عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام


adnan-khan-kakar-mukalima-3

مرید: پیر صاحب، اب چہلم کی دعا تو ہو چکی ہے۔ اب کیا حکم ہے؟
پیر: چلو چلو ڈی چوک چلو۔ راستے میں اس بے غیرت ڈیش ڈیش ڈیش وزیراعظم کی جو بھی نشانی نظر آئے، اسے تباہ و برباد کر کے اپنے ایمان کی پختگی کا ثبوت دو۔
مرید: پیر صاحب، ڈی چوک تو کافی دور ہے۔ میٹرو میں بیٹھ کر چلیں؟
پیر: چلے چلو۔
مرید: مرشد پاک آپ گاڑی میں چلیں، ہمیں تو پیدل ہی جانا پڑے گا۔ کچھ عاشقان نے میٹرو کے سٹیشن توڑ پھوڑ دیے ہیں۔ وہ وزیراعظم کی نشانی تھے۔
پیر: شاباش۔ کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو، گرماؤ غلاموں کا لہو سوزِ یقیں سے، کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو۔
مرید: مرشد پاک یہ شاہین تو سمجھ آ گیا ہے، لیکن کنجشک فرومایہ کا کیا مطلب ہے؟
پیر: کنجشک کا مطلب ہے کہ چڑیا۔ فرومایہ کا مطلب لغت میں آتا ہے کہ کم حیثیت، کم ظرف، اوچھا، اور اس لفظ کے دو مطالب ایسے بھی ہیں کہ وہ ہم لاؤڈ سپیکر پر دیگر مغلظات کے ساتھ ہی بیان کرتے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔ بہرحال، لڑا دو میرے سب مریدوں کو ان شاہینوں سے۔
مرید: مرشد پاک ڈی چوک پہنچ گئے ہیں۔ کچھ پولیس والے کھڑے ہیں۔ اب کیا کریں؟
پیر: ان سب کو ایسے مارو جیسے چھوٹے شیطان کو مارتے ہیں۔ جو پتھر ملے اٹھاؤ اور برسا دو۔
madni-tayaraمرید اور اوپر ایک ہیلی کاپٹر بھی چکر لگا رہا ہے۔
پیر: سب اپنے اپنے چپل اٹھا کر مارو اسے۔ ہم نے دم کر دیا ہے۔ اگر وہ یہاں سے فوراً نہیں بھاگا تو پھر چپل لگنے سے تباہ ہو جائے گا۔ ویسے ہم نے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا جہاز بھی بلا لیا ہے۔
مرید: ہیلی کاپٹر چلا گیا مرشد۔ مرشد پاک اب رینجرز آ گئے ہیں۔
پیر: ان کو بھی مارو۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ وہ خود پر حملہ کرنے والے عشاق پر گولی چلائیں گے؟ شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن۔ مجھے ذرا آڑ میں اس کنٹینر کے پیچھے بیٹھنے دو۔
مرید: مرشد پاک وہ گولی نہیں چلا رہے ہیں۔ چپ چاپ اپنے زخمی اٹھا کر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
پیر: یہ ہمارے دم کا اثر ہے۔ ایک پھونک ماری تھی تو ان کی بندوقیں جام ہو گئی ہیں۔
مرید: مرشد پاک اب کیا حکم ہے؟
پیر: اب ہم حکومت کو مطالبات دیں گے۔ لکھو

ایسے بل اور قراردادیں منظور ہو رہی ہیں جن سے پاکستان کی پاکستانیت کا بنیادی ڈھانچہ مجروح ہو رہا ہے۔ نصاب میں سے ایمان افروز واقعات کو خارج کیا جا رہا ہے۔ کفار کے تذکرے نصاب میں شامل کیے جا رہے ہیں۔ قانون ختم نبوت اور 295 سی کو نظرانداز کر کے پاکستان اور اسلام کے ازلی دشمن قادیانیوں کو سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا گیا ہے۔ نظام مساجد، تبلیغ اسلام اور لٹریچر پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ سنی علما پر دہشت گردی کے فورتھ شیڈول کے تحت مقدمات بنا دیے گئے ہیں۔ انتہائی ظالمانہ ساؤنڈ آرڈیننس کے تحت تین اطراف میں لاؤڈ سپیکر پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ تباہ کن فحاشی، بدکاری، بے پردگی، اور زنا و بدکاری کے عوامل کو بے تحاشا میڈیا اور تعلیمی اداروں میں رائج کر دیا گیا ہے۔ حضرت غازی ممتاز حسین قادری رحمت اللہ علیہ کو شہید کر دیا گیا ہے جن کا جنازہ تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا جس میں پچاس لاکھ افراد سے زائد شریک تھے۔

مرید: مرشد پاک لکھ لیا۔ لیکن یہ پچاس لاکھ کچھ زیادہ نہیں ہو گئے ہیں؟
پیر: احمق شخص، ڈی چوک کی یہی روایت ہے۔ یہاں کچھ کا کچھ نظر آتا ہے۔ شیخ الاسلام بھی تو یہیں بیٹھ کر اپنے چالیس ہزار مریدین کو چالیس لاکھ دیکھ رہے تھے۔ دشمنوں کو ہم سو گنا نظر آتے ہیں۔ اب مطالبات لکھو اور کہو کہ فوج کی نگرانی میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ان مطالبات پر مذاکرات کیے جائیں۔

ملک میں فی الفور نظام مصطفی رائج کیا جائے۔ 295 سی میں کوئی ترمیم نہ کی جائے اور اس قانون کے تحت تمام سزا یافتگان کو فوراً سزائے موت دی جائے۔ گستاخان کو قتل کرنے والوں کو رہا کیا جائے۔ غازی ممتاز حسین قادری کو سرکاری شہید قرار دیا جائے اور ان کے نام کے ساتھ شہید لکھنے کا آرڈر دیا جائے۔ اڈیالہ جیل میں غازی ممتاز حسین قادری کے سیل کو قومی ورثہ قرار دے کر وہاں لائبریری بنائی جائے۔ مساجد، سنی علما کی تبلیغ، نصاب تعلیم پر قادیانیوں اور لادین عناصر کا حملہ ختم کیا جائے اور سنی علما پر سے دہشت گردی کے مقدمات ختم کیے جائیں اور گرفتار حضرات کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔ خوش عقیدہ مسلمانوں کو سرکاری پوسٹوں پر فائز کیا جائے اور بد عقیدہ کو وہاں سے ہٹا لیا جائے۔ میڈیا کو فحاشی اور اسلام شکن پروگراموں سے پاک کیا جائے۔

مرید: لکھ لیا مرشد۔ اب کیا کریں؟
پیر: اب انتظار کرو۔ دیکھو حکومت کیسے ہمارے پیروں پر گر کر ہمارے مطالبات مانتی ہے۔
مرید: مرشد پاک ایک دن گزر گیا ہے۔ حکومت پیروں پر نہیں گری۔ اس نے ہمارا نوٹس تک نہیں لیا ہے۔ اور غضب یہ ہوا ہے کہ ہمارے کھانے کے لیے آنے Toilet-Parkوالی حلووں اور نانوں کی دیگیں روک کر تھانے میں جمع کروا دی ہیں۔
پیر: خیر ہے۔ ہمارے عشاق یہ سب سختیاں ہنسی خوشی سہہ لیں گے۔ ہمارے لیے کھانا گرم کر کے لگاؤ۔
مرید: مرشد پاک اب تو صبح ہو گئی ہے۔ ہمارے لوگ پیٹ تھامے درختوں اور جھاڑیوں کے پیچھے پریشان پھر رہے ہیں۔ اب کیا کریں؟
پیر: مطالبات میں اضافہ کیا جائے۔ حکومت کو الٹی میٹم دیا جائے کہ عمران خان کے دھرنے کے لیے بنائی گئی لیٹرینیں فوری چالو نہ کی گئیں تو ہم وہی کریں گے جو عمران خان کے دھرنے والوں نے کر دیا تھا۔ پھر ہم سے یہ شکایت مت کریں کہ فضا معطر ہو گئی ہے۔
مرید: مرشد پاک تیسرا دن ہے۔ لوگ بھوک پیاس اور عطر بیز فضا کے اثر سے بے ہوش ہونے لگے ہیں۔ حکومت ہمیں لفٹ ہی نہیں کرا رہی ہے۔ آپ نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے فوج کی نگرانی میں مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن سنا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے رات گئے کوئی اجلاس بلا کر دہشت گردوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا حکم دیا ہے اور پنجاب بھر میں چھاپے پڑ رہے ہیں۔
پیر: حکومت نے کسی کو مذاکرات کے لیے نہیں بھیجا ہے؟
مرید: مرشد پاک، بھیجا ہے۔ حکومت نے اسحاق ڈار اور ایاز صادق کی بجائے آپ سے مذاکرات کے لیے تھانہ کہسار کا ایک چھوٹا انسپکٹر بھیجا ہے۔
پیر: ہم نے پورے ملک میں دھرنوں کی کال دے دی ہے۔ حکومت جلد ہی گھٹنے ٹیک دے گی۔ تعجب نہیں ہو گا اگر وہ ڈیش ڈیش ڈیش نواز شریف خود مذاکرات کرنے ڈی چوک پہنچ جائے۔
مرید: مرشد پاک آج تو وہ چھوٹا انسپکٹر بھی نہیں آیا ہے۔ سارے ملک میں لوگ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔
پیر: ہم نے پہلے ہی بتایا تھا کہ نوجوانوں کو غلط نصاب پڑھا کر اسلام سے دور کر دیا گیا ہے۔ اسی لیے مشائخ کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ حالانکہ مشائخ ان کو دشنام طرازی کر کے راہ پر لانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔
مرید: مرشد پاک حکومت تو ہمارا نوٹس ہی نہیں لے رہی ہے۔ الٹا دھمکیاں دے رہی ہے کہ اس کے ڈنڈے تیار ہیں۔ اب کیا حکم ہے؟
پیر: آج صبح ایک تعویذ دے کر اپنے چند معتبر خلفا کو بھیجا ہے کہ وہ حکومت کو حکم دیں کہ ہمیں باعزت واپسی کا راستہ دیا جائے۔ جلد ہی خوشخبری سنو گے۔
مرید: خلیفے واپس آ گئے ہیں حضرت۔
پیر: میرے خلفا، بات ہوئی ہے حکومت سے؟
خلیفہ: مرشد پاک حکومت نے ہمارے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ پہلے تو چوں چرا کر رہے تھے، مگر اب مان گئے ہیں کہ 295 سی میں کوئی ترمیم زیر غور ہی نہیں ہے تو کریں گے کیسے۔ پرامن احتجاج کرنے والوں کو نہ پکڑنے پر بھی راضی ہو گئے ہیں، لیکن توڑ پھوڑ کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ فورتھ شیڈول کی فہرست پر نظرثانی وہ کرتے ہی رہتے ہیں اور بے گناہ افراد کے نام نکالتے رہتے ہیں۔ علمائے کرام پر حالیہ مقدمات کا جائزہ بھی شاید وہ لے لیں۔ میڈیا پر فحش پروگراموں کے لیے وہ کہتے ہیں کہ ثبوت کے ساتھ پیمرا میں عرضی دے دیں۔ نظام مصطفی کا مطالبہ بھی مان چکے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سفارشات مرتب کر کے وزارت مذہبی امور کو دے دیں۔ بلکہ وہ بتا رہے تھے کہ آج سے چالیس پینتالیس سال قبل یہی کام اسلامی نظریاتی کونسل کو دیا گیا تھا جو کہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔ مزید یہ مطالبہ بھی مان گئے ہیں کہ مملکت پاکستان میں ٹھہرا ہوا پانی ہمیشہ اپنی سطح ہموار رکھے گا، ہوا کسی کو نظر نہیں آئے گی، ستارے آسمان پر ہی رہیں گے، اور سورج چاند بھی اپنا کام ویسے ہی کریں گے جیسا کہ کرتے آئے ہیں۔
پیر: یعنی سارے مطالبات ہی مان لیے۔
مرید: مرشد پاک ہم نے تو ذرا مختلف مطالبات کیے تھے، وہ تو نہیں مانے۔ حتی کہ غازی ممتاز حسین قادری کو بھی سرکاری شہید نہیں مانا ہے۔ لیکن باقی سب کچھ مان گئے ہیں۔  اس دھرنے سے اپنی جگ ہنسائی کروانے کے علاوہ ہمیں کیا حاصل ہوا ہے؟
پیر: یہ امور تمہاری سمجھ سے باہر ہیں بے وقوف شخص۔ حکومت راہ پر آ گئی ہے۔ شرمندگی کی وجہ سے ان مطالبات کو سرعام تسلیم نہیں کیا ہے لیکن اس کے دل میں بات تو پڑ گئی ہے۔ خلیفہ، حکومت کی طرف سے کس نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں؟

خلیفہ: دستخط تو کسی نے نہیں کیے ہیں۔ بس ہماری بات سن کر ہوں ہاں کرتے رہے تھے۔ پھر کہنے لگے کہ ٹھیک ہے، اب آپ ڈی چوک خالی کر دیں ورنہ پولیس ڈنڈے کے زور پر خالی کرانے کے لیے بالکل تیار ہے۔ ہم نے کہا بھی کہ ہمارے پیر صاحب بہت صاحب کرامت ہیں، ان کی بات نہیں مانو گے تو جل کر خاک ہو جاؤ گے، مگر وہ کہنے لگے کہ ‘ڈنڈا پیر اے وگڑیاں تگڑیاں دا’، یعنی ڈنڈا بگڑے تگڑے لوگوں کا بھی پیر ہوتا ہے۔
پیر: پھر تو وہ اپنے پیر بھائی ہوئے۔ چلو سب اپنا بوریا بسترا گول کرو یہاں سے۔ ہمیں عظیم الشان فتح نصیب ہوئی ہے۔

flying مرید: مرشد پاک سب عاشقان پہلے ہی جا چکے ہیں۔ ان آدھے لوگ کھانے کے لیے ہوٹل تلاش کرنے گئے ہیں اور کھانا کھانا چاہتے ہیں اور بقیہ آدھے پیٹ پکڑے بیت الخلا تلاش کر رہے ہیں۔ ٹی وی پر چودھری نثار بھی تقریر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کسی قسم کا کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا ہے۔
پیر: افسوس۔
عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس ڈی چوک کو بے کراں سمجھا تھا میں


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 389 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام

  • 01-04-2016 at 5:17 pm
    Permalink

    دیبندیوں کا لبرل پہلی دفعہ آشکار ہوا ہے☺

Comments are closed.