Je Suis Mumtaz Qadri


omair mahmoodمیں ممتاز قادری ہوں

میں جس کی حفاظت کے لیے تنخواہ لیتا ہوں

اسے ہی مار دیتا ہوں

میں اس نبی کو مانتا ہو جو دونوں جہانوں کے لیے رحمت ہے

وہ نبی جس نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی

وہ نبی جو معاف کر دیتا ہے

لیکن میں کسی کو معاف نہیں کرتا۔۔۔ کر ہی نہیں سکتا

دوسرے نے کیا کہا، اس کی تشریح کرنے والا بھی میں ہوں

اپنی تشریح کو درست اور دوسرے کی تشریح غلط سمجھنے والا بھی میں ہوں

فیصلہ کرنے والا بھی میں ہوں فیصلہ سنانے والا بھی میں ہوں

کون جنتی ہے اور کون دوزخی

کون اصل مسلمان ہے اور کون اصل میں کافر ہے

یہ فیصلہ کرنے والا بھی میں ہوں

صرف میری منطق ٹھیک ہے۔۔۔صرف میری دلیل ہی بجا ہے

میں فیصلہ کرتا ہوں کہ فلاں کو قتل کرنا ثواب ہے

اور فلاں کو مارنا گناہ عظیم ہے

میں گناہ گار کو سزا کے خلاف لاکھوں کا مجمع لے کر احتجاج کرتا ہوں

اور لاکھوں بے گناہوں کے خون نا حق پر ایک لفظ نہیں کہتا

میں ظلم کرتا ہوں اور پھر اس کا جواز تراشتا ہوں

میں منہ سے آگ برساتا ہوں اور املاک کو آگ لگاتا ہوں

چاہے وہ املاک عوام کی ہوں یا عوام کے پیسوں سے بنی ہوں

میرا تو مسلک ہے، لیکن جو آگ میں لگاتا ہوں، اس کا کوئی مسلک نہیں۔ وہ سبھی کو جلاتی ہے۔

میں اپنی جنت کے لیے دوسروں کی زندگی دوزخ کر دیتا ہوں

میں مرضی کی کوریج نہ ملنے پر میڈیا اہلکاروں پر تشدد جائز سمجھتا ہوں

صرف میرا ایمان سلامت ہے

میرا دعویٰ ہے کہ میرا مذہب امن کا داعی ہے

پھر میں اسی مذہب کے نام پر قتل کرتا ہوں

میں قاتل ہوں

لیکن میں ہیرو بھی ہوں

کون کہتا ہے میں مر چکا ہوں

میں اجڑے گلشن پارک میں زندہ ہوں

میں سوختہ میٹرو بس میں زندہ ہوں

میں دلیل کا جواب دیتی گولی میں زندہ ہوں

کون کہتا ہے میں مر چکا ہوں۔۔۔ ویسے بھی شہید مرا نہیں کرتے


Comments

FB Login Required - comments

عمیر محمود

عمیر محمود ایک خبری ٹیلی وژن چینل سے وابستہ ہیں، اور جو کچھ کرتے ہیں اسے صحافت کہنے پر مصر ہیں۔ ایک جید صحافی کی طرح اپنی رائے کو ہی حرف آخر سمجھتے ہیں۔ اپنی سنانے میں زیادہ اور دوسروں کی سننے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ عمیر محمود نوک جوک کے عنوان سے ایک بلاگ سائٹ بھی چلا رہے ہیں

omair-mahmood has 27 posts and counting.See all posts by omair-mahmood

2 thoughts on “Je Suis Mumtaz Qadri

  • 31-03-2016 at 2:38 pm
    Permalink

    nice umair

  • 31-03-2016 at 3:32 pm
    Permalink

    اسلام علیکم
    نہایت ہی بہت خوبصورت آپ نے لکھا۔۔ کھلی فضاء میں آپ نے قاتل کا تعارف نمایاں کیا۔

Comments are closed.