اہل منبر و محراب کا لہجہ اور اہل یورپ کا جواب


 mullahمغربی دنیا یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے اور مذہب کے نام پر ایک خاص ایجنڈے کے لئے قتل و غارتگری کو شعار بنانے والے گروہ اور دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے درمیان فرق کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔ علمی، فکری اور سیاسی سطح پر یہ غور و خوض بھی ہو رہا ہے کہ دنیا میں جہادی یا سیاسی اسلام کے ایجنڈے پر دہشت گردی کرنے والے کیا واقعی اسلام کی درست تصویر پیش کرتے ہیں اور کیا وہ کسی حد تک مسلمان دنیا کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان معاملات پر یقیناً یورپ اور امریکہ کے انتہا پسند عناصر بھی اپنی نفرت کی گاڑی رواں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن عام طور سے مین اسٹریم سیاستدان اور دانشور یہ بات واضح کرتے رہتے ہیں کہ مذہبی انتہا پسندی کو شکست دینے کے لئے ضروری ہو گا کہ ہم جمہوریت اور انسانی اقدار کے بارے میں اپنے اصولوں کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔ اس کا ایک مضبوط مظاہرہ آج فرانس میں دیکھنے میں آیا ہے، جہاں پارلیمنٹ کی اکثریت نے دہشت گردی میں ملوث ہونے والے فرانسیسی باشندوں کی شہریت منسوخ کرنے کی تجویز منظور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ تجویز نومبر میں پیرس پر دہشت گرد حملوں کے بعد سامنے آئی تھی۔ ان حملوں میں دھماکوں اور فائرنگ کے ذریعے ریستورانوں ، کلبوں اور سڑکوں پر موجود 130 افراد کو بے دردی سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ حملہ شام و عراق میں قوت پکڑنے والے دہشت گرد گروہ داعش نے کیا تھا لیکن اس مقصد کے لئے ان عرب نژاد مسلمانوں کو استعمال کیا گیا تھا جو یورپ میں ہی پیدا ہوئے ہیں۔ بعد کی تحقیقات میں ان لوگوں کا تعلق بیلجیئم سے ثابت ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران برسلز میں ہونے والے حملوں میں بھی یہی گروہ ملوث تھا۔ پیرس میں حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں صدر فرانسس اولاند کی حکومت نے تجویز پیش کی تھی کہ ملک کے جو باشندے دہشت گردی میں ملوث ہوں، ان کی شہریت منسوخ کر دی جائے۔ اس تجویز کا مقصد فرانس کی کثیر مسلمان آبادی میں ہراس پیدا کرنا تھا تاکہ ان کے درمیان گمراہ نوجوان انتہا پسندوں کا آلہ کار بننے اور دہشت گردی جیسے قابل نفرت فعل میں ملوث ہونے سے گریز کریں۔ حکومت کو امید تھی کہ اس طرح وہ وقتی طور پر یورپ میں ابھرنے والی مذہبی انتہا پسندی کے مسئلہ سے نجات پا سکے گی۔ تاہم ملک کے منتخب قانون دانوں کی اکثریت نے اس دلیل کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس طرح انہوں نے اس موقف کو مضبوط کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خوف سے معاشرے کے بنیادی ڈھانچے اور اقدار کو خیر آباد نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں یورپ بالواسطہ طور سے انتہا پسندوں کی شرائط مان لے گا۔ یہ آزادی ، جمہوریت ، شرف آدمیت کے بارے میں یورپی اقدار کی شکست کے مترادف ہو گا۔

برسلز پر حملہ کے بعد نیٹو کے سربراہ اور سابق نارویجئن وزیراعظم ینس ستولتن برگ نے ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ یورپ آزاد معاشرہ قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اس خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے دہشت گردی سے مکمل طور سے نجات حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ گویا وہ یہ واضح کر رہے تھے کہ ہر چیز کی طرح اس آزادی کی بھی قیمت ادا کرنا ضروری ہے۔ اسے دہشت گردی کے خوف کی بنا پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ ستولتن برگ اس معاملہ کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جولائی 2011 میں ایک نارویجئن قوم پرست آندرس برائیوک نے حکومت کے سیکرٹریٹ پر دھماکہ اور پھر ایک یوتھ فیسٹیول پر فائرنگ کر کے نوجوان اور معصوم لڑکے لڑکیوں سمیت 77 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ ستولتن برگ اس وقت ملک کے وزیراعظم تھے۔ انہوں نے ناروے کی جدید تاریخ میں وقوع پذیر ہونے والے دہشت گردی کے اس اندوہناک واقعہ کے بعد کہا تھا کہ ” ہم اپنے اتحاد اور باہمی اتفاق سے نفرت اور تشدد کے اس پیغام کا جواب دیں گے“۔ اس کے بعد ناروے نے فیصلہ کیا تھا کہ 22 جولائی 2011 کا سانحہ اگرچہ سنگین اور اس کا ذمہ دار بدترین جرم کا مرتکب ہوا ہے لیکن ملک کے نظام کی کامیابی اسی میں ہو گی کہ اس شخص کو ملک کے مروجہ قانون اور عدالتی طریقہ کارکے مطابق سزا دی جائے۔ نہ قانون بدلا گیا، نہ خصوصی عدالت قائم ہوئی اور نہ کسی نے ظالم اور سفاک دہشت گرد کو برسر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ طویل عدالتی کارروائی کے دوران برائیویک کو اپنے دفاع کا پورا موقع دیا گیا۔ اس کے دفاع کے لئے سرکاری خرچ پر ملک کے بہترین وکلا فراہم کئے گئے اور اس کی تسلی کے مطابق نفسیاتی تجزیہ کروانے کے لئے دو مرتبہ ماہرین کے مختلف بورڈ قائم ہوئے۔

عدالتی کارروائی کے دوران ایک موقع پر ملزم نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ ایک قوم پرست ہے اور اس نے ناروے کو محفوظ رکھنے کے لئے یہ حملہ کیا تھا۔ اپنا موقف واضح کرنے کے لئے اس نے بچوں کے ایک مقبول گیت کا حوالہ بھی دیا اور خود کو اس گیت کا ہیرو قرار دینے کی کوشش کی۔ یہ گیت لکھنے اور گانے والے فنکار نے اس پر سخت احتجاج کیا۔ اسکول کے بچوں اور والدین نے اس دعویٰ کو مسترد کرنے کے لئے اوسلو میں مظاہرہ کیا۔ یہ اوسلو کی تاریخ کے عظیم الشان اجتماعات میں سے ایک تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت 50 ہزار سے زائد لوگ جمع تھے۔ انہوں نے برائیویک کے دعوے کا جواب دینے کا یہ انوکھا طریقہ دریافت کیا کہ مظاہرین گلاب کے پھول لے کر عدالت کی عمارت تک پہنچے اور وہاں پر گلاب کے پھولوں کا ڈھیر لگا دیا۔ ان کا نعرہ تھا ” ہم نفرت کا مقابلہ محبت سے کریں گے۔ برائیویک ہماری قومی حمیت کا نمائندہ نہیں ہو سکتا “۔

یہ باتیں اور واقعات یوں نوک قلم پر چلے آئے کہ گزشتہ چار دنوں سے حرمت رسول کے نام پر اسلام آباد میں مظاہرہ کرنے والے علمائے دین کے متعدد ویڈیو/ آڈیو کلپس سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں لوگوں تک پہنچے ہیں۔ اسلام آباد کے ڈی گراﺅنڈ میں تو ہزار پندرہ سو ایسے مجبور لوگ موجود ہیں جو ان ملاﺅں کے مرید اور ان کے اشارے پر وہاں قیام کرنے پر مجبور ہیں، لیکن اس موقع پر تقریریں کرتے ہوئے ان پیروں اور عالموں نے اپنے حلئے، عمر اور مقام کا احساس کئے بغیر جیسی مغلظات سے تقریروں کو مرصع کیا ہے اور وزیراعظم ، آرمی چیف ، چیف جسٹس سے لے کر دیگر مسالک کے علماء، ان کی رائے سے اختلاف کرنے والوں یا اس حکمت عملی کو مسترد کرنے والوں کے خلاف جو زبان استعمال کی ہے، وہ کوئی مہذب شخص نہ سن سکتا ہے اور نہ لکھنے کا حوصلہ کر سکتا ہے۔ ملک کے اخباروں میں کالم نگاروں نے دینی نقطہ نظر سے اس بدکلامی پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ لیکن یورپ کی بحث کے تناظر میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اگر مقصد واقعی اسلام کی سربلندی ، مسلمانوں کی فلاح اور اس حوالے سے رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حرمت کا تحفظ کرنا ہے تو اس کے لئے تو انہیں اپنے محبوب رسول کی سیرت کا پرتو ہونا چاہئے۔ اس رویہ کا مظاہرہ کرنا چاہئے جو رحمت العالمین اپنے مخالفین کے بارے میں اختیار کرتے رہے ہیں۔ محبت ، عفو اور رحمت کے اس پیغام کو عام کرنا چاہئے جس کی لازوال مثال اللہ کے محبوب رسول قیامت تک کے لئے قائم کر گئے ہیں۔

اس کے برعکس اسلام کے یہ ہیرو اور حرمت رسول کے یہ پاسبان قانون شکنی اور بدکلامی کے جو نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں، وہ عام مسلمانوں کو ان سے گھن محسوس کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ صاحبان ایمان کا عقیدہ تو قائم رہے گا لیکن ان مولویوں نے اپنی حرکتوں اور انتہائی غلیظ زبان سے مسلمانوں کو شرمندہ اور نوجوان کو عقیدہ سے دور کرنے کا پورا اہتمام کیا ہے۔ ایک ایسے عہد میں جب غیر متوقع اور اچانک حملوں کا سامنا کرنے والا یورپ شدید دباﺅ کے باوجود اپنے نظام اور اصولوں کی حفاظت کر رہا ہے، اسلام کے نام نہاد محافظ اپنی گفتگو اور کردار سے یہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں کہ اس کے نمائندے اپنے مفاد اور جاہ کے لئے کسی بھی اسلامی قدر اور اصول کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ایسے میں یورپ میں جب اسلام ازم (جہادی اسلام) اور اسلام بطور عقیدہ کے درمیان فرق کرنے اور مسلمانوں کے لئے قبولیت اور احترام پیدا کرنے کی بات کی جا رہی ہے تو اسلام آباد اور راولپنڈی کے اسٹیج پر جلوہ افروز ہونے والے علمائے دین کے کرتوت دیکھ کر تو اس عقیدے کو مسترد ہی کیا جائے گا جس کے نمائندہ ہونے کا یہ دعویٰ کرتے ہیں اور ملک کے عامتہ الناس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ لوگ کیسے اسلام کا ایک نرم خو چہرہ پیش کر سکتے ہیں اور یہ کیوں کر ایسے عقیدہ کے نمائندے ہو سکتے ہیں جو دوست دشمن کو یکساں طور سے اپنے دامن رحمت میں پناہ دیتا ہے۔ برصغیر کے صوفی بزرگوں نے اس کی ہزاروں مثالیں قائم کی ہیں۔ ان اولیا کا نام بیچنے والے یہ کفن فروش ہر اصول اور دلیل کو شرمندہ اور مسترد کرنے کا سبب بنے ہیں۔ ان رہنماﺅں کے ساتھ چلتے ہوئے دنیا کے مسلمان کس طرح اس بحث میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں کہ ان کے عقیدہ اور مذہب کے نام پر خوں ریزی کرنے والے ان میں سے نہیں ہیں۔ ایسے فتوے جاری کرنے والے بیشتر عالمان اور مشائخ و مفتیان چہروں پر کراہت، کرختگی، درشتی اور نفرت سجائے زبان سے ایسے کلمات اور باتیں ادا کرتے رہے ہیں جنہیں دہرانا تو کجا سننا بھی گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔

ناروے کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخبار وے گے میں تاریخ اور سیاسیات کے تین ماہر پروفیسروں نے مل کر ایک مضمون لکھا ہے۔ اس مضمون کا اختتام ان الفاظ میں کیا گیا ہے: ” اس فرق (اسلام اور اسلام ازم) کو سمجھنے کے لئے علمی مباحث کی ضرورت ہے۔ یہ بات فیصلہ کن ہو گی کہ جمہوری ممالک کوئی ایسی جامع حکمت عملی بنا سکیں جو اسلام ازم کا مقابلہ کر سکے۔ لیکن اس بات کا لحاظ رکھنا لازم ہو گا کہ یہ پالیسی ہماری بنیادی اقدار جمہوریت ، قانون کی حکمرانی اور شرف آدمیت کو متاثر نہ کرے“۔

ہمارے ملک کے جو عالم اسلام کو واقعی دین حق سمجھتے ہیں، اور اپنے عقیدہ کی سچائی دنیا پر ثابت کرنا چاہتے ہیں اور جو دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں اور اسلام کا نام لے کر انسانوں کو ہلاک کرنے والوں کو گمراہ سمجھتے ہیں۔ کیا وہ یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ ہم اپنی اقدار پر حملہ کرنے والوں کا مقابلہ کریں گے۔ دلیل لائیں گے اور اپنی بات ثابت کریں گے لیکن کسی کی توہین نہیں کریں گے۔ کسی کی پگڑی نہیں اچھالیں گے۔ کسی کی دل آزاری نہیں کریں گے۔ کہ ہم ان اقدار کے پاسبان ہیں۔ یہ خوبیاں ہمارے رسول نے ہمیں سکھائی ہیں۔ یہی اللہ کا فرمان ہے۔

اگر ہمارے عالم اور ہم بطور مسلمان یہ کردار سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو ہمیں غور کرنا چاہئے کہ جس عقیدہ کو ہم حرز جاں سمجھتے ہیں، کیا واقعی ہم اس پر ایمان بھی رکھتے ہیں!


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali