خود کش حملہ آور سے مکالمہ


nasir abbas nayyarکیا تمھیں کبھی اتنا وقت ملا کہ تم اس لمحے کو ٹھیک ٹھیک یاد کرسکو، جب تم نے خود کو بم سے اڑانے کا فیصلہ کیا؟ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ تم نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ ہم میں سے کوئی دوسرے کے ذہن کو براہ راست نہیں پڑھ سکتا، جس طرح ہم کتاب پڑھ سکتے ہیں، یا اب سکرین پر لفظوں کو پڑھ سکتے ہیں، لیکن دوسرے کے عمل سے، اس کے ذہن کو کچھ کچھ سمجھا جا سکتا ہے۔ تمھارے عمل سے، تمھارے ذہن کو تھوڑا سا سمجھا جا سکتا ہے۔ تمھارا عمل بتاتا ہے کہ تم نے کبھی اس لمحے کو یاد کرنے کی کوشش نہیں کی، جب تم نے اپنے ساتھ دوسروں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگر یاد کرتے تو تم پر کچھ عظیم الشان انکشافات ہوتے، جن کا تعلق خود تمھاری ہستی سے ہے، اور ہم سب کی ہستی سے ہے۔ سب سے بڑا انکشاف وہ ہے، جو ہمیں براہ راست، ہماری ہستی کے اس عظیم الشان منطقے سے متعلق آگاہ کرتا ہے، جہاں ہمیں بڑے بڑے سوالوں کے جواب ملتے ہیں۔ یہ تمام بڑے سوال براہ راست ہم سب کی حقیقی زندگی سے متعلق ہیں۔ تم پر یہ انکشاف ہوتا کہ خو د کو مارنے کا فیصلہ تمھارا تھا ہی نہیں۔ تمھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ تم نے کبھی روح اور ذہن کی وہ آزادی حاصل ہی نہیں کی جو بڑی سچائیوں اور بڑے فیصلوں کی شرطِ اوّلین ہے۔ آج تک کسی شخص پر کوئی عظیم سچائی، روح اور ذہن کی آزادی کے بغیر منکشف نہیں ہوئی۔ عظیم سچائیوں تک پہنچنے سے پہلے طویل سفر کرنے پڑتے ہیں جو زمینی اور ذہنی دونوں ہوتے ہیں، جسم کو سخت مضمحل کر دینے والی ریاضتیں کرنی پڑتی ہیں، راتوں کی ڈرا دینے والی تنہائی، اور جنگل وصحرا کی دہشت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے بعد کہیں آدمی کو روح کی آزادی حاصل ہوتی ہے، اور پھر وہ لمحات آتے ہیں، جب کسی عظیم سچائی کے انکشاف کی امید کی جاسکتی ہے اور انتظارکھینچا جا سکتا ہے۔ انسانی تاریخ میں اب تک کھربوں انسان پیدا ہوکر پیوند خاک یا رزق ہوا ہوچکے ہیں، مگر صرف چند ہزار روح کی آزادی حاصل کرنے، اور صرف چند سو پر عظیم سچائیاں منکشف ہوئی ہیں۔ ان سچائیوں کی سیکڑوں قسمیں ہیں، جن کے تحت اربوں انسان اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں، مگر ان سچائیوں کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب کبھی تمھیں اپنی زندگی کے سب سے بڑے فیصلے کا مرحلہ درپیش ہو تو پہلے روح کی آزادی حاصل کرو۔ جس فیصلے کی زد پر تمھاری سب سے قیمتی متاع آتی ہو، اس کا خیال بھی لانے سے پہلے اپنی آزادی کو یقینی بناﺅ۔

 یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر تم سوچتے تو تم پر یہ حقیقت بم کی طرح گرتی کہ تمھاری زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ خود تم نے نہیں کیا۔ تم نے کبھی یہ سوچا کہ یہ فیصلہ کتنا بڑا ہے؟ چلیں اگر تمھیں اپنی جان اپنے ہاتھوں ختم کرنا کوئی بڑی بات محسوس نہیں ہوتی تو ذرا یہ تصور کر لیتے کہ تمھارے فیصلے کے نتائج کس قدر ’بڑے‘، کتنے بھیانک، کتنے اندوہ ناک ہوں گے؟ کیا یہ بات کبھی تمھارے خیال میں گزری کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے، جب تم مقدس کلمات ادا کرتے ہوئے، تم کسی اس جہان میں پہنچ جاتے ہو، جہاں سے واپس آکر کسی نے وہاں کا آنکھوں دیکھا احوال نہیں سنایا۔ تو سنو، اس کے بعد کا منظر تقریباً وہی ہوتا ہے جسے محشر کہا گیا ہے۔ بارود کے دھویں کے مرغولوں میں، آسمان کا دل چیر ڈالنے والی انسانی چیخیں ہوتی ہیں، انسانی لہو زمین پر پانی کی طرح، اور فضا میں کٹیلی دھاروں کی مانند بہتا ہے، انسانی جسموں کے لوتھڑے ہر سو اس طرح اڑتے ہیں، جیسے کسی نے سیکڑوں جسموں کا ایک گٹھا سا بنا کر، ایک ہی وار سے ٹکڑے کرکے، ایک جھٹکے سے ہوا میں انتہائی نفرت سے اچھال دیا ہو۔ بچ جانے والے جنون کی حالت میں، سمت کی سدھ بدھ کھو کر ایک دوسرے پر گرتے ہیں، ایک دوسرے کو کچلتے ہیں۔ کسی کو کلمہ نصیب ہوتا ہے، کسی کو تو وہ چیخ بلند کرنے کی مہلت بھی نصیب نہیں ہوتی، جو اپنی زندگی بچانے کا انتہائی آخری چارہ ہوتی ہے !تم نے کبھی سوچا کہ محشر برپا کرنے کا حق صرف ایک ہستی کو ہے۔ اس ہستی کے اختیار کو ہاتھ میں لینے کا حق، تمھیں کس نے دیا؟

تمھاری زندگی کا وہ کیسا بد نصیب لمحہ تھا، جب تم یہ بھول ہی گئے کہ تمھارے پاس کچھ سنہری چیزیں تھیں: جیسے یہ سمجھنے کا موقع کہ اتنی حسین کائنات کی سیاحت کا تمھیں صرف ایک موقع ملا ہے، اور جہاں حسن نہیں ہے وہاں حسن تخلیق کرنے کا نادر موقع ملا ہے۔ یہاں اس قدر حسن ہے، اتنے خوبصورت پرندے، اتنی حسین جھیلیں، آبشاریں، اتنے پیارے چہرے، اتنے حسین رشتے، آرٹ کے اتنے عظیم الشان اور محیر العقول نمونے ہیں کہ ان سب کو صرف ایک نظر دیکھنے بھی لگیں تو سو برس کی عمر بھی کم لگے۔ لیکن تمھیں بتایا گیا کہ حسن سے زیادہ سچائی اہم ہے۔ تمھیں اس سنہری چیز کا احساس بھی نہیں کرنے دیا گیا کہ حسن اور سچائی، دونوں اہم ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی دشمن نہیں ہیں۔ ایک بچے کی چمکتی آنکھوں کا ناقابل ِ بیان اسرا ر آمیز جمال، گوتم کی آٹھ عظیم سچائیوں کے ساتھ رکھ کر دیکھیں تو وہ نویں عظیم سچائی لگے گی۔ ہومر، سیفو، دانتے، ملٹن، شیکسپیئر، ایلیٹ، میرابائی، کبیر، میر، غالب، اقبال، مجید امجد کے شاعرانہ آرٹ کا جمال، ارسطوئی منطق، ابن الہیثم، ابن سینا، ابن خلدون، ابن رشد، گلیلیو، نیوٹن، آئن سٹائن، سٹیفن ہاکنگ کے فلسفیانہ وسائنسی نظریات کی سچائیوں کے مد مقابل نہیں، بالکل اسی طرح جس طرح ایک پھول کا حسن، سورج کی روشنی کے بغیر ممکن نہیں ۔ یہی حال تمام عظیم پیغمبروں کی لائی ہوئی سچائیوں کا ہے۔ تم کسی انجانے لمحے میں یہ نہ جان سکے کہ انسان کو بھوک پیاس مٹانے کے بعد سب سے زیادہ ضرورت اس حسن اور سچائی کی ہے، جسے فطرت، خدا اور انسانوں نے ایک باقاعدے معاہدے کے تحت تخلیق کیا ہے۔

