اوئے نواز شریف تیری تو۔۔۔


adnan-khan-kakar-mukalima-3

اسلام آباد کے ہر دھرنے کا رنگ نرالا ہوتا ہے۔ طاہر القادری صاحب کے پہلے دھرنے میں جوش خطابت اپنے عروج پر تھا۔ حکومت وقت کو بہت برا بھلا کہا گیا تھا لیکن تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹا تھا۔

دوسرے دھرنے میں جناب عمران خان بھی اپنی محفل سجائے ہوئے تھے۔ طاہر القادری صاحب کا بلڈ پریشر تو قابو سے باہر دکھائی دے رہا تھا، لیکن زبان ان کے قابو میں رہی۔ جبکہ عمران خان اپنی اصل طاقت کو، یعنی مڈل کلاس کے پڑھے لکھے خاندانوں، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کو، توہین کرنے کے طریقے سکھانے میں مصروف رہے۔ ان سوا سو دنوں میں انہوں نے پوری قوم کو دکھا دیا کہ وہ بولنے سے پہلے تولنے کو برا جانتے ہیں، بلکہ بولنے کے بعد بھی تولتے نہیں ہیں۔ بہرحال سٹیج پر کھڑے ہو کر پوری قوم کے سامنے بدکلامی کے جوہر دکھانے کا آغاز ہو گیا۔

اور اس آغاز کے بعد انتہا ہم نے موجودہ دھرنے میں دیکھی ہے۔ ہم نے یہی سنا تھا کہ صوفی مسلک کی بنیاد پیار اور محبت پر ہے۔ لیکن یا تو ایسا سوچنا ہماری ناسمجھی تھی، یا پھر اس دھرنے کے راہنماؤں کو صوفی مسلک سے علاقہ نہیں ہے۔ حب رسولؐ کے نام پر اکٹھے ہونے والوں کی بازاری دشنام طرازی کے جوہر پوری قوم نے ns1دیکھے سنے ہیں۔

لاہور میں مال روڈ پر واپڈا ہاؤس کے سامنے چند نیک صورت افراد کی ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جو لوہے کا ایک اینگل آئرن اٹھائے جناب محترم نواز شریف صاحب کی ذات پر اس کو نہایت نازیبا انداز میں استعمال کرنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ ویڈیو میں بازاری گالیوں کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔

لیکن یہ تو لاہور تھا۔ انہیں جوشیلے نوجوان کہہ کر دامن چرا لیجیے۔ اسلام آباد میں تو ان کے اکابرین موجود ہیں۔ اس لیے ایک قدم آگے بڑھ کر نواز شریف صاحب کے علاوہ مریم نواز شریف صاحبہ کی ذات کو بھی ان لوگوں نے نشانہ بنایا اور ان باپ بیٹی کے متعلق اپنے رکیک جذبات بیان کرتے رہے۔ ڈی چوک کی سڑکوں پر بھی ارمان بھرے نازیبا نعرے لکھے نظر آتے ہیں اور وہاں موجود کنٹینر بھی ان سے خالی نہیں ہیں۔

نظر یہ آ رہا ہے کہ لاہور والے جوشیلے مولوی صاحب کے نصیب میں وہی لوہے کا ڈنڈا ہے جو وہ لہرا رہے تھے، اور اسلام آباد والے بھی اسی کا نشانہ بننے کی راہ پر ہیں۔ لیکن شکر ہے کہ یہ نظر آ رہا ہے کہ بات ڈنڈوں پر ہی رک جائے گی کہ بقول چوہدری نثار کے، پولیس والوں کے پاس آتشیں ہتھیار نہیں ہیں۔

کیا وقت آ گیا ہے۔ ہم تو جمعیت علمائے اسلام کے لوگوں کے رویے پر ہی دلگرفتہ تھے جنہوں نے تحفظ نسواں بل کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والی خواتین کے بارے میں ایسی گفتگو کی جس کو ضبط تحریر میں لانا ممکن نہیں تھا، اور اب معلوم ہوا ہے کہ بریلوی علمائے کبار کے ارمان بھی ویسے ہی ہیں۔ حضرت آپ تو کہتے ہیں کہ چار نکاح کی گنجائش اسی لیے ہے کہ جس کے ارمان حد سے باہر ہو رہے ہیں، وہ اپنے گھر میں ہی ان کا ‘سد باب’ کر لے، لیکن آپ کے باب میں تو یہ چار بھی آپ کے رومانی ارمان پورے کرتی دکھائی نہیں دیتی ہیں۔

حضرت، کیا آپ علما نے کوئی اجتہاد کر کے ایمان مفصل کے عقائد پر نظر ثانی فرما دی ہے اور اب آپ کی نظر میں سچا مسلمان ہونے کے لیے دشنام طرازی میں کمال فن دکھانا بھی ایمان کا حصہ ٹھہرا ہے؟ کیا آپ اس صحیح حدیث مبارک کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ دشنام طرازی کرنے والا درحقیقت اپنے ہی والدین کو گالیاں دے رہا ہوتا ہے؟ جو گالیاں آپ وزیراعظم پاکستان جناب نواز شریف اور محترمہ مریم نواز شریف کو دے رہے ہیں، کیا وہ ایسے ہی پلٹ کر آپ کی ذات شریف اور آپ کے خانہ داروں پر چسپاں نہیں ہو رہی ہیں جیسا کہ حدیث مبارک میں خبردار کیا گیا ہے؟

ہم مولوی طارق جمیل صاحب کے حوروں کے بیانات سن کر مسکراتے تھے اور سوچتے تھے کہ کیا ایک اچھا مسلمان اور اچھا انسان بننے کا مقصد بس یہی ہے کہ بندے کو جنس کا ابدی لطف حاصل ہو۔ کیا خدا کی خوشنودی حاصل کرنا ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد ہے یا پھر حوروں سے وظیفہ زوجیت ادا کرنا ہی مقصد حیات ٹھہرا ہے۔ بس ہم حیران ہی ہوا کرتے تھے اور حضرت رابعہ بصریؒ سے منسوب ایک واقعہ یاد کر کے ان بیانات کو اچھا نہ جانتے تھے۔

روایت ہے کہ ایک بار اہل بصرہ نے دیکھا کہ حضرت رابعہ بصریؒ حالت جذب میں ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرے میں پانی لیے ہوئے بھاگی چلی جا رہی ہیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے، آپ کہاں جا رہی ہیں؟ حضرت رابعہ بصریؒ نے فرمایا کہ میں اس پانی سے دوزخ کی آگ کو بجھانے چلی ہوں کہ لوگ اسی کے خوف سے اللہ کی عبادت کرنے ہیں، اور اس آگ سے جنت کو پھونک ڈالنا چاہتی ہوں تاکہ جو لوگ جنت کے لالچ میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں، انہیں جنت نہ مل سکے۔

روایت ہے کہ حضرت رابعہ بصریؒ یہ دعا مانگتی تھیں کہ اے میرے معبود، اگر میں تیری عبادت دوزخ کے خوف سے کرتی ہوں تو مجھے دوزخ ہی میں ڈال دینا، اور اگر میری ریاضت حصولِ جنت کے لیے ہے تو اسے مجھ پر حرام کر دینا، اور اگر میں صرف تیری خوشنودی کے لیے ہی تیری پرستش کرتی ہوں تو مجھے اپنے دیدار سے ہرگز محروم نہ رکھنا۔

انہی رابعہ بصریؒ سے ایک مرتبہ یہ پوچھا گیا کہ کیا آپ شیطان سے نفرت کرتی ہیں؟ حضرت رابعہ بصریؒ نے جواب دیا کہ خدا کی محبت نے میرے دل میں nawaz sharifاتنی جگہ ہی نہیں چھوڑی ہے کہ اس میں کسی اور کی نفرت یا محبت سما سکے۔

اب ہم کیا کہیں۔ کیا ہم حضرت رابعہ بصریؒ کے سے انداز میں یہ کہیں کہ اگر کوئی حوروں کے لالچ میں خدا کی عبادت کرتا ہے ہے تو وہ حوروں سے محروم رہے؟ کیا ہم یہ دعا مانگیں کہ حب رسولؐ کے نام پر نکلنے والوں کے دل میں خدا اتنی جگہ ہی نہ چھوڑے کہ اس میں کسی اور کی نفرت یا محبت سما سکے؟

نہیں سرکار، اب تو قرب قیامت ہے۔ اب تو خدا کی خوشنودی اور رسولؐ کا فرمان ہمارے علما کے لیے اہم نہیں ہے۔ ان کے لیے اہم ہے تو بس نفرت کا سودا۔ محبت کے نام پر نفرت کرنے والوں کا راج ہے۔

چلیں چھوڑیں صوفیوں کی باتوں کو، چلیں بس مل کر نفرت ہی کرتے ہیں اور تہذیب کا دامن جھٹک دیتے ہیں، ‘اوئے نواز شریف، تیری تو’۔۔۔۔

لیکن ایک منٹ ٹھہریں۔ دشنام طرازی کے فن کے ان اماموں کو دیکھ کر ان کو حکومت میں دیکھنا میں تو ہرگز نہیں چاہوں گا۔ ووٹ نواز شریف کو ہی دینا پڑے گا۔ ووٹ آصف زرداری کو دینا ہی مناسب ہے۔ غیر مذہبی جماعتیں ہی اخلاقی طور پر بہتر نظر آنے لگی ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

5 thoughts on “اوئے نواز شریف تیری تو۔۔۔

  • 30-03-2016 at 9:51 pm
    Permalink

    Wah rug eels sab in action

  • 30-03-2016 at 10:49 pm
    Permalink

    well said

  • 31-03-2016 at 12:45 am
    Permalink

    بہت خوب

  • 31-03-2016 at 7:34 am
    Permalink

    Rangela wah

  • 31-03-2016 at 10:47 am
    Permalink

    Welcome

Comments are closed.