دہشت گرد کی سیلفیاں


adnan-khan-kakar-mukalima-3

صاحبو ہمارے قبرصی رپورٹر یہ بتاتے ہیں کہ کل مصری فضائی کمپنی کا جہاز اسکندریہ سے قاہرہ کی طرف اڑا تو کچھ دیر بعد ایک صاحب نے ائیر ہوسٹس کو بلایا اور کہنے لگا کہ باجی ائیر ہوسٹس، میرا نام سیف الدین مصطفی ہے، میں ایک کمانڈو ہوں۔ میں ایک بہت خطرناک بندہ ہوں۔
ائیر ہوسٹس بولی: بھائی جی، کسی اور کو لائن مارنا۔ اور کھانا پانی بھی پندرہ منٹ سے پہلے ملے گا۔ چپ کر کے اپنی سیٹ پر بیٹھے رہو۔ یہ مصری ائیرلائن ہے۔ یہاں سب کی خطرناکی میں نکال دیتی ہوں۔
سیف: باجی آپ سمجھ نہیں رہی ہیں۔ میں ایک کمانڈو ہوں اور یہ جہاز ہائی جیک کر رہا ہوں۔ یہ دیکھیں میں نے خودکش بیلٹ پہنی ہوئی ہے۔
پچھلی سیٹ سے آواز آئی: بھائی جان، آپ واقعی ہائی جیکر ہیں؟ بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔ میں بین انیس ہوں۔ اب آپ کیا کریں گے؟
سیف: میں سب کو قبرص لے کا جا رہا ہوں۔ وہ بہترین ٹورسٹ سپاٹ ہے۔ باجی ذرا پائلٹ کو کہہ کر جہاز کو قبرص کی طرف موڑ دو۔
ائیر ہوسٹس: بیلٹ تو چیک کراؤ۔ بیلٹ نہ ہوئی تو سب مسافروں کا کرایہ تم سے یہیں دھروا لوں گی۔
سیف: باجی یہ چیک کریں۔ اصلی خودکش بیلٹ ہے۔ تاریں بھی دیکھ لیں۔ اور یہ بم بھی لگے ہوئے ہیں۔
ائیر ہوسٹس: لگتی تو ٹھیک ہی ہے۔ میں پائلٹ بھائی جان کو کہتی ہوں کہ قبرص چلیں۔
کچھ دیر میں جہاز قبرص کے لارناکا ائیر پورٹ پر اتر گیا۔
ائیر ہوسٹس: بھائی جی اب کیا حکم ہے؟
سیف: نام تو بہت سنا تھا مگر یہ قبرص تو بالکل بیکار جگہ ہے۔ ایسا کرو کہ ہوائی اڈے والوں کو کہو کہ جہاز کی ٹینکی فل کر دیں۔ اب استنبول چلتے ہیں۔
ائیر ہوسٹس: بھائی جی وہ کہتے ہیں کہ پیٹرول کی شارٹیج ہے۔ سعودی عرب سے اگلا ٹینکر تین دن بعد پہنچے گا۔ پیٹرول نہیں دے رہے ہیں۔
سیف: بلیک میں لے لو۔
ائیر ہوسٹس: وہ بلیک پر بھی راضی نہیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ اینٹی کرپشن والوں کا چھاپہ پڑا ہوا ہے۔ کوئی ایک پیسہ پکڑنے کو تیار نہیں ہے۔ اور کوئی حکم کریں۔
سیف: اچھا مصری حکومت سے مطالبہ کرو کہ کی جیلوں میں جتنی عورتیں ہیں ان سب کو رہا کر دیا جائے۔
ائیر ہوسٹس مطالبہ لے کر جاتی ہے۔ اتنی دیر میں ایک موٹی سی مصری مائی پاس آتی ہے اور سیف کے سر پر دو ہتڑ مار کر کہتی ہے: نامرادا، میرے کاکے کا دودھ ختم ہو گیا ہے۔ اتنا لمبا پروگرام بنانا تھا تو پہلے بتاتے۔ ڈبہ سامان میں باندھنے کی بجائے بیگ میں ساتھ رکھتی۔ اور پیمپر بھی خراب ہو گیا ہے۔ اب میں کاکے کو تمہاری گودی بٹھانے لگی ہوں۔ خود ہی سنبھالو اس کا رونا پیٹنا۔

hijacker-stairs
یہ کہہ کر وہ بچے کو سیف کی گود میں بٹھا دیتی ہے اور بچہ باجے کی طرح بجنے لگتا ہے اور فضائیں خوشبو سے بھر جاتی ہیں۔ ائیر ہوسٹس واپس آئی ہے۔
ائیرہوسٹس: مصری حکومت نے مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ تم کمانڈو شمانڈو نہیں ہو۔ چوری، ڈاکے، نشے وغیرہ کے الزام میں جیل بھی کاٹ چکے ہو۔ لیکن وہ اس چیز سے تھوڑے ڈر گئے ہیں کہ تم وکالت پڑھتے رہے ہو۔ لگتا ہے کہ پاکستان کی وکلا تحریک انہوں نے دیکھی ہوئی ہے۔ اسی لیے مجھے تمہارا حکم ماننے کو کہا ہے۔ اب کیا حکم ہے بھائی جی؟۔
سیف: ایسا کرو یہ کاکا پکڑو، اور جتنے مصری ہیں ان سب کو باہر جانے دو۔ عربی کی گالیوں کی فصاحت میری برداشت سے باہر ہو رہی ہے۔ صرف غیر مصری جہاز میں رہیں، باقی سب نکل جائیں۔
جہاز سے مصری نکل جاتے ہیں اور کاکے کو اس کی ماں لے جاتی ہے۔
ائیر ہوسٹس: بھائی جی اب کیا کرنا ہے؟ آپ کے مطالبے تو وہ پورے نہیں کر رہے ہیں۔
سیف: میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آ رہا ہے۔ ایسا کرو کہ میری سابقہ بیوی قبرص میں رہتی ہے۔ اس سے میرا رابطہ کرواؤ۔ اس سے پوچھتا ہوں کہ اب میں کیا کروں۔
ائیر ہوسٹس: بھائی جی، بھابھی جی آ گئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ سوا ستیاناس اس مردود کا، نہ خود چین لیتا ہے اور نہ مجھے چین لینے دیتا ہے، میں خود جہاز میں آ کر اسے پوچھتی ہوں۔
سیف: ایسا کرو کہ جہاز کے دروازے سختی سے بند کر دو۔ خدایا، وہ جہاز میں آ رہی ہے، اب میں کیا کروں؟
بین انیس: بھائی جان اگر فارغ بیٹھے ہیں تو میرے ساتھ ایک سیلفی ہی اتروا لیں۔ مشہور بندوں کے ساتھ تو سب سیلفیاں اترواتے ہیں، مگر کسی ہائی جیکر کے ساتھ کسی نے سیلفی نہیں اتروائی۔ پلیز بھائی جان، بس ایک سیلفی۔ بھاگ لگے رہن، بھائی جان بس مان جاؤ۔ ناں نہ کرنا۔

jNaoE0Mسیف: ٹھیک ہے۔ آ جاؤ۔
بین: باجی یہ میرا موبائل پکڑ کر ہم دونوں بھائیوں کی ایک اچھِی سی تصویر تو اتار دیں۔ بھائی جان آپ ذرا ساتھ تو ہوں۔ سمائل دیں۔ تصویر اچھی آنی چاہیے۔ پھر خبرے زندگی میں موقع ملے یا نہ ملے۔ سمائل پلیز۔
ائیر ہوسٹس: بھائی جی دونوں مسکرائیں۔ تھوڑا اور۔ نزدیک ہوں، یہ تو لگ رہا ہے کہ آپ کی آپس میں لڑائی چل رہی ہے۔
بین: بھائی جان اپنی جیکٹ کی زپ کھولیں، خودکش جیکٹ تو نظر آئے۔ دکھاؤں گا تو چار بندوں میں ٹور تو بن جائے گی کہ آپ کا بھائی خودکش بمبار کے ساتھ کھڑا ہے۔
سیف: اب ٹھیک ہے؟
ائیر ہوسٹس: بہترین پوز ہے بھائی جی۔ یہ لو اپنا فون۔ تصویر چیک کر لو۔
بین: اعلی۔ بہترین تصویر ہے۔
سیف: یہ سارے مسافر جہاز سے کیوں اتر رہے ہیں؟ میں نے کہا تھا کہ دروازہ مضبوطی سے بند رکھنا۔ تمہاری بھابھی اندر آ گئی تو کون ذمے دار ہو گا؟
ائیر ہوسٹس: وہ سامنے بیچ نظر آ رہا ہے۔ اب صرف گورے بچے ہیں نہ سارے۔ قبرص کا مشہور ساحل دیکھ کر رہ نہیں سکے ہیں۔ سارے اپنے اپنے کچھے پکڑ کر نکل گئے ہیں۔ اب کیا حکم ہے؟
سیف: چلو پھر میں بھی چلتا ہوں۔ رب راکھا۔ شکریہ بہن جی۔ بین بھائی جی، سیلفی فیس بک پر ڈالیں تو مجھے ضرور ٹیگ کریں۔
بین: ضرور بھائی جان۔ آپ اسے لائک ضرور کریں اور اپنی وال پر شئیر کر کے کمنٹ بھی کر دیں تو آپ کی مہربانی۔
ائیر ہوسٹس: بھائی جی اب آپ کیا کریں گے؟
سیف: ان سب گوروں کو ساحل پر جا کر موبائل بیچتا ہوں۔ چار پیسے بن جائیں گے۔
بین: بھائی جان کون کون سے موبائل ہیں؟ دکھانا تو؟ کہاں رکھے ہیں؟
سیف: یہ بیلٹ میں سارے موبائل ہی تو رکھے ہوئے ہیں۔
بین: بھائی جان یہ تو ڈمی موبائل ہے۔ اصلی نہیں ہے۔
سیف: او تیرا بیڑا تر جائے۔ لگتا ہے کہ اسکندریہ میں وہ بندہ مجھے چونا لگا گیا ہے۔ میں نے تو اصلی کے پیسے دے کر لیے ہیں۔
ائیر ہوسٹس: پروا نہ کرو بھائی جی۔ ادھر کوئی نہ کوئی گورا اصلی سمجھ کر لے لے گا۔ میں دس دفعہ بیچ چکی ہوں۔
سیف: مہربانی باجی جی۔ کوشش کرتا ہوں۔ رب راکھا۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar