نظریاتی ریاست کا المیہ


farnoodہندوستان میں سوال اٹھا ہے کہ مسلمانوں کو آخر مسئلہ کیا ہے کہ وہ ’’بھارت ماتا‘‘ کہنے لکھنے پہ رضامند نہیں ہیں۔ اس پہ ہمارے خوبصورت ہندوستانی قلم کار ریحان خان نے خوبصورت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں جاری ’’بھارت ماتا‘‘ کی یہ بحث اور کچھ طبقوں کا اصرار ہندوستان میں تقسیم کی ایک اور لکیر کھینچ سکتا ہے۔ اس پر ہمارے پاکستانی دوست ملک جہانگیر اقبال نے بھی تبصرہ کیا۔ کہا کہ

’’وطنیت کے لحاظ سے اس لیے قائدین تقسیم کے خلاف تھے کہ ہندو ذہنیت انتہائی تنگ نظر ہے۔ یہ وطنیت کے نام پر مسلمانوں کو اپنا ہم نوا وقتی طور پر تو بنا سکتی ہے پر ان کا اصل مقصد اکھنڈ بھارت ہی ہے جہان مسلمانوں کی حیثیت شودروں سے بھی بدتر ہو گی. اس لئے اس وطنیت کے خلاف مذہبی بنیاد اپر تقسیم کی حمایت کی گئی. باقی میرا اٹھنا بیٹھنا ہندو برادری کے ساتھ زیادہ ہے ان کے مذہب کا بھی مطالعہ کیا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کسی مذہب میں ” دین” والی خصوصیت رتی برابر نہیں ہے، یہ اپنے مخالفین کو زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار نہیں۔ الله پاک مسلمان کی جان و مال کی حفاظت فرمائے۔ چاہے وہ دنیا کے جس بھی کونے میں ہوں۔ ‘‘

صدف نے توجہ دلائی، تو ہم نے اپنا تبصرہ بھی رکھ دیا۔ کچھ ترمیم و اضافے کے ساتھ آپ کے ذوقِ تنقید کی نذر کرتا ہوں ۔۔ عرض کیا!

نظریاتی ریاست دراصل استبدادی ریاست ہوتی ہے۔ گوکہ اپنے آئین میں ہندوستان ایک نظریاتی ریاست نہیں ہے مگر وہاں کی مذھبی سوچ یعنی بے جے پی ریاست کی نظریاتی ساخت وپرداخت پہ اصرار کرتی ہے۔