تمھیں اس سنہری چیز کی طرف دھیان کا بھی موقع نہیں ملا کہ تاریخ میں جن لوگوں پر عظیم سچائیاں منکشف ہوئیں، ان میں سے کسی نے خود کشی کا فیصلہ نہیں کیا۔ تم عظیم سچائی کے نام پر اپنی جان اور دوسروں کی جان لینے پر کمر باندھتے ہو، لیکن اس حقیقت سے لاعلم رہتے ہو کہ عظیم سچائی، اور زندگی کے تحفظ اور بقا کا گہرا تعلق ہے، اس قدر گہرا تعلق کہ لوگوں نے یہ باور کرانے کے لیے، اپنی جان کے نذارنے تک پیش کیے۔ انھوںنے خود پر منکشف ہونے والی سچائی کی خاطر اپنی جان کسی ظالم حکمران، سفاک آئین، یا اندھی رسم کے سپرد کردی، تا کہ بعد کے بہت سے لوگوں کی زندگیاں محفوظ ہوسکیں۔ انھیں معلوم تھا کہ عظیم سچائی تک پہنچنے کے بعد، ان پر بڑی بڑی ذمہ داریاں آن پڑتی ہیں۔ یہ ذمہ داریاں کہیں باہر سے نہیں عائد ہوتیں، خود سچائی کے باطن سے پھوٹتی ہیں۔ ہم کسی پیغمبر، کسی فلسفی، کسی شاعر، کسی سائنس دان کی مثال پیش نہیں کرسکتے، جس نے عظیم سچائی کو حاصل کرنے کے بعد کچھ بڑی ذمہ داریوں کو محسوس نہ کیا ہو۔ سب نے سچائیوں کا اعلان کیا، اور تن من دھن سے ذمہ داریاں ادا کیں۔ ان میں سے کسی نے اپنی سچائیوں کو نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ان سچائیوں میں سے ایک سچائی یہ ہے کہ ہر ایک کو خود سچائی تک پہنچنا ہے ۔ سچائی ایک لفافے میں چھپا خط نہیں، یہ تو انسانی روح پر لکھی گئی وہ تحریر ہے، جسے ہر آدمی کو اپنے ذہن کی تمام قوتوں کو کام میں لاتے ہوئے خود پڑھنی ہے۔

کوئی بڑی سچائی، سیاسی، معاشی، عسکری طاقت کے ذریعے نافذ ہونے کی روادار نہیں ہوئی۔ ہاں سچائیوں کو مسخ کرنے کے لیے طاقت کا بہیمانہ استعمال ضرور ہوا۔ سچائی کو پوری دیانت داری کے ساتھ دوسروں تک پہنچانے کی کوشش ہوئی ہے، اور اس کوشش کے دوران میں خود سچائی کے علمبردار کو تشدد سہنا پڑا، مگر اس نے صبر وتحمل سے کام لیا۔ ان کی روح میں جگماتی سچائی، انھیں مسلسل اس ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے کہ سچائی کو دنیا تک اسی طرح پہنچانا ہے، جس طرح حسن پہنچتا ہے۔ تمھیں اس سنہری چیز کا خیال بھی نہ آ سکا کہ آخر کیا سبب ہے کہ ہر بڑی سچائی، حسن کے پیرائے میں کیوں ظاہر ہوتی ہے، اور سچائی کے علمبردار کا عمل آخر کیوں حسین ہوتا ہے؟ اور حسین چیزوں میں آخر کیوں بڑی بڑی سچائیوں کا ذکرہوتا ہے۔ اسی سے متعلق تم مجید امجد کی یہ سنہری سطریں (کبھی کبھی تو زندگیاں) نہ پڑھ سکے، جو براہ راست تم سے متعلق ہے، تمھارے عمل سے متعلق ہے، کچھ دوسروں کے اختیار اور ہماری بے بسی سے متعلق ہے، مگریہ اس وقت لکھی گئی، جب تم دنیا میں آئے ہی نہیں تھے۔

کبھی کبھی تو زندگیاں کچھ اتنے وقت میں اپنی مرادیں حاصل کر لیتی ہیں

جتنے وقت میں لقمہ پلیٹ سے پیٹ میں پہنچتا ہے اور

اکثر ایسی مرادوں کی تو پہنچ بھی لقموں تک ہوتی ہے

اور جب ایسی منزلیں بارآور ہوتی ہیں تو شہر پنپتے ہیں اور گاﺅں پھبلتے ہیں اور

تہذیبوں کی منڈیوں میں ہر جانب قسطاسوں کی ٹیڑھی ڈنڈیاں روزوشب تیزی سے

انسانوں کی جھولیوں میں رزقوں کی دھڑیاں الٹتی ہیں اور

بھرے سماجوں میں شدھ تلقینوں کی ڈونڈیاں پیٹنے والے بھی اپنی اپنی پیغمبریوں کی تنخواہیں پاتے ہیں

لیکن کس کو خبر ہے ایسی بھی ہیں منزلیں جن تک جانے والے راستوں پر نہ دعا کا سایہ ہے نہ قضا کا گڑھا ہے

کچھ ہے بھی تو بس اپنی سوچوں کی دھجیوں میں سمٹی ہوئی اک بے چارگی جس کی بے صدا

ہوک میں عمریں ڈوب جاتی ہیں


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “خود کش حملہ آور سے مکالمہ

  • 29-03-2016 at 3:08 pm
    Permalink

    بھائی نئیر عباس نئیر!
    میں نے زندگی میں جو دو ایک افسانے لکھے ان میں پہلا افسانہ تھا “پہلے باٹا پھر اسکول” جو غالبا” 1972 میں شہر سلطان کے ایک سرراہ ریستوران پر کام کرنے والے بچے کو دیکھ کر لکھا تھا اور “الفتح” میں شائع ہوا تھا۔ اس میں جو سوچیں تھیں وہ اس بچے کی طرف سے میری سوچی ہوئی سوچیں تھیں۔ آپ نے بھی خود ہی سوچا خود ہی لکھا۔ غم روزگار یا آرزوئے بہشت میں گم لوگ کہاں کچھ سوچتے ہیں، وہ تو گم ہوتے ہیں۔

  • 29-03-2016 at 3:10 pm
    Permalink

    معاف کیجیے ناصر عباس نیر

  • 29-03-2016 at 4:23 pm
    Permalink

    یہ تحریر خود فریبی اور دوسروں کو گمراہ کرنے کی ایک بہترین مثال ہے۔ نیئر صاحب کا تنقید میں بہت نام ہے‘ ان کی تحریریں منطق سے زیادہ تصوراتی منطقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس لیے اس تحریر میں بھی شاعری زیادہ جھلک رہی ہے اور حقیقی رخ عنقا ہے یہ کہنے کے باوجود کہ ”تم پر یہ انکشاف ہوتا کہ خو د کو مارنے کا فیصلہ تمھارا تھا ہی نہیں۔“ تنقید خود میرا بھی شعبہ ہے‘ اور اس ذمہ داری کو بخوبی سمجھتا ہوں کہ نقاد اپنی تحریر سے قارئین کو گمراہ نہیں کرتا بلکہ منطقی بنیادوں پر کسی بھی سماجی‘ فنی یا سیاسی متن کے ڈائمنشنز کو کھول کر اس کے اندر کے تضادات کو نمایاں کرتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جب ہم کسی بھی ”دوسرے“ سے مکالمہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے اس کی ذہنی اور سماجی سطح کا تعین کرتے ہیں اس کے بعد ہی ہم کوئی منطقی اور درست مکالمہ کرنے کی پوزیشن میں آتے ہیں ورنہ ایک ایسے تصوراتی منطقے میں جاگرتے ہیں جس میں ہماری ہر حرکت ٹامک ٹوئیوں جیسی دکھائی دیتی ہے۔ جب نقاد کسی ”مکالمے“ سے قبل یہ تعین کرلیتا ہے کہ اس کے مخاطب کا بنیادی فیصلہ اس کا اپنا نہیں ہے‘ تو اس ”بنیادی فیصلے“ سے جنم لینے والی صورت حال کے حوالے سے اس کے ساتھ بات کرنا ہی غیر منطقی ہوجاتا ہے کیوں کہ اس کی ”ثانوی حیثیت“ طشت از بام ہوجاتی ہے۔ ایسے میں اگر نقاد اس ”قوت“ کو زیر بحث لاکر اسے برہنہ نہیں کرتا جو ”دوسرے“ پر خود کو مارنے کا فیصلہ مسلط کرتا ہے‘ تو یہ بلاشبہ ”پہلے“ کی خدمت انجام دیتا ہے اور فسطائیت کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کے حیلوں پر نیئر صاحب کی بڑی اچھی نظر ہے‘ اس تحریر کا انداز انھی حیلوں میں سے ایک حیلہ ہے۔ یعنی تمام تر توجہ کا مرکز پروڈکٹ ہوتی ہے اور مینو فیکچرر پر کسی کی نگاہ نہیں پڑتی۔

  • 29-03-2016 at 5:55 pm
    Permalink

    ناصر عباس نیئر اور انہیں للکارنے والے مجاہد مرزا جیسی قد آور شخصیات کی علمی گفتگو میں مجھ جیسے عامی کو کودنے کا کوئی حق نہیں. تاہم اپنی عاجزانہ رائے اس لیے بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ اہلِ علم کو علم ہو کہ بے علم کس طرح سوچتے ہیں.
    جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں ناصر عباس نیئر نے خودکش حملہ آور کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ مرنے مارنے کا فیصلہ تمہارا اپنا نہیں. اگر تم خود فیصلہ کرتے تو فیصلہ کچھ اور بھی ہو سکتا تھا.
    جب کہ مجاہد مرزا صاحب کا موقف ہے کہ مرض کی اصل جڑ کارخانہ دار ہے جو کہیں پیچھے بیٹھ کر اپنا مال پانی بنا رہا ہے. ناصر عباس نیئر صاحب اسے نظر انداز کرتے ہوئے کارخانے کی پیداوار سے محو گفتگو ہیں.
    اصولی طور پر دونوں کے موقف میں وزن ہے. تاہم مجاہد مرزا صاحب کو پراڈکٹ یعنی خود کش حملہ آور سے مکالمہ کرنے پر اعتراض میں اس بنا پر سمجھ نہیں پایا کہ روسو کے مطابق انسان آزاد پیدا ہوا تھا اگر اب وہ ہمیں رنگ، نسل، وطن یا مذہب کی زنجیروں میں جو اس کی قوت فیصلہ کو معطل کر دیتی ہیں تو اس کا بنیادی طور پر وہ خود ذمہ دار ہے. کسی ملک یا معاشرے کے قوانین اسے جسمانی طور پر پابند سلاسل کر سکتے ہیں، لیکن جبرا” اس کی سوچ کو مطیع بنانا ناممکن ہے. اپنے گلے میں یہ طوق وہ خود پہنتا ہے.
    اگر خود کش حملہ آور یہ طوق غلامی اتار پھینکے تو مینوفیکچرر کا دھندا خود بہ خود بند ہو جائے گا.
    جہاں تک مینوفیکچرر کا تعلق ہے تو اس سے مکالمہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ یہ سب اپنے مفاد کی خاطر اپنی فری ول سے کر رہا ہے.

    • 29-03-2016 at 8:01 pm
      Permalink

      بھائی یہ کارخانہ دار کہاں سے آ گیا؟ مدعا یہ تھا کہ ” غم روزگار یا آرزوئے بہشت میں گم لوگ کہاں کچھ سوچتے ہیں، وہ تو گم ہوتے ہیں”۔ جب ہم کسی کی جانب سے اس کا موقف سوچ رہے ہوتے ہیں تو وہ ہمارے ہی شعور کے ادراک کی باز گشت ہوتی ہے۔ میں تحریر کی تکنیک پر بات کر رہا تھا بلکہ ناقد تھا جس میں اس کا سیاسی بلکہ سماجی پہلو نمایاں ہو گیا شاید۔

  • 31-03-2016 at 12:55 am
    Permalink

    ak khob sorat tehreer hy adi rang o chashni se bharpoor hy. NASIR SAB ka maqsad apni ilmi liaqat dikhana nhi bal k ek khoob soorat kawish hy os shakhs k lya jo fehm o idrak se aari hy our apna sbab e tkhleeq bhi nhi janta.

  • 31-03-2016 at 11:11 am
    Permalink

    اعلی

Comments are closed.