تیرا بندر، میرا مداری


mujahid mirza

کیا کروں، چاہے لاکھ منہ موڑوں مگر بنیادی طور پر تو میں ڈاکٹر ہی ہوں۔ عوارض چاہے جسمانی ہوں، روحانی ہوں یا قومی ہوتے تو عوارض ہی ہیں چنانچہ ان سب پر طب سے وابستہ حقائق منطبق کیے جا سکتے ہیں جو کہ ثابت ہیں۔ طبی حوالے سے کسی بھی مرض کی وجہ یا وجوہ کے ساتھ ساتھ کچھ عوامل ایسے ہوتے ہیں جو انسانی جسم کو اس وجہ یا وجوہ کے سامنے کھول دیتے ہیں، انہیں Predisposing factors کہا جاتا ہے۔ ان عوامل کے علاوہ کچھ اور عوامل ہوتے ہیں جو مرض میں شدت پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں انہیں Enhancing factors کہا جاتا ہے۔ ہمارا مقصد قومی امراض کے معاملات کو واضح کرنا ہے اس لیے یہ بتانے سے گریز کیا جا رہا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کو زیادہ ممکن بنانے والے عوامل کیا ہوتے ہیں اور اسے شدید کرنے کے عوامل کون کون سے۔

آتے ہیں اصل معاملے کی جانب۔ گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں دہشت گردی یا عسکریت پسندی کے ضمن میں دہشت گردوں سے لے کر دہشت گردی تک میں کچھ سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں، مذہبی انتہا پسندوں اور دیگر افراد کے دوسرے ملکوں خاص طور پر ہندوستان کی خصوصی ایجنسی RAW کے ایماء پر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے اور ملکی حالات کو غیر مستحکم کیے جانے کے عمل میں شریک ہونے کا تذکرہ عام ہے۔ ذرائع ابلاغ عامہ اور بالخصوص مقبول ’ٹاک شوز‘ میں ’معروف تجزیہ نگار‘ یہ ثابت کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ حال میں ہی مبینہ طور پر ہندوستان کی نیوی کے ایک افسر کلبھوش یادیو کی ویڈیو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بالخصوص صحافیوں کو اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے عوام کو دکھائی ہے۔ اس سے پہلے یہی میڈیا ایک پیشہ ور قاتل صولت مرزا کی ویڈیو دکھا چکا تھا جو نامعلوم کس نے جاری کی تھی۔ اس ویڈیو میں، بعد میں تختہ دار پر لٹکائے جانے والے مجرم نے ایم کیو ایم کے رہنما اور ان کے ساتھیوں پر دہشت گردی اور غیر ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعلق کا الزام لگایا تھا۔ حال ہی میں کراچی کے سابقہ میئر اور ایم کیو ایم کے سابقہ رہنما سید مصطفٰی کمال نے بھی اسی طرح کے الزامات لگائے۔

جاسوسی کرنا یا جس ملک کو دشمن تصور کیا جائے وہاں تخریبی اعمال کروانا کوئی انوکھی یا غیر معمولی سرگرمی نہیں ہے بلکہ معمول خیال کیا جاتا ہے تاحتٰی وہ ثابت نہ ہو جائیں۔ ابھی صرف مبینہ جاسوس نے اعترافات کیے ہیں یا ایم کیو ایم کے رہنما جناب الطاف حسین نے یہ کہا کہ RAW یعنی را رسول اور اللہ کا مخفف ہے چنانچہ ان سے تعلق تھا ، ہے اور رہے گا۔ اس کے علاوہ ابھی تک ماسوائے دعاوی کے کوئی بھی ثبوت نہ تو طشت از بام ہوئے ہیں اور نہ ہی شاید متعلقہ ملک یا متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں کے علم میں لائے گئے ہیں۔ بلاشبہ ہندوستان پاکستان میں ہونے والے غیر قانونی اعمال میں کسی نہ کسی طرح ملوث ہو سکتا ہے۔ عمومی جاسوسی تو ہر ملک ہر ملک میں کرتا ہے حتٰی کہ پاکستان میں چین جیسے دوست ملک کے جاسوس ہونگے اور چین میں پاکستان کے لیکن سارے جاسوس تخریبی اعمال کرانے یا ان میں ملوث ہونے کا کام نہیں کرتے۔ بیسیوں میدان ہیں جن کے لیے جاسوسی کی جا سکتی ہے۔ ایسے جاسوس بھی ہوتے ہیں جو بظاہر بالکل بے ضرر خیال کیے جا سکتے ہیں لیکن وہ کسی ملک کے قومی راز چرا کر لے جاتے ہیں۔
جس طرح گذشتہ عرصے میں ظاہر کیا جانے لگا ہے اس سے تو یوں لگنے لگا ہے جیسے پاکستان کے تمام عوارض کا سبب یہی ملک اور ان کے خصوصی ادارے اور ان کے ایجنٹ ہیں۔ یاد رہے غیر ملکی جاسوس بہت سے کاموں کے لیے جس ملک میں ہوں وہیں کے لوگوں کو استعمال کرتے ہیں۔ جاسوسوں یا غیر ملکی ایجنٹوں کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے ہم یکسر بھلا دیتے ہیں کہ ان کے لیے فضا سازگار بنانے والے عوامل یعنی Predisposing factors کونسے تھے۔ جب مرض پیدا ہو گیا تو اس کو بڑھانے والے عوامل یعنی Enhancing factors کونسے ہیں؟

ہم سب جانتے ہوئے بھی بھلا دیتے ہیں کہ پاکستان میں 1958 سے 1971 تک، 1977 سے 1988 تک اور 1999 سے 2008 تک جرنیلوں کو بر سر اقتدار لانے اور رکھنے میں نہ کسی کلبھوشن کا ہاتھ تھا اور نہ کسی الطاف کا۔ پاکستان میں افسر شاہی، رشوت ستانی، بدعنوانی، معاشی ابتری، سیاسی مفلوک الحالی، طبقاتی تفاوت، سماجی نابرابری، پولیس کی شقاوت، محکمہ صحت کی زبوں حالی، تعلیم کی گراوٹ اور ایسے ہی بہت سے دوسرے عوامل کو پیدا کرنے کا موجب دشمن ملک اور ان کی ایجنسیاں نہیں بلکہ اپنے ہی ملک کے زعماء تھے۔ ملک کو سماجی اور سیاسی طور پر غیر مستحکم کرنے والے عوامل یعنی Predisposing factors یہی تھے۔

ملک میں سیاسی عدم استحکام اور سماجی بحران پر مبنی مرض پیدا ہونے کے بعد اس مرض کو گمبھیر کرنے کے لیے افغانستان میں سوویت یونین کے ساتھ امریکہ کی ’پراکسی جنگ‘ کروانے میں بھی نہ تو ہندوستان کا کوئی جاسوس ملوث تھا اور نہ ہی کوئی سیکولر سیاسی پارٹی اور اس کے کارکن۔ تب سے ایک ایسے عامل کو موقع ملا جو ملک کو لاحق مرض کو شدید کر سکتا تھا اور وہ عامل تھا مذہبی انتہا پسندی۔ مذہبی انتہا پسندی کو عام کرنے میں ایک دوست عرب ملک اور ایک ہمسایہ مسلمان ملک کی اعانت شامل تھی اور ہے۔ جب مذہبی انتہا پسندی متشدد شکل اختیار کر گئی اور دہشت گردی کے واقعات کو اپنی طاقت منوائے جانے کا ذریعہ سمجھا جانے لگا تو دشمن ملک اور مبینہ طور پر سیاسی کارکن بھی اس کا حصہ بنے۔ یوں دوسرے ملکوں اور خاص طور پر ہندوستان کے جاسوس اور سیاسی پارٹیوں میں یا ان سے باہر ان ملکوں کے ایجنٹ ملک کے عدم استحکام کے اسباب نہیں بلکہ اس مرض کو بڑھاوا دینے والے عوامل یعنی Enhancing factors ہیں۔

ملک کے سیاسی عدم استحکام اور سماجی بحران کے اسباب خالصتاً اندرونی ہیں۔ جب تک ان اسباب کو تمام نہیں کیا جائے گا تب تک ایک آدھ جاسوس پکڑ کر شوروغوغا کرنے یا کسی جماعت پر بے بنیاد الزام لگا کر اسے کمزور کیے جانے کی کوشش کرنے سے قومی امراض کو ڈھانپا تو جا سکتا ہے لیکن ان کا مداوا نہیں کیا جا سکتا۔

اگر تیرا بندر ہو اور مداری میرا تو تماشہ چاہے وہ جس کا مرضی دکھائے لیکن تیرے اور میرے درمیان مخاصمت بڑھانے کا موجب ضرور بنے گا۔ یہاں نہ تو تو ہے اور نہ میں میں بلکہ ہم دونوں جنوبی ایشیا کے بڑے ملک ہیں جو جوہری ہتھیاروں کے مالک بھی ہیں۔ بندر آتے جاتے رہتے ہیں، مداری بھی بدلتے رہتے ہیں لیکن انسان بہت قیمتی ہیں۔ ان موتیوں کو مٹی میں ملانے سے گریز کرنا ہی عقل مندی اور انسانیت نوازی ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments