محبت کی بازی… جہاں ہے، جیسی ہے، کی بنیاد پر


humera ashraf

اہل پاکستان کا آج کل سب سے مفید و ہر دلعزیز مشغلہ، جس میں اب  ہینگ اور پھٹکری بھی نہیں لگتی اور رنگ بھی خوب  چوکھا ۔ جہاں نظر دوڑائیں ایک ہی سرگرمی اپنے عروج پر نظر آئے گی، “محبت” ۔ جی ہاں! محبت کا جادو ہر جگہ ہر گھڑی ہر مقام پر سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ارے بھئی اس سے مطلق آپ وہ اتحاد ، یگانگت، مساوات، اخوت، بھائی چارے، بھلائی، خویش پروری، ہمدوردی، غم گساری والی  یاآفاقی، الطافی، نوازی، عمرانی، مشرفی، اشرفی قسم کی محبت نہ سمجھیں ۔ نا جی نا۔ یہ تو وہ محبت ہے جو دلوں کو دھڑکاتی ہے، سانسوں کو مہکاتی ہے، بندے کو رلاتی ہے، اکثر ہنساتی ہے، سڑکوں پر سڑی دھوپ میں کھڑا کرواتی  ہے تو کبھی  برگر شاپس میں شرماتی ہے، شاپنگ سے لہراتی ہے، گفٹ پر مسکاتی ہے، دوستوں میں اتراتی ہے، چوڑیاں کھنکاتی اور یونہی ہوش اڑاتی ہے۔

محبت کے علاوہ ایک اور مشغلہ بھی کچھ مقبول ہے، وہ ہے “سیاست”۔لیکن چونکہ سیاست کے کچھ دیگر تقاضے بھی ہیں جیسے کسی حد تک(عموما ذاتی مفاد کے لیے)  عقل ہونا اور کبھی بالکل بےعقل ہونا بھی، کچھ دماغ سوزی بھی کرنی پڑتی ہے، بلند بانگ دعوے، ٹہکے شہکے، نعرے، کھابے کھاجے، سوکھی خواری؛ سیاست کے نصیب میں محبت جیسی نرمیاں گرمیاں کہاں۔سب سے سہل، سستی، آسان دستیاب، تفریح  جس میں نہ کوئی لاگت لگتی ہے نہ عقل کی مطلق ضرورت ہے ، بلکہ عقل محترمہ کو تو گھاس کھانے کی مکمل آزادی مل جاتی ہے، تو بھئی وہ دلچسپ ترین مشغلہ محبت ہے۔ بس جو بھی سامنے نظر آجائے بس محبت کیے جاو اور سرور کی لہروں کے سنگ سنگ بہتے چلے جاو۔ گلی، محلوں، چوک، چوباروں، کوچوں، بازاروں، شاپنگ سینٹروں، پارکوں میں، آفسوں میں، دکانوں پر، سینماوں، عبادت گاہوں، مقبروں، قبرستانوں تک میں اور کھڑکیوں، دروازوں، چھجوں، منڈیروں، دہلیزوں، بالکونیوں، مہمان خانوں، دسترخوانوں، صحنوں، کمروںمیں، بستر کے اوپر، بستر کے اندر، بستر کے نیچے، میز کرسی پر، زمین پر، کچن میں، باتھ روم میں، غسل خانوں غرض ہر جگہ محبت کی ریل پیل ہے، ہاتھ میں موبائل فون اور کان پر ہینڈفری لگی ہے اور دنیا کے جھمیلوں سے آزاد محبت کی پینگوں پر جھولے لیے جارہے ہیں، ہر جگہ، ہر پل، ہر ساعت، ہر آن، محبت کا کھیل جاری و ساری ہے۔

ایک دن اپنی زندگی کی گوناگوں مصروفیتوں پہ چھائی بے رنگی سے اکتا کر سوچا کہ کوئی تفریح ڈھونڈی جائے۔ بس کیا تھا آسان دستیاب ذریعہ یعنی ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آن کرلیا۔ کیبل ٹی وی کے ستر چینلز میں سے نصف ڈرامے فلمیں تھیں تو نصف سے کچھ کم   پر سیاسی ڈرامے فلمیں تھیں، چند ایک کھیلوں کے چینلز تھے یا مذہبی چینلز (ہوتا وہاں بھی کھیل ہی ہے لیکن زندگیوں اور جذبات سے کھیلا جاتا ہے)۔ عجب ماجرا پایا کھیلوں کے چینلز پر سیاست، سیاست کے چینلز پر کھیل، مذہبی چینلز پر کھیل و سیاست، بس سیاست کھیل اور کھیل سیاست۔ اس ددرد سری سے گھبرا کر ڈرامہ چینلز سے رجوع کیا  تو ہر جگہ محبت کی کہانی، کہیں ملن، کہیں جدائی، کہیں گھاتیں محبت کی، جگراتیں محبت کی، محبت کی سیاست تو سیاست کی محبت سی، عداوت میں محبت تو محبت میں عداوت بھی،  رقابت ہے،ارادت،   حلاوت ہے، نزاکت ہے، طراوت ہے، سیاحت ہے، لیکن شرافت نہیں ہے۔ اتنی محبت دیکھ دیکھ کر پتا چلا وہ جو وقت ہم گزار چکےاور آتے جاتے بہت سے تماشوں پر دھیان نہ دے پائے وہ تو سچی محبت تھی، ہائے!نادانی کب معلوم ہوا جب چڑیا چگ گئیں پورا کھیت۔ اس احساس زیاں سے بچنے کو چینلز کا رخ فلموں کی طرف موڑ بیٹھے۔یک بہ یک کئی (فلمی) ستارے آنکھوں کے آگے ناچ اٹھے۔ یہاں بھی وہی محبت اور ظالم سماج۔ ہاں انداز محبت کچھ جدا سا ملا۔ ڈراموں کی ڈری ڈری محبت اب دلیری سے بے تحاشاعملی اظہار  پر تلی نظر آئی۔ سڑکوں پر ناچ گانا، ہوٹلنگ، پری شادی ہنی مون، اور گھر والے بےخبر۔ خبر کب ہوئی جب لڑکا لڑکی گھر سے چمپت، ڈھنڈار پڑی، فائٹنگ ہوئی اور بالآخر جیت محبت کی۔ اور درمیان میں دل دھڑکانے والے ایک ہزار مناظر، ہائے ری محبت۔

دل میں اچانک جاگ اٹھنے والی پیاس اور رگ و پے میں رقصاں سنسناہٹوں سے نظر چراتے سوشل میڈیا کے دامن میں پناہ ڈھونڈی۔ ہائے یہ کس حیرت کی بستی جا پہنچے۔ سماجی رابطے کی سائیٹ فیس بک کھولی تو جناب ہر ایک  کئی درجن دل آنکھوں میں لیے گھوم رہا ہے اور ہر صورت کے آگے ایک دل ڈھیر۔ لڑکیاں ہوں یا لڑکے، آنٹیاں، انکلز، بابے، کھابے سب ہی محبت محبت کا راگ الاپ رہے ہیں۔ ہر وال پر اشعار، ہر پوسٹ پر جے جے کار، عجیب و غریب کھانے کی تصویر پر رکھا نازنین کا ہاتھ اور ناظرین کےلذت بھرے چٹخارے، کہیں پرمغز علمی گفتگو اوربولنے اور پڑھنے والے دونوں  بنا سمجھے سر دھن رہے ہیں، مولوی ہیں تو خواتین کا مجمع لگائے اپنے سوا سب سے پردے کی تلقین، لبرلز ہیں تو عزت و احترام کے ساتھ”عزت” سے کھیلنے کے لیے کوشاں۔

ٹوئٹر یاترا پر بھی وہی محبت و سیاست۔سیاست یہاں انگریزی میں پائی جاتی ہے لہذا محبت کی طرف توجہ کی تو وہ شاعری سے معمور۔ ہر ایک سیکنڈ پر عشقیہ شاعری کا نزول اور شاعرات کی شان میں مدح خوانی۔ ایک شاعرہ لکھتی ہیں ” چاٹ میں مرچیں زیادہ تھیں۔۔۔ یاد میں تیری آنسو آئے” اس کلاسیک شعر پر چھ سو لائیک، دو سو ری ٹویٹ اور چار سو رپلائے جس میں محترمہ کو پروین شاکر سے بڑی شاعرہ تسلیم کرنے پر زور۔ ٹمبلر، فلکر، انسٹاگرام، گوگل پلس، بلاگر، ورڈ پریس ہر جگہ محبت۔ پیشہ ورانہ روابط کی ویب سائیٹ لنکڈان پر تو باقاعدہ عشاق کی آہوں ، سسکیوں، اور التجاوں سے لبریز درخواستیں ملیں۔ ہر جگہ ہی بس انتہائی گڑگڑا کر دوستیوں کی درخواست کی جاتی ہے اور جوابا ًایک اسمائیلی پر جیون سپھل۔ ایک جگہ نہیں بلکہ کئی ایک جگہ ڈول ڈالا جاتا ہے تاکہ کہیں تو نصیبہ یاوری کرجائے۔

اس ایک دن کی تفریح یاترا میں ہم بلامبالغہ درجن بار محبت سے بال بال بچے، چار بار شک گزرا کہ محبت ہوگئی، اورنوبت یہ کہ ابھی تک دل کسی انجانی جدائی کی لے پر دھڑک رہا ہے۔ اب آپ سے کیا چھپانا اس عشرت گاہ محبت میں ایک بار قدم رکھ کر مڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا یہ دل کمبخت !


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “محبت کی بازی… جہاں ہے، جیسی ہے، کی بنیاد پر

  • 05-04-2016 at 1:14 pm
    Permalink

    بہت خوب حمیرہ 🙂 🙂

    • 05-04-2016 at 2:18 pm
      Permalink

      شکریہ جناب 🙂

  • 05-04-2016 at 4:41 pm
    Permalink

    Molvi and Liberal…… Dono Ka Naqsha… Zabardast

  • 05-04-2016 at 4:58 pm
    Permalink

    بہت خوب ۔۔ گاڑی انجان راستوں پر سبک رفتاری سے رواں ھو تو وقت ٹھر جاتا ہے ، پھراگلی منزل نہیں آتی۔

  • 06-04-2016 at 9:47 am
    Permalink

    kia zabardast akkasi ki apnain ho to kuch youn hi raha hai
    maulvi aur liberal wali baat kamal ki

Comments are closed.