ڈی چوک کے مٹھی بھر افراد


razi uddin razi

گزشتہ چند روز سے یہ مٹھی بھر لوگ خوب زیر بحث ہیں۔ ٹی وی چینلز ہوں یا اخبارات سب نے ان مٹھی بھر افراد کو خوب اہمیت دی اور یہ پھر بھی یہ شور مچاتے ہیں کہ ہمیں اہمیت نہیں دی جاتی۔ ڈی چوک اسلام آباد میں دو ہزار افراد نے جب اپنے عظیم مقاصد کے حصول کے لئے دھرنا دیا تو یہ سوال بار بار دریافت کیا گیا کہ بیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں بھلا دو ہزار افراد کی کیا اہمیت اور حیثیت ہے؟ ہمارا جواب یہ تھا کہ مٹھی بھر افراد کی بھلا کیا اہمیت ہو سکتی ہے صفر کو صفر کے ساتھ ضرب دیں تو نتیجہ صفر ہی نکلتا ہے لیکن یہ مٹھی بھر افراد غیر اہم اور بے حیثیت ہونے کے باوجود کچھ قوتوں کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور یہ قوتیں ان مٹھی بھر افراد کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتی رہتی ہیں۔ وطن عزیز کی تاریخ میں ہم نے مٹھی بھر افراد کے بہت سے کرشمے دیکھے اور بارہا دیکھے۔ یہ اوروں کے کندھوں پر سوار ہو کر آتے ہیں اور خود کو شہسوار سمجھتے ہیں۔

حالیہ دھرنے میں بھی ان لوگوں کو جس پسپائی کا سامنا کرنا پڑا وہ ہم سب کے سامنے ہے جس طرح وہ کسی کے اشارے پر دندناتے ہوئے آئے تھے اسی طرح کسی کے اشارے پر ہی دم دباتے ہوئے رخصت ہو گئے۔ ہاں اس دوران یہ ضرور ہوا کہ مختلف ویڈیوز کے ذریعے ان کی گل افشانی گفتار ہم سب تک پہنچ گئی اور ان کا پاکیزہ باطن بے نقاب ہو گیا۔ مذہب ہو یا سیاست، حکومت ہو یا ریاست، ادب ہو یا ثقافت اسے ہمیشہ مٹھی بھر افراد نے ہی یرغمال بنائے رکھا اور ساتھ میں اپنے یرغمالی ہونے کا شور بھی مچائے رکھا۔ لطف یہ ہے کہ یہ عقل کے مارے خود کو عقل کُل بھی سمجھتے ہیں اور نمایاں ہونے کے لئے احتجاج اور شور شرابے کا راستہ اختیار کرتے ہیں کہ ان کی صلاحیتوں کے اظہار کا اور کوئی طریقہ بھی تو نہیں۔ کوئی غیر ملکی پیروکار یا سرمایہ کار انہیں چند سکوں کے عوض کٹھ پتلی بناتا ہے پھر یہ اس کے اشاروں پر ناچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا کی کوئی طاقت نہیں خرید سکتی۔ یہ اس وقت تک ناچتے ہیں جب تک سرمائے کی ڈور ہلتی ہے اور جب تک کسی کی انگلی انہیں نچاتی ہے اور وہ امپائر کی انگلی کہلاتی ہے۔ عوام کے دھتکارے ہوئے یہ ذہنی مریض ہمیشہ کسی چور دروازے کی تلاش میں رہتے ہیں۔

یہ عقل کے اندھے صرف اپنی ذات کے اسیر ہوتے ہیں چھوٹے چھوٹے مفادات انہیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھتے ہیں مفادات کی ڈور میں بندھ جانے والے ایسے عظیم اتحاد اور ایسے دھرنے ہمیشہ پانی کا بلبلہ ثابت ہوتے ہیں بالکل اسلام آباد کے ڈی چوک والے دھرنے کی طرح۔ جب عقل کے اندھوں کو ان کے قائدین لاوارث چھوڑ کر فرار ہو جاتے ہیں تو پھر یہ مٹھی بھر افراد اپنی مٹھیاں بھینچتے ہیں۔ ایک دوسرے سے منہ چھپاتے ہیں، روتے ہیں، دھاڑیں مارتے ہیں، قربانیاں رائیگاں جانے کا گلہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے قائد اور ہماری سرپرستی کرنے والے تو اندھے تھے ہی کیا ہماری عقل پر بھی پردہ پڑ گیا تھا؟ لیکن اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے پھر یہ مٹھی بھر لوگ پچھتاوے کی آگ میں جلتے ہیں اور اپنے ہاتھ ملتے ہیں۔

قارئین محترم دھرنے کا انجام یہ سبق دیتا ہے کہ مٹھی بھر افراد سے کبھی خوفزدہ نہ ہوں کہ یہ جس شعبے میں بھی ہوں صرف ہڈی کی تلاش میں ہوتے ہیں اور ہر جگہ ان کا انجام ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ اطمینان کی بات صرف یہ ہے کہ ان کی گل افشانی گفتار سے ان کے اندر کی غلاظت باہر آ گئی۔ ہمیں تو خیر معلوم ہی تھا اووروں کو بھی پتہ چل گیا کہ ان کا باطن کتنا نفیس ہے۔


Comments

FB Login Required - comments