ان کے نام جن کے لئے سورہ منافقون نازل ہوئی


کس نے کہا ہے آپ سے یومِ حساب سے ڈریں؟

بس یہ کریں کہ اپنے ہی حالِ خراب سے ڈریں

٭٭٭

میرے تو نیک و بد سے خود میرا خدا ہے باخبر

آپ گِنیں ثواب کو، آپ عذاب سے ڈریں

٭٭٭

سورہ نور پڑھ کے بھی چین اگر ملا نہیں

ذہن کے مکر سے بچیں، دل کے سراب سے ڈریں

٭٭٭

جن کے سبب جُدائی ہے، آپ کے اور حق کے بیچ

وہ جو نگاہ و دل پہ ہیں، ایسے حجاب سے ڈریں

٭٭٭

کذب و ریا کو سچ کے ساتھ آپ نہ یوں ملائیں اب

حُرمتِ اہلِ علم سے، حق کی کتاب سے ڈریں

٭٭٭

سوچ میں زہر گُھول کر دے جو فریبِ آگہی

ایسے بیاں کو رد کریں، ایسے خطاب سے ڈریں

٭٭٭

وہ جو یقین چھین کر، دل میں گُمان ڈال دے

ایسے قلم کو توڑ دیں، ایسے نصاب سے ڈریں

٭٭٭

ہوں نہ کہیں شمار آپ، فرقہ فاسدین میں

کارِ گنہ میں سازشِ کارِ ثواب سے ڈریں

٭٭٭

گونجی ہوئی ہے چار سو آہ و فغانِ دل خراش

خواب گہِ نشاط میں، عشرتِ خواب سے ڈریں

٭٭٭

وعدہ قہر بھول کر ظُلم نہ یوں روا رکھیں

آتا ہے وہ جو ناگہاں، ایسے عتاب سے ڈریں

٭٭٭

مجھ کو تو اب بھی ناز ہے، میں تو کبھی نہیں ڈری

مجھ کو بھی تھا یہ حُکم کہ آپ جناب سے ڈریں

٭٭٭

رہتا ہے لا مکاں یہاں، وہ ہے عیاں نہاں یہاں

جس کے حُضور میں ہیں سب، اُس کے غیاب سے ڈریں

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
شاہدہ حسن کی دیگر تحریریں
شاہدہ حسن کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں