زینب کا قاتل گرفتار لیکن سوال باقی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔


کل خود کو خادم اعلیٰ کہنے والے ارب پتی حکمران اور پنجاب کے بلا شرکت غیرے شہنشاہ (جنہیں میں رئیس اعلیٰ کہتا ہوں) نے اپنے وزراء اور دیگر درباریوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی
مدعا یہ تھا کہ ننھی بچی جس پر ایسا ظلم عظیم کیا گیا جو کوئی کسی جانور پر بھی نہ کرے، جس کے جسم کو نوچا گیا تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کا قاتل 14 روز کی کوششوں کے بعد گرفتار کر لیا گیا
مجھے اس پریس کانفرنس میں زینب کے بدقسمت والد کے ساتھ شہباز شریف کے سلوک، قہقوں، تالیوں یا مبارکبادوں پر ایک لفظ نہیں لکھنا کیونکہ کل سے دل ٹوٹا ہوا ہے جب سے یہ مناظر دیکھے ہیں
رئیس اعلیٰ نے شاباشیاں دی اور مبارکبادیاں سمیٹیں لیکن میرے ذہن میں کچھ سوالات ہیں، جن کے جواب ابھی تک نہیں ملے

1) زینب کے قاتل کے بیان کے مطابق وہ زینب کو ایک زیر تعمیر عمارت میں لے گیا زیادتی کا نشانہ بنایا اور مار دیا، کیونکہ اس کے پاس کوئی جگہ نہ تھی، مان لیا لیکن زبان پر تشدد اور کلائی کیسے کاٹی گئیں جب کسی انسان کے پاس جگہ نہ ہو وہ تو جلدی میں ہوتا ہے اور پکڑے جانے کا خوف بھی ہوتا ہے تو پھر یہ کیسا شخص تھا کہ جو زیادتی کے بعد وہاں بیٹھ کر کلائیاں کاٹتا رہا، قتل کرنے کے بعد تشدد کرتا رہا، سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے

2) زینب کا اغواء 4 تاریخ کو ہوتا ہے لاش کئی دن بعد میں ملتی ہے اگر اس زیرتعمیر عمارت میں ہی ظلم کا نشانہ بنایا گیا تو قاتل کو لاش کوڑے کے ڈھیر پر کیوں پھینکنی پڑی
3) جب پولیس کو رپورٹ ہو چکی تھی تو کیا قاتل پاگل تھا کہ وقعے کی 5 روز بعد زینب کو زیر تعمیر عمارت سے اٹھا کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک گیا

4) پولیس کے مطابق یہ شخص ہی باقی بچیوں کا بھی قاتل ہے تو اسے پہلے قصور پولیس نے ایک بچی سے زیادتی اور قتل کے جس مجرم کو پولیس مقابلے میں مارا تھا وہ کون تھا
5) اگر قاتل ایک ہی تھا اور پہلے سے زیادتی اور قتل ہونے والی بچیوں کا ڈی این اے کرا لیا گیا تھا تو یہ قاتل اس وقت کس طرح بچ گیا

6) آج کل کی بات کروں تو جب کوئی مرد جنسی عمل کرتا اور ذرا سٹریس میں کرتا ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ 2 سے 4 منٹ میں ڈسچارج ہو جاتا ہے، اور مرد کی فطرت ہے کہ جب وہ ڈسچارج ہوتا ہے تو پھر اگلے آدھے گھنٹے تک دوبارہ عمل کرنے کا دل نہیں کرتا، اگر اس نے کوئی قوت بخش دوا نہ لے رکھی ہو، اغواء اور زیادتی کیس میں تو ملزم زیادتی کرتے ہی جائے واقعہ سے فرار ہوجاتا ہے جب کہ زینب سے بار بار زیادتی کی گئی ہے، جو ایک شخص کا کام نہیں اور جس انداز میں نوچ کر اور تشدد کر کے جنسی تسکین لی گئی وہ اور جانب اشارہ کرتا ہے

7) زینب کا پوسٹمارٹم کرنے والی لیڈی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ بچی پر بہت ظلم کیا گیا اور جب پوسٹمارٹم کر رہی تھی تو ایک دھچکا لگا، بعد میں بھی وہ وقت بھولتا نہیں اس طرح کا ظلم کچھ منٹوں میں نہیں کیا جس سکتا منظم انداز میں اور کسی ایسی جگہ کیا جا سکتا ہے جہاں ملزموں کو مکمل تحفظ حاصل ہو
8) زینب اغوا سے لے کر لاش ملنے تک 5 دن کہاں پر رہی

9) زینب کے جسم پر تشدد جس انداز میں کیا گیا کیا وہ ایک شخص کا کام لگ رہا ہے
10) زینب کو لے جانے والے شخص کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور گرفتار ملزم کی جسمانی ہیت اور چہرے کی ساخت میں نمایاں طور پر فرق ہے

یہ تو چند سوال ہیں لیکن اس کے علاوہ درجنوں سوال ہیں کہ جن کے جواب باقی ہیں، جن کو رئیس اعلیٰ قہقوں میں اڑا گئے اور مظلوم باپ کا مائیک بند کر دیا گیا رانا ثناءاللہ نے باپ کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ کوئی ڈیمانڈ میڈیا کے سامنے نہ رکھنا

یہ ملزم ایک نہیں یہ ایک پورا ریکٹ ہے جسے بادی النظر میں بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے
یہ شخص بہت بھی ہو تو محض ایک چھوٹا سا سہولتکار ہو سکتا ہے، کیا ن لیگ کی سرکار ایک بار پھر اصل مجرموں کو اسی طرح بچانا چاہتی ہے کہ جس انداز میں قصور کے بچوں سے زیادتی کے ملزموں کو بچا لیا گیا تھا
جو ن لیگ کے اہم رہنماء اور مقامی منتخب اراکین اسمبلی تھے
سید عون شیرازی


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).