روشن سائے: یادوں کے دریچے


rizwan rafiqueصحافت کا سفر شروع کیے ہوئے اٹھائیس سال بیت گئے۔ اس عرصے میں کئی نشیب و فراز بھی آئے لیکن صحافت سے تعلق قائم رہا. ذاتی کاروبار بھی کیے لیکن سرمائے کی کمی اور حساب کتاب میں کاروباری اونچ نیچ کو نہ سمجھ سکا. 1988 سے شروع ہونے والے اس سفر میں جو عظیم لوگ میرے ہم سفر بنے اور جن کی وجہ سے میرے اندر کام کرنے کا حوصلہ قائم رہا آج مجھے ان سینئر صحافیوں اور اخبارات کے دوسرے شعبے سے وابستہ افراد جو اس دنیا سے چلے گئے، ان کی یاد آرہی ہے اور میں اپنی تحریر میں ان افراد کے ساتھ گزرے لمحات کو سپردِ قلم کرنے کی جسارت کر رہا ہوں. اگر زندگی نے موقع دیا تو ان صحافیوں کے بارے میں بھی ضرور لکھوں گا جو پورے جنون کے ساتھ خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
احساس ہے کہ تمہید زیادہ لمبی ہو گئی اس لیے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں. 1988کی بات ہے کہ نسبت روڈ کے ایک قدیم گھر میں ہفت روزہ اخبار “قومی دلیر” کے ایڈیٹر شہزاد صحرائی صاحب سے ملاقات ہوئی. شہزاد صحرائی قومی دلیر کو گوجرانوالہ سے شائع کرتے تھے. وہ اپنے اخبار کے نام کی طرح خود بھی بہت دلیر تھے. انہوں نے کسی معاوضے کے بغیر ہمارے ملنے والے اس وقت کے سول جج طارق مسعود کو قومی دلیر لاہور سے شائع کرنے کی اجازت دے دی اور دوستوں کی ایک ٹیم نے قومی دلیر کو شائع کرنے کے لیے لکشمی بلڈنگ کے ساتھ گلی میں دو کمروں کے آفس میں کام شروع کر دیا. اس اخبار کی کامیاب اشاعت کے بعد والد محترم نے میرے جنون کو دیکھتے ہوئے مجھے 1989 ضیاء شاہد صاحب کے پاس روز نامہ جنگ چھوڑا اور ضیا صاحب نے مجھے کسی وقفے کے بغیر کام پر لگا دیا. بجٹ آنے والا تھا، انہوں نے اس پر رپورٹ بنانے کا کہا اور مکمل کر کے سلیم چوہدری صاحب کو دینے کا کہا. دبلے پتلے اور لمبے قد کے سلیم چوہدری کے سخت گیر چہرے کو دیکھ کر خوف زدہ ہوا. ان کو صرف اتنا کہا کہ یہ مسودہ ضیاء صاحب نے بھیجا ہے. انہوں نے کوئی مزید بات کیے بغیر کہا کہ کل آ کر لے جانا. مجھے اگلے روز روز تک ڈر سا لگا رہا کہ یہ بزرگ میرا مسودہ مسترد کر دیں گے اور میں پہلے امتحان میں ہی فیل ہو جاوں گا. خیر اللہ سے دعا کی کہ ان سخت گیر بزرگ کے دل میں رحم ڈالنا اور دعا کرتا ہوا سلیم چوہدری کے پاس گیا. انہوں نے میرے مسودے کی کانٹ چھانٹ کی اور کہا کہ ضیاء صاحب کو دے دو. مسودہء سرخ پینسل کے نشانات سے بھرا پڑا تھا. لیکن بھر بھی میری محنت رنگ لائی اور روزنامہ جنگ میں میرا خصوصی کلر ایڈیشن چھپ گیا. سلیم چوہدری کی پینسل سے لگے سرخ نشان آج بھی میری رہنمائی کرتے ہیں. ان نشانات اور ضیاء صاحب کے اعتماد نے میرے اندر حوصلہ پیدا کیا.
سلیم چوہدری کے ساتھ روزنامہ پاکستان میں بھی تعلق رہا اور پھر ان کے ساتھ سنجیدہ گفتگو خوشگوار ماحول میں تبدیل ہو گئی. وہ اکثر ضیاء صاحب سے ناراض ہو جاتے اور کہتے اب میں نے واپس نہیں آنا. میرا ایک ہی جواب ہوتا کہ آپ اور ضیا صاحب الگ نہیں ہو سکتے. وہ کبھی کبھی تنہائی میں ضیا صاحب کی چغلی بھی کر جاتے. ان کی چغٖلی بڑی نپی تلی اور سنجیدہ ہوتی. اللہ ہم دونوں کو چغلیاں کرنے پر معاف فرمائے. اگر اس وقت ضیاء صاحب کو معلوم پڑ جاتا تو ان کا جلال میرے پر حلال ہو جاتا.
روزنامہ پاکستان میں ہی پاں اسماعیل اخبار کے پہلے چیف رپورٹر کے طور پر کام کر رہے تھے. اپنے گھنگریالے بالوں تیز آنکھوں کے ساتھ چیف رپورٹر کی کرسی پر بیٹھ کر سگریٹ کے ایسے کشں لگاتے کہ دھواں دور دور تک پھیل جاتا. یاد رہے کہ ان دنوں آفس کے اندر سگریٹ پینے کی ممانعت نہیں تھی. خیر دوسری طرف میں میگزین سیکشن میں بیٹھتا تھا اور مجھے اس وقت اپنی مونچھوں کو بل دینے کی عادت تھی لیکن دوسری طرف بیٹھے پاں اسماعیل یہ سمجھتے تھے کہ میں ایسا ان کی طرف دیکھ کر جان بوجھ کر کرتا ہوں اور گستاخی کا مرتکب ہو رہا ہوں. پاں اسماعیل اندر ہی اندر میری اس انجانی حرکت پر دل برا کرتے. مجھے کافی عرصے بعد اس صورتحال کا علم ہوا جس کے بعد میں نے احتیاط کی اور پھر جب رفاقت بڑھی تو ان کا غصہ شفقت میں بدل گیا. کیسے اعلیٰ پایہ کے لوگ تھے ذرا سی عزت اور خلوص کے بدلے سب کچھ نچھاور کر دیتے تھے.
اسی اخبار کے پریس انچارج امین خان بھی کیا درویش شخصیت کے مالک تھے کئی سیئنر صحافی اپنے مسائل کے حل کے لیے ان کی خدمات حاصل کرتے تھے. امین خان نے اپنی محنت اور تجربے سے روز نامہ پاکستان کی اشاعت کو بر وقت ممکن بنایا اور پرینٹنگ کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا. مجھے بھی امین خان نے چند ایسے مشورے دئیے جو آنے والے وقتوں میں میرے لیے سودمند ثابت ہوئے. صحافت کی دنیا کا ایک اور معتبر نام حمید جہلمی صاحب بھی اسی اخبار سے وابستہ تھے. سنجیدہ سادہ اور خوبصورت لباس ان کی پہچان تھا. مجھے ایسا لگتا ہے جو لوگ لفظوں کی کانٹ چھانٹ کرتے ہیں وہ طبعیت کے سنجیدہ ہو جاتے ہیں جیسا کے حمید جہلمی اس کا ایک نمونہ تھے.
روزنامہ پاکستان سے ناگزیر وجوہات کی بنا پر ہمیں رخصت کر دیا گیا. اس کی کیا وجوہات تھیں اور جو واقعات وقوع پذیر ہوئے ان پر پھر کبھی اظہار کریں گے کیونکہ اصل موضوع سے ہٹ کر لکھنا اخلاقی طور پر درست نہیں. میر ی خوش نصیبی ہے کہ میں اپنے صحافتی دور میں شروع میں ہی ان بزرگوں کے ساتھ رہا جن کی قربت میں گزارے ہوئے دن آج بھی مجھے ذہنی سکون دیتے ہیں. روز نامہ پاکستان کے بعد ہمارا اگلا پڑاؤ روزنامہ مشرق تھا. یہاں پر بھی صحافت کی دنیا کے چند اہم نام جگمگا رہے تھے. گو یہ سرکاری سرپرستی میں چلنے والا اخبار تھا لیکن اس میں کام کرنے والے چند نام ایسے تھے جو اپنی بات کہنے کا فن جانتے تھے. ایک اخبار کی انتظامیہ نے جب ہمیں فارغ کیا تو ہم نے فارغ وقت بزرگ صحافیوں کے ساتھ گزارنے کو ترجیح دی. لاہور میں اس وقت پاک چین دوستی کے رشتے کو مضبوط کرنے والے ممتاز احمد خان صاحب کی قربت اور ان کی مسکراہٹ ہمیں اکثر ان کے پاس لے جاتی. انہوں نے اپنے گھر کے سامنے چائنہ چوک بنوایا. وہ اکثر مجھے قیام پاکستان کے واقعات اس انداز میں بیان کرتے تھے کہ میرے اندر ملک کی خدمت کے لیے جوش اور ولولہ پیدا ہوتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ میں بھی آزادی کی تحریک میں شامل تھا. ممتاز احمد خان کی ہلکی پھلکی گفتگو اور مہمان نوازی پرانی روایات کے عین مطابق تھی. ان کی چائے پلانے کی روایت اعلیٰ ذوق کا نمونہ تھی. لیکن آج کے دور میں ان معمولی باتوں کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا. ایک ایسی ہی ملاقات میں انہوں نے مجھے خود ہی پوچھا کہ آج کل کون سے اخبار میں ہو تو میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی کہہ دیا کہ میں تو آج کل فارغ ہوں. ممتاز احمد خان پریشان بھی ہوئے اور اپنی دل کو موہ لینے والی مسکراہٹ میں ناراضی کا اظہار بھی کر دیا. لیکن ساتھ فون پکڑ کر روزنامہ مشرق کے چیف ایڈیٹر اقبال زبیری صاحب کو فون کر دیا اور کہا جاؤ جا کر کام شروع کرو.
جب میں اقبال زبیری کے آفس گیا تو انہوں نے مجھے فوری طور پر انچارج فورم مقرر کر دیا. ان دنوں اخبار کی حالت کافی خراب تھی اور قریب تھا کہ اخبار سرکاری سر پرستی میں ہی بند ہوجاتا. ان حالات کی وجہ سے کسی نئے شعبے کی تشکیل ناممکن تھی. چیف ایڈیٹر نے تمام سٹاف کو حکم صادر کیا کہ مشرق فورم میرے کمرے میں ہو گا اور مہمانوں کی تواضع کا خاص خیال رکھا جائے گا. بس ہمیں اجازت ملنے کی دیر تھی کہ ہم روزانہ چار بجے کے بعد چیف ایڈیٹر کے کمرے میں براجمان ہو جاتے تھے. اخبار کے حالات خراب ہونے کی وجہ اور دیگر وجوہات کی بنا پر اقبال زبیری علیل ہو گئے. دل کے عارضہ نے ان کو گھر بیٹھنے پر مجبور کر دیا اور پھر ان سے ملاقات ان کے گھر فیصل ٹاؤن رہتی. پھر اقبال زبیری کی صحت اور اخبار کی بندش نے ہماری امیدوں کو ایسے غوطے دیے کہ سنبھل نہ پائے. اس تحریر کا مقصد صرف اتنا ہے کہ دوسروں کو وقت کا ہیرو بنانے والے گمنام کیوں ہو گئے. وہ بھی اپنے وقت کے ہیرو تھے ان کو بھی عزت احترام کے ساتھ قومی ہیرو قرار دے کر ان کی خدمات کا قومی سطح پر اعتراف کرنا چاہیے کیونکہ یہ لوگ روایات کے امین تھے اور ہمارا قومی ورثہ ہیں۔ (جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments