رگڑے پہ رگڑا اور امریکی بیڑا


zafar kakarسنی بھائیوں کے موجودہ عظیم الشان دھرنے پر اعتراضات اٹھانے والوں کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش خدمت ہیں ۔ ایک مسلمان سیاسی کارکن کی نظر سے دیکھیں تو طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد ہمارے اکابرین ( اکابرکی بجائے اکابرین استعمال کرنے کی وجہ غالبا یہ ہو گی کہ اس سے تاثیر میں اضافت تشبیہی اور تعداد میں اضافت توصیفی پیدا ہو) نے اپنے دیرینہ مطالبات منوا نے کی خاطر پہلا زینہ پار کر لیا۔ دیکھیے گزارش سنیں۔نظام مصطفی کا نفاذ اس ملک کی بنیاد ہے۔ اسی کی خاطر حکیم الامت نے خواب دیکھا اور فرمایا اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے۔ اسلامیان ہند نے قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں ایک بے مثال جدوجہد کی اور آگ و خون کا ایک دریا عبور کرکے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن حاصل کیا۔ ایک چھوٹی سی اقلیت کے بودے دلائل سے صرف نظر کیجیے کہ قائداعظم ایک سیکولر ریاست کے حامی تھے۔

ہمارے ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے لکھا ہے، ’ محمد علی جناح لندن میں بیرسٹری کیلئے داخلہ لینا چاہتے تھے تو انہوں نے لنکنزان کو اپنی درسگاہ کے طورپر اس لیے منتخب کیا کہ لنکز ان میں دنیا کے عظیم ترین آئین یا نظام قانون دینے والوں کی فہرست میں ہمارے نبی آخر الزمان حضرت محمدﷺ کا نام گرامی بھی شامل تھا۔ چنانچہ قائداعظم نے اس سے متاثر ہوکر لنکنز ان میں داخلہ لیا اور بیرسٹری کا امتحان پاس کیا ‘۔ اسی واقعے کی مزید تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں، ’ قائداعظم کے والد گرامی تجارت کے ساتھ ساتھ مشن ہائی سکول کراچی میں پڑھاتے بھی تھے لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کو شروع میں سندھ مدرستہ الاسلام میں داخل کروایا کیونکہ مشن سکول میں عیسائیت کا پرچار بھی کیا جاتا تھا جبکہ سندھ مدرستہ الاسلام میں بچوں کی دینی تربیت پر توجہ دی جاتی تھی۔ مدرستہ الاسلام کے ریکارڈ کے مطابق محمد علی جناح کے نام کے سامنے والے خانے میں حسب رواج خوجہ لکھنے کی بجائے محمڈن لکھایا گیا۔ قائداعظم سندھ مدرستہ الاسلام چھوڑ کربمبئی گئے تو وہاں بھی انجمن اسلامیہ کے سکول میں داخل ہوئے۔ بعد ازاں لندن جانے سے قبل وہ مختصر سے عرصہ کے لئے کراچی کے مشن سکول میں بھی طالب علم رہے۔ سید رضوان احمد کی تحقیق کے مطابق قائداعظم محمد علی جناح کے والد جناح بھائی پونجا مذہبی رجحانات رکھتے تھے اور شام کے وقت محلے کے بچوں کو قرآن مجید پڑھایا کرتے تھے جبکہ قائداعظم کی والدہ بچوں کو تاریخی کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائداعظم کی تربیت قدرے مذہبی ماحول میں ہوئی اور اسی مذہبی تربیت کا اثر تھا کہ قائداعظم نے لندن میں لنکنز ان کا انتخاب کیا‘۔

شہید ملت لیاقت علی خان ،محمد علی جناح کو اپنا رہبر اور قوم کا نجات دہندہ تصور کرتے تھے۔قائد ملت نے مملکت خدادا کی نظریاتی اساس برقرار رکھنے کی غرض سے قرارداد مقاصد ایوان میں پیش کرکے پاس کروائی جو کہ تاریخ ساز کارنامہ ہے۔ سید صاحب ابواعلی مودودی سے لے کرمولانا مفتی صاحب محمود تک اور احمد شاہ نورانی سے لے کر علامہ طاہر القادری تک تمام اسلامی جماعتوں کی جدوجہد نظام مصطفی کے قیام کے لئے ہی تھی۔نظام مصطفی کی خاطر لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس تحریک کے پیچھے کم و بیش ایک صدی کی جدوجہد ہے ۔ستر سال کی طویل جدوجہد کا یہ بنیادی اور اولین مطالبہ تھا۔ اسی ضمن میں ہمارے اکابرین نے موجودہ دھرنا دیا تاکہ مملکت خداداد میں نظام مصطفی کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔

اس دھرنے پر مخالفین کے چند اعتراضات سامنے آئے ہیں جن کا ذیل میں جواب دیا جا رہاہے۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ ہمارے اکابرین کے مطالبات جائز نہیں ہیں۔اس اعتراض کے جواب میں ہمارے اکابرین فرما چکے ہیں کہ مملکت پاکستان میں تقریر و تحریر ہر سیاسی و غیر سیاسی کارکن کا بنیادی حق ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حق کے تحت ہم نے دھرنا دیا اور اپنے مطالبات پیش کئے جس پر اعتراض ہمیں اظہار رائے کی آزادی سے محروم کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔دوسرا اعتراض یہ ہے کہ ہمارے اکابرین نے جلسے میں گالم گلوچ کی۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ انسان جذباتی کیفیت میں کبھی کبھار ایسے الفاظ کہہ جاتا ہے جو مناسب نہیں ہوتے لیکن گالی اس ملک کی تاریخ میں کوئی ایسی نئی چیز نہیں ہے جو صرف ہمارے جلسے میں دی گئی ہو۔ اسی ڈی چوک پر ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا دھرنا ہوا اور اس میں ملک کی قیادت بلکہ مستقبل کے وزیر اعظم نے بھی دل کھول کر گالیاں دیں۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ ہمارے کارکنوں نے ملکی املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ میٹرو اسٹیشن میں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کا کام ہمارے کارکنان نے نہیں کیا بلکہ پینٹ شرٹ میں ملبوس کچھ شر پسند عناصر نے کیا جو ہمارے کارکنان کو بدنام کرنا چاہتے تھے۔ اگر کوئی اکا دکا کارکن کہیں شامل ہوا بھی ہو تو اس سے پہلے علامہ قادری اور عمران خان کے دھرنے میں شامل لوگوںنے پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر باقاعدہ حملے کیے۔ اگر ان کے کارکن کو ہنسی خوشی بغیر کسی ایف آئی آر کے اپنے گھر جانے دیا گیا تو ہمارے کارکنان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنا کہاں کا انصاف ہے۔ جہاں تک رگڑے پہ رگڑا لگانے والی بات ہے یا ہیلی کاپٹر کی جانب جوتیاں پھینکنے والی بات ہے تو عرض ہے کہ جذباتی فضا میں چھوٹی موٹی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔

اوپر دئیے گئے تمام مشمولات مضمون اکابر و کارکنان کی تقاریر و تحاریر کے اقتباسات ہیں جس سے مصنف کا متفق ہونا ذہنی خمیدگی کی صورت میں ممکن ہو گا۔ مصنف تو صرف اتنا سمجھا ہے کہ آسان فارسی میں مراد یہ ہے کہ ادھر اکابرین کے پوا کھانے کے بھاگ جاگنے لگے تھے کہ حکومت نے سات نکات پر مشتمل ایک ایسا معاہدہ کیا جس کی خلاف ورزی اکابرین و کارکنان کم و بیش ایک صدی تک تو کسی عدالت میں ثابت کرنے کے اہل نہیں ہونگے۔کمال نااہلی کا مظاہرہ کرنے کے بعد حکومت کی سیاسی بلوغت کو بہر حال داد دینی چاہیے۔اس پورے منظر نامے پر خاکسار کو صرف اپنے بچپن کے دوست بخاری صاحب کا واقعہ یاد آتا ہے۔بخاری صاحب آج کل بھی کوئٹہ میں کبیر بلڈنگ کے پاس سید ہوٹل کی کرسیوں پر پائے جاتے ہیں۔سید ہوٹل کی کرسیوں پر ہی ایک بار بخاری صاحب نے خاکسار اور مرنجاں مرنج ڈاکٹر عبد الحئی بلوچ کو بحیرہ عرب میں کھڑے امریکی کے بحری بیڑے کی لمحوں میںتباہی کا آسان نسخہ بتایا تھا۔ بخاری صاحب نے فرمایا کہ مشرف کو چاہیے کہ کراچی کے ساحل تک بجلی کی گیارہ ہزار واٹ کی ٹرانسمیشن لائن لے کر جائے اور ایک تار پانی میں گرا دے۔ نمک زدہ پانی میں کرنٹ دوڑنے سے امریکی بحری بیڑا لمحوں میں کوئلہ بن جائے گا۔ بخاری صاحب سے اپنی تو بچپن کی یاد اللہ تھی مگر اس نادر نسخے پر بیچارے ڈاکٹر عبدالحئی کی کیفیت ’ گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل‘ والی ہو گئی تھی۔ عرض ہے کہ امریکہ کی تباہی ہو یا ملک کی آئین میں تبدیلی ، پاکستان میں ہر چاچا، ماما، طیفا اور کن کٹا رگڑے پہ رگڑا لگانے کا ماہر ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 81 posts and counting.See all posts by zafarullah

One thought on “رگڑے پہ رگڑا اور امریکی بیڑا

  • 31-03-2016 at 1:13 pm
    Permalink

    Very informative

Comments are closed.