ربا تیری جنت پچھے، دنیا دوزخ ہوگئی اے


الماس حیدر نقوی

Almas---Picture

ہمارے پرانے دوست ناول نگار اور شاعر علی اکبر ناطق نے ایک سماجی ویب سائٹ پر اکتائے ہوئے لہجےلکھا کہ میری گورنمنٹ سے استدعا ہے، ڈی چوک میں شریعت نافذ کر دی جائے تاکہ جلد ہمارے فون کے رابطے بحال ہوں۔ میں نے تو آج کسی سے بیس ہزارلینا تھا، اس شریعت کے رولے میں وہ بھی رہ گیا۔۔۔ میرے خیال میں حکومت کو ناطق کا مطالبہ مان لینا چاہیے، بیس ہزار سے نہ جانے کیا کیا مسائل حل ہوسکتے تھے اور بھلا شریعت سے کیا اختلاف؟ اگر شریعت کے نفاذ سے موبائل فون سروس بحال ہو سکتی ہے تو یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے کیونکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کی شدت کہیں زیادہ ہے۔ سانحہ گلشن اقبال اور قادری کے متوالوں کا پارلیمنٹ پر لشکر کشی کے بعد سے پیدا ہونی والی صورتحال سے متعلق سماجی ویب سائٹ پر انتہائی دلچسپ خیال آرائی ہوئی، منتخب خیالات پیش خدمت ہیں۔

دانشور و مصنف اشفاق سلیم مرزا نے لکھا “مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں”۔ کالم نگار حسن نثار کے آفیشل فیس بک پر آویزاں پوسٹ نے کمال ہی کر دیا۔ انہوں نے کالے قول میں فرمایا کہ خود کش بمبار کو بتائو کہ اسلام میں خود کشی خنزیر کی طرح حرام ہے۔

ایک مدرسے سے فارغ الحصیل مولانا امجد مفتی نے لکھا، “مذہب کے کھاتے میں نئے قتل، توڑ پھوڑ اور جلاؤ، گھیراؤ کا اضافہ۔

اسلام آباد میں سندھی صحافی رزاق کھٹی نے کہا ہے کہ، “شاباش وزیراعظم! سانحہ لاہور پر ایک بیان مذمتی اور ایک بیان مودی کے فون کا، باقی کیا ہوا کچھ پتہ نہیں، اسلام آباد کا ریڈ زون ۔۔۔یرغمال ہونے کے بعد جل رہا ہے۔ وزیراعظم مکمل خاموش۔ لیکن آرمی چیف نے لاہور اور اسلام آباد کے واقعات پر اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ !!”۔

محقق، مصنف اور قومی ہم آہنگی کیلئے کام کرنے والے کارکن محمد حسین نے لکھا. ”سماجی زندگی میں عقائد و عبادات نہیں بلکہ اخلاق و کردار طے کرے گا کہ کون نیک ہے اور کون برا۔ لہٰذا سماجی اخلاقیات سے عاری ہو کر اپنے پختہ عقائد اور کثرت عبادات کی بنیاد پر کوئی یہ توقع نہ رکھے کہ اسے سماج میں سند اعتبار حاصل ہو گا۔ ”۔

ٹی وی رپوٹر رپورٹر ضیغم نقوی نے اپنی وال پر یہ شعر آویزاں کیا۔

”جانے کب کون کسے ماردے کافر کہہ کر

 شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتاھے”۔

شاعر و صحافی حمید قیصر نے موقف اختیار کیا کہ اگر پاکستان کے حقیقی مسائل کے تناظر میں دیکھیں تو یہی مائنڈ سیٹ فساد کی جڑ ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اگر طالبان اور اسلام آباد ڈی چوک پر اس وقت دھرنا دینے والوں کا ایجنڈا ایک نہ ہوتا تو لاہور سانحہ پر یہ اپنا پروگرام ختم کر دیتے مگر ایسا نہیں ہوا۔ ان شر پسندوں کا دھرنا جاری ہے۔

سینئر صحافی وسعت اللہ خان نے لکھا جو آخری آدمی ہلاک ہونے سے بچ جائے گا وہی اچھا سچا مسلمان ہوگا۔ کم ازکم ایسا مسلمان جو کسی اور کے ایمان پر انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔

ٹی وی رپورٹرز بشیر چوہدری نے نامعلوم شاعر کے دو اشعار لکھ کر غمزدہ کر دیا؛

بدن موجود لیکن سر نہیں ہے

یہاں اب کوئی بھی رہبر نہیں ہے

اٹھانے پڑ رہے ہیں وہ جنازے

کسی کا سر، کسی کا دھڑ نہیں ہے

ایک پرانے اردو اخبار کیلئے کالم لکھنے والی نازیہ مصطفیٰ نے یہ الفاظ آویزاں کئے۔

“حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف کوئی بھی فیصلہ لینے کے لئے معصوم لوگوں کے خون کی ضرورت کیوں ہو تی ہے؟ جیسا کہ سانحہ پشاور کے بعد نیشنل ایکشن پلان۔”

ضیغم خان سماجی کارکن کا تبصرہ ملاحظہ ہو کہنے لگے “ان سے ملئے! یہ ہیں ہمارے میٹھے میٹھے مدنی بھائی۔ اگر ہمارا میٹھا آپ کو تھو تھو کرنے پر مجبور کردیتا ہے تو ذرا سوچیئے ہمارا کڑوا کیسا ہوگا۔”

محقق اور دانشور غنی جعفر نے ایک پنجابی شعر پیش کیا ہے؛،

رباتیری جنت پچھے

دنیا دوزخ ہوگئی اے

ایک اور ٹی وی رپورٹر کا کہنا تھا کہ “فہیم ملک کی پٹاری سے چند افراد ہی گرے، کہنے لگے سب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، ریاست، بھی ملا بھی میں بھی اور تم بھی۔”

اسد پراچہ کا کہنا تھا کہ”بچپن میں پڑھتے تھے کہ دیوتا جب تک انسانوں کا خون نہیں پیتا اسے سکون نہیں ملتا، اب آ کے پتا چلا کہ اس سے مراد پاکستانی قوم تھی”۔

علیم خان، “وفاقی دارلحکومت میں لاقانونیت عروج پر تو صوبائی دارلحکومت میں قیامت کا سماں حکومت کہاں ہے ؟”

ایک صحافی نے اپنے پیغام میں لکھا، “اسلام آباد میں امن و امان قائم رکھنےمیں ناکام وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جڑواں شہروں میں تلاش جاری۔

ان دنوں جون ایلیا کا یہ شعر بھی خوب گردش میں ہے،

”اب نہیں کوئی بات خطرے کی

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے۔

عامر جلیل بوبرا نے لکھا

“کروں کس طرح بیاں میں، جو الم گذر رہے ہیں

میرے شہر جل رہے ہیں، میرے بچّے مر رہے ہیں”

صحافی عبد الستار چوہدری نے لکھا،”ریڈ زون میں دھرنا پارٹ ٹو جاری۔ گو نواز گو کے نعرے۔ چودھری نثار حسب توقع اپنی ناک سمیت غائب۔

رپورٹر احمد نواز خان نے لکھا لبیک یا رسول اللہ ریلی نے میڈیا کو بھی نہ بخشا، نیوز ون سمیت دیگر میڈیا ہاوسز کا مظاہرین نےگھیراو کیے رکھا، حکومت کی طرف سے کوئی سیکورٹی دیکھنے میں نہیں آئی”۔

ایک اور صاحب نے یہ الفاظ آویزاں کئے کہ “پارلیمنٹ ہاؤس پر ایک اور لشکر کے قبضے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، “قادری پھانسی چڑھیاں28  دن ہوئے نیں چالیسواں کتھوں آگیا. ایہہ خبر تے دیو کس چالیسویں دا پلان 28 دناں بعد منان پلان بنایا اے”۔

“قادری کو پھانسی چڑھے 28 دن ہوئے ہیں تو یہ چالیسواں کیسے آگیا؟ یہ پتہ چلایا جائے کہ 28 دنوں کے بعد چالیسویں کا پلان کس نے بنایا؟


Comments

FB Login Required - comments