سرکس، دہشت گردی اور ناکام ریاست


khurram niazi

انسانی بستی کے بیچوں بیچ جانوروں کے باڑے بنا کر یہ بتایا گیا تھا کہ یہ جگہ عالمی میلہ مویشیاں کے لیے تیار کی جارہی ہے۔ اس میلہ میں ایسی چولستانی گائے ہیں جو لان کے اشتہارات میں آنے والی لڑکیوں کی طرح چلتی ہیں اور جیسے وہ اپنے دوپٹوں کو پنکھے کی طرح گول گول گھماتی ہیں یہ گائے بھی یہی منظر پیش کرتی ہیں لیکن اپنی دُموں سے۔ چترال کے برق رفتار مار خور بکرے ہیں جو پچھلی ٹانگوں پر کھڑے ہو کرتالیاں بجاتے ہیں وہ بھی سُموں سے۔ سب سے زیادہ ذکر ان دہری چَکّی والے خراسانی دنبوں کا ہوا جنہیں بلوچستان سے منگوایا گیا تھا اور جو عربی موسیقی پر ایسا البیلا رقص کرتے ہیں کہ آپ مصر اور لبنان کی بیلی رقاصاؤں کو بھلا دیں۔ بتایا گیا کہ میلہ مویشیاں میں پڑوسی ممالک کے باشندوں کا دل جیتنے کے بعد یہ سِدھے سِدھائے جانور برآمد بھی کیے جاسکیں گے اور باہر کے جانوروں کو سرکس کی تربیت کے اسکول بھی بنائے جاسکیں گے۔ لوگوں کو ان باڑوں سے کچھ وحشی جانوروں کے غرّانے کی آوازیں آئیں تو کہا گیا کہ گھبرانے کی بات نہیں آپ نے سڑکوں پر تماشہ دکھانے والے وہ ریچھ نہیں دیکھے جن کے جبڑے میں بچہ اپنی گردن بھی رکھ لیتا ہے لیکن وہ کچھ نہیں کرتے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کرتب دکھانے والے یہ جانور کیا صرف ہم ہی پالتے ہیں؟؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ جانور سب پالتے رہے ہیں۔ امریکہ نے 1985ء میں اپنے دشمن ایران کو چھپ کر اسلحہ فروخت کیا تھا تاکہ اس رقم سے نکارا گوا کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف لڑنے والے کونٹرا باغیوں کی مدد کی جا سکے۔ اب آج جن جانوروں نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں آگ و خون کا بازار گرم کیا ہوا ہے ان کو کسی نے تو آب و دانہ دیا ہوگا! اس طرح کے کوئی دس ہزار پلے پلائے جانور 1980ء کی ابتداء میں افغانستان پہنچائے گئے تھے تاکہ سوویت یونین کا مقابلہ کرسکیں۔ خود سوویت یونین نے ایسے بہت سے جانور پالے تھے اور آج بھی یوکرین کے میلہ مویشیاں میں کچھ اپنے کرتب دکھا رہے ہیں۔ بھارت نے بھی ایسے جانور سری لنکا کے مقابلۂ حیوانات کے لیے پالے تھے۔ اور ان کو انسانی بستیوں کے ویسے ہی قریب رکھا تھا جیسے آج ہم نے رکھا ہے اور ان کی سرپرستی بھی ہمارے ہی انداز میں کی۔ تامل ٹائیگرز کے سب سے بڑے رہنما پربھاکرن نے مدراس (چنائے) میں دن دھاڑے اپنے سیاسی مخالف پر گولیاں برسائیں، گرفتار ہوا لیکن فوراً ہی اسے چھوڑ دیا گیا۔ پھر جب بھارت نے کرتب کے ان جانوروں کا چارہ کم کرنے کا ارادہ کیا تو یہ جانور پلٹ کر اسی پر حملہ آور ہو گئے اور خود پربھاکرن کے حکم پر راجیو گاندھی کو خودکش حملے میں مار ڈالا گیا۔  بس اسی دن بھارتی ریاست نے طے کرلیا کہ یہ جانور وحشی اور آدم خور ہو چکے ہیں۔ چنانچہ بھارت نے سری لنکا کی کتا مار مہم میں شرکت کا اعلان کر دیا اور چند برس میں یہ مسئلہ حل ہو گیا۔

پاکستان ایسا کیوں نہیں کر پا رہا اس کا تعلق “ناکام ریاست” کے تصور سے ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ یہ اصطلاح سن کر آپ میں سے بہت سوں کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے، سانس چڑھ جاتا ہے اور چہرہ لال ہو جاتا ہے۔ پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ ریاست کا مطلب ملک، قوم یا ایک جغرافیائی خطّہ نہیں ہوتا۔ ریاست کا مطلب اس تنظیم سے ہوتا ہے جس کا کام امن و امان، نظم و نسق سنبھالنا، قانون سازی کرنا اور ان قوانین پر بزورِ طاقت عمل درآمد کروانا ہوتا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جو طبقاتی ہو یعنی جس میں امیر اور غریب طبقات موجود ہوں وہ ریاست بالا دست طبقات کے مفادات کی حفاظت کرتی ہے۔ پاکستانی ریاست کا ارتقاء برطانوی راج کے خاتمے کے بعد نو آبادیاتی ریاست کے طور ہوا تھا۔ سات سمندر پار سے آئے صرف 30 ہزار گورے جو فوج، بیوروکریسی اور عدلیہ میں تھے چالیس کروڑ ہندوستانیوں پر حکمرانی کیا کرتے تھے۔ 1947ء میں پاکستانی ریاست کے پاس یہ دونوں ادارے یعنی سول سروس اور فوج آ گئے۔ ابتداََ بیوروکریسی زیادہ مضبوط تھی لہٰذا شروع کے برسوں میں سیاسی حکومتوں کی برطرفی میں بیوروکریٹ پیش پیش رہے۔ لیکن جیسے جیسے پاکستان امریکہ کے ساتھ فوجی معاہدوں میں شریک ہوتا گیا فوج طاقتور ہوتی گئی۔ سیاسی جماعتوں کی کمزوری کا اصل سبب ان کا طبقاتی کردار تھا۔ ایک طرف جاگیردار تھے جن کو کبھی نہیں چھیڑا گیا دوسری طرف وہ سرمایہ دار تھے جن کی تخلیق خود سرکاری قرضے دے کر کی گئی تھی۔ چنانچہ سیاست یا جمہوریت کبھی ان کا مسئلہ نہیں رہا۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں ان کی بے حسی، بے عملی اور غیر سنجیدگی ان کا طبقاتی رویہ ہے۔ بیوروکریسی کو کمزور کرنے کے لیے ایوب خان، یحییٰ خان اور بھٹو ادوار میں سینکڑوں افسروں کو بیک جنبشِ قلم فارغ کیا گیا۔ اس عمل سے فوج کو تقویت ضرور ملی لیکن ریاست کمزور ہوئی۔

پاکستانی ریاست کسی بڑے واقعہ پر کیسا ردِ عمل دکھاتی ہے اس کی جھلک ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ میں نظر آتی ہے جو اسامہ بن لادن کے  کمپاؤنڈ پر امریکی حملہ پر قائم کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کے سپاہی سے لے کر آئی جی تک نے “فرض” کرلیا کہ کیونکہ فوجی موقعۂ واردات پر آچکے ہیں لہٰذا معاملہ ان کے دائرۂ کار سے باہر ہے۔ کوئی سرکاری ملازم اس سوال کا تشفی بخش جواب نہیں دے سکا کہ امن و امان کی ذمہ دار فوج ہے یا شہری انتظامیہ؟؟ دنیا کی ناکام ہوتی ریاستوں میں پاکستان کو عراق، افغانستان اور شام کے ہم مقام گنا جاتا ہے۔

پاکستانی ریاست کو بچانے کے لئے ریاست پاکستان کے مقاصد کو از سرِ نو طے کرنا ہوگا۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک کے دفاع میں صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ہر شہری برابر کا حصہ دار ہے۔ اس کے لئے سماجی بہبود کے منصوبوں پر جنگی بنیاد پر کام کرنا ہوگا۔ ترقی یافتہ ریاستوں کی طرح بجٹ میں صحت اور تعلیم کو ان کا جائز مقام دینا ہوگا۔ ایک پیکج دے کر مدرسوں کے تیس لاکھ یرغمالی طلبا کو آزاد کرانا ہوگا۔ تعلیمی نصاب سے تنگ ںظر، انتہا پسند، عورت مخالف، نفرت انگیز اور جنونی مواد کو حذف کرنا ہوگا۔ دیمک کی طرح سماجی ڈھانچہ کو کھوکھلا کرنے والی مذہبی سیاسی جماعتوں کی حدود متعین کرنی ہونگی۔ لفظ ‘اقلیت’ کو ریاستی لغت سے خارج کرنا ہوگا اور ہر شہری کو ایک نظر سے دیکھنا ہوگا۔ خارجہ پالیسی خالصتاََ قومی مفادات پر تشکیل دینی ہوگی۔ امّت کے نام پر ملک کی سرحدوں کی پامالی کو بغاوت قرار دینا ہوگا۔ ہر طرح کی مذہبی اشتعال انگیزی کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔ میڈیا پر چوبیس گھنٹے مذہبی سنسنی خیزی اور ہیجان انگیزی پر پابندی لگانی ہوگی۔ تہواروں، ثقافتی سرگرمیوں، فلم، ڈرامے، مباحثہ اور مکالمے کو سرکاری سرپرستی فراہم کرنی ہوگی۔ تواتر سے ہوتے دلخراش واقعات، خوف اور بے بسی کی فضاء، آئے دن ریاست کو مفلوج ثابت کرتے مناظر اور جواباََ نیم دلانہ، غیر مربوط اور غیر مرکوز ریاستی ردِعمل کے پیشِ نظر فیصلہ کن اور بنیادی تبدیلیوں کے بغیر امیدوں کی شمعیں روشن کرنا قبل از وقت اور خوش خیالی ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments