’ قم باذن اللہ‘ کہہ سکتے تھے جو ، رخصت ہوئے


asif Mehmood لاہور میں ننھے وجود خزاں کے پتوں کی مانند بکھرے پڑے ہیں تو اسلام آباد میں ہماری اقدار ،جہاں مطالبہ تو نفاذ اسلام کا ہے لیکن زبانیں تعفن اگل رہی ہیں۔ یہ ہماری صدیوں کی تہذیب کا حاصل ہے کہ بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں ، یہ اصول بھی اہل جبہ و دستار نے روند ڈالا ہے۔ مغرب کا سماج کلیسا سے بے زار ہوا تو سیکولر ہو گیا، ہمارے سماج نے کبھی شعوری طورپر مذہبی شناخت سے دست بردار ہو کر سیکولر ہونے کا فیصلہ کیا تو ڈی چوک پر گالیاں دیتے ان ’مرشدان خود بیں‘ کا شمار سیکولرازم کے اولین نقوش میں ہو گا۔ اقبال یاد آتے ہیں :

’ قم باذن اللہ ‘ کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے

 خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن!

زوال مسلسل کی ان نامبارک ساعتوں میں، چندپہلو بہت اہم ہیں۔

1۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اس ملک کو نفسیاتی مریض بنانے میں میڈیا کا کیا کردار رہا ہے؟ کیا یہ بات تعجب انگیز نہیں ہے کہ ریٹنگ کے چکر میں مہمانوں کو اپنے اپنے ٹاک شوز میں لڑا کرمعاشرے کی اخلاقیات اور روایات تباہ کر دینے والے اینکرز بھی میک اپ کروا کر رونی صورت بنا ئے پوچھتے پھرتے ہیں، ’یہ مظاہروں میں تشدد کا عنصر کیوں شامل ہو جاتا ہے؟‘۔ یہ وہ شعبہ ہے جہاں ساری رات خندق میں ریت بھرنے کے باوجود وقت صبح شہر کا نوحہ بھی سب سے اونچی آواز میں پڑھنے کے جملہ حقوق آپ کے نام محفوظ رہتے ہیں۔ جس ملک کے ٹاک شوز میں مرغوں کی لڑائی اور کالموں میں سلطان راہی کے ڈائیلاگ ہوتے ہوں اس ملک کے شہریوں سے اعتدال کی توقع کیا بذات خود ایک انتہا پسندانہ خود فریبی نہیں؟ہمارے ٹاک شوز نے ہمارے سماج کی بنیادیں اکھاڑ دی ہیں۔ جس کے پروگرام میں لڑائی ہو جائے وہ اینکر ایسے دیکھتا ہے جیسے ابھی دنیا فتح کر کے لوٹا ہو۔ مکالمے کا کلچر ان ٹاک شوز نے تباہ کر دیا ہے۔ ایسے میں ایک اعتدال پسند معاشرہ کیسے تشکیل پا سکتا ہے۔ نیم خواندہ اینکرز کا مقصد اولین مہمانوں کو الجھانا ہے چنانچہ مذہب کے نام پر کیے جانے والے ٹاک شوز مین بھی اولین ترجیح سماج کی تہذیب نہیں بلکہ دنگل اور تفنن طبع ہے۔ مفتی نعیم اور مفتی عبد القوی جیسے حضرات ہر وقت دستیاب ہیں ، جی چاہے تو انہیں قندیل بلوچ کے ساتھ بٹھا کر علمی گفتگو کروا لیں اور دل کرے تو وینا ملک اور الماس بوبی کے ساتھ ان حضرات کا علمی اور فکری معرکہ برپا کروا لیں۔ نیم خواندہ مولوی کیا کم تھے کہ ناتراشیدہ اینکر بھی میدان میں کود پڑے۔ میڈیا کے لیے اب مذہب ایک سنجیدہ موضوع نہیں رہا۔ ایسے ایسے مسخرے صحافی معروف عالم دین قرار پائے کہ الامان ۔ کیا ہم میڈیا سے توقع رکھ سکتے ہیں کہ مذہبی ٹاک شوز کے موضوعات اور مہمانوں کے تعین میں سنجیدگی دکھائے گا؟ جنید جمشید کے ساتھ جو ہوا، اس کی تحسین ہر گز نہیں کی جا سکتی لیکن جنید جمشید جیسے حضرات بھی مبلغ اسلام کے مرتبے پر فائز ہونے سے پہلے مطالعہ اور تہذیب نفس سے گزریں۔ ایک اور صاحب ہیں جن کا نام سعید انور ہے، ان کا لہجہ بھی ان کے ناتراشیدہ پن کی عکاسی کرتا ہے۔ اللہ کے بندے دین کے مبلغ بن گئے ہو تو اتنی بنیادی اخلاقیات تو سیکھ لو کہ دوست کی بیوی کا تذکرہ کس طرح کرنا چاہیے۔ داعی کا منصب خیر خواہی کا ہے لیکن داعی اگر عمران خان کو طعنے دینا شروع کر دے کہ تمہاری بیوی ایسی ہے اور ویسی ہے اور محض ہسپتال بنا کر جنت نہیں مل سکتی وغیرہ…. تو آدمی کس دیوار گریہ پر جا کر سر رکھ کر روئے؟

2۔ کیا ہم مذہب اور اہل مذہب میں فرق رکھ پائیں گے یا اہل مذہب کی غلطیوں کے رد عمل میں بہتے ہوئے سیکولرائزیشن کے عمل کا حصہ بن جائیں گے؟ سماج کی نفسیات کے تناظر میں یہ سوال بہت اہم ہے۔ رد عمل کی ایک خوفناک فضا تیار کی جا رہی ہے ۔ چیخ چیخ کر جو خبرپڑھی گئی کہ فلاں مولوی نے لاہور میں خود کش دھماکہ کیا ، بتا رہی ہے کہ نفسیاتی عارضہ کتنی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ چونکہ ایک لاشے کی ڈاڑھی تھی اس لیے وہی دہشت گرد قرار پایا۔ کیا اس رویے کے ساتھ سماج اعتدال کی طرف بڑھے گا یا انتہا پسندی کی جانب دھکیلا جائے گا؟

3۔ سماج کے سامنے ایک اہم سوال رکھا ہے : کیا گروہی عصبیت ہی مذہب کی علمبردار ہے؟ مذہب کے نام پر اس معاشرے کا جی بھر کر استحصال کیا گیا ہے۔ کیا یہی سلسلہ چلتا رہے گا؟ عوام الناس کی اکثریت اس فرنچائزڈ کلچر سے بے زار نظر آ رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فرقہ وارانہ شناخت سے بالاتر ہو قرآن و سنت سے تعلق قائم کیا جائے۔ سماج میں کوئی ہے جو یہ کام کر سکے یا مذہب کی آڑ میں سب کی اولین ترجیح اپنی اپنی فرنچائزز کا دفاع کرنا ہے؟ فکری کشمکش میں ہر دن کے ساتھ شدت آ رہی ہے۔ جن اہل دانش کے ہاں اسلام سے وابستگی کے حوالے سے ایک حساسیت موجود ہے انہیں جان لینا چاہیے کہ روایتی مذہبی فکرکی غالب شناخت اس کشمکش میں نادان دوست کا کردار ادا کرتے ہوئے سیکولرازم کا مقدمہ مضبوط کر تی چلی جا رہی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دین کامقدمہ وہ لوگ پیش کریں جن کی نظر میں قرآن و سنت ترجیح اول ہو نہ کہ مسلکی عصبیتیں…. کوئی ہے جو یہ کام کر سکے؟کوئی رجل رشید؟

4۔ ہمیں اس سوال پر بھی غور کرنا ہو گا کہ نفاذ شریعت سے ہماری مراد کیا ہے؟ لوگ اٹھتے ہیں ، ڈی چوک میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ شریعت نافذ کی جائے۔ غالبا ہمارے روایتی مذہبی طبقے میں نفاذ شریعت سے مراد صرف نظام تعزیر ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ کچھ قوانین لاگو کر دینے سے شریعت نافذ ہو جائے گی۔ ایسا نہیں ہے۔ شریعت ایک وسیع تر فلسفہ حیات کا نام ہے جس میں قوانین تعزیر بھی موجود ہے اور فلاحی اور اخلاقی پہلو بھی موجود ہیں۔ اب ڈی چوک پر جو احباب نفاذ شریعت کا مطالبہ کرتے رہے ، کیا وہ اپنے اسلوب گفتگو کو شریعت کے مطابق سمجھتے ہیں؟ گندی گالیاں ، غلیظ طرز گفتگو اور اس پر شرمندہ ہونے کی بجائے نعرہ تکبیر بلند کرنا۔ کیا ان حضرات نے سیرت طیبہ ﷺ کا مطالعہ کر رکھا ہے؟ کیا وہ جانتے ہیں ان کا طرز عمل شریعت میں بالکل اجنبی ہے؟ شریعت کا مطالبہ لے کر اٹھنے والے اپنے وجود کو سیرت رسول پاک ﷺ کے سانچے میں کب ڈھالیں گے؟

معاشرہ فکری طور پر دوراہے پر کھڑا ہے۔ میں ایک عرصے سے کہ رہا ہوں کہ اہل مذہب اس ملک میں سیکولرازم کا ہراول دستہ ثابت ہوں گے اور اس معاشرے نے کبھی شعوری طور پر اپنی مذہبی شناخت سے دست بردار ہو کر سیکولر ہونے کا فیصلہ کیا تو اس کی وجہ سیکولر احباب کی علمی کاوشیں نہیں اہل مذہب کا اپنا نامہ اعمال ہو گا…. یہ لوگ وہی غلطیاں کر رہے ہیں جو مغرب میں اہل کلیسا نے کیں،انجام مختلف کیسے ہو گا؟

کلیسا نے مذہب سے لے کر ریاست تک جملہ حقوق اپنے حق میں محفوظ کروا لیے اور معاملات کو پیٹ کی آنکھ سے دیکھنا شروع کر دیا۔ عام آدمی سے کہا گیا کہ سوئی کے ناکے سے اونٹ تو گزر سکتا ہے مگر دولت مندکبھی جنت میں نہیںجا سکتا۔ اس کی نجات اسی میں ہے کہ دولت کلیسا کے قدموں میں ڈال دے۔ سوچوں پر پہرے لگا دیے گئے۔ برونو جیسے آدمی کو اس جرم میں زندہ جلانے کی سزاسنائی گئی کہ وہ نظام ہیےت میں زمین کا مقام متعین کرنے کا قائل تھا۔ اسی طرح جب گیلیلیو نے کہا کہ سورج زمین کے گردنہیں بلکہ یہ زمین ہے جو سورج کے گرد گھومتی ہے تو اس کو سزائے موت سنا دی گئی۔ مذہب پادری کی خود ساختہ تعبیرات کا محتاج ہو گیا اور مذہب کی من پسند تعبیر ات سامنے آنے لگیں جن کی صرف یہ افادیت تھی کہ وہ پادریوں کے مفادات کا تحفظ کرتی تھیں۔ جب جب لوگوں نے کلیسا کی تعبیر زندگی پر اعتراض اٹھایا انہیں مرتد،لادین،اور مذہب دشمن قرار دے دیا گیا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ مذہب کی تعبیر کے جملہ حقوق پادری کے نام محفوظ ہو چکے ہیں اور پادری ہر معاملے کو پیٹ کی آنکھ سے دیکھ رہا ہے اور عقل و فہم سے اسے کوئی شغف نہیں رہا تو لوگ اس نتیجے پر پہنچے کہ اجتماعی زندگی میں کلیسا کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ یہ مذہب کے خلاف بغاوت نہ تھی،عیسائی ملا کے خلاف بغاوت تھی ۔ اب چونکہ عیسائیت وہی رہ گئی تھی جو کلیسا کہتا تھا اس لیے لوگ آگے جا کر مذہب ہی سے بیزار ہو گئے۔

اب ذرا پاکستان کی حالت دیکھ لیجئے۔ تعبیر دین کے جملہ حقوق احباب اپنے نام کروا چکے ہیں۔ مذہبی سیاست آج اپنے اخلاقی بھرم کے اعتبار سے وہیں کھڑی ہے جہاں دوسرے اہل سیاست کھڑے ہیں۔ وہ تمام آلودگیاں مذہبی سیاست کو اپنی گرفت میں لے چکی ہیں جن سے اللہ والے اجتناب ہی کرتے آئے ہیں۔ اگر یہی صورت حال رہی توآنے والی نسل مذہب کے نام پر سیاست کو استحصال سمجھ کر رد کر دے گی اور معاشرہ سیکولرازم کی دلدل میں جا گرے گا۔ اگر ایسا ہو گیا تو اس کے ذمہ دار اہل مذہب خود ہوں گے۔ مکرر عرض ہے کہ تاریخ انہیں سیکولرازم کے ہراول میں شمار کرے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “’ قم باذن اللہ‘ کہہ سکتے تھے جو ، رخصت ہوئے

  • 31-03-2016 at 4:22 pm
    Permalink

    Bilkul Sahi Farmaya

Comments are closed.