دوسروں کو جینے کا حق نہ دینا، یہ ہندو مذھب کا مسئلہ نہیں ہے یہ عالمگیر مذہبی ذہن کا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں ہندو اور مسیحی برادری کی حیثیت شودروں جیسی ہی ہے۔ برما کا بدھسٹ سیاسی ذہن اراکان کے مسلمانوں کو شودر ہی بنا کر رکھنے پہ مصر ہے۔ اسرائیلی ریاست فلسطین کے مسلمان کو شودر سے زیادہ کوئی حیثیت دینے پہ آمادہ نہیں ہے۔ ایران میں بسنے والے سنی خود کو شودر ہی سمجھتے ہیں۔ سعودیہ میں رہنے والا شیعہ اندر خانہ شودروں والے احساس ہی سے دوچار ہے۔ یہ تمام ریاستیں وہ ہیں جن کا نظریاتی شناخت پہ اصرار ہے۔ مذہبی ریاستوں کی نسبت ہندوستان کا مسلمان شہری خود کو زیادہ مطمئن پاتا ہے۔ ہندوستان کا مسلمان خود کو شودر ہرگز نہیں سمجھتا۔ وہ وطنیت کے تصور ہی کی بنیاد پر ریاست سے بالکل اسی طرح وابستہ ہے جس طرح ہندو وابستہ ہے۔ وہ اپنی آواز اور اپنا کردار رکھتا ہے۔ وطنیت کا تصور ہی ہے جس نے ہندوستان کو استحکام بخشا ہوا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ ہونے والے کسی بھی سیاسی وعکسری تصادم میں آپ بھارتی مسلمان کا جھکاؤ پاکستان کی طرف نہیں دیکھیں گے۔ اس کے بر عکس اگر پاکستان کا سعودیہ یا ایران کے ساتھ کوئی تنازعہ آجائے پاکستان کا مذھبی و مسلکی ذہن اپنی ہمدردیاں سعودیہ اور ایران کے پلڑے میں ڈال دیتا ہے۔ ہندوستان کی مذھبی سیاسی قوت کی طرف سے وہاں کے مسلمانوں کے لئے  کوئی مشکل پیدا ہوجائے تو ہم فوری طور پہ اسے دو قومی نظریئے کی تائید میں لے لیتے ہیں۔ حالانکہ معاملے کو اس طرح سے دیکھنا چاہیئے کہ مودی سرکار آج ہندوستان کے مسلمان کو ترنوالہ بنا کر ڈکار لینا چاہتی ہے، اگر ایسا کرنے میں اس کو ناکامی کا سامنا ہے تو اس کی وجہ ہندوستان کا وہ آئین ہے جس کی کوئی نظریاتی بنیاد نہیں ہے۔ سوچیں کہ اگر مودی جیسی نظریاتی ذہنیت کے سامنے آئین کی یہ غیر نظریاتی رکاوٹ نہ ہوتی، تو حالات کیا ہوتے؟ اسی طرح کینیڈا کی کنزرویٹیو پارٹی کینیڈین مسلم خواتین کا حجاب اتروا دینا چاہتی تھی، مگر ایک غیر نظریاتی آئین نے اس پارٹی کے ہاتھ پاؤں مسلسل باندھ کر رکھے۔ یہی معاملہ فرانس کے قدامت پسند ذہن کا ہے، مگر یہ وہاں کا آئین ہی ہے جس نے تمام مذاہب کا احترام، دعوت کی آزادی اور عبادت کی آزادی کو یقینی بنایا ہوا ہے۔ کبھی سوچیئے کہ پاکستان کا ہندو شہری پاکستان کو غیر مذہبی ریاست کے طور پہ کیوں دیکھنا چاہتا ہے۔ ہندوستان کا مسلمان شہری ہندوستان میں سیکولر آئین کے تحفظ کے لئے  سر دھڑ کی بازی کیوں لگا دینا چاہتا ہے؟ میں کہا کرتا ہوں کہ حقیقت وہ نہیں ہے جو ہندوستان کا ہندو سوچتا ہے۔ حقیقت وہ بھی نہیں جو پاکستان کا مسلمان سوچتا ہے۔ سچ وہ ہے جو ہندوستان کا مسلمان سوچتا ہے۔ سچ وہ ہے جو پاکستان کا ہندو سوچتا ہے۔ اب پاکستان کے تناظر میں یہ کہا جاتا ہے کہ ہم مثالی اسلامی ریاست کی جدو جہد کر رہے ہیں۔ ہم اسلام کی بنیادی تعلیمات سے دور ہیں، اس لیئے ایک مثالی اسلامی ریاست قائم کرنے میں ناکام ہیں۔ عرض کروں کہ المیہ ہی یہ ہے کہ مذھب سے وابستہ پوری دنیا کا اجتماعی شعور اپنی بنیاد سے ہٹ چکا ہے، اور یہ کہ ایک مذھب کے اندر بھی کسی الہامی تعبیر پہ اتفاق رائے قائم کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو چکا ہے۔ میں نے ’’ہوچکا ہے‘‘ تو ایسے کہا جیسے اس سے پہلے کبھی اتفاق رائے ممکن بھی ہوا ہو۔ کبھی بھی نہیں ہوا۔ تیرہ سو برس گواہ ہیں کہ مذھب کی بنیاد پر قومیں تشکیل نہیں دی جا سکی ہیں۔ دریا کے دو کنارے مل سکتے ہیں، نظریاتی ریاست میں معاشرتی اطمینان قائم نہیں ہوسکتا۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “نظریاتی ریاست کا المیہ

Comments are closed.