نصاب اور نصاب سازی کے مسائل: حصہ سوئم


abid mir

بلوچستان میں پڑھائی جانے والی مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کی نصابی کتب میں تعصبات، اغلاط اور متضاد بیانات کی نشان دہی۔
—-
لطف کی بات یہ ہے بلوچستان میں انٹر میڈیٹ کی سطح پر مطالعہ پاکستان کی دو مختلف کتابیں بلوچستان کے کالجز میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ ایک بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی منظور کردہ، جس کا تذکرہ ہم گذشتہ سطور میں کر آئے ہیں۔ جب کہ دوسری وفاقی وزارتِ تعلیم کی منظور کردہ جسے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کیا۔ بعض اساتذہ کے مطابق پچھلے پانچ سالوں سے وہ وفاقی وزارت تعلیم کی منظور کردہ کتاب ہی پڑھا رہے ہیں، لیکن اندرونِ بلوچستان بعض مقامات پہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتاب بھی پڑھائی جار ہی ہے۔ یہ کتاب انتظامی سطح پر منسوخ نہیں کی گئی، اس کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اس کا آخری ایڈیشن 2011ء میں شائع ہوا ہے۔

بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتاب کا تذکرہ تو ہم نے کیا، اب وفاقی وزارتِ تعلیم کی کتاب کی بھی بات کر لیتے ہیں۔ اس کے مصنف ہیں: ڈاکٹر عبدالقادر خان (کتاب میں اندر ایک جگہ مصنف،ڈاکٹر عبدالقدیر بھی لکھا ہوا ہے) ایڈیشن: 2013۔منظور شدہ: وفاقی وزارتِ تعلیم(شعبہ نصاب) اسلام آباد۔ پبلشر:نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد
تعصبات
1 :
ثقافتی ورثے کے حوالے سے پاکستان کے اہم مقامات (ص،116) میں کوٹ ڈیجی، ہڑپہ، موئن جو دڑو، ٹیکسلا، سوات، بھنبھور، منصورہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
مہرگڑھ، چاکر کا قلعہ اور ہنگلاج کا کوئی تذکرہ نہیں۔
2 :
باب ’پاکستان کی قومی زبانیں‘ میں لکھا ہے؛ ’’قائداعظم نے ابتدا میں ہی دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا، اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم متحد ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو اس کی سرکاری زبان ایک ہی ہو سکتی ہے جو میری ذاتی رائے میں اردو اور صرف اردو ہے۔ ‘‘ (ص، 130)
یہ نہیں بتایا گیا کہ بنگال میں ان کے اسی خطاب سے بنگلہ زبان کی تحریک اٹھی، جو پاکستان کی تقسیم پہ منتج ہوئی۔
3 :
۔۔۔ اردو زبان کی امتیازی خصوصیات: تاریخ نے اسلام، پاکستان اور اردو کو ایک دوسرے کے لیے اس طرح لازم و ملزوم بنا دیا ہے کہ اب ایک کے بغیر دوسرے کا تصور بھی محال ہے۔ اردو میں اسلامی لٹریچر کا قابلِ فخر ذخیرہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مملکت کے نظریاتی مقاصد کی تکمیل قومی زندگی کے ہر شعبے میں اردو کے نفاذ کے بغیر مکمل ہی نہیں۔ (ص، 131)
۔۔۔ پاکستان کی علاقائی زبانیں:
پنجابی: پنجابی شاعری کا شمار دنیا کی اعلیٰ ترین شاعری میں ہوتا ہے ۔
بلوچی: بلوچ قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے اور زمانہ جاہلیت کے عرب معاشرے کی تمام خصوصیات ان میں موجود تھیں۔ (ص، 137)
اغلاط
1
صفحہ 124 پہ لکھا ہے؛ ’’چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف بارہ اکتوبر 1999 کو برسراقتدار آئے اور انھوں نے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھال لیا۔ ان کا سیاسی فلسفہ یا وژن یہ ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘
کتاب کا پہلاایڈیشن 2004ء میں شائع ہوا جب پرویز مشرف برسراقتدار تھے، موجودہ ایڈیشن 2013ء میں شائع ہوا ہے، لیکن زبان سے پتہ چلتا ہے کہ دس برسوں میں اس پہ کوئی نظر ثانی نہیں کی گئی۔
2
کے پی کے کو ایک جگہ ’سرحد اسمبلی‘ لکھا گیا ہے (ص،125)
حالانکہ 2010ء سے اس کا سرکاری نام خیبر پختونخوا ہو چکا ہے، لیکن 2004ء میں شایع ہوئی کتاب کے تازہ ایڈیشن میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
3
بلوچی زبان کے ضمن میں لکھا ہے: ’’ہر قبیلے کا اپنا اپنا شاعر ہوا کرتا تھا جو قبیلے کے بہادروں اور جواں مردوں کی شان میں قصیدے کہتا اور مد مقابل کی ہجو کیا کرتا۔ اس طرح جو ادب پیدا ہوتا رہا، تحریری طور پر اس کا نام و نشان بھی موجود نہیں۔‘‘ (ص،137)
بلوچستان میں بے شمار قبائل ہیں، ہر قبیلے کے الگ شاعر کا کوئی وجود نہیں ملتا۔ اسی طرح ہجو بلوچی شاعری میں کہیں نہیں ملتی۔ جب کہ کلاسیکی رزمیہ و بزمیہ شاعری کا تمام ریکارڈ آج بھی تحریری صورت میں موجود ہے۔
3
ایک جگہ لکھا ہے؛’’تحریک پاکستان میں میر محمد حسین عنقا کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔‘‘ (ص، 138)
افسو س کہ عملی طور پر ایسی کوئی بھی خدمت گنوائی نہیں جا سکتی۔ بہتر ہوتا کہ اس ضمن میں کوئی اور نام گنوایاجاتا (جیسے کہ میر جعفر خان جمالی، قاضی فائز عیسیٰ وغیرہ)
4
صفحہ 138 پہ ہی درج ہے؛’’جدید بلوچی ادیبوں میں محمد رمضان، گل خان نصیر اور آزاد جمال دین ممتاز ہیں۔‘‘
صاف ظاہر ہے کہ یہ نام بھی ازراہِ مروت ڈال دیے گئے ہیں، ورنہ یہ فہرست بہتر طور پہ مرتب ہو سکتی تھی۔ نیز آخر الذکر نام کی درست املا آزاد جمالدینی ہے۔

یہ وہ نصاب ہے جو اس وقت بھی بلوچستان کے سرکاری تعلیمی اداروں میں رائج ہے، اور واضح رہے کہ بلوچستان میں میٹرک اور انٹر لیول پر نوے فی صد سے زائد طلبہ سرکاری اداروں سے ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ حکمران تو اس معاملے میں یوں سوئے ہیں کہ اٹھنا حشر کو معلوم ہوتا ہے۔ ہمارا کام زنجیر ہلا دینا ہے۔۔۔عدل کی پوچھ گچھ اہلِ انصاف سے ہی ہو گی۔


Comments

FB Login Required - comments