الوداع بوم بوم آفریدی


azhar Khan

دنیا کے کسی بھی کونے میں کرکٹ میں بہت معمولی دلچسپی لینے والے کسی بھی شخص کے سامنے اگر بوم بوم کہا جائے تو ذرا سی بھی تاخیر کیے بنا فوراََ بولے گا۔ آفریدی پاکستانی لوگ ان کو پیار سے “لالہ” بھی کہتے ہیں، بوم بوم پاکستانی کرکٹ ٹیم میں بطور سپنر باؤلر آئے اور پھر کچھ ہی عرصے بعد دنیا کی تیز ترین سنچری بنا کر پوری دنیا میں مشہور ہو گئے۔ اور بوم بوم کا خطاب انہیں2005 میں انڈیا کے خلاف ایک میچ کھیلتے ہوئے ملا جس میں انہوں نے اس وقت دوسری تیز ترین سنچری بنائی اور روی شاستری نے کمنٹری کرتے ہوئے انہیں بوم بوم کا خطاب دیا۔

آفریدی کی سب سے مشہور خاصیت اس کے چھکے ہیں اور وہ اب تک 400 چھکے مار چکے ہیں۔ وہ جیسے ہی بیٹنگ کے لیے گراؤنڈ میں داخل ہوتے ہیں تو لوگوں کے دل کی دھڑکنیں 72 سے 144 پہ پہنچ جاتی ہیں۔ کمنٹیٹرز کے تبصروں میں بھر پور جوش آ جاتا ہے، سٹیڈیم میں بیٹھے لوگ خوشی سے اچھلنا شروع ہو جاتے ہیں اور ٹی وی سکرین پر میچ دیکھتے ہوئے لوگ انتہائی انہماک سے میچ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ پھرجیسے ہی بالر آفریدی کی طرف بھاگنا شروع کرتا ہے ویسے ویسے دل کی دھڑکنیں تیز ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ پورے جسم میں سنسنی سی دوڑ جاتی ہے، رگ و جاں میں خون کی روانی مزید بڑھ جاتی ہے اور لوگوں کی توجہ سکرین سے نہیں ہٹتی۔ کچھ لوگ تو اچانک بیٹھے ہوئے کھڑے ہو کر ٹی وی سکرین کے مزید قریب ہوجاتے ہیں تا کہ کہیں بال ان سے مس نہ ہو جائے۔ جیسے ہی بالر بال پھینکتا ہے اور آفریدی کریز سے باہر آکر پوری قوت کے ساتھ گیند کو ہٹ کر تا ہے تو بال آفریدی کے بلے کو چھوتی ہوئی آسمان کی بلندیوں کی طرف پرواز کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس دوران کچھ لوگ تو ڈر جاتے ہیں کہ کہیں کیچ نہ ہو جائے اورکچھ انتہائی پر جوش ہو کر خوش ہوتے ہیں کہ یہ گراؤنڈ سے باہر ہی جائے گی اور جیسے ہی بال گراؤنڈ سے باہر جاتی ہے تو دیکھنے والے لوگ انتہائی ولولے، جوش اور جذبے کے سا تھ ہنستے ہنستے ایک دوسرے کے ہاتھ پہ ہاتھ مارتے ہیں اور کچھ تو جوش جذبات میں ایک دوسرے کو گلے لگا لیتے ہیں جیسے وہ عید مل رہے ہوں۔

afridi

جب تک آفریدی کریز پر موجود رہے تویہ کیفیت طاری رہتی ہے اور جیسے ہی آفریدی آؤٹ ہوتا ہے تو نہ صرف دھڑکنیں بالکل تھم سی جاتی ہیں بلکہ کچھ لوگوں کو تو ہارٹ اٹیک، یا پھر بلڈ پریشر بھی ہائی یا ڈاؤن ہونے کا خدشہ موجو د ہوتا ہے۔ آفریدی کے آؤٹ ہوتے ہی جہاں سٹیڈیم خالی ہونا شروع ہو جاتے ہیں، وہیں ٹی وی پر میچ دیکھتے ہوئے لوگ بھی ٹی۔وی سکرین سے اٹھ کر اپنے کام کاج میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

کہا جا رہا ہے اس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا پاکستان کا آخری میچ آفریدی کا بھی آخری میچ تھا۔۔ اس کے حوالے سے آفریدی تو وطن واپس آکر ہی اعلان کریں گے۔ پاکستان اس بار آفریدی کی زیر قیادت میں ورلڈ کپ ٹی۔ٹوئنٹی کے فائنل تو دور سیمی فائنل میں بھی نہیں پہنچ سکا اور چار میں سے مسلسل تین میچ ہار گیا۔ پاکستانی قوم اگر کبھی بالکل یکجا ہوتی ہے تو وہ انڈیا، پاکستان کے میچ میں ہوتی ہے۔ اس میچ میں بھی ٹیم پرفارم نہیں کر سکی اور مجموعی طور پر بھی صورتحال مایوس کن رہی۔ لیکن ساری قوم کی امیدیں اور توقعات آفریدی سے ہی وابستہ تھیں۔ اس لیے لوگوں کا ردعمل، غم و غصہ بالکل فطری ہے اور ان کے آفریدی سے شکوے بھی بجا ہیں۔

لیکن کیا صرف آفریدی ہی تمام میچز ہارنے کے ذمہ دار ہیں اور باقی دس کھلاڑی اس حوالے سے معصوم ہیں یا وہ وہاں پر سیر کرنے اور سیلفیاں بنانے گئے تھے؟ کسی بھی میچ جیتنے کے لیے پوری ٹیم کا رول انتہائی اہم ہوتا ہے۔ لیکن ٹیم میں گروہ بندیاں اور اختلافات نمایاں نظر آئے۔ پھر پاکستانی کرکٹ ٹیم جب سے ایک مشہور سیاسی شخصیت کے زیر سرپرستی آئی ہے تب سے ٹیم میں سیاست ہی سیاست ہے۔ آفریدی کے جانے کے بعد ایک بات تو یقینی ہے کہ لوگ اس چاہ کے ساتھ میچز نہیں دیکھیں گے جیسے آفریدی کی موجودگی میں دیکھا کرتے تھے۔ لیکن اگر ہم پاکستانی ٹیم کی بات کریں تو بہت زیادہ تبدیلیوں کی ضرورت ہے، اوپری قیادت بھی اہل لوگوں کو سونپی جائے اور ٹیم میں بھی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ آفریدی اگر ریٹائر ہو جاتا ہے تو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا بوم بوم کو مس کرے گی کیونکہ دنیا میں کھلاڑی تو بہت آئے اور گئے لیکن بوم بوم صرف ایک ہی آیا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments