اس معاشرے کا المیہ


ثوبیہ امبر

lahore

پشاور سکول کے بچوں سے، لاہور پارک میں مرنے والے بچوں تک۔ ان دو واقعات کے دوران، مردان میں یونیورسٹی، اور تھر کے بھوکے، بے جان بچے۔ٹی۔وی پر ٹریگر چلاتی’بریکنگ نیوز‘ اور برینگ نیوز سے لبریز نیوز پڑھتے ہوئی آوازوں کے تھرتھراہٹ کے درمیان، اس ملک کے لوگوں کے ساتھ سب سے بڑا حادثہ یہ ہوا ہے کہ اس معاشرے میں ‘المیہ’ مر چکا ہے۔

ایک بریکنگ نیوز سے دوسری بریکنگ نیوز۔۔۔ایک حادثے کے ‘تاثرات’ کو کیش کرتے نیوز چینل اور ان حادثوں پر تبصرہ کرتے صحافی جو پچھلی ایک دہائی سے ایک جیسے گھسے پٹے جملے بول بول کر اس قوم اور حکومت کے لیے تدابیر بتا بتا کر ایسے ہی لگتے ہیں جیسے ان کو بھی اپنے الفاظ بے جان لگتے ہوں۔ لیکن آوازوں کے ہجوم میں یہ معاشرہ گونگا ہو گیا ہے۔حکمران وقت نے اس معاشرے کی نبض پرکھ رکھی ہے جیسے وہ ووٹ کیش کروا کر ووٹر کو خریدتے ہیں ایسے انہوں نے ’لفافہ صحافت‘ سے اپنے سیاہ کو سفید کیا ہے۔

اب فکر اس معاشرے کی سیاست یا اس ملک کی صحافت کی نہیں ہے نہ ہی یہ شور کرتے بریکنگ نیوز کے دھماکے جو گھر بیٹھے ناظرین کو ایسے مناظر دکھا دکھا کر اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں’سب سے پہلے‘ اور ’سب سے بڑا‘ کے تمغے اپنے سینے پر سجا لینا چاہتے ہیں۔ فکر بے ضمیر صحافیوں اور کرپٹ سیاستدانوں کی بھی نہیں، فکر اس عام انسان کی ہے جو ہو جانے والے واقعات کو بھول جاتا ہے۔ جو ایک حادثے کی بریکنگ نیوز سے دوسری بریکنگ نیوز تک صرف افسوس کرتا ہے اور اپنے ضمیر سے مطمئن ہو جاتا ہے۔ نوحہ کنائی کر کے دل کی بھڑاس نکال کر خود پر سکون ہو جاتا ہے۔ المیہ خود اپنی شناخت کھو چکا ہے۔ایک کمیٹی سے دوسری کمیٹی پوچھتی ہے کہ ’تم نے کیا کیا؟‘ اور جواب آتا ہے۔

“کچھ نہیں”۔
کمیٹی دراصل وہ رومال ہے جس سے آنسو پونچھ کر اور ناک صاف کر کے حکمران وقت خود کو ‘پاک صاف’ کر کے لوگوں کی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔

کوئی ان کی سیکیورٹی پر لگے ہزاروں اہلکاروں کا سوال کیوں نہیں کرتا۔ کوئی جج ہی سہی؟ کوئی اور نہیں تو سڑک پر چلتا عام آدمی ہی۔ لیکن حکمران شاطر ہیں انہوں نے خود کو ‘بادشاہ’ کی طرح بنا رکھا اور لوگوں نے بخوبی تسلیم کیا ہے۔ اپنے قریب صرف وہ لوگ رکھے ہیں جو ان کی طرح اپنی ذات اور اسکے مفاد تک ہی سوچتے ہیں۔

اس تمام شور میں تھر کے بچوں کی بلبلاتی بھوک، خون میں نہائے سکول کے بچے، کہیں دب گئے ہیں۔جب قیامتیں روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں تو معاشرہ اجتماعی بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ پھر حادثوں کے خاتمے کے سدباب کوئی نہیں کرتا۔ اور سیاستدان معافیاں مانگ کے ہی گنگا نہا لیتے ہیں۔اور ہر بڑا حادثہ ایک فائل کی شیلف لائف تک ہوتا ہے۔

اس معاشرے کا المیہ بال کھولے بین کر رہا ہے کہ میں مجھے پہچانو، میرا سدباب کرو، میں اس معاشرے میں تب تک نازل ہوتا رہتا ہوں جب تک وہ اپنی کوڑھ دور نہیں کر لیتا، مجھے بیچو نہیں، جہاں دکھ کی خرید و فروخت شروع ہو جائے وہاں بے حسی عذاب کی طرح اترتی ہے ۔ مجھے پہچانو میں المیہ ہوں جس پر لمحوں کے لیے بھی اتروں وہاں صدیوں کی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ میں تمہیں مزید عذابوں سے بچانا چاہتا ہوں۔ اپنے ارد گرد کے معیار بدلو۔ اپنی اخلاقیات کو پیسے اور سٹیٹس سے نکال لو۔ ورنہ المیوں کی بے حسی کے بعد صرف وحشت رہ جاتی ہے اور وحشت زدہ قومیں صرف پستی کی حقدار ہوتی ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “اس معاشرے کا المیہ

  • 02-04-2016 at 9:59 am
    Permalink

    خوب لکھا اور سچ لکھا۔۔۔

Comments are closed.