انسان اور وقت


عبدالوحید

Sheikh_Zayed_Grand_Mosque_2_UAEاللہ رب العالمین نے انسان کو لاتعداد نعمتوں سے نوازا ہے، تا کہ انسان ان سے اپنی زندگی میں استفادہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو آسان طریقے  سے بسر کرے۔ اللہ رب العالمین  کی لاتعداد نعمتیں ہیں جن کو انسان شمار نہیں کرسکتا اسی بات کی طرف اللہ تعالٰی نے اشارہ فرمایا ہے: ترجمۃ :اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرو تم ان کو شمار نہیں کرسکتے بیشک اللہ بخشنے والارحم کرنے والا ہے۔  (النحل/ 18)

اس آیت میں اللہ رب العالمین نے انسان کو احساس دلایا ہے کہ اس کی نعمتیں لاتعداد ہیں تم ان کو شمار نہیں کرسکتے لہذا جو نعمتیں انسان کو دی گئی ہیں ان کی حفاظت کرنا اس کی ذمہ داری ہے، اسلیے کہ آخرت میں ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: پھر تم سے ہر نعمت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (التکاثر/8)

ان نعمتوں میں  سب سے عظیم نعمت وقت ہے۔ یہ ایک ایسی نعمت ہے جو تمام انسانوں یکساں دی گئی ہے۔ یہ امیر غریب، عالم جاہل، بادشاہ فقیر سب کے پاس برابر ہے۔

بعض علما نے فرمایا ‘‘الوقت ھو الحیاۃ’’ یعنی وقت ہی زندگی ہے۔ قرآن مجید میں وقت کو مختلف اوقات میں تقسیم کیا گیا ہے جس کا ایک بڑا مقصد اہل ایمان کو وقت کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے اوقات کو منصوبہ بندی کے تحت گزارنے کی تعلیم دی ہے۔ اسی طرح اللہ رب العالمین نے جو عبادات فرض کی ہیں انہیں معین وقت میں ادا کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔ ہم صرف ارکان اسلام پر نظر دوڑاتے ہیں۔

نماز۔ پنج وقتہ نمازیں مخصوص اوقات میں فرض کی گئی ہیں۔

اللہ تعالیٰ  نے فرمایا: مؤمنین پر مقررہ وقت میں نماز فرض کی گئی ہیں۔( النساء103)

زکوٰۃ۔ صاحب نصاب پر ایک معین وقت گزرنے کے بعد  زکوٰۃ کی ادائیگی فرض کی گئی ہے۔

روزہ۔ سال میں ایک دفعہ ماہ رمضان کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔

حج۔ حج کا فریضہ بھی ذالحجہ کی 7، 8، 9 تاریخوں میں ادا کیا جاتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے اپنے قول اور عمل کے ذریعے اپنی امت کو وقت کی حفاظت کا درس دیا ہے۔ امام ابو داؤد ؒ جن کی سنن ابو داؤد صحاح ستہ میں شامل ہے، انہوں نے اپنی سنن سے اسلامی زندگی کے دستور کی جامعیت پر بطور نمونہ چار احادیث کا انتخاب کیا ہے۔ ان چار احادیث میں ایک حدیث یہ بھی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا 🙁 مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ۔»

اسی طرح آپ ﷺ نے پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے قبل غنیمت جاننے کی تعلیم دی ہے ان میں سے ایک فراغت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت سمجھنا ہے۔

امام بخاری ؒنے کتاب الرقاق میں اور امام ترمذی نے کتاب الزہد میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ غفلت برتتے ہیں۔ ایک صحت دوسری فراغت۔

علامہ سیوطی ؒ نے جمع الجوامع میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :ہر روز صبح کو جب آفتاب طلوع ہوتا تو اس دن یہ اعلان کرتا ہے، جو نیک عمل کرنے کی استطاعت رکھتا ہے وہ نیک عمل کرلے میں پھر کبھی لوٹ کر نہیں آؤں گا۔

نبی اکرم ﷺکی سیرت سے ہمیں بامقصد زندگی گزارنےکا سبق ملتا ہے۔

اسی طرح اگر ہم صحابہؓ کی زندگی پر نظر دوڑائیں تو وہاں بھی ہمیں اپنے اوقات کے محافظ نظر آئیں گے اور اپنے رب سے اپنے اوقات میں برکت کی دعائیں کرتے ہوئیں نظر آئیں گے۔

حضرت عمرؓ یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ ہم تجھ سے زندگی کے لمحات کی بہتری اور اوقات میں برکت کا سوال کرتے ہیں .

حضرت علی ؓ فرمایا کرتے تھے: یہ ایام تمہاری عمروں کے صحیفے ہیں اچھے اعمال سے ان کو دوام دو۔

حقیقت یہ کہ دنیا مین آج تک بڑے کارنامے انہی شخصیات نے انجام دیئے ہیں جو اپنے وقت کے قدردان تھے۔ علامہ ابن جوزیؒ ابو الوفا عقیل کے بارے میں کہا ہے کہ اللہ کے اس بندے نے اس (80) فنون کے بارے میں کتابیں لکھیں، ان کی ایک کتاب آٹھ سو جلدوں میں ہے اور کہا جاتا ہے کہ دنیا میں لکھی جانے والی کتابوں میں یہ سب سے بڑی کتاب ہے۔ خود علامہ ابن جوزی نے  ؒ اسلامی فنون میں تقریباً ہر فن میں کتابیں لکھیں۔ ان کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ جب ان کی وفات ہوئی تو ان ان کو غسل دینے کے لیے وہ برادہ ہی کافی تھا جوصرف احادیث لکھتے ہوئے قلم تراشنے میں جمو ہوگیا تھا۔

ہمارے اسلاف کی زندگی سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ ہم بھی اپنے وقت کی قدر کریں جب ہم اپنے وقت کی قدر کریں گے۔ اللہ رب العالمین ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیاب کریں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں وقت کا قدر داں بنائے۔ آمین


Comments

FB Login Required - comments