کے بعد یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے بارے میں شبہات اور نفرت میں اضافہ ہؤا ہے۔

پاکستان میں بھی دہشت گرد فرقہ وارانہ بنیادوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔ جماعت الاحرار نے متنبہ کیا ہے کہ وہ آئیندہ بھی غیر مسلمان اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت کو اس مزاج اور حکمت عملی کو مد نظر رکھتے ہوئے دہشت گردوں سے نمٹنے اور ملک کی اقلیتوں کی حفاظت کے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس کے علاوہ مذہبی اور سماجی رہنماؤں کو اس اندیشے کے پیش نظر رائے عامہ کو تیار کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بین المذہبی احترام و قبولیت کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

بدنصیبی سے ملک کے دینی رہنما فرقہ وارانہ عصبیت عام کرتے ہوئے ان پہلوؤں پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ اس طرح وہ باالواسطہ طور پر انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کے مقاصد کی تکمیل کے لئے گراؤنڈ ورک کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ہفتہ کی رات کو اسلام آباد ائیرپورٹ پر مبلغ اور تاجر جنید جمشید پر حملہ فرقہ وارانہ عصبیت کا ہی شاخسانہ تھا۔ اسی طرح اسلام آباد میں جمع ہونے والے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے بھی ایک اقلیتی گروہ کو خاص طور سے نشانہ بنایا ہے۔ ان لوگوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اقلیتی مذاہب کے لوگوں کو سرکاری عہدوں سے فارغ کیا جائے۔ یہ مطالبے بنیادی انسانی حقوق اور آئین پاکستان کے برعکس ہیں۔ اس قسم کے بیانات کا کوئی مذہبی جواز بھی نہیں ہے ۔ لیکن ایسی اشتعال انگیز باتوں سے مذہبی اور فرقہ وارانہ عصبیت اور نفرت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اسی نفرت کو فروغ دینے کے لئے دہشت گرد بھی سر گرم عمل ہیں۔ معاشرے کو ان کی دست برد سے بچانے کے لئے چوکنا رہنے اور ان عزائم کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali