میڈیا کے منجن، آلو اور ہم۔۔۔


Shabana Syed- Producer Geo News

یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم میڈیا میں نووارد تھے۔ میڈٰیا کی غلام گردش سے  اتنے ہی ناواقف تھے جتنا کوئی عام ناظر ہوسکتا ہے، جسے ٹی وی اسکرین پر نظر تو بہت کچھ آتا ہے لیکن اس کے پیچھے کتنے لوگوں کی محنت کارفرما ہوتی ہے، یہ بات ٹی وی کی عمارت میں داخل ہوکر ہی پتہ چلی۔ ایک نیوز چینل کے ڈائریکٹر نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے، سوچ یہی تھی کہ “یہاں جاب مل جائے تو مزا آجائے، گھر سے پیدل کا راستہ ہے” جی ہاں، اس وقت نیوز چینل میں دلچسپی صرف اتنی ہی تھی۔  نیوز ڈائریکٹر صاحب نے بھی شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقیقت بتادی، بیٹا اس وقت کوئی جگہ نہیں ہے، صرف ٹکر پر جگہ خالی ہے، وہاں آپ شاید نہ آنا چاہو، لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ جوائن کرلیں، اور اسے صرف داخلے کی چابی سمجھیے، آگے آپ کی محنت اور آپ کا ٹیلنٹ۔

ہم نے بھی سوچا چلو تجربہ تو کریں، اور اللہ کا نام لے کر چینل جوائن کرلیا۔ اب نیوز چینل کے شور شرابے اور روشنیوں کی چکاچوند میں بیٹھے پہلے تو آس پاس کے ماحول کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ،

پھر یاد آیا یہ نیوز ڈائریکٹر صاحب نے کس کام کی بات کی تھی؟  ٹُکر ٹُکر دیکھنا تو سنا تھا، لیکن ٹی وی میں ٹکر کیا کام ہوتا ہے؟ یہ ابھی جاننا باقی تھا۔ بعد میں  پتہ چلا کہ اچھا،، تو یہ  Ticker کہا تھا۔ ٹی وی اسکرین پر نیچے خبروں کی جو پٹی چلتی ہے اس کو ٹکر کہتے ہیں،  جب ٹکر پر کام شروع کیا تو ٹکر کی ایک سائیکی تو سمجھ آگئی کہ جب کوئی واقعہ ہوتا ہے اس کے بعد ایک ترتیب میں اطلاعات آتی ہیں۔ جیسے پہلے بم کی “اطلاع” اور دھماکے کی “آواز سنی گئی ” بھی بریکنگ ہوتی تھی۔ اس کے بعد کیا کرنا ہے؟ یہ آس پاس کے لوگوں نے سمجھایا۔ پہلے دھماکے کی اطلاع، پھر جگہ کا تعین، پولیس روانہ، وغیرہ وغیرہ، اور یہی ترتیب ہر واقعے میں دیکھنے میں آتی، پھر تو ہم بھی ایکسپرٹ ہوگئے، جہاں دھماکے کی آواز سنی گئی، ہم نے اگلے چھ ٹکر ریڈی کر لئے۔

پھر جب خبریں بنانے کی طرف آئے، تو ہم پھر کھڑے صفر پر۔ پہلے دن نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ پر آئی ایک خبر بڑی اچھی لگی، اس کا پرنٹ آوٹ نکالا، اور سنبھال کر بیگ میں رکھ لیا، کہ کل گھر سے بنا کر لائیں گے، اگلے دن پتہ چلا وہ خبر تو بن کر آن ائیربھی ہوگئی بلکہ انتہائی پرانی ہوگئی۔ تب کچھ سینئیرز نے بتایا کہ خبر کی عمر منٹوں اور گھنٹوں کی ہوتی ہے، یہ ہوم ورک نہیں جسے گھر لے جا کر کیا جائے۔

اور پھر ہم متعارف ہوئے ان اصطلاحات سے، جن سے ہر ٹی وی بلکہ نیوز چینل میں کام کرنے والے بخوبی واقف ہیں، لیکن ناظرین کی دلچسپی کے لیے ان اصطلاحات کا ذکر بھی ہوجائے تو مضائقہ نہیں۔

جس دن پہلی نیوز رپورٹ بنائی، وائس اوور کیا اور بڑی خشوع و خضوع سے این ایل ای (نان لینئر ایڈیٹر) کے پاس لے کر پہنچے، موصوف نے پہلے پیپر اور پھر ہمیں بڑی نخوت سے دیکھا، اور کہا ۔۔ اچھا، تو یہ آپ کا “منجن” ہے؟

منجن؟ یعنی ہمارا کام منجن؟ دماغ میں دھماکے ہونے لگے، کان غصے سے سرخ ہو گئے، چہرہ تو لال ہو ہی گیا تھا۔۔ ہمیں صرف یہ پتہ تھا کہ منجن دو ہوتے ہیں ڈینٹونک اور لقمانی منجن، جس سے دانت صاف کیے جاتے ہیں۔ ہمارے کام کو منجن کیسے کہا؟

سینئرز سے گلہ کیا تو انہوں نے بڑے پیار سے سمجھایا بیٹا یہ کوئی بری بات نہیں، کسی کے بھی کام کے لیے منجن کا لفظ ازراہ مذاق استعمال کیا جاتا ہے۔ چلیے جناب مان لیا۔

پھر ایک دن نیوز روم  میں “آلو” کی صدا سنائی دی۔  ہیں؟ یہ نیوز روم میں آلو کا کیا کام؟ پھر تو وقتاً فوقتاً سننے میں آںے لگا۔ یار آلو آ گیا۔ ارے بھائی اوپر سے آلو آیا ہے ذرا سنبھال کر۔ اوو شٹ، آلو ہو گیا۔

ایک دن جب صبر جواب دے گیا تو مسکینی سے پھر ایک سینئیر سے سوال کیا، سر یہ آلو کیا ہوتا ہے؟ اور انہوں نے ایک زور دار قہقہہ لگا کر کہا، آلو وہ ہوتا ہے، جو آجائے تو اچھے اچھوں کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں۔

بعد میں پتہ چلا کہ کوئی کام غلط ہوجائے، یا کسی نیوز میں غلطی ہوجائے، کچھ بھی ایسا جو غلط ہوجائےاور اس کی باز پرس ہو، تو کہتے ہیں ” آلو” آ گیا۔ اب تو ہم بھی اتنے پکے ہوگئے کہ ایک دن ایک غلطی آن ائیر ہوتے ہوتے رہ گئی تو دل سے آواز آئی، “شکر ہے بچ گئے، ورنہ ایسا آلو آتا کہ چپس کی فیکٹریاں لگ جاتیں”


Comments

FB Login Required - comments