بابا، اب ہم سیر کرنے نہیں جائیں گے؟


نوید نسیم

naveed naseem

لاہور کینٹ میں واقع فورٹریس سٹیڈیم کی ہفتہ وار سیر کے بعد ابھی گھر واپس پہنچے ہی تھے۔ توگلشنِ اقبال میں ہونے والے خود کش دھماکے کا پتا چلا۔ جس میں اب تک 72 لوگ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔

نیوز چینلز پر چلنے والی فوٹیجز اور جاری تبصروں کو دیکھ کر میری ساڑھے تین سالہ بیٹی کو بھی دھماکے میں ہونے والے نقصان اور ہلاکتوں کا اندازہ ہوا۔ جسے دیکھ کر فوراً میری بیٹی نے پوچھا، “بابا اب ہم سیر کرنے نہیں جائیں گے”؟

اپنی معصوم بیٹی کا سوال سُن کر میں ایک دم سکتے میں آگیا اور خدا کا شُکر ادا کیا کہ ہم اتوار کو فورٹریس سٹیڈیم کے جوائے لینڈ اور ہفتے کو جیلانی پارک (ریس کورس) گئے تھے۔ شکر ہے کہ وہاں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہی تھی کہ دھماکہ وہاں نہیں ہوا۔ ورنہ ہم بھی ان ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوتےاور ہماری نعشیں بھی ٹکروں میں گھر پہنچتی۔

اپنے اعصاب پر قابو پانے کے بعد میں نے اپنی بیٹی کو ڈر اور خوف سے بچانے کے لئے اُٹھایا اور اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ ڈرتے نہیں ہیں۔ ہم اگلے ہفتے بھی سیر کرنے ضرور جائیں گے۔

اپنی بیٹی کو کہہ تو دیا۔ مگر پھر سوچ میں پڑ گیا کہ گلشنِ اقبال میں ہونے والے دھماکے کے بعد میں کیسے اپنی بیٹی کو کسی تفریحی مقام سکتا ہوں؟

پھر میرے ذہن میں وہ معصوم کمسن بچے اور ان کے والدین آنے لگے جوکہ میری طرح اپنے بچوں کو ہفتہ وار تفریحی دورے پر لاہور کے علامہ اقبال ٹاؤن میں واقع گلشنِ اقبال پارک لے گئے ہوں گے اور جب وہ والدین بچوں کو جھولوں میں جھولتا دیکھ رہے تھے۔ ٹھیک اسی وقت خودکش دھماکے سے پارک میں موجود تمام افراد دھماکے کی آواز سے چونک گئے اور جو خوش قسمتی سے بچ گئے۔ وہ اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے لگے۔

پچھلے کافی عرصہ سے حالات بہتر ہونے کی وجہ سے دل کو کچھ تسلی تھی کہ اب دھماکے نہیں ہورہے۔ اس لئے بچوں کے ساتھ باہر جانا محفوظ ہوگا۔ ضرب عضب کی وجہ سے دہشتگروں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت ہونے والی کارروائیوں کی وجہ سے دہشتگردوں کا نیٹ ورک بھی توڑا جا چکا ہے۔ مگر اس دھماکے کے بعد پھر سے ہم اُس دوراہے پر آکھڑے ہیں۔ جہاں ایک طرف ہمارے سہمے دل تفریحی مقامات میں جانے سے خوفزدہ ہیں اور دوسری طرف بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے انھیں سکول بھیجنے اور تفریحی مقامات پر لے جانے کے لئے مجبور ہیں۔

ابھی ہم والدین کا بچوں کو سکول بھیجنے کا خوف دل سے پوری طرح گیا نہیں اور پھر سے ہمیں خوف لاحق ہوگیا ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو ہمیں مجبوراً بچوں کو گھروں میں محصور کرنا پڑے گا اور سکولوں کی سیکیورٹی کے لئے سکول انتظامیہ اور حکومت کے درمیان تنازعات کی وجہ سے ممکن ہے کہ ہم بچوں کو سکولوں سے بھی اُٹھالیں۔ پھر ہمارے بچے تو نہیں مگر دشمن کے بچے با آسانی پڑھ لکھ سکیں گے۔

کسی بھی دھماکے کے بعد وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف سمیت دیگر رہنماؤں کی طرف سے دھماکے کی مذمت کی جاتی ہے۔ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی جاتی ہیں۔ مختلف شہروں میں مارے جانے والے چھاپوں میں متعدد مبینہ دہشتگرد حراست میں لئے جاتے ہیں۔ مگر پھر بھی کوئی دھماکہ ہوجاتا ہے۔ پتا نہیں کیوں سیکیورٹی اداروں اور حکومت کو یہ تمام کارروائیاں دھماکے سے پہلے یاد نہیں آتیں؟ کیوں ہر بار دھماکے کے بعد چھاپے مارے جاتے ہیں؟ کیوں پشاور سانحے کے بعد بھی ابھی تک ہم سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات نہیں کرسکے؟ نا حکومت بجلی دے سکتی ہے اور نا ہی مہنگائی پر قابو پاسکتی ہے۔ اگر سیکیورٹی بھی نہیں دے سکتی تو کیا فائدہ ایسی لولی لنگڑی حکومت کا جو دھماکہ ہونے کے بعد سر جوڑ کر بیٹھ جاتی ہے۔

گلشنِ اقبال دھماکے کے بعد لاہور کے تمام تفریحی پارک بند کر دیئے گئے ہیں اور لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔ مگر ان تمام کارروائیوں کا کیا فائدہ؟ کیا ان کارروائیوں سے والدین کے ہلاک ہونے والے وہ معصوم بچے جو کہ ‘ڈاجنگ کارز’ کا مزہ لیتے لیتے اللہ کو پیارے ہوگئے، واپس آجائیں گے؟ کیا جن بچوں کی مائیں اس سانحے میں ہلاک ہوگئیں، انہیں مائیں مل جائیں گی؟ جو بچے شدید زخمی ہونے کی وجہ سے معزور ہوگئے، کیا وہ اس سانحے کو بُھلا پائیں گے۔ جس کُنبے کا اکلوتا کمانے والا اس دھماکے میں مارا گیا۔ اس کُنبے کی کفالت کون کریگا؟

خدا کا شکر ہے کہ مجھ سمیت لاکھوں والدین اور ان کے بچے اس حادثے میں محفوظ رہے۔ مگر جس ذہنی کرب اور انجانے خوف کا ہم شکار ہیں۔ کیا حکومتی کارروائیوں سے ہمیں کوئی فائدہ ہوگا؟ نیوز چینلز پر چلنے والی فوٹیج میں والدین کو دیکھ کر ہر والد میں مجھے اپنا آپ نظر آتا ہے۔ ہر زخمی بچے میں مجھے اپنے بچوں کی شکلیں نظر آتی ہیں۔ کیا کروں میں اس ملک میں رہ کر جہاں ہم مجبور والدین دھماکوں میں تو بچ جاتے ہیں۔ مگر سوچتے یہی ہیں کہ اس بار تو بچ گئے۔ ہوسکتا ہے کہ اگلی باری ہماری ہی ہو۔


Comments

FB Login Required - comments