یادوں کی بے تھاہ نیلگوں جھیلیں


surayya abbasوقت ٹھہرتا نہیں مگر لفظ وقت اور زمانوں سے ماورا ہوتے ہیں، دودھیا یادوں میں آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں اور جب دل چاہے سر نکال کر سامنے آ جاتے ہیں۔ لفظ سادہ ہو سکتے ہیں مگر یادیں کبھی سادہ نہیں ہوتیں، ان کے اپنے رنگ اپنی خوشبو، بناؤ سنگار اور اک انوکھی سی چاشنی اور گہری اثر انگیزی ہوتی ہے۔ بھلے وقت کو پر لگ جائیں یادیں اپنی گہرائی کے حصار میں رہتی ہیں۔ آج بک شیلف پر نظر پڑی تو اچانک تاجک ادیبوں کے افسانوں کا مجموعہ ” نیلگوں کوہساروں کے دامن میں” اپنے نیلے سرِ ورق کے ساتھ پڑا دکھائی دیا۔ کتاب کھولتے ہی محترم و معتبر نام ” منظر سلیم ” (اس کتاب کے مترجم ) پر نظر پڑی تو بہت خوبصورت یادوں کا باب کھل گیا۔

منظر سلیم ہندوستان کے جانے پہچانے ادیب جن کا کتاب اور قلم سے زمین کے خوبصورت مناظر جیسا رشتہ تھا وہ سوویت یونین کے زمانے میں تاشقند کے مشہور حکومتی اشاعت گھر “رادوگا” میں مترجم کا فریضہ سرانجام دیتے رہے تھے۔ کتاب “نیلگوں کوہساروں کے دامن میں” رادوگا اشاعت گھر میں شائع ہوئی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب 1985ء میں عباس اور میں تاشقند میں زیر تعلیم تھے۔ اللہ نے مجھے ایک انمول تحفے اپنی رحمت پیاری سی بیٹی سے نوازا تو میں یونیورسٹی چھوڑ کر اس کی پرورش میں لگ گئی۔ اس زمانے میں ہم ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے اور تاشقند میں میرے علاوہ کوئی پاکستانی خاتون نہیں تھی اور جو پاکستانی طالبعلم تھے ان سے میری ملاقات بہت ہی کم تھی۔ میں تو جیسے اردو بولنے اور سننے کو ترس گئی تھی۔ ایسے وقت میں منظر سلیم صاحب کا گھرانہ میرے لئے جیسے ٹھنڈے میٹھے پھل دار گھنے درخت کا سایہ تھا۔

منظر سلیم اپنی تین بیٹیوں (سنجیدہ، گرویدہ تابندہ) اور ایک بیٹے آصف کے ساتھ رہتے تھے۔ تینوں بیٹیاں میڈیکل کالج اور بیٹا یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ بڑی بیٹی سنجیدہ جو اپنے نام کی طرح شخصیت میں بھی وقار، بردباری اور سنجیدگی لئے ہوئے تھی میڈسن میں پی ایچ ڈی کر رہیی تھی۔ درمیانی بیٹی گرویدہ بھی اپنے نام سے خصوصی مطابقت رکھتے ہوے ایسی سلیقہ مند تھی کہ واقعی ہم سب اس کے گرویدہ تھے اور تابندہ تو اپنے نام سے شاید سب سے زیادہ مطابقت رکھنے والوں میں سے تھی، خوش اخلاق اور روشن چہرے کے ساتھ روشن خیالات بھی اس کی شخصیت کو نمایاں کرتے تھے۔ بیٹا اکلوتا اور لاڈلا ہونے کی وجہ سے لاابالی سا تھا۔ میں ان چاروں بچوں کی بھابھی تھی۔ مجھے ان کا پیار کبھی نہیں بھولا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ 1986 کا ایک خوبصورت دن تھا جب ہم ان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے ۔ایک بات کا ذکر کرتی چلوں کہ ہم چونکہ ہوسٹل میں رہتے تھےتو ہمیں ان کے ہاں جا کر جو گھر کا تاثر ملتا تھا وہ انتہائی خوش کن ہوتا تھا۔ میری بیٹی معزہ اس دن کوئی سوا سال کی ہو گی۔ منظر سلیم صاحب جو اس کے ساتھ کھیلنا شروع ہوئے تو ہم سب کو بھول گئے۔ ان کی عادت تھی کہ معزہ کو اپنی کمر پر بٹھا کر گھوڑا بن جاتے تھے اور کمرے کے درمیانی حصے میں گول گول گھومتے رہتے تھے۔ اس دن تو بڑی ہی ترنگ میں تھے کوئی 45 منٹ گھوڑا بنے گول گول گھومتے رہے۔ میں کہتی رہی” انکل آپ تھک جائیں گے” اور ساتھ یہ بھی کہتی کہ معزہ بیٹا بس کرو۔ اسے اٹھانے کی کوشش کرتی تو وہ شرارتی آنکھیں دکھاتی اور کہتی” اشو” اس کا مطلب ہے “اور” مگر مجال ہے کہ انکل تھکے ہوں۔ جب بہت ہو گیا تو ان کی بیٹیوں کو بھی اپنے پاپا کی فکر ہونے لگی ان کی چھوٹی بیٹی تابندہ زور سے مگر پیار کے انداز میں بولی “پاپا پلیز بس کریں معزہ تھک جائے گی”۔ معزہ تھک جانے والے بہانے پر ہم سب نے بھرپور قہقہہ لگایا۔ اس کا بھی اثر نہ ہوا تو پھر مجھے کہنا پڑا کہ انکل آپ ہم سے بھی بات کریں نا آپ کی مہمان صرف معزہ تو نہیں۔ اس پر انہوں نے معزہ کو کمر سے اتارا اور بھر پور انداز سے چوما۔ میں ان کی اس لاجواب شفقت کو کبھی نہیں بھلا سکی۔

منظر سلیم اپنے نام کی طرح اپنے اندر انتہائی خوبصورت مناظر سے آراستہ تھے، دن رات لفظوں کے موتی بکھیرنے والے انتہائی شفیق اور مہربان انسان تھے۔ سوویت یونین کے شاعروں اور ادیبوں کی بے شمار کتابوں کو انہوں نے اپنے حسین ذہن و قلم سے اردو زبان کا زیور پہنایا۔ مذکورہ کتاب تاجک افسانوں کے اس مجموعے میں تاجک سوویت ادب کے بانی صدرالدین عینی سے لے کر اس زمانے کی مختلف نسلوں اور نوجوان نثرنگاروں کی تخلیقات شامل ہیں۔ تحریر کا مقصد کتاب پر تبصرہ قطعاً نہیں تھا، اس لیے نہیں کیا۔ مقصد پھول، کلیوں، موتیوں، ستاروں اور درختوں پر چمکتے تازہ رسیلے پھلوں جیسے لفظوں کی مالک مشفق و مہربان ہستی منظر سلیم کو یاد کرنا تھا جو اب اس دنیا میں نہیں۔ اللہ رب العزت جنت کے بہترین باغوں میں ان کا ٹھکانا بنائے۔آمین!


Comments

FB Login Required - comments