کل بھوشن یادو اور عزت مآب جناب ریمنڈ ڈیوس صاحب


وجاہت صدیقی

image
گزشتہ دنوں بلوچستان سے بھارتی خفیہ ایجنسی بنام را کا حاضر سروس افسر کمانڈر کل بھوشن یادو گرفتار کیا گیا جو مبینہ طور پر پاکستان میں دہشتگردی، فرقہ واریت اور علیحدگی پسندوں کی مدد کرتا ہوا پایا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ شخص جرائم پیشہ عناصر کے ذریعہ پاکستان میں دہشتگردی کا بڑا نیٹ ورک چلارہا تھا۔ اس کے علاوہ دہشتگردوں کی بھرتی اور اُن کو تربیت کی غرض سے بھارت لے جانے کا کام بھی بخوبی سر انجام دیتا رہا۔
فرقہ واریت کے حوالے سے یہ آدمی شر انگیز مواد کی ترسیل اور اجتماعات میں دہشتگرد کارروائیاں چلانے میں بھی ملوث پایا گیا۔ ذہن کو ماضِی قریب میں لے جایئے تو یہی سب کرتوت کرتا ہوا ایک گوری چمڑی والا المعروف ریمنڈ ڈیوس بھی گرفتار ہوا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یہ شخص سی آئی اے کا حاضر سروس افسر تھا اور بھارتی کل بھوشن کی طرح کسی دور افتادہ مقام پر خفیہ کارروائی میں گھیر کر گرفتار نہیں ہوا بلکہ پاکستان کے قلب لاہور میں عین مصروف شاہراہ پر دو پاکستانی نوجوانوں کے قتل کے نتیجے میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا لیکن یہ گرفتاری فوراََ ہی حکومتی تحویل میں تبدیل ہوگئی۔
واضح رہے کہ مقتولین مبینہ طور پر پاکستانی ایجنسی کے کارندے بتائے جاتے ہیں اور اُس وقت بھی اُس کا تعاقب کرتے ہوئے اُسی کے ہاتھوں شکار ہوئے لیکن گورا صاحب کو پھر بھی گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ حکومتی حفاظتی تحویل میں لیا گیا اور کسی مجاز افسر کو اُس سے تفتیش کی اجازت تک نہیں دی گئی اور پھر اُسی کی حکومت کی من پسند شرائط پر آناََ فاناََ شاہانہ انداز میں حکومتی حفاظتی جلو میں رخصت کردیا گیا۔
بھارتی ایجنٹ کی گرفتاری صد لائق تحسین مگر سوال یہ ہے کہ یہی معاملہ سی آئی اے ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کے ساتھ کیوں روا نہیں رکھا گیا؟ اگر حکومت اور اُس کے ادارے بد امنی، فرقہ واریت اور دہشتگردی کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں تو یہ جان لیں کہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا امتیاز سمِ قاتل ثابت ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments