خواب کے چوبارے پر۔۔۔


naseer nasirتم کس خواب کے چوبارے پر
آنکھیں لے کر آ بیٹھے ہو؟
برجی برجی شست لگائے
کس منظر کو دیدار کے عدسے پہناتے ہو؟
کس کے آنے کی آس لگا بیٹھے ہو؟
رستہ ایک دکھاوا ہے
مٹی کا پچھتاوا ہے
قدموں کا الجھاؤ، خواہش کا گھاؤ ہے
پچھم، پورب، دکھن، پربت
بے سمتی کا ٹکراؤ ہے
بہتر ہے بس سامنے دیکھو ۔۔۔۔۔۔
نیندوں کے دریا میں
سورج کی ناؤ بہتی ہے
ہلکی دھوپ کی چادر اوڑھے
شام کنارے پر بیٹھی ہے
حد نظر تک اور بظاہر نیلا شانت سبھاؤ ہے
کافی کی مہک ہے، خنکی ہے، رچاوٹ ہے، رچاؤ ہے ۔۔۔۔۔
تم کو کس نے روکا ہے؟
فوکس کر کے بے شک دیکھو
بستی کی چاروں جانب
ایک طلسمی دھوکا ہے
حسن، ادائیں، رقص، میوزک
وصل کا در، دید جھروکا ہے
کھیل تماشے، فلم ڈرامے، ہیری پوٹر کی دنیا
حیرت افزا چیزیں ہیں
ساز و برگ انوکھا ہے
شاپنگ مال، پلازے، ہوٹل
منرل واٹر، لیموں پانی
کھیر، ٹرائفل، گاجر حلوہ، گرما گرم پلاؤ ہے
جو کچھ کھانا ہے کھاؤ
لینز گھماؤ اور گنجان نگر کے وسط میں جاؤ
رینگتے کیڑوں اور جرثوموں جیسی مخلوق خدا ہے
گلیوں اور مکانوں کا
دالانوں، ارمانوں کا لامتناہی پھیلاؤ ہے
سبزی منڈی، آٹو رکشے
جلسہ گاہیں، لیڈر، تقریریں، وعدے، نعرے، فتوے
پیٹ کا دوزخ خالی ہے
آٹے دال کا بھاؤ ہے
آتی پاتی کھیلتے لڑکے
برقع پوش جواں پیکر
کہنہ سال انسانی ڈھانچے
برسوں سے زیرِ مرمت
سڑکوں پر فینائل جیسی بدبو کا چھڑکاؤ ہے
ہمت ہے تو آگے آؤ
کیمرہ لاؤ اور فلماؤ
ابھی ابھی بارود پھٹا ہے
لاشوں کا اک ڈھیر لگا ہے
آتش بازی کا شو ہے، رنگوں کا الاؤ ہے
تم کس خواب کے چوبارے پر
آنکھیں لے کر آ بیٹھے ہو؟


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “خواب کے چوبارے پر۔۔۔

  • 31-03-2016 at 11:31 am
    Permalink

    ہمت ہے تو آگے آؤ
    کیمرہ لاؤ اور فلماؤ
    ابھی ابھی بارود پھٹا ہے
    لاشوں کا اک ڈھیر لگا ہے
    آتش بازی کا شو ہے، رنگوں کا الاؤ ہے
    تم کس خواب کے چوبارے پر
    آنکھیں لے کر آ بیٹھے ہو؟

  • 01-04-2016 at 12:34 am
    Permalink

    تم کس خواب کے چوبارے پر
    آنکھیں لے کر آ بیٹھے ہو؟
    برجی برجی شست لگائے
    کس منظر کو دیدار کے عدسے پہناتے ہو؟

    استعاروں کا خوبصورت استعمال!!!

  • 01-04-2016 at 5:27 pm
    Permalink

    ایک نظم ہے جو دل میں اترتی ہے اور دنیا بھر کے احساسات سے شناسا بناتی ہوئی بارود کی بو سے یکایک روشناس کرادیتی ہے‘ یہ نظم ہاتھ سے پکڑ کر امیجز دکھاتی ہے‘ آؤ دیکھو اگر ہمت ہے، آپ کی نظمیں پرقوت ہوتی ہیں

Comments are closed.