ہیجان زدہ معاشرے کا ایک ٹکڑا


aamir hashimپچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ہاں ہیجان کا سا عالم ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ایک ساتھ معاشرے کے کئی طبقات اچانک ہی بے حد متحرک ہو گئے ہیں۔ وکلا برادری میں پرجوش فعالیت کا عنصر پرویز مشرف کے خلاف عدلیہ بحالی تحریک میں پیدا ہوا۔ ان کا جوش مگر ججوں کی بحالی کے بعد تھما نہیں اور یکے بعد دیگرے کئی مقامات پر ناخوشگوار واقعات ہوئے ۔ کہیں نوجوان وکیلوں نے ماتحت عدلیہ کے ججوں پر جوتے اچھالے،ایک جگہ خاتون جج کو ان کے کمرے میں محبوس کر دیا گیا، لڑائی مارکٹائی کے تو کئی واقعے ہوئے۔حتیٰ کہ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ اب قانون کی نام لیوا وکلا کمیونٹی سکون سے بیٹھ جائے اور قانونی لکیر عبور کرنے والوں کو خود سے علیحدہ کر دے۔وکلا کے ساتھ ضرورت سے زیادہ تیز جوڈیشل ایکٹوازم پر بھی سنجیدہ حلقے معترض ہونے لگے تھے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے اس ٹرینڈ کو عروج پر پہنچا دیا تھا۔ ان کے بعد خیر اعلیٰ عدلیہ نے توازن کا مظاہرہ کیااوروہ تاثر دور ہوگیا۔پنجاب میںگزشتہ ڈیڑھ دو برسوں کے دوران ڈاکٹر برادری کئی بار سڑکوں پر آ چکی ہے۔ معاشرے کے مسیحا ہسپتال بند کر کے سڑکوں پر نکل آتے اور مریض تڑپتے، بلکتے رہتے۔کئی اموات بھی ہوئیں، لواحقین کے ڈاکٹربرادری کے ساتھ بہت جھگڑے ہوئے۔ اساتذہ اور کلرکوں کی ہڑتالیں اور سڑکیں بند کر دینے کے واقعات آئے روز ہوتے رہتے ہیں، جبکہ کبھی ہیلتھ وزیٹر ز احتجاج کرتے ہیں تو کسی دن تجاوزات کے خلاف آپریشن کے متاثرین ماتم کناں نظر آئیں گے۔

دو تین ہفتے پہلے لاہور کی سڑکیں بدترین ٹریفک جام کا شکار ہوگئیں۔ کئی گھنٹوں تک لوگ ٹریفک میں پھنسے رہے۔ وجہ صرف یہ تھی کہ کلمہ چوک پر پچیس تیس نابینا افراد نے دھرنا دے دیا۔ ان میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ یہ لوگ خاموشی مگر منظم طریقے سے اکٹھے ہوئے اور پھر اچانک ہی کلمہ چوک جیسی مصروف ترین سڑک پر آ گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ٹریفک بلاک ہوگئی۔ لمبی قطاریںلگ گئیں، پیچھے والوں نے اپنی طرف سے سمجھداری کرتے ہوئے متبادل سڑکوں کا رخ کیا، مگر وہاں دوسری طرف سے ایسے بہت سے ’سیانے ‘انہی سڑکوں پر آ گئے تھے۔ یوں وہاں بھی ٹریفک جام ہوگیا۔ اس دن بلامبالغہ لوگ چھ چھ گھنٹوں تک سڑکوں پر پھنسے رہے۔ نابینا افراد کو پولیس بھی ہٹانے سے ہچکچا رہی تھی کہ کہیں کسی کو ایک آدھ ڈنڈا لگ گیا تو ٹی وی کیمروں کی وجہ سے یہ سب گلے ہی نہ پڑ جائے۔ اگلے روز ہمارے ایک سینئر کولیگ جو بدقسمتی سے پورا دن سڑکوں پر خوار ہوئے تھے، انہوں نے بڑی جھنجھلاہٹ سے کہا اگر دوبارہ یہ ہڑتال کریں تو ان اندھوں کو زبردستی پکڑ جیل پھینک دینا چاہیے۔شائستہ آدمی ہیں،مگرایک پورے دن کی تھکن، بیزاری نے سخت الفاظ استعمال کرنے پر مجبور کر دیا۔

ضرورت سے زیادہ فعالیت کا عنصر میڈیا خاص کر نیوز چینلز میں بھی جھلکتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے ملک میں بھونچال پیدا کیا ہے۔ بہت سی چیزیں اس سے بہتر بھی ہوئیں، ایسے ایسے ایشوز ٹی وی سکرین پر ڈسکس ہوکر عام آدمی کے ریلیف کا باعث بنے، جس کی پہلے مثال نہیں ملتی تھی۔ کرنٹ افئیرز پر اس قدرتفصیلی تجزیاتی ٹاک شوز کا کس نے تصور کیا تھا؟پی ٹی وی کے زمانے میں مردہ قسم کا خبر نامہ تھا، جو دیکھنے والے کو بوریت کی انتہا تک پہنچا دیتا تھا۔بڑے سے بڑا واقعہ ہوجائے، سرکاری چینل ایک سطر کی خبر بھی نہیں دیتا تھا، لوگ خبر کی تصدیق اور تفصیل کے لئے بی بی سی ریڈیو سے رجوع کرتے ۔ اب بریکنگ نیوز کلچر ایسی تیزی اور طوفانی انداز سے آیا کہ لوگ خود ان بریکنگ نیوز سے اکتانے لگے ۔ سوشل میڈیا اور اخباری کالموں میں اب نیوز چینلز کی سنسنی خیز خبریں، چنگھاڑتی بریکنگ نیوز اور کئی اہم قومی ایشوز کی جگہ صرف سیاسی پیش رفت کو سو فیصد جگہ دینے پر تنقید ہونے لگی ہے۔ میڈیا کے اپنے لوگ ہی الیکٹرانک میڈیا کا احتساب کر رہے ہیں۔

ہیجان کی یہ شکل بعض مذہبی سیاسی گروپوں میں بھی نظر آ رہی ہے۔ اس کی اپنی اپنی وجوہات ہیں، مگر اسے الگ سے دیکھنے کے بجائے مجموعی قومی تناظر میں دیکھنا اور سمجھنا ہوگا۔ہمارے ہاں بعض حلقے اس مذہبی ہیجان کے شکار گروپ یا لوگوں کوپاکستان کے قومی منظرنامے سے الگ کر کے دیکھ رہے ہیں۔ ایسا کرنے سے یہ تاثر ملتا ہے ، گویا ملک بھر میں مذہبی شدت پسندی عروج پر پہنچ گئی اور ہر طرح افراتفری کی کیفیت ہے، جس سے نکلنے کی واحد شکل ہر قسم کی مذہبی سرگرمی پر پابندی لگانا اورریاست کو لادین یعنی سیکولر قرار دے دینا ہے۔ یہ نتیجہ نکالنا قطعی طور پر درست نہیں۔ایسا کرنا مریض کی غلط تشخیص کے مترادف ہوگا، جس کے بعد خواہ جس قدر سنجیدہ کوشش کی جائے ، مرض بگڑتا ہی جائے گا۔ اس لئے درست تشخیص کرنالازمی ہے۔

جنید جمشید کی پٹائی کا واقعہ ہو ، ممتاز قادری کے چہلم پر توڑ پھوڑ، پھر سنی تحریک اور اس کے ہمنوا چند مولوی صاحبان کے دھڑوں کا اسلام آباد میں دھرنا دیناایسے ہی واقعات ہیں۔ان تمام واقعات کا ایک پس منظر ہے، جسے الگ کر کے بات سمجھ نہیں آ سکتی۔ سنی تحریک کراچی کا ایک چھوٹا سا گروپ ہے ، جو کبھی اتنا طاقتور بھی نہیں ہوسکتا کہ کراچی میں ایک آدھ صوبائی نشست ہی نکال سکتا۔ سنی بریلوی پاکستان میں سواد اعظم (یعنی اکثریتی عوام) کہلاتے ہیں۔ بریلوی مکتب فکر کے حوالے سے یہ دلچسپ حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں میں اس مسلک کے لوگ موجود ہیں۔ بریلوی بنیاد پر سیاست کرنے والی مذہبی جماعت جمعیت علما پاکستان(جے یوپی) تھی۔ جے یوپی نے اپنے عروج کے زمانے میں بھی دو چار سے زیادہ نشستیں نہیں لی تھیں۔ وہ بھی کراچی ، حیدرآباد میں مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کی سحرانگیز شخصیت کی وجہ سے ملتی رہیں۔ پنجاب میں ایک آدھ سے زیادہ نشست انہیں کبھی نہیں ملی۔ میانوالی سے مولانا عبدالستار نیازی جیت جاتے یا لاہور سے ایک آدھ سیٹ کبھی مل جاتی۔ حالانکہ پنجاب میں کروڑوں لوگوں کا اس مسلک سے تعلق ہے۔ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور آج کی تحریک انصاف کے ووٹرز میں بریلوی شامل رہے ہیں۔ دوسری جماعتوں میں بھی اس مسلک کے لوگ شامل رہے اور اپنی مسلکی شناخت سے قطع نظر اپنی سیاسی نمائندگی کے لئے انہوں نے اپنے سیاسی ذوق اور پسند نا پسند کو ترجیح دی۔آج کل جے یوپی کے تین چار دھڑے بن چکے ہیں۔ مئی تیرہ کے انتخابات میں اس کے کسی بھی دھڑے کو ملک بھر سے ایک بھی صوبائی اسمبلی کی نشست نہیں ملی۔ سیٹ تو درکنار کہیں پر اس کے امیدواروں نے دوسرے تیسرے نمبر کی پوزیشن بھی نہیں لی۔ سنی تحریک تو کوئی قومی سطح پر کوئی شناخت ہی نہیں۔ کراچی میں اس کا نام سپریم کورٹ نے بھتہ لینے والی جماعتوں کی فہرست میں شامل کیا۔کراچی آپریشن میں اس کے کئی رہنما اور کارکن بھی گرفتار ہوئے، بعض پر مقدمات بھی چل رہے ہیں۔ کراچی میں یہ تاثر عام ہے کہ سنی تحریک کے لئے سانس لینا مشکل ہو رہا ہے۔ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد کی جذباتی صورتحال سے اس گروپ نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ شاید انہیں یہ لگا ہوگا کہ قومی سطح پر اپنی شناخت بنانے سے کراچی میں ان کے لئے کچھ سپیس پیدا ہوجائے گی۔ یہ کوشش بیک فائر کر گئی ۔ کچھ لوگوں کو اگر ان سے ہمدردی تھی تو وہ بھی اس قسم کے مضحکہ خیز دھرنے اور پھر وہاں پر بعض مولوی صاحبان کی غیر سنجیدہ ، غیر شائستہ گفتگو کی ویڈیوز سن کر مکمل طور پر ختم ہوگئی۔

اسلام آباد دھرنے کے شرکا اور ایسا کرنے والوں کو سنی بریلوی علما دین کا نمائندہ قطعی طور پر تصور نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایک گروپ اور بعض عاقبت نا اندیش مولوی صاحبان کا ایڈونچر تھا، جو بری طرح ناکام ہوا۔ یہی دیکھ لیں کہ ممتاز قادری کے جنازے پر لاکھوں لوگ جمع ہوئے، مگرممتاز قادری کے چہلم کے بعد اس دھرنے یا دھرنی میں چند ہزار لوگ بھی نہیں آئے۔ ان تمام نے قادری مرحوم کے حوالے سے سیاست کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔جیسے ڈاکٹروں کی ہڑتال کو کبھی عوامی پذیرائی نہیں ملتی، اسی طرح ٹیچرز اور کلرک بھی سڑکوں پر دھرنا دے کر شہر میں خوفناک ٹریفک جام تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر اس طرح وہ رہی سہی عوامی تائید سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ محترم ثروت قادری اور ان کے ہمنواﺅں کے اس ایڈونچر کو بھی ملک بھر کے مذہبی لوگوں یا رائیٹ ونگ کے کھاتے میں نہیں ڈالنا چاہیے ، نہ ہی اس غلطی کی سزا اہل مذہب کو ملنا چاہیے۔یہ ہمارے ہیجان زدہ معاشرے کا ایک ٹکڑا ہی تھا۔ جس طرح پورے معاشرے (مذہبی، غیر مذہبی عناصر)کے ہیجان کا علاج کرنے کی ضرورت ہے، اس ایک چھوٹے سے ٹکڑے کا بھی اسی انداز میں تریاق ڈھونڈنا ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “ہیجان زدہ معاشرے کا ایک ٹکڑا

  • 31-03-2016 at 12:31 am
    Permalink

    معلوم نہیں کون کس کی نمائندگی کرتا ہے، خود کش بمبار مکتب دیوبند کی نمائندگی نہیں کرتے، اور اب ناموس رسالت کے نام پر دھرنا دینے والے دشنام طراز مولوی مکتب بریلوی کی نمائندگی نہیں کرتے۔ آپ کی تردید معلوم نہیں کیا اثر دکھائے گی، لیکن جو گندم آپ کھاتے ہیں باقی قوم بھی وہی گندم کھاتی ہے۔

  • 31-03-2016 at 8:32 am
    Permalink

    This analysis is substantially true, but one question relevant to be asked is why these fringe groups and deviants are not disowned by the real group or its true representatives.

  • 31-03-2016 at 10:55 am
    Permalink

    اسے اہلیان مذہب کے کھاتے میں نہ ڈالیں لیکن اہلیان مذہب میں سے کسی نے اسکی مذمت کی.؟
    بریلوی، مکتب فکر میں سے کس جید عالم نے ان کی مذمت کی؟انہیں غلط کہا.؟یی مذہب کے نام پر دھبا ہیں مگر بریلوی مکتب فکر انہیں اون کرتا ہے.
    جہاں تک سیکولر ریاست کو بے دین کہنا ہے تو اس پر آپ کو کیا کہا جاے.جانتے بھی ہیں کہ ہم جب سیکوکرازم کی بات کرتے ہیں تو اس سے لادینیت مراد نہیں ہوتی مگر آپ پھر بھی مسلسل اسے لادین کہہ رہے ہیں.
    ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے

  • 31-03-2016 at 2:56 pm
    Permalink

    محترم عامر خاکوانی صاحب کے تجزیے کے مطابق موجودہ دھرنا دینے والے بریلوی مکتبہ فکر کے نمائندے نہیں ہیں نیز یہ کہ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد مین سٹریم سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ممبر، ووٹر اور سپورٹر ہیں.
    خاکوانی صاحب کے تجزیے سے سو فیصد اتفاق کرتے ہوئے اس میں صرف اتنا اضافہ کرنے کی اجازت چاہوں گا کہ مذکورہ بالا سیاسی جماعتوں میں صرف بریلوی ہی نہیں بلکہ ہر مکتبہ فکر نیز ہر لسانی اور علاقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں. جس کا بنیادی سبب ان جماعتوں کا لبرل (خاکوانی صاحب کو یہ لفظ ناگوار گزرے تو ان کی خوشی کی خاطر) یا روادارانہ مزاج ہے.
    تاہم اس سے ہر یہ مراد نہیں کہ مذہبی، لسانی اور علاقائی جماعتوں کی کوئی ضرورت نہیں. حقیقی جمہوریت کی بقا اور اکثریت کو آمرنا انداز میں اقلیتوں کو کچلنے سے بچانے کے لیے ان جماعتوں کی موجودگی بھی ضروری ہے.
    یہ اور بات ہے کہ اس وقت ہمارے ہاں پائی جانے والی مذہبی اور لسانی جماعتیں حقیقی جمہوریت کے استحکام میں مدد دینے کی بجائے بلیک میلنگ کے ذریعے اپنے ذاتی مفادات کے حصول میں مصروف ہیں.
    تاہم مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں. جمہوریت کی گاڑی چلتی رہی تو بتدریج سب کے رویے لبرل اور روادارانہ ہوتے چلے جائیں گے.

Comments are closed.