اسلام خطرے میں ہے


mirza muhammad yaseen baigہفتہ رواں میں پیش آنے والے چند واقعات کو دیکھ کر دل دکھی ہے اور ذہنی کرب ختم ہونے میں نہیں آ رہا، وہ خطہ ارضی جو کہ اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا اور اس کے قیام کے پیچھے ایک مضبوط خواہش کار فرما تھی کہ زمین کے اس ٹکڑے کو اسلام کی عملی تجربہ گاہ بنایا جائیگا لیکن آج اسی خطہ ارضی پر اسلام خطرے میں ہے۔

اسلام کے نام پر سکول، پارک ، جنازے، مساجد ، بازار وغیرہ دھماکوں سے اڑائے جا رہے ہیں اور جنت کی خواہش میں دنیا کو جہنم نظیر بنا یا جا رہا ہے۔

لوگ مسجدوں میں باجماعت نماز ادا کرنے سے ڈر رہے ہیں مائیں اپنے جگر گوشوں کو سکول بھیجنے میں تذبزب کا شکار ہیں شہریوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس سرایت کر چکا ہے۔

یہ سارا عمل اس ملک میں کیا جا رہا ہے جو کہ کلمہ طیبہ کے نام پہ معرض وجود میں آیا، اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے قربانیوں کی کئی لازوال داستانیں رقم ہوئیں ۔ مقصد صرف یہ تھا کہ اسلام کا پرچم اونچا رہے اسلام کو کسی قسم کا خطرہ نہ ہو۔ جان جاتی ہے تو جائے پر عزت اسلام پہ حرف نہ آئے ۔ لیکن افسوس صد افسوس آج اسی وطن میں اسلام خطرے میں ہے اور اسلام کو یہ خطرہ اغیار سے نہیں بلکہ خود اسلام کے داعیوں اور علمبرداروں سے ہے۔

اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار ہی اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اگر ہم گلشن اقبال پارک میں خون کی ہولی دیکھیں یا پھر جنید جمشید کو پڑنے والی گالیا ں اور تھپڑ دیکھیں یا پھر اسلام آباد میں ڈی چوک میں جاری تماشے کو دیکھیں تو ہر جگہ اسلام کی سر بلندی کا دعویٰ کرنے والے نام نہاد ٹھیکیدار ہی کھڑے نظر آئیں گے۔ اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دیے رہنماﺅں کی طرف سے جس قسم کی بازاری زبان استعمال کی جارہی ہے اسے سن کر انسان ورطہ حیرت میں گم ہو جاتا ہے کہ یہ کس قسم کے عاشقان ہیں اور ان کی طرف سے کس قسم کے اسلام کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔ نبی رحمتﷺ کی پوری زندگی سے کوئی ایک واقعہ دکھا دیں جہاں انہوں نے عوامی فائدے کی کسی املاک کو نقصان پہنچانے کی ترغیب دی ہو۔

آج مذہبی رہنماﺅں کی طرف سے گالم گلوچ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر زبان زد عام ہو چکی ہیں اور یہ گالیاں سن کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ان کے طرز عمل سے سنجیدہ فکر رکھنے والے مسلمان حالت صدمہ میں ہیں کہ اس طرح کے واقعات کے بعد ہم کس طرح اسلام کا دفاع کر پائیں گے۔

گلشن اقبال پارک میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں ڈھونڈنے والوں کی اکثریت تو مسلمان تھی جنید جمشید بھی مسلمان ہے اسلام آباد میں صحافت کے میدان میں ذمہ داریاں سر انجام دینے والے بھی مسلمان ہیں ، جن کی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں نذر آتش کی گئیں وہ بھی بظاہر مسلمان ہی ہیں لیکن اسلام کے ٹھیکیداروں اور عاشقان رسول سے کوئی بھی محفوظ نہیں ۔

اگر یہ لوگ واقعتاً سچے محب رسول ﷺ ہیں تو جب سلمان تاثیر مختلف ٹی وی چینلز پر کھلے عام گفتگو کر رہا تھا اور دلائل دے رہا تھا تو اس وقت کیوں نہ مضبوط دلائل اور براہین سے اس کا رد کیا گیا یا پھر اس وقت کیوں نہ احتجاج کرنے کا خیال آیا اور پھر جب ممتاز قادری قتل کے مقدمے میں پابند سلاسل تھا تو اس وقت اس نام نہاد مذہبی قیادت کو کیوں ممتاز قادری کی رہائی کے لیے تگ و دو کا خیال نہ آیا؟

آپ خود تصور کریں جب ایک طرف مادر پدر آزاد سیکولر طبقہ اسلامی قوانین کا کھلم کھلا مذاق اڑا رہا ہو اسلام کے بارے میں طرح طرح کی ہرزہ سرائیاں اپنے عروج پر ہوں اور دوسری طرف ہم خودکش دھماکوں، املاک کی توڑ پھوڑ اور بازاری زبان استعمال کر کے یہ سمجھا جا رہا ہو کہ ہم لوگ اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے کام کر رہے ہیں تو اس سے بڑی ستم ظریفی اور ظلم کی بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔

اسلام میں تو یہ کہا گیا کہ اگر آپ جانتے بھی ہوں کہ لوگ سچے رب کو چھوڑ کر جھوٹے خداﺅں کی پوجا کر رہے ہیں تو پھر بھی آپ خواہ مخواہ جھوٹے خداﺅں کو برا بھلا نہ کہیں مبادا معبودان باطلہ کے پجاریوں کو سچے خدا کی توہین کا موقع مل سکے۔

آج کے روایتی مذہبی ٹھیکیداروں کے پاس اس واقعے کا کیا جواب ہے کہ جب نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے اپنا مخصوص مذہبی لباس پہن رکھا تھا لیکن اس کے باوجود آقاﷺ نے اس وفد کو مسجد نبویﷺ میں ٹھہرایا انہیں ان کے طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دی اور مہمان ہونے کی حیثیت سے ہر طرح ان کی عزت تکریم میں کمی نہ آنے دی۔

لیکن اس کے مقابلے میں آج اگر ایک فرقے کی مسجد میں دوسرے فرقہ کا شخص عبادت کرے تو کس طرح کا ردعمل اور اشارے کنائے کیے جاتے ہیں اس کا کئی بار عملی مشاہدہ ہو چکا ہے۔

اگر ہمارا معاشرہ اسی طرح مذہبی شدت پسندی کا شکار رہا تو آپ درد دل کا اندازہ لگا کر بتائیں کہ پھر کس طرح لبرل طبقہ مسجد و مدرسہ اور منبر و محراب کا رخ کرے گا؟

میں کوئی مذہب بیزار شخص نہیں بلکہ میں جانتا ہوں کہ” جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“ ۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ علماءنبیوں کے وارث ہیں علماءکی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے لیکن مذہب کے نام پر جو انتشار اور قتل و غارت پاکستان کے عوام پر مسلط کیا جا رہا ہے وہ تو نبیﷺ کی وراثت نہیں ۔

موجودہ پر فتن دور میں علمائے حق پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ منبر و محراب کو موثر دعوت و تبلیغ کا زریعہ بنائیں اور عوام الناس کو علمائے سوءکے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر سطح پر اقدامات کی حوصلہ افزائی فرمائیں۔

اگر علمائے حق نے اس نازک موقعے پر اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی تو پاکستان کے اسلامی تشخص کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے لبرل و سیکولر اور مذہبی شدت پسندوں کی صورت میں دو قسم کے طبقات پیدا ہو رہے ہیں اور ان دو طبقات کا فکری و تہذیبی ٹکراﺅ وطن عزیز کی بنیادوں کو کھوکھلا کر سکتا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ حکومتی حلقے، میڈیا، دانشور، ارباب فہم و دانش، اور علمائے حق مل کر اس شدت پسندی اور جہالت کے خاتمے کے لیے اپنا کردار پوری ذمہ داری سے ادا کریں اور شر پسند عناصر کو بغیر کسی امتیاز کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اگر حکومت اس طرح کی شدت پسندی اور جارحیت کو سنجیدہ طور پر ختم کرنے کو کوشش کرتی ہے تو پوری قوم کو حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے کیوںکہ اسلام کو کسی صورت بدنام نہیں ہونا چاہیے۔ میری نام نہاد مذہب کے ٹھیکیداروں سے بھی گزارش ہے کہ اسلام امن کا دین ہے۔ خدارا اسلام کو بدنام نہ کریں ۔


Comments

FB Login Required - comments