مغوی


mubashir zaidi

ایک صبح میں بیدار ہوا تو خدا غائب تھا

یہ بے حد تشویش کی بات تھی

مجھے اس کی تلاش میں نکلنا پڑا

بستی میں اس کا نشان نہیں ملا

میں نے ایک کھوجی سے رابطہ کیا

اس نے کُھرا دیکھ کر بتایا

خدا کو بردہ فروشوں نے اغوا کرلیا ہے

میں نے پولیس سے رابطہ کیا

تھانے دار نے خدا کی رپورٹ درج کرنے سے انکار کردیا

میں عدالت میں پیش ہوا

قاضی نے خدا کا مقدمہ سننے سے انکار کردیا

میں نے دربار میں حاضری دی

حاکم نے خدا کا ذکر سننے سے انکار کردیا

چل چل کر میں راستہ بھول گیا

بھٹکتے بھٹکتے ایک بیگار کیمپ جاپہنچا

وہاں رنگ برنگی ٹوپیوں والے اغواکاروں کی محفل جمی تھی

خدا بھی موجود تھا

اس کے پیروں میں بیڑیاں پڑی تھیں

لیکن ہاتھ کھلے ہوئے تھے

جن سے وہ

اغواکاروں کے مطالبے پر

جنت کے باغوں اور جہنم کے تندوروں کے مالکانہ حقوق کی فائلوں پر

بے تکان دستخط کیے جارہا تھا


Comments

FB Login Required - comments

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 51 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

6 thoughts on “مغوی

  • 30-03-2016 at 8:26 am
    Permalink

    شاندار

  • 30-03-2016 at 9:05 am
    Permalink

    Brilliantly told

  • 30-03-2016 at 2:57 pm
    Permalink

    افسانوں کو واقعی سو لفظی کرنے کے بعد یہ فن پارہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسے ناول کو بھی اسی طرح کے فارمیٹ میں پیش کردیا گیا ہے، مبشر زیدی سے بعید نہیں کہ وہ ناول کو دوسو لفظی کردے‘ یہ ایک بہترین ناول ہے

  • 30-03-2016 at 11:24 pm
    Permalink

    کمال!!

  • 31-03-2016 at 10:50 am
    Permalink

    Sounds like “PK”

  • Pingback: مغوی

Comments are closed.