پاک بھارت تعلقات: الزام اور انکار کا بے مقصد کھیل


mujahid aliبھارت کی وزارت خارجہ نے پاکستان کی طرف سے کل بھوشن یادو کے اعترافی بیان پر مشتمل ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد صاف طور یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کا رٹایا ہؤا سبق دہرا رہا ہے۔ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور نہ ہی کل بھوشن یادو بھارتی حکومت کی طرف سے کسی مشن پر متعین تھا۔ بھارت نے اسے پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں پر متعین نہیں کیا تھا۔ بھارت کی طرف سے یہ بیان وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوراپ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ کل اسلام آباد میں جاری ہونے والی ویڈیو پر بھارت کے کسی سیاسی لیڈر یا ذمہ دار عہدیدار نے براہ راست بات کرنے سے گریز کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی ایک بیان میں مؤقف بتانے پر اکتفا کیا ہے اور براہ راست میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا ہے۔

کل بھوشن یادو کی پاکستان میں گرفتاری بھارت کے لئے عالمی سطح پر بدحواسی اور پریشانی کا سبب بنی ہے۔ ابھی یہ معاملہ تازہ ہے لیکن جوں جوں پاکستان سفارتی ذرائع کے ذریعے اس معاملہ کو مختلف عالمی فورمز پر اٹھائے گا، تو بھارت کے لئے عدم تشدد اور عدم مداخلت کے بارے میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ موجودہ حالات میں یادو کو نیوی کا ریٹائیرڈ افسر قرار دینے اور اس کے بیان کو مسترد کرنے کے سوا بھارت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ تاہم وزارت خارجہ کے بیان میں پاکستان پرجوابی حملے کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ اس میں یہ کہنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کل بھوشن کو شاید ایران سے اغوا کیا گیا ہو یا یہ کہ اسے ایران میں جائز کاروبار کرتے ہوئے پاکستان کی طرف سے ہراساں کیا گیا ہو گا۔ اس قسم کا جوابی حملہ کرکے سفارتی سطح پر اپنے لئے گنجائش پیدا کرنے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے لیکن قیاس آرائیوں پر مبنی الزامات سے بھارت اس الزام سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی خفیہ ایجنسی ’را ‘ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث ہے۔

دشمن ملک کی تحویل میں کسی شخص کے اعترافی بیان کے بارے میں یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ تشدد کے ذریعے یا ذبردستی دلوایا گیا ہے اور وہ سب جھوٹ پر مبنی ہے۔ لیکن پاکستان نے بھارتی نیوی میں کمانڈر کے اعلیٰ عہدے پر فائز ایک افسر کو پاکستانی علاقے سے گرفتار کیا ہے۔ بھارت نے یہ تسلیم کرنے سے پہلے کہ وہ بھارت کا شہری ہے اور نیوی کا ’سابق ‘ افسر ہے، اس بات کی پوری تسلی کر لی ہوگی کہ یہ شخص واقعی پاکستان کی تحویل میں ہے۔ اس لئے اب یہ الزام لگانا کہ اس ممکنہ طور پر اغوا کیا گیا تھا، لایعنی اور مضحکہ خیز مؤقف ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یادو بھارتی نیوی کا ریٹائر افسر ہے۔ اس لئے ناقابل یقین تو یہ بات ہے کہ کمانڈر کے عہدے کا ایک افسر روٹی روزی کے لئے ایران میں جیولری کامعمولی کام کرنے پر مجبور تھا۔ اس نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو اس کی عملی تربیت اور سماجی رتبے سے مطابقت رکھتا۔ دراصل اس گرفتاری سے بھارت کا یہ دعویٰ جھوٹ ثابت ہو رہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھارت میں دہشت گردی کی سرپرستی کی جاتی ہے جبکہ بھارت بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق رویہ اختیار کرتا ہے۔ پاکستان کچھ عرصہ سے بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں ’را ‘ کے ایجنٹوں کی موجودگی اور ان کی سرپرستی میں تخریبی کارروائیوں کی شکایت کرتا رہا ہے لیکن انٹیلی جنس کی بنیاد پر اکٹھی ہونے والی معلومات کا دستاویزی ثبوت فراہم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کل بھوشن یادو کی صورت میں اعتراف اور دیگر شواہد کے ذریعے اب یہ ثبوت پاکستان کو میسر آچکے ہیں اور وہ انہیں عالمی برادری کو بھارت کا اصل چہرہ دکھانے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ خبروں کے مطابق پاکستان نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ اس معاملہ پر رابطہ بھی کرلیا ہے۔ بھارت صرف انکار کرکے اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرسکتا۔

اس معاملہ پر دونوں ملکوں کی طرف سے علیحدہ مؤقف کا سامنے آنا فطری ہے لیکن اسلام آباد اور نئی دہلی کو چاہئے کہ اس معاملہ پر بیان بازی اور الزام تراشی کی بجائے باہمی رابطوں کے ذریعے کھلے دل سے گفتگو کریں اور مستقبل میں ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت ختم کرنے کے لئے کسی قابل اعتبار پروٹوکول پر متفق ہو جائیں۔ بھارت کو اندازہ ہو نا چاہئے کہ ہمسایہ ملکوں میں مداخلت کو ہمیشہ کے لئے خفیہ نہیں رکھا جا سکتا اور نہ ہی ایسے ہتھکنڈوں سے مفاہمت کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ پاکستان بہتر سفارت کاری کے ذریعے ہی اس معاملہ سے قومی مفاد کے تحفظ کے نقطہ نظر سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح بھارت بھی اس معاملہ سے اسی صورت میں جان چھڑا سکتا ہے جب وہ الزام تراشی کی بجائے پاکستان کے ساتھ براہ مواصلت اور بہتر تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔

دونوں ہمسایہ ملک ایٹمی صلاحیت سے لیس ہیں۔ ان کے درمیان جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ کل بھوشن یادو کیس سے یہ بھی واضح ہؤا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف نان اسٹیٹ ایکٹرز کو استعمال کرنے یا تخریبی سرگرمیوں کے ذریعے مقاصد حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس کیس کو مزید تخریب اور افتراق کا سبب بنانے کی بجائے، دونوں ملک اس سے سبق سیکھیں اور مخاصمت اور دشمنی کو ختم کرنے کے لئے مؤثر اقدامات کر سکیں۔ تاہم اس کے لئے دونوں طرف سے سیاسی حوصلہ دکھانے اور مقبول نعروں سے گریز کرنے کی ضرورت ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali