دہشت گرد فلمسٹار میرا کے فین ہیں


hashir

جنگ جاری ہے لیکن یہ کہنا اور سمجھنا کہ صرف اگلی صفوں کے جوان، سروں پر کفن باندھے سپاہی اور عوام ہی قربانی کی مثالیں رقم کر رہے ہیں ، ذرا زیادتی ہے۔ ہمارے اعلی حکومتی عہدیدار ، اسٹیبلشمنٹ کے سرخیل اور پالیسی ساز رہنما بھی برابر کا حصہ ڈال رہے ہیں مگر کوئی ان کی تعریف نہیں کرتا ۔ اس مختصر مضمون میں میں نے پچھلے دس سال کے اس جامع منصوبے کا تحقیقاتی جائزہ لینے کی کوشش کی ہے جس کی بدولت آج ہم ’کامیابی‘ کی دہلیز پر کھڑے ہیں ۔ دس سال اس لیے کہ اس میں مشرف سے لے کر پرویز خٹک تک سب کا حصہ رہا ہے۔ مسلم لیگ ا ب پ ج ن ق سے لے کر ایم ایم اے ، پیپلز پارٹی ، اے این پی، تحریک انصاف، ہماری ایجنسیاں اور اعلی سول اور نان سول قیادت تک سب اس دہشت گردی کے عفریت سے حتی المقدور لڑتے رہے ہیں ۔ پر قوم نے انہیں وہ کریڈٹ نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے ۔ اب یہ کیا بات ہوئی کہ بس کیپٹن شعبان یا کرنل ہارون یا اعتزاز جیسوں کی ہی بات کی جائے ۔

اس تجزیے میں آپ کو سستے جذبات نہیں بلکہ حقائق اور ٹھوس اعدادوشمار دکھائی دیں گے ۔ مضمون کا عنوان کیوں برمحل ہے یہ عقدہ بھی تجزیے میں کھلے گا ۔ ٹھنڈے دل سے تمام گزارشات پڑھنے کے بعد امید ہے کہ آپ اپنے رہنماؤں کی لگن اور جذبے کی تحسین کرنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیں گے ۔

تجزیہ پیش خدمت ہے۔ پچھلے دس سال میں دیکھیے کیا کیا نہیں کیا گیا ۔۔۔۔۔۔
۔* صدور ،وزراء اعظم ، وزرائے اعلی اور وزراء داخلہ نے 1678 دفعہ دہشت گردی کے واقعات کا نوٹس لیا
۔* صدور، وزراء اعظم ، وزرائے اعلی اور وزراء داخلہ نے 782 دفعہ دہشت گردی کے واقعات کا سخت نوٹس لیا
۔* فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں نے 321 دفعہ مختلف واقعات میں دہشت گردوں کی کمر توڑی۔ اتنی دفعہ کمر ٹوٹنے کے باوجود دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو اس صدی کا سب سے بڑا طبی معجزہ قرار دیا گیا ہے ۔ جلد ہی اس ضمن میں کچھ پی ایچ ڈی ریسرچ پیپر شائع ہونے کی توقع ہے
۔* آئی ایس پی آر کی پریس ریلیزز، ٹویٹر اور فیس بک پر دہشت گردوں کے 12300 ٹھکانے تباہ کر دئے گئے۔ جو ٹھکانے بچ گئے ہیں انہیں جلد ہی انسٹا گرام پر برباد کر دیا جائے گا
۔* حکومتی عہدیداروں نے 658 دفعہ چین سے نہ بیٹھنے کا فیصلہ کیا تاہم چین سے لیٹنے کے بارے میں کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ قائم علی شاہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اعلامیوں میں احتیاط برتی گئی
۔* اعلی عہدیداروں نے 543 دفعہ خون کے آخری قطرہ بہنے تک لڑنے کا عزم کیا ۔ تاہم اس بات کی توضیح نہیں دی گئی کہ کس کے خون کا آخری قطرہ۔ عوام میں اس حوالے سے بلاوجہ کا شک دیکھنے میں آیا۔
۔* ملک کے طول وعرض میں 27600 نئے ناکے بنائے گئے ۔ ان 27600 نئے ناکوں کے لئے 55200 نئے اسپیڈ بریکر بھی بنائے گئے۔ ناکوں کی تعداد میں ترقی سے جی ڈی پی پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئے تاہم دہشت گردون نے اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا اور وہ متبادل راستے استعمال کرتے رہے۔
۔* آڈیٹر جنرل نے پچاسی کھرب انیس ارب چھیاسی کروڑ تین لاکھ سات ہزار دو سو آٹھ خون کے قطروں کا حساب مکمل کر کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو پیش کیا ۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس پر اعتراضات کے بارہ پیروں پر بحث مکمل کر لی ۔ باقی بحث ابھی جاری ہے
۔* دہشت گردوں کے سر کو چھپانے والی 18453 پناہ گاہیں ڈھونڈ لی گئیں تاہم قومی سلامتی کے ہیش نظر ان کا ریکارڈ پبلک نہیں کیا گیا ۔ کچھ عہدیداروں نے ان پناہ گاہوں کو فارن آفس کے حوالے کرنے کی سمری تیار کر لی ہے تاکہ وہ اسے بیگمات کو اور بیگمات اسے نجی اسکولوں کے حوالے کر سکیں ۔ اس سے ملک میں تعلیمی انقلاب برپا ہونے کی شنید ہے۔
۔* اسی دوران پاکستان اسٹیل مل میں آہنی ہاتھوں اور فولادی سانچوں کی پروڈکشن میں 300 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔
۔* ملک کی سرزمین سرکاری درزیوں کی مدد سےدہشت گردوں پر 45 دفعہ تنگ کی گئی تاہم دہشت گرد ڈائٹنگ کر کے سمارٹ ہو گئے ہیں اور اس کے باعث سرزمین پھر کھلی ہو گئی ہے۔ جلد ہی اس کی مزید ترپائی کر دی جائے گی
۔* دہشت گردی کے ناسوروں کو144 دفعہ کاٹ کر پھینکا گیا ۔ تاہم کاٹتے وقت جراحوں کی ناتجربہ کاری کے باعث اکثر اوقات صحتمند اعضاء کی قطع برید ہو گئی۔ آئندہ اس ضمن میں احتیاط برتے جانے کی توقع ہے
۔* 11 دفعہ بیڈ طالبان کو گڈ طالبان بنایا گیا ۔ پھر سات دفعہ ان گڈ طالبان میں سے چھ دھڑوں کو بیڈ طالبان بنا دیا گیا۔ اس کے بعد آٹھ دفعہ ان میں سے دو دھڑوں کو اور پچھلی دفعہ بچ جانے والے پانچ میں سے تین دھڑوں کو گڈ طالبان بنایا گیا ۔ پھر گڈ طالبان کو دو دفعہ بیڈ طالبان کے مربعے سے ضرب دے کر پنجابی طالبان پر تقسیم کر دیا گیا اور حاصل تقسیم کا جزر نکال کر انہیں چاروں صوبوں میں برابر بانٹ دیا گیا
۔* دہشت گردوں کو مختلف حکومتوں نے اس دوران 241 دفعہ ’جان اور مال سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہے ’ کا پیغام بذریعہ میڈیا پہنچایا تاہم ایک تو دہشت گردوں نے ابن انشاء کو نہیں پڑھا تھا دوسرے قبائلی علاقوں میں کیبل کی کوالٹی اچھی نہیں ہے اس لئے وہ اسے ’ جان اور مال سے کھیلنے کی اجازت ہے ’ سمجھے۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگلی دفعہ دہشت گرد پہلے ڈپٹی کمشنر علاقہ سے تحریری اجازت لے کر ہی کارروائی کریں گے ۔
۔* دہشت گردوں کو 1378 دفعہ بذریعہ اخبارات مطلع کیا گیا کہ وہ مسلمان اور پاکستانی نہیں ہیں تاہم دہشت گردوں نے ’same to you‘ کہہ کر بات ختم کر دی ۔ ہمیں یقین تو نہیں آتا لیکن لگتا ہے وہ بھی میرا بی بی کے فین ہیں۔ ورنہ ’same to you‘ ایسی جگہ بنتا نہیں ہے
۔* اس بات کا اعادہ 2134 دفعہ کیا گیا کہ اب یہ کارروائیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ اور اگر دوبارہ ایسی کارروائی ہوئی تو پہلے سے بھی زیادہ سخت بیان جاری کر دیا جائے گا اور اگر پھر بھی باز نہ آئے تو وزیر اعظم ایک گھنٹہ ٹی وی پر خطاب کر ڈالیں گے۔ اس آخری الٹی میٹم کے پورا ہونے کے بعد دہشت گردوں پر اب خاطر خواہ اثر ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
۔* یہ اعلان کہ ’تشدد کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا‘ 657 دفعہ دہرایا گیا ۔ اس سے مالی لین دین کے سارے راستے بند ہو گئے۔ اور بم دھماکوں کی تمام کارروائیوں میں کسی دہشت گرد نے کسی مالی پیشکش کی جرات نہیں کی۔ تمام خود کش یا ریموٹ حملے بالکل مفت کئے گئے
۔* 5432 دفعہ یہ بات دہشت گردوں کو بتائی گئی کہ ہمارے تحمل اور صبر کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ تاہم دہشت گرد انتہائی کوڑھ مغز ہونے کی وجہ سے یہ رٹ نہیں پائے۔ آخری خبریں آنے تک وہ اسے ہماری کمزوری ہی سمجھ رہے ہیں ۔ چلو کوئی نہیں ہم دشمن کے بچوں کو پڑھاتے وقت ٹھیک کروا دیں گے۔

تجزیہ ختم ہوا ۔ ہن دسو۔۔۔۔۔۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

One thought on “دہشت گرد فلمسٹار میرا کے فین ہیں

  • 30-03-2016 at 12:38 pm
    Permalink

    اچھا طنزیہ پیرایہ میں لکھا ہوا اظہاریہ ہے لیکن میں اسے سنجیدگی سے لینے سے انکار کرتا ہوں 🙂

Comments are closed.